Mind Care Rehab center

Mind Care Rehab center Mind Care Rehab Center :Drug Addiction & Psychological treatment Center. Contact us:0347-5300141.....051-2155561.....0320-3169141

02/06/2026

مسکراتے چہرے کے پیچھے چھپا ہوا طوفان

سیشن نمبر 2: وہ اپنے شوہر سے ناراض تھیں... یا دراصل کسی اور سے؟

ایک ہفتے بعد وہ دوبارہ میرے آفس میں موجود تھیں۔

اس بار وہ وقت پر آئی تھیں۔

جب وہ کمرے میں داخل ہوئیں تو پہلی ملاقات کے مقابلے میں کچھ زیادہ پُرسکون دکھائی دے رہی تھیں، لیکن ان کی آنکھوں کے نیچے ہلکے حلقے بتا رہے تھے کہ پچھلا ہفتہ ان کے لیے آسان نہیں گزرا۔

مختصر خیرسگالی کے بعد میں نے پوچھا:

"جرنل مکمل ہو گیا؟"

انہوں نے اپنے بیگ سے ایک نوٹ بک نکالی اور میری طرف بڑھا دی۔

"جی... لیکن اسے لکھتے ہوئے مجھے اندازہ ہوا کہ میں جتنا سمجھتی تھی، مسئلہ شاید اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔"

یہ جملہ میرے لیے اہم تھا۔

اکثر علاج کا پہلا قدم مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کی اصل نوعیت کو سمجھنا ہوتا ہے۔

میں نے ان سے جرنل کے بارے میں بات کرنا شروع کی۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ ڈائری کے تقریباً ہر صفحے پر شوہر کا ذکر موجود تھا، لیکن اصل تکلیف مختلف تھی۔

ایک صفحے پر انہوں نے لکھا تھا:

"آج شوہر نے میری بات سنے بغیر موبائل استعمال کرنا شروع کر دیا۔ مجھے بہت برا لگا۔"

دوسرے صفحے پر:

"میں پورا دن انتظار کرتی رہی کہ وہ پوچھیں کہ میرا دن کیسا گزرا، لیکن انہوں نے نہیں پوچھا۔"

تیسرے صفحے پر:

"مجھے لگتا ہے میری اہمیت کسی کے لیے نہیں ہے۔"

میں نے آخری جملہ دوبارہ پڑھا۔

پھر ان سے پوچھا:

"جب آپ یہ لکھ رہی تھیں تو آپ کو کس کی یاد آ رہی تھی؟"

انہوں نے فوراً جواب نہیں دیا۔

کچھ لمحے خاموش رہیں۔

پھر آہستہ سے بولیں:

"میرے والد۔"

یہ اس سیشن کا پہلا بڑا موڑ تھا۔

میں نے ان سے بچپن کے بارے میں بات کرنا شروع کی۔

آہستہ آہستہ ایک نئی کہانی سامنے آنے لگی۔

وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔

والد ایک سخت مزاج اور مصروف انسان تھے۔

گھر میں تمام ضروریات پوری ہوتی تھیں، لیکن جذباتی گفتگو تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔

انہوں نے بتایا:

"مجھے یاد نہیں کہ کبھی ابو نے بیٹھ کر میری بات سنی ہو۔"

میں خاموشی سے سنتی رہی۔

پھر وہ مسکرائیں، لیکن اس بار اس مسکراہٹ میں دکھ چھپا ہوا تھا۔

"میں ہمیشہ اچھی بیٹی بننے کی کوشش کرتی رہی تاکہ شاید ایک دن وہ مجھ پر فخر کریں۔"

میں نے ان سے پوچھا:

"اور کیا کبھی ایسا ہوا؟"

ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

"شاید نہیں۔"

کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔

پھر میں نے ان سے ایک اہم سوال کیا:

"کیا یہ ممکن ہے کہ آپ آج بھی کسی سے وہی چیز حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو آپ کو بچپن میں نہیں ملی؟"

وہ چونک گئیں۔

انہوں نے فوراً جواب نہیں دیا۔

ان کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ شاید پہلی بار انہوں نے اس زاویے سے سوچا تھا۔

کئی منٹ تک گفتگو جاری رہی۔

آہستہ آہستہ انہیں احساس ہونے لگا کہ شوہر کے ساتھ ہر اختلاف صرف موجودہ حالات کی وجہ سے نہیں تھا۔

بعض اوقات پرانے زخم نئے رشتوں میں بھی درد دیتے رہتے ہیں۔

کبھی کبھی ہم اپنے شریکِ حیات سے صرف محبت نہیں مانگ رہے ہوتے۔

ہم وہ توجہ، قبولیت اور اہمیت مانگ رہے ہوتے ہیں جو برسوں پہلے کہیں کھو گئی تھی۔

سیشن کے اختتام پر میں نے ان سے کہا:

"اگلے ہفتے تک آپ دو خطوط لکھیں گی۔"

"ایک خط اپنے والد کے نام... جو آپ کبھی انہیں نہیں دیں گی۔"

"اور دوسرا خط اپنے شوہر کے نام... جس میں آپ پہلی بار بغیر غصے کے صرف اپنے احساسات لکھیں گی۔"

انہوں نے حیرانی سے میری طرف دیکھا۔

پھر آہستہ سے سر ہلا دیا۔

جب وہ جانے لگیں تو دروازے کے قریب رک گئیں۔

واپس مڑ کر بولیں:

"شاید میں پہلی بار سمجھ رہی ہوں کہ مجھے اتنا غصہ کیوں آتا ہے۔"

میں نے مسکرا کر کہا:

"یہ شروعات ہے۔"

وہ چلی گئیں۔

لیکن مجھے اندازہ تھا کہ اگلا سیشن اس سے کہیں زیادہ مشکل ہونے والا ہے۔

کیونکہ بعض اوقات انسان دوسروں کو معاف کرنے سے پہلے یہ دریافت کرتا ہے کہ وہ برسوں سے خود کو بھی قصوروار سمجھتا رہا ہے۔

جاری ہے...

اگلا سیشن:

"وہ خط جسے لکھتے ہوئے اس خاتون نے پہلی بار خود کو ٹوٹ کر روتے دیکھا..."

Case Reflection Series By

Iqra Awan
(Consultant Psychologist)

CEO, Mental Health Care Hospital, Islamabad

International Certified Addiction Professional (ICAP)
Mental Health & Addiction Specialist

31/05/2026

مسکراتے چہرے کے پیچھے چھپا ہوا طوفان

سیشن نمبر 1: خاموشی جو بولنا چاہتی تھی

کل میرے اسٹاف نے ایک نئی خاتون کی اپوائنٹمنٹ بک کی تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وہ ازدواجی مسائل اور ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہی تھیں۔

آج میں مقررہ وقت پر اپنے آفس میں موجود تھی اور ان کی آمد کا انتظار کر رہی تھی۔ اپوائنٹمنٹ کے وقت سے تقریباً پندرہ منٹ گزر چکے تھے کہ آفس کا دروازہ آہستہ سے کھلا اور وہ اندر داخل ہوئیں۔

انہوں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

"سوری میڈم، راستے میں ٹریفک کی وجہ سے دیر ہو گئی۔"

میں نے انہیں خوش آمدید کہا اور بیٹھنے کی دعوت دی۔

پہلی نظر میں وہ ایک باوقار، تعلیم یافتہ اور نفیس خاتون محسوس ہو رہی تھیں۔ ان کی عمر تقریباً چونتیس سال کے قریب تھی۔ لباس سادہ مگر باوقار تھا اور چہرے پر ایک پُرسکون مسکراہٹ موجود تھی۔

بظاہر وہ ایک خوشحال زندگی گزارنے والی خاتون لگ رہی تھیں، لیکن چند منٹ کی گفتگو کے بعد اندازہ ہونے لگا کہ ان کی خاموشی کے پیچھے ایک طویل داستان چھپی ہوئی ہے۔

ابتدائی تعارف اور سیشن کی رازداری سے متعلق گفتگو کے بعد میں نے ان سے پوچھا:

"آپ آج یہاں کس امید کے ساتھ آئی ہیں؟"

وہ چند لمحے خاموش رہیں۔

پھر آہستہ سے بولیں:

"میڈم... مجھے لگتا ہے کہ میں اندر ہی اندر ختم ہوتی جا رہی ہوں۔"

ان کی آواز میں تھکن تھی، ایسی تھکن جو جسم کی نہیں بلکہ دل کی ہوتی ہے۔

میں نے انہیں اپنی بات کھل کر بیان کرنے کی دعوت دی۔

کچھ دیر بعد انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں بات کرنا شروع کی۔

ان کی شادی کو تقریباً دس سال ہو چکے تھے۔ دو بچے تھے۔ شوہر ایک ذمہ دار اور محنتی انسان تھے۔ مالی طور پر کوئی خاص مسئلہ نہیں تھا۔ گھر، خاندان اور زندگی بظاہر مکمل نظر آتی تھی۔

مگر حقیقت اس تصویر سے مختلف تھی۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں اپنے شوہر سے سب سے بڑی شکایت کسی لڑائی، بدتمیزی یا تشدد کی نہیں تھی۔

ان کی سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ ان کی بات کبھی سنی ہی نہیں جاتی۔

جب بھی وہ اپنے جذبات یا پریشانیوں کا اظہار کرتیں تو جواب اکثر یہی ملتا:

"تم بہت زیادہ سوچتی ہو۔"

"ہر بات کو دل پر نہ لیا کرو۔"

"یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔"

یہ جملے بظاہر معمولی تھے، لیکن سالہا سال تک سننے کے بعد انہوں نے ان کے دل میں ایک خاموش فاصلے کو جنم دے دیا تھا۔

انہوں نے آہستہ سے کہا:

"اب میں بات ہی نہیں کرتی... کیونکہ مجھے پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ میری بات کو اہمیت نہیں ملے گی۔"

یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

میں خاموشی سے ان کی بات سنتی رہی۔

کبھی کبھی کسی انسان کو مشورے سے پہلے صرف ایک ایسے کان کی ضرورت ہوتی ہے جو واقعی اسے سن سکے۔

گفتگو کے دوران میں نے ان سے ایک سوال کیا:

"اگر اس وقت آپ کے شوہر یہاں موجود ہوتے اور آپ کو صرف ایک جملہ کہنے کا موقع ملتا تو آپ کیا کہتیں؟"

کمرے میں چند لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔

انہوں نے گہرا سانس لیا۔

آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اور پھر انہوں نے کہا:

"میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ وہ ایک بار میری بات پوری سن لیں۔"

اس ایک جملے میں برسوں کی محرومی چھپی ہوئی تھی۔

یہ صرف ایک بیوی کی شکایت نہیں تھی۔

یہ ایک ایسے دل کی آواز تھی جو مسلسل سنا جانا چاہتا تھا مگر ہر بار نظر انداز ہو جاتا تھا۔

سیشن کے اختتام پر میں نے انہیں ایک جرنل لکھنے کی مشق دی۔

میں نے کہا:

"اگلے سات دن تک روزانہ صرف ایک سوال کا جواب لکھیں...

آج مجھے سب سے زیادہ کس بات نے جذباتی طور پر متاثر کیا؟"

انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور پہلی بار ان کے چہرے پر ہلکا سا اطمینان نظر آیا۔

جب وہ آفس سے باہر نکلیں تو ان کی مسکراہٹ وہی تھی، لیکن اب مجھے معلوم تھا کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنے ان کہے جذبات دفن ہیں۔

لیکن اصل حیرت تو ابھی باقی تھی...

کیونکہ ایک ہفتے بعد جب وہ اپنی ڈائری لے کر دوبارہ میرے سامنے بیٹھیں، تو اس کے چند صفحات نے ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کیا جس کا احساس خود انہیں بھی کبھی نہیں ہوا تھا...

جاری ہے...

اگلا سیشن:

"وہ اپنے شوہر سے ناراض تھیں... یا دراصل کسی اور سے؟"
consultant psychologist Iqra Awan

31/05/2026

🚭 World No To***co Day

Every step away from to***co is a step toward a healthier mind and body. This World No To***co Day, choose a smoke-free future and invest in your well-being.
"Mental Health Care Hospital Islamabad is committed to helping individuals overcome addiction and build healthier lives".

📍 Malik Plaza, Main Fawara Chowk, Ghauri Town, Phase 4C/1, Islamabad
📞 0300-8346269 | 051-2303298
🌐 www.mentalhealthcarehospital.com
***coDay
***co


31/05/2026
This Eid, spread kindness, strengthen hearts, and remember those who need support the most. 🤍
27/05/2026

This Eid, spread kindness, strengthen hearts, and remember those who need support the most. 🤍




Healing begins with the right care.A safe, trusted, and dedicated mental health facility exclusively for women in Islama...
21/05/2026

Healing begins with the right care.
A safe, trusted, and dedicated mental health facility exclusively for women in Islamabad.





Dementia and Alzheimer’s disease need understanding, compassion, and timely professional care. Early diagnosis and prope...
20/05/2026

Dementia and Alzheimer’s disease need understanding, compassion, and timely professional care. Early diagnosis and proper treatment can improve quality of life, safety, and emotional well-being for both patients and families.

19/05/2026

Memory fades, but compassionate care can still make life safer, calmer, and more meaningful. Early support and professional treatment for Alzheimer’s Disease can improve quality of life for both patients and families.
📍 Mental Health Care Hospital Islamabad




Dementia is not just memory loss — it affects emotions, behavior, safety, and daily life. Early diagnosis, compassionate...
18/05/2026

Dementia is not just memory loss — it affects emotions, behavior, safety, and daily life. Early diagnosis, compassionate care, and professional treatment can improve quality of life for patients and families alike.





Address

Ghouri Town Phase 4B Waraich Plaza Islamabad
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mind Care Rehab center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Mind Care Rehab center:

Shortcuts

Share