05/06/2026
*کہیں دیپ جلے - نظرِ ثانی*
گلی کے نکڑ کا چراغ بجھتا تھا تو میرے اندر بھی کچھ بجھ جاتا۔ نفسیات کی کتابوں میں پڑھا تھا کہ انسان بیرونی اندھیرے کو اپنے اندر کا خوف سمجھ لیتا ہے۔ شہر آیا تو وہی ہوا۔ نوکری کا دباؤ، کرایے کی فکر، لوگوں کی بھیڑ میں تنہائی... میرے لاشعور نے ہر چیز کو خطرہ بنا دیا۔
رات کو نیند نہیں آتی تھی۔ دل کی دیوار پر سیاہی پھیرنے والے خیالات چپک گئے تھے۔ امّی کی بات یاد آتی، "بیٹا، اندھیرا ہمیشہ نہیں رہتا"۔ میں ہنستا تھا۔ روح تو تھک گئی تھی، دیپ کہاں سے جلتا؟
پھر ایک شام، چھت پر بیٹھا استغفار کر رہا تھا۔ بے دلی سے، عادتاً۔ سامنے بچی کی پتنگ کٹ گئی۔ وہ سسکی۔ میرا نفس کہا: "جاؤ، دس روپے دے آؤ۔ شاید تمہارا بوجھ ہلکا ہو جائے"۔ میں گیا۔ ڈور دلائی۔
اس نے کہا، "انکل آپ فرشتے ہو؟"
اس لمحے روح نے سر اٹھایا۔ سمجھ آیا کہ روحانی سکون لینے سے نہیں، دینے سے آتا ہے۔ نفسیات کہتی ہے "خدمت سے ڈپریشن کم ہوتا ہے"۔ قرآن کہتا ہے "جو دیا جاتا ہے وہی تمہارا ہے"۔
آج چھت پر دیا جلایا ہے۔ شمع کم ہے، پر نیت خالص ہے۔ میرا لاشعور اب اندھیرے سے نہی ڈرتا، کیونکہ میں نے سیکھ لیا:
اندھیرا ختم کرنے کو سورج نہیں چاہیے۔ بس دل کا جل جائے۔ اور وہ تب جلتا ہے جب ہم اپنا اندھیرا بانٹ کر، کسی کے لیے روشنی بن جائیں۔ کیونکہ رب کہیں نہ کہیں دیپ جلا ہی دیتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ ہم پہلے کسی اور لیے جل اٹھیں۔
منجانب ڈاکٹر سحر جبین