02/06/2026
مسکراتے چہرے کے پیچھے چھپا ہوا طوفان
سیشن نمبر 2: وہ اپنے شوہر سے ناراض تھیں... یا دراصل کسی اور سے؟
ایک ہفتے بعد وہ دوبارہ میرے آفس میں موجود تھیں۔
اس بار وہ وقت پر آئی تھیں۔
جب وہ کمرے میں داخل ہوئیں تو پہلی ملاقات کے مقابلے میں کچھ زیادہ پُرسکون دکھائی دے رہی تھیں، لیکن ان کی آنکھوں کے نیچے ہلکے حلقے بتا رہے تھے کہ پچھلا ہفتہ ان کے لیے آسان نہیں گزرا۔
مختصر خیرسگالی کے بعد میں نے پوچھا:
"جرنل مکمل ہو گیا؟"
انہوں نے اپنے بیگ سے ایک نوٹ بک نکالی اور میری طرف بڑھا دی۔
"جی... لیکن اسے لکھتے ہوئے مجھے اندازہ ہوا کہ میں جتنا سمجھتی تھی، مسئلہ شاید اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔"
یہ جملہ میرے لیے اہم تھا۔
اکثر علاج کا پہلا قدم مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کی اصل نوعیت کو سمجھنا ہوتا ہے۔
میں نے ان سے جرنل کے بارے میں بات کرنا شروع کی۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ ڈائری کے تقریباً ہر صفحے پر شوہر کا ذکر موجود تھا، لیکن اصل تکلیف مختلف تھی۔
ایک صفحے پر انہوں نے لکھا تھا:
"آج شوہر نے میری بات سنے بغیر موبائل استعمال کرنا شروع کر دیا۔ مجھے بہت برا لگا۔"
دوسرے صفحے پر:
"میں پورا دن انتظار کرتی رہی کہ وہ پوچھیں کہ میرا دن کیسا گزرا، لیکن انہوں نے نہیں پوچھا۔"
تیسرے صفحے پر:
"مجھے لگتا ہے میری اہمیت کسی کے لیے نہیں ہے۔"
میں نے آخری جملہ دوبارہ پڑھا۔
پھر ان سے پوچھا:
"جب آپ یہ لکھ رہی تھیں تو آپ کو کس کی یاد آ رہی تھی؟"
انہوں نے فوراً جواب نہیں دیا۔
کچھ لمحے خاموش رہیں۔
پھر آہستہ سے بولیں:
"میرے والد۔"
یہ اس سیشن کا پہلا بڑا موڑ تھا۔
میں نے ان سے بچپن کے بارے میں بات کرنا شروع کی۔
آہستہ آہستہ ایک نئی کہانی سامنے آنے لگی۔
وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔
والد ایک سخت مزاج اور مصروف انسان تھے۔
گھر میں تمام ضروریات پوری ہوتی تھیں، لیکن جذباتی گفتگو تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔
انہوں نے بتایا:
"مجھے یاد نہیں کہ کبھی ابو نے بیٹھ کر میری بات سنی ہو۔"
میں خاموشی سے سنتی رہی۔
پھر وہ مسکرائیں، لیکن اس بار اس مسکراہٹ میں دکھ چھپا ہوا تھا۔
"میں ہمیشہ اچھی بیٹی بننے کی کوشش کرتی رہی تاکہ شاید ایک دن وہ مجھ پر فخر کریں۔"
میں نے ان سے پوچھا:
"اور کیا کبھی ایسا ہوا؟"
ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
"شاید نہیں۔"
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
پھر میں نے ان سے ایک اہم سوال کیا:
"کیا یہ ممکن ہے کہ آپ آج بھی کسی سے وہی چیز حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو آپ کو بچپن میں نہیں ملی؟"
وہ چونک گئیں۔
انہوں نے فوراً جواب نہیں دیا۔
ان کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ شاید پہلی بار انہوں نے اس زاویے سے سوچا تھا۔
کئی منٹ تک گفتگو جاری رہی۔
آہستہ آہستہ انہیں احساس ہونے لگا کہ شوہر کے ساتھ ہر اختلاف صرف موجودہ حالات کی وجہ سے نہیں تھا۔
بعض اوقات پرانے زخم نئے رشتوں میں بھی درد دیتے رہتے ہیں۔
کبھی کبھی ہم اپنے شریکِ حیات سے صرف محبت نہیں مانگ رہے ہوتے۔
ہم وہ توجہ، قبولیت اور اہمیت مانگ رہے ہوتے ہیں جو برسوں پہلے کہیں کھو گئی تھی۔
سیشن کے اختتام پر میں نے ان سے کہا:
"اگلے ہفتے تک آپ دو خطوط لکھیں گی۔"
"ایک خط اپنے والد کے نام... جو آپ کبھی انہیں نہیں دیں گی۔"
"اور دوسرا خط اپنے شوہر کے نام... جس میں آپ پہلی بار بغیر غصے کے صرف اپنے احساسات لکھیں گی۔"
انہوں نے حیرانی سے میری طرف دیکھا۔
پھر آہستہ سے سر ہلا دیا۔
جب وہ جانے لگیں تو دروازے کے قریب رک گئیں۔
واپس مڑ کر بولیں:
"شاید میں پہلی بار سمجھ رہی ہوں کہ مجھے اتنا غصہ کیوں آتا ہے۔"
میں نے مسکرا کر کہا:
"یہ شروعات ہے۔"
وہ چلی گئیں۔
لیکن مجھے اندازہ تھا کہ اگلا سیشن اس سے کہیں زیادہ مشکل ہونے والا ہے۔
کیونکہ بعض اوقات انسان دوسروں کو معاف کرنے سے پہلے یہ دریافت کرتا ہے کہ وہ برسوں سے خود کو بھی قصوروار سمجھتا رہا ہے۔
جاری ہے...
اگلا سیشن:
"وہ خط جسے لکھتے ہوئے اس خاتون نے پہلی بار خود کو ٹوٹ کر روتے دیکھا..."
Case Reflection Series By
Iqra Awan
(Consultant Psychologist)
CEO, Mental Health Care Hospital, Islamabad
International Certified Addiction Professional (ICAP)
Mental Health & Addiction Specialist