Islamabad Psychological Support

Islamabad Psychological Support Islamabad Psychological Support treats all patients without medicine's. call at helpline: 0316-5823033 and schedule your appointment.

Islamabad Psychological Support are Highly Foreign Professional team of Psychologist’s, prof Dr Nazia Psychiatrists and Counsellors to provide you professional & result oriented services

05/06/2026
05/06/2026

Every human can make mistakes

05/06/2026

کیا ماضی کا کوئی ایک غلط فیصلہ آپ کو آج بھی آگے بڑھنے سے روک رہا ہے؟

ہم اکثر دوسروں کی بڑی سے بڑی بھول کو ہنس کر معاف کر دیتے ہیں، لیکن جب بات اپنی ذات کی ہو تو خود کے لیے سب سے سخت جج بن جاتے ہیں۔ سالوں پرانی کسی ناکامی یا غلطی کو لے کر دل ہی دل میں خود کو کوستے رہنا اور ہر وقت ایک پچھتاوے کی زندگی جینا آپ کا آج کا سکون چھین لیتا ہے۔ یہ اندرونی ملامت اور گھٹن آپ کو ذہنی اور جسمانی طور پر تھکا دیتی ہے، اور آپ خود ہی اپنے سب سے بڑے دشمن بن جاتے ہیں۔

اگر آپ اس ذہنی دباؤ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں، تو اس کا حل ماضی کو بدلنے میں نہیں بلکہ خود کو قبول کرنے میں ہے۔ سب سے پہلے یہ تسلیم کریں کہ غلطیاں ہر انسان سے ہوتی ہیں اور زندگی کا حصہ ہیں۔ ماضی کی بھول کو سزا کے طور پر گلے کا طوق بنانے کے بجائے، اسے زندگی کا ایک سبق سمجھیں۔ خود کو معاف کرنا کمزوری نہیں، بلکہ اپنی ذہنی صحت کو ترجیح دینا ہے۔ جب آپ خود کو ملامت کے اس پنجرے سے آزاد کریں گے، تو زندگی میں آگے بڑھنا آسان ہو جائے گا۔

یاد رکھیں، جو وقت گزر گیا اس پر آپ کا کوئی اختیار نہیں، لیکن آپ کا "آج" اور آپ کا ذہنی سکون مکمل طور پر آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

کیا آپ بھی ماضی کے کسی پچھتاوے کو لے کر خود پر سختی کرتے ہیں؟ کمنٹس میں اپنے خیالات ضرور شیئر کریں۔

ان پرسن یا آن لائن آڈیو، ویڈیو یا چیٹ کے ذریعے رہنمائی کے لیے:
📞 کال کریں:
03165823033
💬 واٹس ایپ کریں:
03165823033

05/06/2026

کیا آپ کا دل کچھ اور چاہتا ہے، لیکن آپ کی اینگزائٹی (Anxiety) آپ کو کچھ اور کرنے پر مجبور کر دیتی ہے؟

جب آپ زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں، تو اینگزائٹی ہر بات کو بڑھا چڑھا کر اور خوفناک بنا کر دکھانے لگتی ہے۔ یہ آپ کے دماغ کی طرف سے خود کو محفوظ رکھنے کی ایک کوشش ہوتی ہے، لیکن یہی کوشش آپ کو کھل کر جینے نہیں دیتی۔ یاد رکھیں، اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں ہے، یہ صرف اینگزائٹی ہے جس کا علاج ممکن ہے۔

اس الجھن سے نکلنے کا حل اکیلے لڑنے میں نہیں بلکہ مدد مانگنے میں ہے۔ ماہرِ نفسیات سے بات کرنا کسی کمزوری کی نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہے، جو آپ کو ان منفی سوچوں کو توڑنے کے عملی طریقے سکھاتے ہیں۔ اپنے خوف کو خود پر حاوی کرنا چھوڑیں اور پرسکون زندگی کے لیے ہمارے ماہرین سے رابطہ کریں۔

کیا آپ نے بھی کبھی اینگزائٹی کی وجہ سے اپنے پسندیدہ کاموں کو ادھورا چھوڑا ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

ان پرسن یا آن لائن آڈیو، ویڈیو یا چیٹ کے ذریعے رہنمائی کے لیے:
📞 کال کریں:
03165823033
💬 واٹس ایپ کریں:
03165823033

Anxiety ma Kia huta ha
05/06/2026

Anxiety ma Kia huta ha

Ya Anxiety ha
05/06/2026

Ya Anxiety ha

05/06/2026

زہنی صحت کی اہمیت جانئیے —

تیز رفتار گاڑی چلانا، پہلی پوزیشن حاصل کرنا، نئے کپڑے خریدنا، اونچی آواز میں پسندیدہ موسیقی سننا، پسندیدہ مقامات کی سیر کرنا یا اچانک بڑی رقم حاصل کرنا وقتی طور پر خوشی اور جوش پیدا کر سکتا ہے۔

لیکن یہ تجربات ہمیشہ دیرپا خوشی کی ضمانت نہیں ہوتے۔جن چیزوں کو ہم اپنی خوشی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، وہ اکثر طویل المدت ذہنی سکون اور فلاح و بہبود فراہم نہیں کرتیں۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق خوشی کے دو اہم پہلو ہیں:

1۔ روزمرہ زندگی میں حاصل ہونے والی وقتی خوشی،

2۔ زندگی میں مقصد، معنی، اقدار اور ذاتی اطمینان سے حاصل ہونے والی گہری خوشی۔

مکمل فلاح و بہبود کے لیے ان دونوں اقسام کی خوشی میں توازن ضروری ہے۔

یاد رکھیں خوش رہنا خود غرضی نہیں -حقیقت میں اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھنا خود غرضی نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔

خوش اور مطمئن لوگ عموماً زیادہ مضبوط، ہمدرد، مثبت اور دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہوتے ہیں، جس سے معاشرے کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔

سوشل میڈیا غیر حقیقی مصنوعی خوشی

آج کے دور میں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر لوگ عموماً اپنی زندگی کے بہترین لمحات ہی دکھاتے ہیں، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہو سکتی ہے۔

دوسروں کی زندگیوں سے مسلسل موازنہ غیر حقیقی توقعات پیدا کرتا ہے اور اپنی زندگی سے اطمینان کم کر سکتا ہے۔

ہم ہمیشہ اپنے مشکل جذبات، جیسے پریشانی، مایوسی یا اداسی کو تبدیل نہیں کر سکتے، لیکن ہم ان کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ضرور بدل سکتے ہیں۔
یعنی جذبات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا اور ان میں کوئی معنی یا سبق تلاش کرنا۔

اس کا ایک اہم قدم اپنے جذبات کو بغیر تنقید اور مزاحمت کے قبول کرنا۔ پریشانی یا بے چینی سے لڑنے کے بجائے انہیں ایک فطری انسانی تجربہ سمجھنا زیادہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اپنے جذبات کو پہچانیں اور تسلیم کریں انہیں دبانے کی کوشش نہ کریں

تجسس اور کھلے ذہن کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ ایسا کیوں محسوس کر رہے ہیں۔

اپنا خیال رکھیں-
اپنے ساتھ نرمی، شفقت اور مہربانی کا رویہ اختیار کریں۔

منفی جذبات پر غور کریں تو یہ ہمیں اپنی ضروریات، مسائل اور ذاتی ترقی کے مواقع کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

خوشی ایک مہارت ہے

قد، رنگِ آنکھ یا بعض جسمانی خصوصیات کی طرح خوشی کوئی مستقل اور طے شدہ چیز نہیں۔

ہماری خوشی کا ایک بڑا حصہ ہماری روزمرہ عادات، سوچ، رویوں اور فیصلوں پر منحصر ہوتا ہے۔

شکرگزاری کی عادت اپنانا، مثبت اور بامعنی تعلقات قائم کرنا، جذبات کو مؤثر طریقے سے سنبھالنا اور مقصد کے ساتھ زندگی گزارنا ہمیں زیادہ خوش، مطمئن اور پُرسکون بنا سکتا ہے۔

اگر آپ مسلسل جزباتی مسائل کا شکار ہیں تو ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کے لیے کسی ماہرِ نفسیات سے رابطہ کرنا مفید ثابت ہو سکتا ہے

01/06/2026

جب آپ باؤنڈریز (Boundaries) بنائیں اور فیملی ناراض ہو جائے تو پھر کیا کریں؟

ہمارے معاشرے میں "باؤنڈریز" (Boundaries) یا اپنی ذات کے لیے حدود طے کرنے کے تصور کو اکثر انا، بغاوت یا خودغرضی سمجھا جاتا ہے۔ جب آپ اپنی ذہنی اور جذباتی صحت کو بچانے کے لیے رشتوں میں کچھ اصول طے کرتے ہیں—جیسے کہ کب 'نہیں' کہنا ہے، کس حد تک مداخلت برداشت کرنی ہے، یا اپنے لیے وقت کیسے نکالنا ہے—تو اکثر فیملی کی طرف سے شدید مزاحمت اور ناراضگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال انسان کو ایک شدید ذہنی کشمکش میں مبتلا کر دیتی ہے کہ کیا میں واقعی قصوروار ہوں؟ اپنوں کی ناراضگی، جذباتی دباؤ اور اپنے سکون کے درمیان یہ خاموش جنگ انسان کو اندر سے تھکا دیتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل میرے پاس ایک کلائنٹ کا کیس آیا جو ایک انتہائی روایتی جوائنٹ فیملی سسٹم کا حصہ تھیں۔ وہ ایک ورکنگ وومن تھیں اور گھر کی تمام تر ذمہ داریاں بھی بخوبی نبھا رہی تھیں۔ لیکن جب انہوں نے مسلسل تھکاوٹ اور ذہنی دباؤ کے بعد اپنے لیے کچھ اصول بنائے اور ہر غیر ضروری کام یا بے جا تنقید پر شائستگی سے 'نہیں' کہنا شروع کیا (یعنی اپنی باؤنڈریز سیٹ کیں)، تو ان کی فیملی کا رویہ یکسر بدل گیا۔ انہیں جذباتی بلیک میلنگ (Emotional Blackmail) کا نشانہ بنایا گیا، طعنے دیے گئے کہ وہ مغرور ہو گئی ہیں، اور ان سے بات چیت تک محدود کر دی گئی۔ میری کلائنٹ اس اچانک ناراضگی اور احساسِ جرم (Guilt) کے بوجھ تلے دب کر دوبارہ اسی پرانی ٹاکسک روٹین میں واپس جانے کا سوچنے لگیں، حالانکہ وہ جانتی تھیں کہ وہ راستہ ان کی مکمل ذہنی تباہی کا تھا۔

یہ ایک بہت عام نفسیاتی پیٹرن ہے۔ یاد رکھیں، جب آپ ان لوگوں کے سامنے باؤنڈریز بناتے ہیں جنہیں آپ کی حدود پامال کرنے کی عادت ہو چکی ہو، تو وہ لازماً ناراض ہوں گے۔ فیملی کی ناراضگی اس بات کا ثبوت نہیں کہ آپ غلط کر رہے ہیں، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں آپ کی ہر وقت دستیابی (Availability) اور قربانیوں کی اس قدر عادت ہو چکی ہے کہ اب وہ آپ کو آپ کی شرائط پر قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اس مرحلے پر سب سے بڑا چیلنج فیملی کی ناراضگی نہیں، بلکہ وہ 'احساسِ جرم' ہے جو آپ کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر آپ اس ناراضگی سے ڈر کر یا گلٹ میں آ کر اپنی باؤنڈریز گرا دیں گے، تو آپ کا استحصال پہلے سے بھی زیادہ ہوگا۔ باؤنڈریز کا مطلب تعلقات توڑنا نہیں ہوتا، بلکہ ان رشتوں کو ایک صحت مند اور متوازن بنیاد پر استوار کرنا ہوتا ہے۔

اگر آپ بھی کسی ایسی ہی صورتحال سے گزر رہے ہیں، جہاں آپ نے اپنے سکون کے لیے باؤنڈریز لگائیں مگر اب فیملی کی ناراضگی، طعنوں اور غصے نے آپ کو الجھن کا شکار کر دیا ہے، تو یاد رکھیں کہ آپ کو اس کشمکش میں اکیلے لڑنے یا ہار ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس مزاحمت کا سامنا کیسے کرنا ہے، احساسِ جرم (Guilt) سے کیسے نکلنا ہے، اور رشتوں کو خراب کیے بغیر اپنی حدود پر کیسے قائم رہنا ہے—اس کے لیے ایک مؤثر نفسیاتی حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مشکل مرحلے سے نکلنے اور اپنا کھویا ہوا ذہنی سکون اور اعتماد واپس پانے کے لیے آپ میرے ساتھ ون ٹو ون (1-on-1) سیشن بک کر سکتے ہیں۔ ہم مل کر ایسی عملی تکنیکوں پر کام کریں گے جو آپ کو جذباتی طور پر مضبوط بنائیں گی اور آپ کو اس دباؤ سے نکلنے میں مدد دیں گی۔

Address

Street # 14, F10/2
Islamabad
44100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamabad Psychological Support posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Islamabad Psychological Support:

Share