Pakistan Power News InternationaL

Pakistan Power News InternationaL Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pakistan Power News InternationaL, Islamabad.

🇵🇰 PPNI-NEWS-AGENCY
Pakistan Power News InternationaL 🌍
📰 Trusted News • Fast Updates • Global Vision
🎙 Digital Media & International Journalism
📡 حقیقت پر مبنی خبریں اور عوام کی آواز
⚡ Breaking News | Media Awareness | Worldwide Updates

🇵🇰 Pakistan Power News International  ✍️🕵️‍♂️💚*📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ءآئی ایس پی آرراولپنڈی، 29 جولائی، 2026؛ب...
29/07/2026

🇵🇰 Pakistan Power News International ✍️🕵️‍♂️💚*
📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ء
آئی ایس پی آر
راولپنڈی، 29 جولائی، 2026؛
بھارتی سپانسرڈ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے گٹھ جوڑ کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کے تسلسل میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا قلع قمع کرنے کے لیے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جامع مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیکورٹی فورسز نے ان ہندوستانی پراکسیوں کے بتیس دہشت گردوں کو کامیابی کے ساتھ ختم کیا ہے۔
28/29 جولائی 2026 کی رات، خیبر پختونخواہ کے ضلع خیبر میں متعدد انٹیلی جنس پر مبنی ایریا سینیٹائزیشن اور ٹارگٹڈ آپریشنز کیے گئے۔ ان ٹارگٹڈ آپریشنز کے دوران سیکورٹی فورسز نے دہشت گردی کے مختلف مقامات کو موثر انداز میں نشانہ بنایا جس میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے چوبیس دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ دریں اثنا، سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع نوشکی میں بھی انٹیلی جنس پر مبنی متعدد کارروائیاں کی ہیں جہاں ایک شدید مصروفیت کے بعد فتنہ الہند سے تعلق رکھنے والے 8 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے زیر استعمال اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد کر کے تباہ کر دیا گیا۔
علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دوسرے ہندوستانی سپانسر شدہ دہشت گرد کو ختم کرنے کے لیے صفائی کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے وژن "اعظمی استحکم" (جیسا کہ نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی سپریم کمیٹی کی منظوری) کے تحت انسداد دہشت گردی کی انتھک مہم ملک سے غیر ملکی اسپانسر شدہ اور سپورٹ شدہ دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے پوری رفتار سے جاری رہے گی۔
___
📢 Follow Our Official Channel:
🔗 https://whatsapp.com/channel/0029VabIZjwDp2QAoNtmZt2C
💬 Join Our WhatsApp Group:
🔗-1 https://chat.whatsapp.com/DiSGaJBUhXJ1VRmWQRfU1q
🔗-2 https://chat.whatsapp.com/IqPoEblBsqC0W85wuMUHYf
🌍 Stay informed. Stay connected. Stay aware.

🇵🇰 Pakistan Power News International  ✍️🕵️‍♂️💚*📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ءکراچی کے کبوترچوک صحت کے لیے خطرہ، ماہری...
29/07/2026

🇵🇰 Pakistan Power News International ✍️🕵️‍♂️💚*
📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ء
کراچی کے کبوترچوک صحت کے لیے خطرہ، ماہرین نے خبردار کردیا
کراچی کے ایم اے جناح روڈ،صدر،بولٹن مارکیٹ،لی مارکیٹ سمیت دیگر علاقوں میں 20، سے 30 کبوتر چوک قائم ہیں
کراچی کے کبوتر چوک صحت کے لیے خطرہ، ماہرین نے خبردار کردیا۔

کبوتر امن کی علامت، محبت کا استعارہ اور کراچی کی پہچان سمجھے جاتے ہیں، تاہم شہر میں قائم کبوتر چوک اب صحت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھانے لگے ہیں۔

کراچی کے ایم اے جناح روڈ،صدر،بولٹن مارکیٹ،لی مارکیٹ، برنس روڈ، لیاقت آباد، ناظم آباد، ملیر اور دیگرعلاقوں میں تقریباً 20 سے 30 کبوترچوک قائم ہیں،جہاں روزانہ 10 سے 20 ہزارشہری کبوتروں کو دانہ ڈالنے آتےہیں۔

ان مقامات پرہزاروں جنگلی کبوترجمع ہوتے ہیں۔ شہریوں کے لیےکبوتروں کو دانہ ڈالنا روحانی سکون، شوق اورمحبت کی علامت ہے،تاہم ماہرین صحت نے پرندوں کےغیرمعمولی ہجوم کے باعث ممکنہ صحت کے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔

ماہرین کے مطابق کبوتروں کے فضلے، پروں اور ان سے اڑنے والے باریک ذرات میں بیکٹیریا، فنگس اور دیگر جراثیم موجود ہوسکتے ہیں، جو انسانی جسم میں داخل ہوکر الرجی اور پھیپھڑوں کے انفیکشن سمیت مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ کبوتروں کو دانہ ڈالنے کا نہیں بلکہ ان مقامات پر صفائی کے مؤثر نظام اور مناسب احتیاط کی ضرورت ہے۔

کبوتر چوک کراچی کی روایت، شناخت اور شہریوں کے جذبات کا حصہ ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اس روایت کے ساتھ صفائی، احتیاط اور ذمہ داری کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ محبت کا یہ منظر انسانی صحت کے لیے خطرہ نہ بنے۔
___
📢 Follow Our Official Channel:
🔗 https://whatsapp.com/channel/0029VabIZjwDp2QAoNtmZt2C
💬 Join Our WhatsApp Group:
🔗-1 https://chat.whatsapp.com/DiSGaJBUhXJ1VRmWQRfU1q
🔗-2 https://chat.whatsapp.com/IqPoEblBsqC0W85wuMUHYf
🌍 Stay informed. Stay connected. Stay aware.

🇵🇰 Pakistan Power News International  ✍️🕵️‍♂️💚*📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ءویسٹ انڈیز نے پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں 9...
29/07/2026

🇵🇰 Pakistan Power News International ✍️🕵️‍♂️💚*
📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ء
ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں 90 رنز سے ہرا دیا
قومی ٹیم 211 رنز کے تعاقب میں120 رنزپر ڈھیر ہوگئی
ویسٹ انڈیز نےپاکستان کوپہلےٹیسٹ میں 90 رنز سے ہرا دیا،قومی ٹیم211رنزکےتعاقب میں120 رنزپر ڈھیر ہوگئی۔

پاکستان کے 8 کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہوسکے،بابراعظم 58 رنز کے ساتھ نمایاں رہے،جیڈن سیلز نے5،کیمار روچ اورجسٹن گریونے2،2وکٹیں لیں

ویسٹ انڈیزکی ٹیم دوسری اننگز میں 181رنز پر آؤٹ ہوئی،محمد عباس نے دوسری اننگز میں5اورمیچ میں8 شکارکئے۔

پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد کپتان بابراعظم نےمیڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہانتیجہ ہمارے ہاتھ میں نہیں تھا،آخری تین روز اچھی کرکٹ کھیلی مگربیٹنگ میں ناکام رہے،ویسٹ انڈیز نے کنڈیشنز کا بہترین فائدہ اٹھایا،ہم بڑی شراکتیں قائم نہ کرسکے،یہی شکست کی بڑی وجہ بنی،ابتدائی اوورزمیں نئی گیند کو سنبھل کرکھیلنا ضروری تھا،بیٹنگ میں ہونےوالی غلطیوں کا جائزہ لیں گے
___
📢 Follow Our Official Channel:
🔗 https://whatsapp.com/channel/0029VabIZjwDp2QAoNtmZt2C
💬 Join Our WhatsApp Group:
🔗-1 https://chat.whatsapp.com/DiSGaJBUhXJ1VRmWQRfU1q
🔗-2 https://chat.whatsapp.com/IqPoEblBsqC0W85wuMUHYf
🌍 Stay informed. Stay connected. Stay aware.

تفصیلات ڈبلیو🌍 ایف این آئی نیوز ایجنسی 🇵🇰⚔️⚖️🕵️💚*بدھ 29 جولائی 2026ء🚔 پولیس کرائم آپریشن نیوز✍️*💙PCO_NEWS👨‍✈️*ایران کا س...
29/07/2026

تفصیلات ڈبلیو🌍 ایف این آئی نیوز ایجنسی 🇵🇰⚔️⚖️🕵️💚*بدھ 29 جولائی 2026ء
🚔 پولیس کرائم آپریشن نیوز✍️*💙PCO_NEWS👨‍✈️*
ایران کا سعودی عرب پر حملوں سے لاتعلقی کا اعلان
ایران نواز ملیشیاؤں نے عراقی سرزمین سے حملے کیے، سعودی وزارت دفاع
ایران نے سعودی عرب پر حملوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی اہداف پر فائر کیے گئے پروجیکٹائلز سے کوئی تعلق نہیں، ایرانی فوجی ذرائع نے الزامات مسترد کر دیے۔

اس سے قبل ترجمان سعودی وزارت دفاع نے تیل تنصیبات پر حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا، ترجمان کے مطابق ایران نواز ملیشیاؤں نے عراقی سرزمین سے حملے کیے، عراق سے داغے گئے ڈرونز کو تباہ کردیا۔

سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق عراق اپنی سرزمین کو حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے، مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفظ رکھتے ہیں۔
_ _ _ _ __
👮‍♂️ Police Crime Operation News ✍️🚔🇵🇰⚔️⚖️**
📢 Follow Our Official Channel:
🔗 https://whatsapp.com/channel/0029VaWAZazEQIawzPqSvg2G
💬 Join Our WhatsApp Group:
اگر اپ ڈریکٹ چینل کی نیوز اپنے وٹس ایپ میں چاہتے ہیں
تو ہمارے وٹس ایپ گروپ کو نیچے دیئے لنک سے جوائن کریں ـ
🔗 1-link-https://chat.whatsapp.com/LOCM2B5MszU0YE2RmnAqrs
🔗 2-link-https://chat.whatsapp.com/DdlVJ3tBxaIBeF7nNg23j4
⚖️ Truth • Justice • Public Safety 🚔
✍️ Reporting Facts – Serving Public Awareness 🇵🇰💚🚔💙⚖️🖤
اور وٹس ایپ چینل لینک فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029VaWAZazEQIawzPqSvg2G
مزید پاکستان بھر سے پنجاب لاہور پولیس کی تازہ ترین خبروں اور دیگر پاکستان بھر کی خبروں کے لیئے اپ رہیں ہمارے ساتھ ہرخبر پوری تحقیقات کے ساتھ
پاکستان پنجاب پولیس زندہ باد پاکستان پائندہ باد

🇵🇰 Pakistan Power News International  ✍️🕵️‍♂️💚*📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ءمسلح افراد کی فائرنگ سے ڈی ایس پی بارکھا...
29/07/2026

🇵🇰 Pakistan Power News International ✍️🕵️‍♂️💚*
📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ء
مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈی ایس پی بارکھان شہید ہوگئے
دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی، شاہد رند
رکھنی میں ڈی ایس پی مرید بگٹی دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔

پولیس کے مطابق بارکھان کے علاقے کھٹہ چوکی کے مقام پر مسلح افراد نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی بارکھان مرید بگٹی شہید ہوگئے۔

معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا مکمل محاصرہ کرکے دہشتگردوں کے خلاف سرچ آپریشن شروع کر رکھا ہے، جس میں مزید نفری بھی طلب کر لی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی مرید بگٹی شہید جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔ شاہد رند کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردوں کا تعاقب کر رہے ہیں اور انہیں ہر صورت انجام تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز اور منطقی انجام تک جاری رہیں گی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
___
📢 Follow Our Official Channel:
🔗 https://whatsapp.com/channel/0029VabIZjwDp2QAoNtmZt2C
💬 Join Our WhatsApp Group:
🔗-1 https://chat.whatsapp.com/DiSGaJBUhXJ1VRmWQRfU1q
🔗-2 https://chat.whatsapp.com/IqPoEblBsqC0W85wuMUHYf
🌍 Stay informed. Stay connected. Stay aware.

🇵🇰 Pakistan Power News International  ✍️🕵️‍♂️💚*📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ءسعودی فضائیہ کا عراق میں ایران نواز ملیش...
29/07/2026

🇵🇰 Pakistan Power News International ✍️🕵️‍♂️💚*
📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ء
سعودی فضائیہ کا عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر حملہ
بصرہ، واسط، کربلا اور نینوی کا میدان شامل ہے ، ترجمان سعودی فورسز جنرل ترکی المالکی
سعودی رائل فضائیہ نے عراق میں چار مقامات پر ایران نواز ملیشیاؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

سعودی فورسز کے ترجمان جنرل ترکی المالکی کے مطابق بصرہ، واسط، کربلا اور نینویٰ کے علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں،عراق میں موجود ایران نواز ملیشیا کو اب جواب دیا جا رہا ہے۔

سعودی وزارت دفاع کےمطابق عراق میں موجود ملیشیاؤں کے ٹھکانوں کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ ملکر نشانہ بنایا گیا،مذکورہ ملیشیائیں سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے میں ملوث تھیں۔

سعودی حکام کےمطابق کارروائی قومی سلامتی کےتحفظ اورتیل تنصیبات کےدفاع کےلیےکی گئی، سعودی عرب اپنی سرزمین،عوام اورقومی مفادات کےدفاع کےلیےہرضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہےکہ سعودی عرب پر حملوں سے ایران کاکوئی تعلق نہیں ہے،واضح رہےکہ اربیل میں واقع امریکی فوجی اڈے پرمبینہ ڈرون حملہ ہوا جس میں امریکی قونصل خانہ بھی ہدف بنا۔
___
📢 Follow Our Official Channel:
🔗 https://whatsapp.com/channel/0029VabIZjwDp2QAoNtmZt2C
💬 Join Our WhatsApp Group:
🔗-1 https://chat.whatsapp.com/DiSGaJBUhXJ1VRmWQRfU1q
🔗-2 https://chat.whatsapp.com/IqPoEblBsqC0W85wuMUHYf
🌍 Stay informed. Stay connected. Stay aware.

🇵🇰 Pakistan Power News International  ✍️🕵️‍♂️💚*📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ءافغان طالبان کے اہم عہدیدار ذبیح اللہ مس...
29/07/2026

🇵🇰 Pakistan Power News International ✍️🕵️‍♂️💚*
📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ء
افغان طالبان کے اہم عہدیدار ذبیح اللہ مسلح افراد کے حملے میں جاں بحق
ذبیح اللہ طالبان حکومت کی معروف میڈیا شخصیات میں شمار ہوتے تھے
افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری ضلع بہارک میں مسلح افراد کے حملے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بدخشان کی سکیورٹی کمان کے ترجمان احسان اللہ کامکار نے بتایا ہے کہ ذبیح اللہ امیری منگل کے روز ضلع بہارک میں موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد کے حملے کا نشانہ بنے اور جان کی بازی ہار گئے۔ واقعے میں ذبیح اللہ امیری کے ایک محافظ کو بھی معمولی زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

بدخشان میں طالبان حکومت کی پولیس کے ترجمان نے کہا کہ ذبیح اللہ امیری آج صبح اپنے دفتر جاتے ہوئے بہارک۔فیض آباد شاہراہ پر حملے کا نشانہ بنے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ذبیح اللہ امیری کے محافظوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران حملہ آوروں میں سے ایک مارا گیا جبکہ دوسرے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کامکار کے مطابق گرفتار شخص اس وقت زیرِ علاج ہے۔

بدخشان میں طالبان حکومت کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کا محرک تاحال واضح نہیں ہے اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔

اب تک کسی فرد یا گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ طالبان پولیس کے ترجمان نے بھی حملہ آوروں کے ممکنہ محرکات یا اس حملے کا طالبان حکومت کے مخالفین سے تعلق ہونے کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ذبیح اللہ امیری طالبان حکومت کی معروف میڈیا شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور گزشتہ چند برسوں سے بدخشان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

بدخشان ان صوبوں میں شامل ہے جہاں اس سے قبل بھی اس نوعیت کے سکیورٹی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہ افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کے مطابق گذشتہ تین روز سے صوبہ بدخشاں میں طالبان حکومت کی فورسز کے ساتھ اس کی جھڑپیں جاری ہیں۔
___
📢 Follow Our Official Channel:
🔗 https://whatsapp.com/channel/0029VabIZjwDp2QAoNtmZt2C
💬 Join Our WhatsApp Group:
🔗-1 https://chat.whatsapp.com/DiSGaJBUhXJ1VRmWQRfU1q
🔗-2 https://chat.whatsapp.com/IqPoEblBsqC0W85wuMUHYf
🌍 Stay informed. Stay connected. Stay aware.

🇵🇰 Pakistan Power News International  ✍️🕵️‍♂️💚*📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ءرینٹ ٹربیونل کا یکطرفہ فیصلہ کالعدم قرار...
29/07/2026

🇵🇰 Pakistan Power News International ✍️🕵️‍♂️💚*
📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ء
رینٹ ٹربیونل کا یکطرفہ فیصلہ کالعدم قرار،فریقِ مخالف کو پورا موقع دینا لازم ہوگا
انصاف میں غیر ضروری جلد بازی بھی انصاف کو دفن کرنے کے مترادف ہے، لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ نے یکطرفہ کرایہ داری ٹرائل سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے رینٹ ٹربیونل کا یکطرفہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس مزمل اختر شبیر نے 14 صفحات پرمشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،عدالت نے قرار دیا کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے،تاہم غیرضروری جلد بازی بھی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

فیصلے کےمطابق رینٹ کیس میں یکطرفہ کارروائی سےقبل مخالف فریق کوقانون کے تحت 10 روز کا وقت دینا لازمی ہے،جبکہ اس مدت کے دوران فریق پیروی کی درخواست بھی دائر کرسکتا ہے۔

عدالت نےقراردیا کہ اگریکطرفہ کارروائی قانونی تقاضوں کےمطابق نہ کی جائے تو اس کی بنیاد پر جاری کیا گیا فیصلہ بھی برقرار نہیں رہ سکتا۔

لاہورہائیکورٹ نےدونوں ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قراردیتےہوئےکیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا اور چار ماہ میں میرٹ پرفیصلہ کرنےکی ہدایت کر دی،عدالت نے غیرضروری التوا کی درخواستیں منظور نہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔
___
📢 Follow Our Official Channel:
🔗 https://whatsapp.com/channel/0029VabIZjwDp2QAoNtmZt2C
💬 Join Our WhatsApp Group:
🔗-1 https://chat.whatsapp.com/DiSGaJBUhXJ1VRmWQRfU1q
🔗-2 https://chat.whatsapp.com/IqPoEblBsqC0W85wuMUHYf
🌍 Stay informed. Stay connected. Stay aware.

🇵🇰 Pakistan Power News International  ✍️🕵️‍♂️💚*📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ءہاسٹلز کا مسئلہ: ایک ٹیچر کی نظر سےیونیو...
29/07/2026

🇵🇰 Pakistan Power News International ✍️🕵️‍♂️💚*
📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ء
ہاسٹلز کا مسئلہ: ایک ٹیچر کی نظر سے
یونیورسٹی انتظامیہ کا تمام ہاسٹلز بند کرنے کا فیصلہ
پنجاب یونیورسٹی، جو پاکستان کی سب سے بڑی، قدیم ترین اور ممتاز جامعہ ہے، صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسی مادرِ علمی ہے جس نے گزشتہ ڈیڑھ صدی سے لاکھوں طلبہ و طالبات کی علمی، فکری اور اخلاقی تربیت کی ہے۔ اس جامعہ میں طلبہ و طالبات کی رہائش کے لیے تقریباً 28 ہاسٹلز موجود ہیں، جہاں قانونی طور پر 8 سے 9 ہزار طلبہ و طالبات مقیم ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام ہاسٹلز بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس نے نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ اور والدین میں بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی ایسی یونیورسٹی میں، جس کی شناخت ہی تحقیق، علم اور علمی سرگرمیوں سے ہو، ہاسٹلز کو یکسر بند کر دینا ایک مناسب اور دانشمندانہ انتظامی فیصلہ ہو سکتا ہے؟ اگر میں اس سوال کو ایک استاد کی حیثیت سے دیکھوں تو میرا جواب نفی میں ہوگا۔

ہم پنجاب یونیورسٹی کو “مادرِ علمی” کہتے ہیں، اور کسی بھی اعلیٰ تعلیمی ادارے کو یہ مقام محض رسمی طور پر نہیں دیا جاتا۔ ماں صرف اپنے بچوں کو رہائش فراہم نہیں کرتی بلکہ ان کی شخصیت، کردار اور مستقبل کی تعمیر بھی کرتی ہے۔ اسی طرح ایک جامعہ کا بنیادی مقصد صرف ڈگریاں دینا نہیں بلکہ ایسے باشعور، ذمہ دار اور مفید شہری پیدا کرنا ہے جو معاشرے کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔

ہاسٹل اس تربیتی عمل کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ یہ صرف رہائش گاہیں نہیں بلکہ کردار سازی کے مراکز ہوتے ہیں، جہاں طلبہ مختلف علاقوں، زبانوں اور ثقافتوں سے آ کر ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھتے ہیں، نظم و ضبط، برداشت، اجتماعی زندگی اور ذمہ داری کا شعور حاصل کرتے ہیں۔ یہی وہ ماحول ہے جہاں علمی مباحث جنم لیتے ہیں، تحقیقی منصوبے مکمل ہوتے ہیں اور مستقبل کے سائنس دان، محقق، استاد، منتظم اور رہنما تیار ہوتے ہیں۔

یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ہاسٹل میں رہنے والا ہر طالب علم صرف کلاس لینے کے لیے یونیورسٹی نہیں آتا۔ بہت سے طلبہ اپنے تحقیقی مقالوں پر کام کر رہے ہوتے ہیں، تھیسس کے لیے فیلڈ ورک اور ڈیٹا کلیکشن میں مصروف ہوتے ہیں، فائنل ایئر کے طلبہ مختلف اداروں میں انٹرنشپ کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ متعدد ایسے بھی ہیں جو جز وقتی ملازمت کر کے اپنی تعلیم اور روزمرہ اخراجات پورے کرتے ہیں۔ ان کے لیے ہاسٹل صرف رہائش نہیں بلکہ ان کی تعلیمی اور معاشی زندگی کا بنیادی سہارا ہوتے ہیں۔

اس تناظر میں اگر تمام ہاسٹلز صرف اس بنیاد پر بند کر دیے جائیں کہ وہاں کچھ غیر قانونی طور پر مقیم افراد موجود ہیں، تو یہ ایک ایسا عمومی فیصلہ ہے جس کی زد میں وہ ہزاروں قانونی طلبہ بھی آ جاتے ہیں جن کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں۔

جہاں تک غیر قانونی طور پر مقیم افراد کا تعلق ہے، تو یہ تاثر بھی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا کہ آج بھی ہاسٹلز میں بڑی تعداد میں غیر قانونی افراد موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ عرصے میں ہاسٹلز کے وارڈنز اور سپرنٹنڈنٹس نے ایک منظم اور مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کی، جس کے نتیجے میں ایسے افراد کو ہاسٹلز سے نکال دیا گیا۔ اس لیے اب اس بنیاد پر تمام ہاسٹلز بند رکھنا یا قانونی اور مستحق طلبہ کو بھی رہائش سے محروم رکھنا ایک مناسب اور متناسب انتظامی اقدام معلوم نہیں ہوتا۔

یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے کہ کسی بھی غیر قانونی طور پر مقیم شخص کی حمایت نہ اساتذہ کرتے ہیں، نہ طلبہ، اور نہ ہی کوئی ذمہ دار شہری یا حکومتی ادارہ۔ اگر کہیں بے ضابطگیاں موجود ہیں تو ان کا خاتمہ ضرور ہونا چاہیے، لیکن چند افراد کی وجہ سے تمام طلبہ کو اجتماعی سزا دینا انصاف اور انتظام دونوں کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

بدقسمتی سے یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ ہاسٹلز کی بندش پر جو آوازیں بلند ہو رہی ہیں، وہ صرف چند غیر قانونی یا شرپسند عناصر کی ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قانونی طور پر مقیم طلبہ بھی اس فیصلے سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں، اور جب ان کے لیے رہائش کا کوئی متبادل موجود نہ ہو تو وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کی اس تشویش کو شرپسندی قرار دینا مسئلے کی اصل نوعیت سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ریسرچ کے طلبہ کو رہنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ موسمِ گرما کی تعطیلات میں طلبہ کی بڑی تعداد اپنے گھروں کو چلی جاتی ہے، تاہم تقریباً دس سے پندرہ فیصد ایسے طلبہ و طالبات ہوتے ہیں جن کے لیے ہاسٹل ناگزیر ضرورت ہوتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں انتظامیہ ان مستحق طلبہ کو بھی ہاسٹل فراہم کرنے پر تیار دکھائی نہیں دیتی۔

یہ وہ طلبہ ہیں جو اپنی تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں، انٹرنشپ مکمل کر رہے ہیں، تھیسس کے لیے مختلف شہروں اور اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں یا جز وقتی ملازمت کے ذریعے اپنی تعلیم کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔ ان کے لیے ہاسٹل بند ہونے کا مطلب صرف رہائش کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی تعلیمی سرگرمیوں کا متاثر ہونا بھی ہے۔

خصوصاً طالبات کے لیے یہ صورتحال مزید پیچیدہ اور تشویشناک ہے۔ ہمارے معاشرتی اور خاندانی نظام میں بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کو نجی یا پرائیویٹ ہاسٹلز میں رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ایسے حالات میں اگر یونیورسٹی کے ہاسٹل بھی بند کر دیے جائیں تو متعدد طالبات کے لیے اپنی تعلیم جاری رکھنا انتہائی مشکل بلکہ بعض اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔

ایک تعلیمی ادارے کی ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ طالبات کے لیے محفوظ، باوقار اور قابلِ اعتماد رہائش فراہم کرے، نہ کہ انہیں ایسے حالات سے دوچار کر دے جہاں ان کی تعلیم ہی خطرے میں پڑ جائے۔

ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب کوئی استاد اس مسئلے پر بات کرتا ہے تو بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اساتذہ طلبہ کے معاملات میں مداخلت کیوں کرتے ہیں۔ میری رائے میں یہ سوچ ہی بنیادی طور پر غلط ہے۔ استاد اور طالب علم ایک دوسرے سے الگ نہیں کیے جا سکتے۔ طالب علم استاد کے بغیر اور استاد طالب علم کے بغیر یونیورسٹی کا تصور ہی بے معنی ہے۔ اگر طلبہ کسی مشکل کا شکار ہوں تو اساتذہ کا خاموش رہنا نہ ان کی اخلاقی ذمہ داری کے مطابق ہے اور نہ ہی ایک علمی ادارے کی روایت کے شایانِ شان۔

انتظامی مسائل کا حل یہ نہیں کہ پورے نظام کو بند کر دیا جائے۔ مسائل کا حل یہ ہے کہ غیر قانونی مقیم افراد کی نشاندہی کی جائے، قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے، شفاف طریقۂ کار اختیار کیا جائے اور قانونی و مستحق طلبہ کے حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے۔ ایک جامعہ کی عظمت اس کے سخت فیصلوں سے نہیں بلکہ اس کے منصفانہ، متوازن اور انسان دوست رویوں سے قائم رہتی ہے۔

ایک اور اہم پہلو، جس پر شاید پالیسی سازوں کی نظر ابھی تک پوری طرح نہیں گئی، وہ ہاسٹلوں سے وابستہ درجنوں خاندانوں کا معاشی مستقبل ہے۔ ہر ہاسٹل میں عموماً ایک درزی، ایک دھوبی اور ایک کینٹین چلانے والا موجود ہوتا ہے، جن کا روزگار براہِ راست ہاسٹل کے طلبہ سے وابستہ ہوتا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر سو سے زائد خاندان اپنی معاشی ضروریات انہی ہاسٹلوں کی بدولت پوری کرتے ہیں۔ جب ہاسٹل مکمل طور پر بند کر دیے جاتے ہیں تو ان خاندانوں کے روزگار بھی عملاً ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہاسٹلوں سے متصل شاپنگ سینٹرز میں قائم درجنوں دکانیں بھی انہی طلبہ کی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ ان دکانداروں اور ان کے اہلِ خانہ کا معاشی انحصار بھی بڑی حد تک یونیورسٹی ہاسٹلوں کی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔ چنانچہ ہاسٹلوں کی مکمل بندش صرف طلبہ کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات سینکڑوں افراد اور ان کے خاندانوں کی معاشی زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے اس معاملے کو صرف انتظامی زاویے سے نہیں بلکہ اس کے سماجی اور معاشی مضمرات کو بھی پیشِ نظر رکھ کر دیکھا جانا چاہیے۔

میں حکومتِ پنجاب اور یونیورسٹی انتظامیہ سے یہی گزارش کروں گا کہ وہ اس مسئلے کو صرف ایک انتظامی معاملہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک تعلیمی، سماجی اور انسانی مسئلہ بھی تصور کریں۔ ایسے ہزاروں طلبہ و طالبات موجود ہیں جن کے لیے یونیورسٹی ہاسٹل کوئی سہولت نہیں بلکہ تعلیم جاری رکھنے کی بنیادی ضرورت ہیں۔ اگر ان کی مشکلات کو بروقت نہ سمجھا گیا تو اس کے اثرات صرف چند طلبہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس مادرِ علمی کی علمی روایت اور قومی کردار پر بھی مرتب ہوں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمدردی، دانش مندی اور انصاف کے ساتھ ایسا قابلِ عمل حل تلاش کیا جائے جس سے نظم و ضبط بھی برقرار رہے، غیر قانونی رہائش کا خاتمہ بھی ہو، اور وہ طلبہ و طالبات بھی اپنی تعلیم اور تحقیق جاری رکھ سکیں جن کا مستقبل انہی ہاسٹلز سے وابستہ ہے۔ یہی ایک عظیم جامعہ اور ایک ذمہ دار انتظامیہ کا شایانِ شان طرزِ عمل ہو سکتا ہے۔
___
📢 Follow Our Official Channel:
🔗 https://whatsapp.com/channel/0029VabIZjwDp2QAoNtmZt2C
💬 Join Our WhatsApp Group:
🔗-1 https://chat.whatsapp.com/DiSGaJBUhXJ1VRmWQRfU1q
🔗-2 https://chat.whatsapp.com/IqPoEblBsqC0W85wuMUHYf
🌍 Stay informed. Stay connected. Stay aware.

🇵🇰 Pakistan Power News International  ✍️🕵️‍♂️💚*📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ءحملے دوبارہ شروع، ایران نے اردن میں امری...
29/07/2026

🇵🇰 Pakistan Power News International ✍️🕵️‍♂️💚*
📰 (PPNI_NEWS)*بدھ 29 جولائی 2026ء
حملے دوبارہ شروع، ایران نے اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملے کی تصدیق کردی
گزشتہ 4 روز سے ایران اور امریکہ کے درمیان حملے رکے ہوئے تھے
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر داغے گئے ایرانی میزائل تباہ کیے جانے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان جاری کر کے ان حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں پاسداران انقلاب کی ایروسپیس فورس کے بہادر جوانوں نے چند گھنٹے قبل اردن میں واقع امریکی فوج کے فضائی اڈے اور مرکزی کمان کے مرکز کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ گزشتہ چار روز سے ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست حملے رکے ہوئے تھے تاہم بدھ کی صبح سینٹکام نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ’اچانک حملے کی کوشش‘ کی لیکن امریکی افواج ’چوکنا‘ تھیں اور داغے گئے تمام میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔

امریکی فوج کے مطابق یہ حملہ منگل کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر 45 منٹ پر کیا گیا تاہم تمام میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے گئے۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے یہ نہیں بتایا کہ حملے کا ہدف کون سی جگہیں تھیں۔

دوسری جانب سینٹکام کے مطابق امریکی اور سعودی افواج نے عراق میں ’ایران نواز شدت پسندوں‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی ہدایت پر کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔

پینٹاگون کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق فروری میں ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے کم از کم 624 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق ان میں سے 417 اہلکار آپریشن ایپک فیوری کے دوران زخمی ہوئے، جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مہم ہے۔
___
📢 Follow Our Official Channel:
🔗 https://whatsapp.com/channel/0029VabIZjwDp2QAoNtmZt2C
💬 Join Our WhatsApp Group:
🔗-1 https://chat.whatsapp.com/DiSGaJBUhXJ1VRmWQRfU1q
🔗-2 https://chat.whatsapp.com/IqPoEblBsqC0W85wuMUHYf
🌍 Stay informed. Stay connected. Stay aware.

Address

Islamabad
5400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Power News InternationaL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share