19/10/2021
کمر کا درد دنیا بھر کا مسئلہ ہے اور لگ بھگ ہر کسی کو زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا سامنا ہوتا ہے عام طور پر یہ درد پسلی سے نیچے شروع ہوتا ہے اور نیچے تک پھیلا ہوا محسوس ہوتا ہے جو کہ کافی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ عام طور پر اس کی وجہ آپ کا کام ہو سکتا ہے خاص طور پر اگر آپ بھاری بوجھ اٹھانے یا ریڈھ کی ہڈی کو گھمانے کا کوئی کام کرتے ہیں اس کے نتیجے میں کمر میں درد مستقل شکایت بن جاتا ہے اسی طرح دن بھر بیٹھے رہنا بھی اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے خاص طور پر اگر بیٹھنے والی کرسی غیر آرام دہ یا آپ آگے کی جانب جھک کر بیٹھتے ہوں۔ طبی ماہرین کے مطابق خواتین اور نوجوانوں میں اس درد کی وجہ ان کا پرس بیگ یا بریف کیس ہو سکتا ہے جو کندھوں پر لٹکا ہوا ہو درحقیقت کمر کا زیریں حصہ بالائی جسم کو سپورٹ کرتا ہے جس میں اضافی وزن بھی شامل ہےاگر بیگ میں بہت زیادہ سامان ہو تو کمر پر بوجھ بڑھ جاتا ہے اور ایسا معمول بنا لینے سے کمر درد کی شکایت پیدا ہوتی ہے ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ سخت ورزش کرنے کے عادی ہیں تو بھی کمر کا درد کا سامنا ہوسکتا ہے جبکہ غلط بیٹھنے کا انداز بھی اس کی وجہ سے ہو سکتا ہے یعنی کمر سیدھی رکھنے کے بجائے آگے کی جانب جکھے رہنا ۔ عام طور پر کمردرد لوگوں کو عمر کی تیسری اور چوتھی دہائی میں پہلی دفعہ نشانہ بناتا ہے جس کا خطرہ عمر کے بڑھنے کے ساتھ زیادہ ہو جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ بہت سی بیماریوں کے سب بھی کمر درد ہونے لگتا ہے جن کا کافی عرصے تک علاج کرانا پڑتا ہے۔ اگر آپ کمر درد یا کمر سے متعلق کسی بیماری میں مبتلا ہیں مجھ سے مشورہ کر سکتے ہیں۔ انشاءاللہ بغیر کسی آپریشن کے دوائیوں اور مختلف ورزش کے ساتھ کمر درد کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ مشورہ کرنے کے لیے دیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں