Dr Abbas khan yousafzai

Dr Abbas khan yousafzai Dr Abbas yousafzai
(Mbbs general physician )
Doctor at PIMS Islamabad

سرجری کے دوران ڈاکٹروں نے اس پتھری کو مثانے سے نکالا جس کا حجم کسی شتر مرغ کے انڈے کے برابر تھا۔
19/08/2026

سرجری کے دوران ڈاکٹروں نے اس پتھری کو مثانے سے نکالا جس کا حجم کسی شتر مرغ کے انڈے کے برابر تھا۔

19/08/2026

اہم ترین ہدایت 🚨

‏برائے مہربانی کارکنان اور عوام ہسپتال کے باہر جمع نا ہوں اس سے عمران خان کے علاج پر حرف آسکتا ہے، عمران خان کی صحت سب سے اہم ہے

باجوڑ کے طالب علم کا اسمبلی میں بیٹھے نمائندوں سے دوٹوک سوال‏"میں قانون کا طالب علم ہوں، میں نے جب لاء کا داخلہ لیا تو پ...
15/08/2026

باجوڑ کے طالب علم کا اسمبلی میں بیٹھے نمائندوں سے دوٹوک سوال

‏"میں قانون کا طالب علم ہوں، میں نے جب لاء کا داخلہ لیا تو پہلے لاء کا امتحان پاس کیا اور جب ڈگری مکمل ہو گی تو دوبارہ امتحان دے کر لائسنس لو گا میرا سوال ہے کہ آپ اسمبلیوں میں آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں ہم نے دیکھا کہ آپ کی سلیکشن کا معیار عوامی مینڈیٹ نہیں تھا، تو پھر آپ کس معیار پر سلیکٹ ہو کر اسمبلیوں میں آتے ہیں؟

15/08/2026

اللہ جب دیتا ہیں تو پھر لوگوں کیلے اپنا دل بڑا کر دینا چائیے۔
مالک نے دیکھا کہ لڑکا کیا کرتا ہیں اور پھر۔۔۔

13/08/2026

پاکستان ہمیشہ زندہ باد

یہ خاتون خود ایک سائیکاٹریسٹ تھیں، جن کا پیشہ دوسروں کی ذہنی صحت کی دیکھ بھال اور انہیں ڈپریشن و دیگر نفسیاتی مسائل سے ن...
10/08/2026

یہ خاتون خود ایک سائیکاٹریسٹ تھیں، جن کا پیشہ دوسروں کی ذہنی صحت کی دیکھ بھال اور انہیں ڈپریشن و دیگر نفسیاتی مسائل سے نکالنے میں مدد دینا تھا۔ اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر یہ حقیقت یاد دلا دی کہ ذہنی بیماری کسی بھی شخص کو متاثر کر سکتی ہے، چاہے وہ اس شعبے کا ماہر ہی کیوں نہ ہو۔

خاندانی تنازعات، طلاق، معاشرتی دباؤ، تنہائی، مالی مشکلات یا زندگی کے دیگر مسائل یقیناً ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں، لیکن کسی ایک وجہ کو ایسے سانحات کی واحد وجہ قرار دینا درست نہیں۔ انسانی ذہن انتہائی پیچیدہ ہے۔ بعض اوقات برسوں کی تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت، تجربہ اور دوسروں کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت بھی انسان کو اپنی ذاتی آزمائشوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھ پاتی۔

یہ واقعہ ہم سب کے لیے ایک پیغام ہے کہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کا خیال رکھیں۔ اپنے والدین، بہن بھائیوں، شریکِ حیات، دوستوں، ساتھیوں اور کولیگز کی خیریت دریافت کریں۔ کبھی صرف چند منٹ کی گفتگو، ایک مخلصانہ سوال کہ “آپ کیسے ہیں؟” یا کسی کے دکھ درد کو توجہ سے سن لینا بھی کسی کے لیے بہت بڑا سہارا بن سکتا ہے۔

ذہنی تکلیف اکثر خاموش ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ بظاہر مسکراتے رہتے ہیں، اپنے فرائض بھی انجام دیتے ہیں، مگر اندر ہی اندر شدید جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے اپنے قریبی لوگوں کو تنہا نہ چھوڑیں، ان کی بات سنیں، ان کا ہاتھ تھامیں، ان کا حوصلہ بڑھائیں، اور اگر ضرورت محسوس ہو تو انہیں بروقت پیشہ ورانہ مدد لینے کی ترغیب دیں۔ بعض اوقات ہماری تھوڑی سی توجہ، محبت اور ساتھ کسی کی زندگی میں بہت بڑا فرق پیدا کر سکتا ہے۔

06/08/2026

سوشل میڈیا پر دلہن کو ایمبولینس میں لانے کی ویڈیو وائرل، ابتدائی اطلاعات اور اکثریتی رائے کے مطابق ویڈیو ضلع بونیر کی بتائی جا رہی ہے، تاہم اس کی تاحال سرکاری یا آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

05/08/2026

27 ستمبر کو اسلام آباد کا رخ کریں گے، سہیل آفریدی

ایمرجنسی میں مریض کے لواحقین سے مسکرا کر ملنا ضروری یا سب سے پہلے مریض کی جان بچانا ؟ سمجھیں ! ایمرجنسی میں ڈاکٹر کے اخل...
04/08/2026

ایمرجنسی میں مریض کے لواحقین سے مسکرا کر ملنا ضروری یا سب سے پہلے مریض کی جان بچانا ؟ سمجھیں !
ایمرجنسی میں ڈاکٹر کے اخلاق پر نہیں، اُس کی جدوجہد پر نظر رکھیں
جنگ کے میدان میں کوئی فوجی کا اخلاق نہیں دیکھتا، اُس کی بہادری، قربانی اور کارکردگی دیکھی جاتی ہے۔ پھر ایمرجنسی میں روز زندگی اور موت کی جنگ لڑنے والے ڈاکٹر سے ہی کیوں یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ شدید دباؤ، سینکڑوں مریضوں، شور، بدتمیزی اور لامتناہی رش کے باوجود ہر لمحہ مسکراتا رہے؟
ایک مریض کے ساتھ کئی کئی لواحقین، ہر شخص کی الگ رائے، الگ سوال اور الگ مطالبہ۔ ڈاکٹر علاج کم اور لوگوں کو سمجھانے میں زیادہ وقت گزار دیتا ہے، پھر بھی ہر مریض کو دیکھنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں کبھی لہجہ سخت ہو جائے یا چہرے پر تھکن آ جائے تو فوراً فیصلہ سنا دیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کا اخلاق خراب ہے۔
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کیا ہم نے کبھی دوسرے شعبوں کے لوگوں کا اخلاق بھی اسی پیمانے سے ناپا ہے؟ کتنی بار عوام سرکاری دفاتر میں ذلیل ہوتی ہے، کتنی بار لوگوں کو فائلوں کے لیے دھکے کھانے پڑتے ہیں، کتنی جگہوں پر رشوت دیے بغیر کام نہیں ہوتے، کتنی بار پولیس یا دیگر محکموں کے رویوں کی شکایت سننے کو ملتی ہے۔ لیکن وہاں معاشرہ یہ کہہ کر گزر جاتا ہے کہ "نظام ایسا ہے"۔ عجیب بات ہے کہ صرف ڈاکٹر ہی ایک ایسا شخص ہے جس سے لوگ فرشتوں جیسا رویہ چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر فرشتہ نہیں، انسان ہے۔ وہ بھی تھکتا ہے، پریشان ہوتا ہے، ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، اُس کے بھی گھر والے ہیں، اُس کے بھی مسائل ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اپنے تمام ذاتی مسائل کے باوجود وہ دوسروں کی جان بچانے کے لیے کھڑا رہتا ہے۔
چاند رات کو ایک دوست کی جیولری شاپ پر شدید رش دیکھا۔ وہ سخت لہجے میں بات کر رہا تھا، مگر کسی نے اُس کے اخلاق پر اعتراض نہیں کیا، کیونکہ سب جانتے تھے کہ رش میں انسان پر دباؤ ہوتا ہے۔ پھر یہی انصاف ایمرجنسی کے ڈاکٹر کو کیوں نہیں ملتا؟
اگر کسی بیوروکریٹ کو روزانہ سینکڑوں لوگوں کے مسائل اسی ماحول میں سننے پڑیں تو شاید چند دن بھی نہ نکال سکے، مگر ڈاکٹر چوبیس گھنٹے ہر آنے والے کے لیے موجود رہتا ہے۔ بدتمیزی بھی سنتا ہے، دھمکیاں بھی برداشت کرتا ہے اور پھر بھی خدمت جاری رکھتا ہے۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب فوج حالتِ جنگ میں ہو تو ریاست اپنے تمام وسائل اُس کے لیے وقف کر دیتی ہے، کیونکہ جنگ وسائل کے بغیر نہیں لڑی جا سکتی۔ لیکن ڈاکٹر تو ہر روز بیماری، حادثات اور موت کے خلاف جنگ لڑتے ہیں۔ افسوس کہ انہیں اکثر عملے کی کمی، ادویات کی قلت اور محدود وسائل کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے، پھر بھی تمام ناکامیوں کا بوجھ انہی کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔
اصل مسئلہ ڈاکٹر نہیں، وہ نظام ہے جسے برسوں سے نظر انداز کیا گیا۔ حکومتیں دعوے بہت کرتی ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں کی حقیقت سب کے سامنے ہے۔ وسائل کی کمی کا غصہ ڈاکٹر پر نکالا جاتا ہے، جبکہ وہ خود بھی اسی نظام کا متاثرہ فریق ہوتا ہے۔
ہماری ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈکس، خصوصاً ہماری بیٹیاں، دن رات انسانیت کی خدمت کر رہی ہیں۔ وہ اُس وقت بھی مریض کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں جب کبھی اپنے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔
خدارا! ڈاکٹر کو فرشتہ نہ سمجھیں، انسان سمجھیں۔ اُس کے لہجے سے پہلے اُس کے حالات کو سمجھیں، اُس کی تھکن کو سمجھیں، اُس کی جنگ کو سمجھیں۔ کیونکہ وہ روز اپنے لیے نہیں، آپ کے پیاروں کی زندگی کے لیے لڑ رہا ہوتا ہے، اور یہی اُس کی سب سے بڑی خوبی اور قربانی ہے۔
واما علینا الاالبلاغ
کا پی ڈ

سوات دھماکہ۔ ایک دلخراش واقعہ۔*دھماکے کے بعد ایک فون مسلسل بجتا رہا...ادھر ایک ماں تھی جو کانپتے ہاتھوں سے اپنے لختِ جگر...
02/08/2026

سوات دھماکہ۔ ایک دلخراش واقعہ۔

*دھماکے کے بعد ایک فون مسلسل بجتا رہا...
ادھر ایک ماں تھی جو کانپتے ہاتھوں سے اپنے لختِ جگر کا حال پوچھ رہی تھی
اور ادھر... اس کا بیٹا خاموش، بے جان، خون میں لت پت پڑا تھا۔😢

فون کون اٹھاتا؟
کس دل سے بتاتا کہ جس آواز کا تمہیں انتظار ہے وہ اب کبھی نہیں آئے گی؟

یا اللہ! ہمارے شہداء کی کامل مغفرت فرما، ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے باغ بنا دے،*
اور ان ماؤں کو صبرِ جمیل عطا فرما جن کی گودیں اجڑ گئیں۔
*آمین یا رب العالمین* 🤲

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Abbas khan yousafzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Abbas khan yousafzai:

Shortcuts

Share

Category