31/05/2026
شادی کے بدلتے معیار اور گم ہوتی انسانیت
جدید دور میں عورت تعلیم یافتہ بھی ہے اور معاشی طور پر خودمختار بھی۔ وہ اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ اسی طرح مرد بھی تعلیم اور روزگار کے میدان میں پہلے سے زیادہ آگاہ اور ذمہ دار ہو چکے ہیں۔ ایسے حالات میں رشتوں کے معیار بھی بدلتے جا رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی ترقی ہے یا توازن سے دوری؟
آج کے دور میں شادی کے لیے اکثر معیار یہ بن چکے ہیں کہ لڑکے کی آمدنی کیا ہے، اس کے پاس مکان ہے یا نہیں، نوکری سرکاری ہے یا نہیں، اور بینک بیلنس کتنا ہے۔ ان مادی معیاروں کو اس قدر اہمیت دی جانے لگی ہے کہ اکثر اوقات انسان کی اصل شخصیت پیچھے رہ جاتی ہے۔
یہ حقیقت نظر انداز ہو جاتی ہے کہ شادی کسی معاشی معاہدے کا نام نہیں بلکہ دو انسانوں کے درمیان ایک جذباتی، اخلاقی اور عملی رشتہ ہے۔ یہ رشتہ اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کی بنیاد کردار، مزاج، برداشت، احترام، دیانت اور احساسِ ذمہ داری پر ہو۔
اگر آج مرد اور عورت دونوں تعلیم یافتہ اور کمانے کے قابل ہیں تو وہ مل کر اپنی مالی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ گھر، گاڑی اور مالی استحکام ایسی چیزیں ہیں جو وقت کے ساتھ محنت اور تعاون سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یہ چیزیں مستقل نہیں ہوتیں، کم یا زیادہ ہو سکتی ہیں۔
اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان کو اس کی شخصیت کے بجائے اس کی مالی حیثیت سے پرکھا جانے لگتا ہے۔ ایک اچھا مکان زندگی کو سہولت دے سکتا ہے، مگر اچھا اخلاق زندگی کو سکون دیتا ہے۔ ایک مضبوط بینک بیلنس عارضی تحفظ دے سکتا ہے، مگر وفاداری اور اچھا رویہ دیرپا اعتماد پیدا کرتا ہے۔
انسانی خامیوں کا تعلق شخصیت سے ہوتا ہے، اور شخصیت کی کمی کو مال و دولت سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی شخص میں برداشت نہیں، سچائی نہیں، احترام نہیں یا احساسِ ذمہ داری نہیں تو یہ کمی پوری زندگی کے تعلق کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس مالی کمیاں مشترکہ کوشش سے وقت کے ساتھ دور کی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی ایک سماجی حقیقت ہے کہ انسان کی ترجیحات عمر، تجربے اور ذہنی پختگی کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ زندگی کے ابتدائی مرحلے میں خواہشات، جذبات اور خواب زیادہ نمایاں ہوتے ہیں، جبکہ وقت کے ساتھ انسان زیادہ حقیقت پسند اور عملی سوچ اختیار کرتا ہے۔ اسی مرحلے پر رشتے میں اصل اہمیت مطابقت، سمجھداری، کردار اور ایک دوسرے کے مزاج کو دی جانے لگتی ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ رشتے کے فیصلے صرف وقتی خواہشات یا ظاہری معیاروں کی بنیاد پر نہ کیے جائیں بلکہ انسان کی مجموعی شخصیت، اس کی سوچ، اخلاق اور زندگی کے مقصد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔ پختگی کے ساتھ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ایک مضبوط اور کامیاب رشتہ صرف سہولیات پر نہیں بلکہ باہمی احترام اور ہم آہنگی پر قائم ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے موجودہ معاشرے میں بعض اوقات رشتوں کو اس نظر سے دیکھا جانے لگا ہے جیسے یہ کوئی لین دین ہو۔ اس سوچ نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے اور رشتوں میں ایک طرح کی مشروطیت پیدا کر دی ہے۔
ایک باشعور اور خودمختار فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ رشتے کے انتخاب میں انسان کو ترجیح دے، اس کی دولت کو نہیں۔ کیونکہ شادی کی کامیابی اس بات میں نہیں کہ کون کتنا کماتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو کتنا سمجھتے ہیں، کتنا عزت دیتے ہیں اور کتنا ساتھ نبھاتے ہیں۔
اگر رشتے کی بنیاد صرف مادی معیار بن جائیں تو انسانیت پیچھے رہ جاتی ہے، اور اگر بنیاد انسانیت ہو تو مادی ضروریات خود بخود بہتر طریقے سے پوری ہو جاتی ہیں۔
اسی لیے آج کے دور میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ لڑکے کے پاس کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیسا انسان ہے۔ کیونکہ چیزیں بنائی جا سکتی ہیں، مگر کردار نہیں۔
بنت حوا شاہین اختر حسین