Saleh Law Firm LLP

Saleh Law Firm LLP Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Saleh Law Firm LLP, Meditation Center, Hamdan Heights , office # 307 , Islamabad express Way Islamabad, Islamabad.

Services.
: Civil Matters
: Criminal Matters
: Custody of Child
: Court Marriage
: Guardianship
: Constitutional Petitions(writ petitions etc.)
: Public Interest Litigation
: Tax & Corporate
: Property Legal Matters
: Study Abroad
: Visit Visa

10/07/2026

ٹرائل کورٹ کا فرض ہے کہ گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ درست ریکارڈ کرے۔ اگر گواہ کہے کہ بیان غلط لکھا گیا ہے تو دفعہ 360(2) Cr.P.C. کے تحت عدالت کو اختیار ہی نہیں بلکہ ذمہ داری بھی دیتی ہے کہ غلطیوں کی اصلاح کرے۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان (جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس صلاح الدین پنہور) نے 23 جون 2026 کو دیا۔ یہ فیصلہ فوجداری مقدمات میں دفعہ 360 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C.) کے تحت گواہ کے بیان کی درستی (Rectification) سے متعلق ایک اہم نظیر ہے۔

مقدمہ کا پس منظر

ایک قتل کے مقدمہ (FIR نمبر 33/2018) میں درخواست گزار استغاثہ کی گواہ تھیں۔

انہوں نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

بعد میں جب انہوں نے بیان کی مصدقہ نقل حاصل کی تو معلوم ہوا کہ ان کا بیان لفظ بہ لفظ (Verbatim) درج نہیں کیا گیا۔

مثال کے طور پر واقعہ کی صحیح تاریخ 31-05-2018 تھی، لیکن تحریری بیان میں غلطی سے 30-05-2018 لکھ دی گئی تھی۔ اسی طرح دیگر غلطیاں بھی موجود تھیں۔

انہوں نے دفعہ 360 Cr.P.C. کے تحت ٹرائل کورٹ میں درخواست دی، لیکن مسترد ہوگئی۔

ہائی کورٹ نے بھی ان کی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ سے USB میں محفوظ ویڈیو ریکارڈنگ منگوائی اور خود اس کا جائزہ لیا۔

عدالت نے دیکھا کہ:

ویڈیو میں گواہ نے واضح طور پر 31 مئی 2018 کہا تھا۔

لیکن تحریری بیان میں 30 مئی 2018 درج ہوگیا تھا۔

مزید بھی کئی ایسی غلطیاں موجود تھیں جو ویڈیو اور تحریری بیان میں فرق ظاہر کرتی تھیں۔

مخالف فریق کے وکیل نے بھی تسلیم کیا کہ بیان میں مادی غلطیاں موجود ہیں۔

دفعہ 360 Cr.P.C. کی تشریح

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ:

دفعہ 360(1):

جب گواہ کا بیان مکمل ہوجائے تو اسے گواہ کے سامنے پڑھ کر سنایا جائے۔

اگر کوئی غلطی ہو تو اسی وقت درست کی جائے۔

مقصد یہ ہے کہ گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ درست طور پر ریکارڈ ہو۔

دفعہ 360(2):

اگر گواہ اعتراض کرے کہ اس کا اصل بیان درست نہیں لکھا گیا تو عدالت اس اعتراض کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔

عدالت پر لازم ہے کہ:

اعتراض کا میمورنڈم (Memorandum) تیار کرے؛

اپنی رائے درج کرے؛

جہاں ضروری ہو صحیح بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنائے۔

سپریم کورٹ کے اہم قانونی اصول

1. فوجداری کارروائی کا طریقہ کار انصاف کے لیے ہے، انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے نہیں۔

2. ٹرائل کورٹ کا فرض ہے کہ گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ درست ریکارڈ کرے۔

3. اگر گواہ کہے کہ بیان غلط لکھا گیا ہے تو عدالت صرف تکنیکی بنیاد پر درخواست مسترد نہیں کرسکتی۔

4. دفعہ 360(2) Cr.P.C. عدالت کو اختیار ہی نہیں بلکہ ذمہ داری بھی دیتی ہے کہ غلطیوں کی اصلاح کرے۔

5. ایسا نہ کرنا غیر قانونی (Illegality) ہے۔

6. منصفانہ ٹرائل کا حق آرٹیکل 10-A آئین پاکستان کے تحت محفوظ ہے، لہٰذا بیان کی درست ریکارڈنگ اسی حق کا حصہ ہے۔

سپریم کورٹ کا حکم

سپریم کورٹ نے:

ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں کے احکامات کالعدم قرار دیے۔

ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ:

ویڈیو ریکارڈنگ اور تحریری بیان کا باقاعدہ موازنہ کرے۔

یہ کارروائی ملزمان، وکلاء اور پراسیکیوٹر کی موجودگی میں کرے۔

جہاں فرق ہو وہاں دفعہ 360(2) Cr.P.C. کے مطابق میمورنڈم بنا کر صحیح بیان ریکارڈ کا حصہ بنائے۔

یہ عمل 15 ورکنگ دن میں مکمل کرے۔

اس کے بعد فریقین کو دوبارہ دلائل کا موقع دے اور 30 ورکنگ دن میں قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔

اس فیصلے کی اہمیت

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ:

ویڈیو ریکارڈ شدہ بیان اور تحریری بیان میں اختلاف ہو تو ویڈیو زیادہ معتبر ذریعہ بن سکتی ہے۔

گواہ کا بیان غلط ریکارڈ ہوجائے تو اس کی اصلاح ممکن ہے۔

عدالتیں محض تکنیکی بنیادوں پر ایسی درخواستیں مسترد نہیں کرسکتیں۔

دفعہ 360(2) Cr.P.C. کے تحت اصلاح کرنا عدالت کی قانونی ذمہ داری ہے، اور اس اختیار کو استعمال نہ کرنا غیر قانونی عمل ہے۔

09/07/2026

’’انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔‘‘

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ 2026 LHC 4384 (Tanveer Zafar Vs. The State) میں عدالت نے پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کے سیکشن 13 کی قانونی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر ضبط شدہ اشیاء کی واپسی/سپرداری کے لیے سات دن کے اندر درخواست دائر نہ کی جائے تو وہ اشیاء قانون کے تحت فوڈ اتھارٹی کے حق میں ضبط (Forfeit) تصور ہوں گی۔

بلاشبہ عدالت نے موجودہ قانون کی زبان کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ دیا، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایسا قانون خود انصاف، بنیادی حقوق، اصولِ فطری انصاف اور آئینی تقاضوں پر پورا اترتا ہے؟

کسی شہری کی قیمتی مشینری، کاروباری سامان یا جائیداد صرف اس بنیاد پر مستقل طور پر چھین لینا کہ وہ سات دن کے اندر سپرداری کی درخواست دائر نہ کر سکا، ایک انتہائی سخت اور غیر متناسب قانونی نتیجہ ہے۔ یہاں نہ جرم ثابت ہوا، نہ ٹرائل مکمل ہوا، نہ عدالت نے حتمی طور پر ملزم کو قصور وار قرار دیا، مگر ایک معمولی قانونی تاخیر کی بنیاد پر اس کی ملکیت ختم کر دی گئی۔

ریاستی اداروں کو ضبطی کا اختیار اس لیے دیا جاتا ہے کہ شواہد محفوظ رہیں، قانون کی خلاف ورزی روکی جا سکے اور عوامی مفاد کا تحفظ ہو، نہ کہ یہ اختیار شہری کی ملکیت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ ضبطی ایک عارضی حفاظتی قدم ہونا چاہیے، اسے خودکار طور پر مستقل محرومی میں تبدیل کر دینا انصاف کے بنیادی تصور کے خلاف محسوس ہوتا ہے۔

ایک عام شہری ہر وقت قانونی پیچیدگیوں سے واقف نہیں ہوتا۔ کوئی شخص بیماری، مالی مشکلات، وکیل تک رسائی نہ ہونے، خاندانی مسائل یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے سات دن میں عدالت نہیں پہنچ پاتا۔ ایسے حالات میں اسے اپنی لاکھوں روپے کی مشینری یا سامان سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دینا قانون کی سختی تو ہو سکتی ہے مگر انصاف کی روح نہیں۔

قانون کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ توازن قائم کرنا ہے۔ ایک طرف فوڈ سیفٹی اور عوامی صحت کا تحفظ ضروری ہے، لیکن دوسری طرف شہری کے بنیادی حقوق، کاروبار اور ملکیت کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 23 اور 24 شہری کے حقِ ملکیت کو تحفظ دیتے ہیں۔ ’’قانون کے مطابق محرومی‘‘ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کوئی قانون بنا دیا جائے، بلکہ وہ قانون منصفانہ، مناسب اور غیر ظالمانہ بھی ہونا چاہیے۔

زیادہ مناسب راستہ یہ ہو سکتا تھا کہ ضبط شدہ سامان ٹرائل کے اختتام تک محفوظ رکھا جائے، یا عدالت کو یہ اختیار دیا جائے کہ اگر کوئی شخص مناسب وجہ بیان کرے تو سات دن کے بعد بھی اس کی درخواست سنی جا سکے۔ ایک مختصر مدت کی تکنیکی غلطی کو مستقل ضبطی کی سزا میں تبدیل کرنا ایک غیر متناسب قانونی نتیجہ ہے۔

لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ فیصلہ موجودہ قانون کے مطابق ہو سکتا ہے، مگر خود یہ قانونی شق نظرثانی کی محتاج ہے۔ ایسا قانون جو بغیر حتمی جرم ثابت ہوئے صرف ایک تاخیر کی بنیاد پر شہری کو اس کی ملکیت سے محروم کر دے، اسے انصاف، فطری اصولوں اور آئینی آزادیوں کے پیمانے پر دوبارہ پرکھنے کی ضرورت ہے۔

ریاست کو قانون نافذ کرنے کا حق ضرور ہے، مگر قانون کا نفاذ انصاف کے ساتھ ہونا چاہیے؛ کیونکہ طاقتور ریاست کے سامنے ایک کمزور شہری کا سب سے بڑا سہارا صرف انصاف ہی ہوتا ہے۔

یاد رہے آئینِ پاکستان 1973ء شہریوں کو جائیداد کے تحفظ اور قانونی کاروبار، تجارت، پیشہ یا روزگار اختیار کرنے کے بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 23 کے تحت ہر شہری کو جائیداد حاصل کرنے، رکھنے اور منتقل کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ آرٹیکل 24 کسی بھی شہری کو قانون کے بغیر اس کی جائیداد سے محروم کرنے سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 18 ہر شہری کو کوئی بھی قانونی پیشہ اختیار کرنے اور جائز کاروبار یا تجارت کرنے کی آزادی دیتا ہے۔

یہ حقوق آرٹیکل 4 (قانون کے مطابق سلوک کا حق)، آرٹیکل 9 (زندگی اور آزادی کا تحفظ)، آرٹیکل 14 (انسانی وقار) اور آرٹیکل 25 (قانون کے سامنے مساوات) سے بھی منسلک ہیں۔ ریاست عوامی مفاد میں کاروبار اور جائیداد کو قانون کے تحت منظم کر سکتی ہے، مگر کوئی بھی پابندی منصفانہ، معقول اور غیر امتیازی ہونی چاہیے۔ کسی شہری کی جائیداد میں غیر قانونی مداخلت، ناجائز قبضہ، یا قانونی کاروبار میں بلاجواز رکاوٹ آئینی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

09/07/2026

2026 CLC 86

The High Court held that a benami transaction can only be proved by strict evidence, requiring two essential elements:

(1) an express or implied agreement between the ostensible owner and the real purchaser

(2) a direct transaction between the real purchaser and the seller, excluding the ostensible owner.

Who Gets Child Custody After Divorce?Child custody is decided based on the child's welfare—not simply whether the parent...
08/07/2026

Who Gets Child Custody After Divorce?

Child custody is decided based on the child's welfare—not simply whether the parent is the mother or father.

Every case depends on its own facts and legal considerations.

Get professional legal advice before making any decision.
Call: +923029666636

08/07/2026

VVVVI. MUST READ JUDGEMENT.
PLJ 2026 SC (CrC) 217
سپریم کورٹ نے تمام ماتحت عدالتوں کو حکم صادر کیا ہے گواہ کا کھڑے ہوکر شہادت دینا قانون کا تقاضا نہ ہے۔ اور ساتھ ہی ہدایات جاری کی ہیں کہ بوقت شہادت گواہان کے بیٹھنے کیلئے عدالت میں کرسیوں، سیٹوں یا بنچوں کا مناسب بندوبست کیا جائے۔
We note with concern that during trials, particularly at the stage of examination and cross-examination, witnesses are often required to remain standing in the witness box for prolonged periods, sometimes extending to several hours regardless of age, gender and physical health of the person. There is no legal requirement under the Code of Criminal Procedure, 1898, the Code of Civil Procedure, 1908, or the Qanun-e-Shahadat Order, 1984 that a witness must remain standing while giving evidence. The continuation of such a practice serves no legitimate purpose in the administration of justice and is inconsistent with the dignity owed to every individual appearing before a court of law. The administration of criminal justice must be safe, humane, and consistent with constitutional guarantees. Compelling a witness, specially in cases related to sexual offences to remain standing for extended durations while giving testimony places an unnecessary physical and psychological burden upon the individual and may impair the clarity and composure with which evidence is delivered. Allowing a witness to remain seated while deposing does not diminish the sanctity of the oath or the dignity of judicial proceedings. On the contrary, it promotes fairness, composure, and the orderly administration of justice, particularly in cases involving prolonged cross-examination or witnesses who may be vulnerable, elderly, infirm, or otherwise under stress. The State bears a constitutional obligation to ensure that complainants and witnesses are provided a safe and reasonable environment within the courtroom. The protection of witnesses and complainants in Pakistan is firmly grounded in the constitutional framework of fundamental rights, particularly Articles 9 and 10-A of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973, which guarantee the security of person and the right to a fair trial and due process. These guarantees are further strengthened by the principle of human dignity embodied in Article 14 of the Constitution. Together, these provisions impose a duty upon the State to ensure that witnesses and victims are protected from intimidation, coercion, humiliation, or undue hardship so that testimony may be rendered freely and judicial proceedings conducted in accordance with law.

The statutory framework further reflects this constitutional commitment. The Witness Protection, Security and Benefit Act, 2017 at the federal level, together with corresponding provincial enactments, namely the Sindh Witness Protection Act, 2013, the Balochistan Witness Protection Act, 2016, the Punjab Witness Protection Act, 2018, and the Khyber Pakhtunkhwa Witness Protection Act, 2021, provide mechanisms for the protection of witnesses, including anonymity, relocation, security arrangements, and testimony through video-link. These legislative measures reinforce the guarantees of a fair trial and seek to ensure that vulnerable witnesses, including women and minors, may depose without fear or unnecessary hardship.

A court of law is not merely a chamber where disputes are resolved; it is a place where the majesty of the law must walk hand in hand with the dignity of the individual. Every person who enters its precincts, whether as a litigant, an accused, a complainant, or a witness, comes under the protection of the Constitution. A witness who steps into the witness box does so not as a servant of the court, but as a citizen assisting the administration of justice. The law requires such a person to speak the truth; it does not require that truth to be extracted through needless physical strain. Justice does not demand endurance; it demands truth. And truth is best spoken where the witness is afforded composure, security, and respect. A courtroom must therefore remain a place where justice is administered not only with authority but with humanity.

Accordingly all District and Sessions Judges as well as courts subordinate to them, Administrative Judges of Special Courts and Tribunals in Pakistan, are directed to ensure that appropriate seating arrangements are mandatorily provided to the person in witness box, whether in the form of a chair, seat, or bench. Allowing a witness to remain seated while giving evidence remains consistent with the constitutional guarantees of human dignity and the right to a fair trial.

The Registrar of this Court is directed to circulate a copy of this judgment to the Honourable Chief Justices of all High Courts in Pakistan for the purpose of ensuring its circulation, implementation, and compliance in all courts where evidence is recorded, including civil courts, criminal courts, special courts, and tribunals operating under federal or provincial laws. The Honourable Chief Justices shall ensure that appropriate administrative directions are issued so that the requirement of providing seating arrangements for witnesses in the witness box is implemented and observed across all subordinate courts and judicial forums within their respective jurisdictions.
Cr. PLA. 1160/2025
Maham Fatima VERSUS The State and another

07/07/2026

چیک کے بدلے رقم کی وصولی: لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ، ملتان بینچ نے اپنے اہم فیصلے محمد شفیع بنام عاشق حسین (2017 CLD 1593) میں قرار دیا کہ ایک مرتبہ چیک کے اجراء، دستخط اور وصول کنندہ کے حوالے کرنے کا اقرار ہو جائے تو قانون یہ مفروضہ قائم کرتا ہے کہ چیک کسی قانونی مالی لین دین (Consideration) کے عوض جاری کیا گیا ہے۔ اس مفروضے کو غلط ثابت کرنے کی ذمہ داری اسی شخص پر عائد ہوتی ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ چیک کسی رقم کے عوض جاری نہیں کیا گیا تھا۔

مقدمے کے حقائق کے مطابق مدعی نے دعویٰ کیا کہ مدعا علیہ نے اس سے 13 لاکھ 60 ہزار روپے بطور قرض حاصل کیے اور ادائیگی کے لیے ایک چیک جاری کیا، لیکن بینک میں پیش کرنے پر چیک ڈس آنر ہو گیا۔ مدعا علیہ نے قرض کی مکمل رقم سے انکار کرتے ہوئے صرف دو لاکھ روپے قرض لینے کا اعتراف کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس نے ثالث کی مداخلت پر تین دستخط شدہ خالی چیک دیے تھے، جن میں سے ایک کا غلط استعمال کیا گیا۔

ٹرائل کورٹ نے شواہد کی بنیاد پر مدعی کے حق میں 12 لاکھ 10 ہزار روپے کی ڈگری جاری کی، جس کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ Negotiable Instruments Act, 1881 کی دفعہ 118 کے تحت ہر چیک کے بارے میں قانونی مفروضہ یہ ہے کہ وہ مالی عوض (Consideration) کے بدلے جاری کیا گیا ہے اور چیک رکھنے والا شخص Holder in Due Course تصور ہوتا ہے، جب تک اس کے برعکس معتبر شواہد پیش نہ کیے جائیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر مدعا علیہ کا یہ مؤقف درست تھا کہ چیک ثالث کی مداخلت پر بطور ضمانت یا خالی دستخط شدہ دیا گیا تھا، تو اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ متعلقہ ثالث میان شہباز فرید کو بطور گواہ عدالت میں پیش کرتا۔ چونکہ مدعا علیہ نے اپنے مؤقف کی تائید میں بہترین دستیاب شہادت (Best Evidence) پیش نہیں کی، اس لیے قانونِ شہادت کے آرٹیکل 129(g) کے تحت اس کے خلاف منفی قانونی مفروضہ (Adverse Inference) قائم کیا گیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ صرف یہ دعویٰ کر دینا کہ چیک خالی یا بطور ضمانت دیا گیا تھا، کافی نہیں ہوتا بلکہ اس دعوے کو مضبوط اور قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت کرنا ضروری ہے۔ جب مدعی نے چیک کے اجراء، قرض اور عدم ادائیگی کو زبانی اور دستاویزی شہادت سے ثابت کر دیا تو مدعا علیہ اس قانونی مفروضے کو رد کرنے میں ناکام رہا۔

ان وجوہات کی بنا پر لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں نہ تو شواہد کی غلط تشریح (Misreading)، نہ کسی اہم شہادت کو نظر انداز (Non-reading) کیا گیا اور نہ ہی کوئی قانونی بے ضابطگی موجود ہے۔ چنانچہ اپیل کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا۔

📍قانونی اصول (Legal Principle):

جب چیک کا اجراء، دستخط اور حوالگی تسلیم شدہ ہو تو قانون یہ فرض کرتا ہے کہ چیک مالی عوض کے بدلے جاری کیا گیا ہے۔ اس مفروضے کو رد کرنے کا بوجھ اسی شخص پر ہوتا ہے جو اس سے انکار کرے، اور بہترین دستیاب شہادت پیش نہ کرنے کی صورت میں عدالت اس کے خلاف منفی قانونی نتیجہ اخذ کر سکتی ہے۔

#

07/07/2026
07/07/2026

📞 Need legal guidance? Contact us for a confidential consultation.
+92 302 9666636
https://salehlawfirm.pk

07/07/2026

چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ میں پولیس کو FIR کا اختیار نہیں! اہم قانونی نکتہ ⚖️
2026 MLD 525
پاکستان میں کم عمری کی شادی کے بہت سے مقدمات میں پولیس خود FIR درج کر لیتی ہے یا تفتیش شروع کر دیتی ہے — لیکن کیا یہ قانونی طور پر درست ہے؟
قانون کیا کہتا ہے؟
چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ (CMRA) کا مخصوص طریقہ کار یہ ہے:
✅ اس قانون کے تحت شکایت Judicial Magistrate کے سامنے دائر کی جاتی ہے
✅ قانون نے پولیس کو براہِ راست FIR درج کرنے یا تفتیش کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا
✅ CMRA ایک Special Law ہے جس کا اپنا مخصوص طریقہ کار ہے — عام فوجداری طریقہ کار اس پر خودکار طور پر لاگو نہیں ہوتا
✅ پولیس کا اس ایکٹ کے تحت کیس میں مداخلت کرنا قانوناً ناجائز ہو سکتا ہے
عملی اہمیت:
🔹 اگر پولیس نے CMRA کے تحت FIR درج کی ہو تو وہ قانونی چیلنج کے قابل ہے
🔹 متاثرہ فریق براہِ راست Judicial Magistrate سے رجوع کر سکتا ہے
🔹 غلط طریقے سے درج FIR کو کالعدم کروایا جا سکتا ہے
⚠️ نوٹ: یہ قانونی آگاہی کے لیے ہے — اپنے مخصوص کیس کے لیے قانونی مشورہ ضروری ہے۔

Thinking About Divorce? Don't Make These 3 MistakesBefore filing for divorce:✔ Know your legal rights.✔ Keep all importa...
07/07/2026

Thinking About Divorce? Don't Make These 3 Mistakes

Before filing for divorce:

✔ Know your legal rights.
✔ Keep all important documents safe.
✔ Consult a lawyer before taking legal action.

📞 Need legal guidance? Contact us for a confidential consultation.
+92 302 9666636
https://salehlawfirm.pk

Address

Hamdan Heights , Office # 307 , Islamabad Express Way Islamabad
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saleh Law Firm LLP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Saleh Law Firm LLP:

Shortcuts

Share