07/06/2026
ڈاکٹر ماہ نور کا قصور کیا تھا؟
تحریر سید زادہ عبدالوکیل
کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک سرکاری ہسپتال میں عوام کی خدمت کر رہی تھیں؟ کیا ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے ایک مشکل شعبے، سرجری، کا انتخاب کیا تھا؟ یا پھر ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک ایسی عورت تھیں جو مردوں کے غلبے والے معاشرے میں اپنے خواب پورے کرنے کی کوشش کر رہی تھیں؟
کوئٹہ کے سنڈیمن سول ہسپتال میں پیش آنے والا واقعہ صرف ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملہ نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کے چہرے پر تیزاب ہے جو اپنی بیٹیوں سے تعلیم بھی چاہتا ہے، خدمت بھی چاہتا ہے، قربانی بھی چاہتا ہے، مگر انہیں تحفظ دینے میں بار بار ناکام ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر ماہ نور ایک پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر ہیں۔ وہ سرجری میں تربیت حاصل کر رہی تھیں۔ وہ ان نوجوان ڈاکٹروں میں شامل تھیں جو دن رات ہسپتالوں میں مریضوں کی جان بچانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد لوگوں کا علاج کرنا تھا، مگر ایک لمحے میں وہ خود مریض بن گئیں۔
تیزاب نے صرف ان کے جسم کو نہیں جلایا۔ اس نے ایک خواب کو جھلسا دیا۔ ایک مستقبل کو زخمی کر دیا۔ ایک خاندان کو اذیت میں مبتلا کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق حملے میں ان کا چہرہ، سینہ اور بازو شدید متاثر ہوئے۔ بعد ازاں انہیں بہتر علاج کے لیے ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک ڈاکٹر جو دوسروں کو صحت دینے کے لیے کھڑی تھی، آج خود زندگی کی ایک کڑی آزمائش سے گزر رہی ہے۔
ملزم ہلاک ہو چکا ہے۔ لیکن کیا کہانی یہیں ختم ہو جاتی ہے؟
اصل سوال اب بھی باقی ہیں۔
ایک سرکاری ہسپتال کے اندر ایسا حملہ کیسے ممکن ہوا؟ سیکیورٹی کہاں تھی؟ ایک خاتون ڈاکٹر کو اس ماحول میں کام کرتے ہوئے کس قسم کا تحفظ حاصل تھا؟ اور اگر خطرات موجود تھے تو ان سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے؟
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ خواتین ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر ہیلتھ ورکرز روزانہ کن حالات میں کام کرتی ہیں۔ وہ رات کی ڈیوٹیاں دیتی ہیں، ایمرجنسی وارڈز میں خدمات انجام دیتی ہیں، مریضوں اور ان کے لواحقین کے دباؤ کا سامنا کرتی ہیں، مگر اکثر ان کی حفاظت، آرام اور عزت کو ترجیح نہیں دی جاتی۔
ہمارے معاشرے میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سی خواتین کو آج بھی صرف اس لیے ہراسانی، نفرت یا تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ تعلیم یافتہ، خودمختار اور پیشہ ورانہ زندگی گزار رہی ہوتی ہیں۔ جب ایک عورت گھر سے نکل کر اپنی شناخت بناتی ہے تو بعض بیمار ذہن اسے اپنی انا کے خلاف سمجھ لیتے ہیں۔
ڈاکٹر ماہ نور کا واقعہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں۔ یہ ان ہزاروں خواتین کی کہانی ہے جو روزانہ دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر شعبوں میں کام کرتی ہیں اور اس امید کے ساتھ گھر سے نکلتی ہیں کہ وہ شام کو محفوظ واپس لوٹیں گی۔
اس کیس میں قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، تحقیقات بھی ہوں گی، بیانات بھی آئیں گے۔ لیکن عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ اس حملے کے محرکات کیا تھے؟ اس واقعے کے پس منظر میں کیا عوامل کارفرما تھے؟ کیا ہسپتالوں کی سیکیورٹی میں کوئی کوتاہی تھی؟ اور آئندہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟
ڈاکٹر ماہ نور کو انصاف ضرور ملنا چاہیے۔ مگر انصاف صرف ایک ملزم کے انجام کا نام نہیں۔ انصاف اس دن ہوگا جب ہسپتالوں میں کام کرنے والی ہر خاتون خود کو محفوظ محسوس کرے گی۔ انصاف اس دن ہوگا جب کسی بیٹی کو اپنے خوابوں کی قیمت اپنے چہرے اور جسم سے ادا نہیں کرنا پڑے گی۔
آج پورا بلوچستان ڈاکٹر ماہ نور کے لیے دعا گو ہے۔ لیکن دعا کے ساتھ ساتھ سوال بھی ضروری ہیں۔ کیونکہ اگر سوال ختم ہو گئے تو شاید کل ایک اور ڈاکٹر ماہ نور ہمارے سامنے ہو گی، اور ہم پھر یہی پوچھ رہے ہوں گے کہ آخر اس کا قصور کیا تھا؟