10/07/2026
ٹرائل کورٹ کا فرض ہے کہ گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ درست ریکارڈ کرے۔ اگر گواہ کہے کہ بیان غلط لکھا گیا ہے تو دفعہ 360(2) Cr.P.C. کے تحت عدالت کو اختیار ہی نہیں بلکہ ذمہ داری بھی دیتی ہے کہ غلطیوں کی اصلاح کرے۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان (جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس صلاح الدین پنہور) نے 23 جون 2026 کو دیا۔ یہ فیصلہ فوجداری مقدمات میں دفعہ 360 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C.) کے تحت گواہ کے بیان کی درستی (Rectification) سے متعلق ایک اہم نظیر ہے۔
مقدمہ کا پس منظر
ایک قتل کے مقدمہ (FIR نمبر 33/2018) میں درخواست گزار استغاثہ کی گواہ تھیں۔
انہوں نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔
بعد میں جب انہوں نے بیان کی مصدقہ نقل حاصل کی تو معلوم ہوا کہ ان کا بیان لفظ بہ لفظ (Verbatim) درج نہیں کیا گیا۔
مثال کے طور پر واقعہ کی صحیح تاریخ 31-05-2018 تھی، لیکن تحریری بیان میں غلطی سے 30-05-2018 لکھ دی گئی تھی۔ اسی طرح دیگر غلطیاں بھی موجود تھیں۔
انہوں نے دفعہ 360 Cr.P.C. کے تحت ٹرائل کورٹ میں درخواست دی، لیکن مسترد ہوگئی۔
ہائی کورٹ نے بھی ان کی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ سے USB میں محفوظ ویڈیو ریکارڈنگ منگوائی اور خود اس کا جائزہ لیا۔
عدالت نے دیکھا کہ:
ویڈیو میں گواہ نے واضح طور پر 31 مئی 2018 کہا تھا۔
لیکن تحریری بیان میں 30 مئی 2018 درج ہوگیا تھا۔
مزید بھی کئی ایسی غلطیاں موجود تھیں جو ویڈیو اور تحریری بیان میں فرق ظاہر کرتی تھیں۔
مخالف فریق کے وکیل نے بھی تسلیم کیا کہ بیان میں مادی غلطیاں موجود ہیں۔
دفعہ 360 Cr.P.C. کی تشریح
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ:
دفعہ 360(1):
جب گواہ کا بیان مکمل ہوجائے تو اسے گواہ کے سامنے پڑھ کر سنایا جائے۔
اگر کوئی غلطی ہو تو اسی وقت درست کی جائے۔
مقصد یہ ہے کہ گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ درست طور پر ریکارڈ ہو۔
دفعہ 360(2):
اگر گواہ اعتراض کرے کہ اس کا اصل بیان درست نہیں لکھا گیا تو عدالت اس اعتراض کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔
عدالت پر لازم ہے کہ:
اعتراض کا میمورنڈم (Memorandum) تیار کرے؛
اپنی رائے درج کرے؛
جہاں ضروری ہو صحیح بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنائے۔
سپریم کورٹ کے اہم قانونی اصول
1. فوجداری کارروائی کا طریقہ کار انصاف کے لیے ہے، انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے نہیں۔
2. ٹرائل کورٹ کا فرض ہے کہ گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ درست ریکارڈ کرے۔
3. اگر گواہ کہے کہ بیان غلط لکھا گیا ہے تو عدالت صرف تکنیکی بنیاد پر درخواست مسترد نہیں کرسکتی۔
4. دفعہ 360(2) Cr.P.C. عدالت کو اختیار ہی نہیں بلکہ ذمہ داری بھی دیتی ہے کہ غلطیوں کی اصلاح کرے۔
5. ایسا نہ کرنا غیر قانونی (Illegality) ہے۔
6. منصفانہ ٹرائل کا حق آرٹیکل 10-A آئین پاکستان کے تحت محفوظ ہے، لہٰذا بیان کی درست ریکارڈنگ اسی حق کا حصہ ہے۔
سپریم کورٹ کا حکم
سپریم کورٹ نے:
ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں کے احکامات کالعدم قرار دیے۔
ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ:
ویڈیو ریکارڈنگ اور تحریری بیان کا باقاعدہ موازنہ کرے۔
یہ کارروائی ملزمان، وکلاء اور پراسیکیوٹر کی موجودگی میں کرے۔
جہاں فرق ہو وہاں دفعہ 360(2) Cr.P.C. کے مطابق میمورنڈم بنا کر صحیح بیان ریکارڈ کا حصہ بنائے۔
یہ عمل 15 ورکنگ دن میں مکمل کرے۔
اس کے بعد فریقین کو دوبارہ دلائل کا موقع دے اور 30 ورکنگ دن میں قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔
اس فیصلے کی اہمیت
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ:
ویڈیو ریکارڈ شدہ بیان اور تحریری بیان میں اختلاف ہو تو ویڈیو زیادہ معتبر ذریعہ بن سکتی ہے۔
گواہ کا بیان غلط ریکارڈ ہوجائے تو اس کی اصلاح ممکن ہے۔
عدالتیں محض تکنیکی بنیادوں پر ایسی درخواستیں مسترد نہیں کرسکتیں۔
دفعہ 360(2) Cr.P.C. کے تحت اصلاح کرنا عدالت کی قانونی ذمہ داری ہے، اور اس اختیار کو استعمال نہ کرنا غیر قانونی عمل ہے۔