11/07/2026
کیلشیم کاربائیڈ اور صحت کے سنگین خطرات
کیلشیم کاربائیڈ کا کینسر سے تعلق
کیلشیم کاربائیڈ کا تعلق کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرات سے جوڑا جاتا ہے۔ صنعتی درجے (Industrial-grade) کے کیلشیم کاربائیڈ میں اکثر آرسینک (Arsenic) اور فاسفورس (Phosphorus) جیسی انتہائی زہریلی آلودگیاں موجود ہوتی ہیں۔ جب یہ جسم میں جذب ہوتے ہیں یا پھلوں کو مصنوعی طور پر پکانے کے دوران گیس کی شکل میں خارج ہوتے ہیں، تو یہ مختلف اقسام کے کینسر اور جسم کے اہم اعضاء کو شدید نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
کیلشیم کاربائیڈ کے صحت پر مضر اثرات
چونکہ کیلشیم کاربائیڈ ایک صنعتی کیمیکل ہے جو دھاتوں کی پروسیسنگ اور ویلڈنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے یہ انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس کے ممکنہ نقصانات میں شامل ہیں:
کینسر کا خطرہ: اس سے پیدا ہونے والی گیسیں، جیسے فاسفین (Phosphine) اور آرسین (Arsine)، کے طویل عرصے تک اثر میں رہنے سے اندرونی اعضاء کے کینسر اور خون کے کینسر (Leukemia) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اعضاء کو نقصان: اس کے استعمال یا جسم میں داخل ہونے سے گردے، جگر اور دل کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، حتیٰ کہ ان کے ناکارہ ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
اعصابی مسائل: اس کی زد میں آنے سے شدید سر درد، چکر آنا، توازن بگڑنا اور مزاج میں تبدیلی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
نظامِ ہاضمہ کی خرابیاں: ایسے پھل کھانے سے شدید پیٹ درد، قے اور اسہال ہو سکتے ہیں۔
یہ کیوں استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟
اگرچہ پاکستان اور کئی دیگر ممالک میں خوراک اور زرعی مقاصد کے لیے کیلشیم کاربائیڈ کا استعمال ممنوع ہے، پھر بھی بعض افراد گرمیوں کے پھل، جیسے آم، کیلے اور مالٹے وغیرہ، جلدی پکانے کے لیے غیر قانونی طور پر اس کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ سستا اور تیز رفتار طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
اپنی صحت کے تحفظ کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
ظاہری شکل: کیلشیم کاربائیڈ سے پکائے گئے پھل غیر معمولی حد تک چمکدار، یکساں رنگ کے اور باہر سے پکے ہوئے نظر آتے ہیں، لیکن اکثر اندر سے کچے ہوتے ہیں۔
قانونی حیثیت: پاکستان میں فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت پھل پکانے کے لیے کیلشیم کاربائیڈ کا استعمال غیر قانونی ہے۔
محفوظ متبادل: پھل پکانے کا محفوظ اور قدرتی طریقہ ایتھیلین (Ethylene) گیس کا استعمال ہے، جو قدرتی طور پر پھلوں میں پیدا ہوتی ہے اور صحت کے لیے نقصان دہ نہیں سمجھی جاتی۔