Bang News Point

Bang News Point Public Figure , Medical and Health ,News & Media

08/06/2026

Ye hay Dr MNK
Jo k pehlay property ka kam karta ta
Pir Peshawar saddar may juice shop
Pir doctor ban k hair transplant karnay laga

08/06/2026
08/06/2026

After her es**rt let her take the wheel... a woman loses control of the car and speeds up onto the sidewalk like crazy

ڈاکٹر ماہ نور کا قصور کیا تھا؟تحریر سید زادہ عبدالوکیلکیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک سرکاری ہسپتال میں عوام کی خدمت کر ...
07/06/2026

ڈاکٹر ماہ نور کا قصور کیا تھا؟
تحریر سید زادہ عبدالوکیل
کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک سرکاری ہسپتال میں عوام کی خدمت کر رہی تھیں؟ کیا ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے ایک مشکل شعبے، سرجری، کا انتخاب کیا تھا؟ یا پھر ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک ایسی عورت تھیں جو مردوں کے غلبے والے معاشرے میں اپنے خواب پورے کرنے کی کوشش کر رہی تھیں؟

کوئٹہ کے سنڈیمن سول ہسپتال میں پیش آنے والا واقعہ صرف ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملہ نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کے چہرے پر تیزاب ہے جو اپنی بیٹیوں سے تعلیم بھی چاہتا ہے، خدمت بھی چاہتا ہے، قربانی بھی چاہتا ہے، مگر انہیں تحفظ دینے میں بار بار ناکام ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر ماہ نور ایک پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر ہیں۔ وہ سرجری میں تربیت حاصل کر رہی تھیں۔ وہ ان نوجوان ڈاکٹروں میں شامل تھیں جو دن رات ہسپتالوں میں مریضوں کی جان بچانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد لوگوں کا علاج کرنا تھا، مگر ایک لمحے میں وہ خود مریض بن گئیں۔

تیزاب نے صرف ان کے جسم کو نہیں جلایا۔ اس نے ایک خواب کو جھلسا دیا۔ ایک مستقبل کو زخمی کر دیا۔ ایک خاندان کو اذیت میں مبتلا کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق حملے میں ان کا چہرہ، سینہ اور بازو شدید متاثر ہوئے۔ بعد ازاں انہیں بہتر علاج کے لیے ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک ڈاکٹر جو دوسروں کو صحت دینے کے لیے کھڑی تھی، آج خود زندگی کی ایک کڑی آزمائش سے گزر رہی ہے۔

ملزم ہلاک ہو چکا ہے۔ لیکن کیا کہانی یہیں ختم ہو جاتی ہے؟

اصل سوال اب بھی باقی ہیں۔

ایک سرکاری ہسپتال کے اندر ایسا حملہ کیسے ممکن ہوا؟ سیکیورٹی کہاں تھی؟ ایک خاتون ڈاکٹر کو اس ماحول میں کام کرتے ہوئے کس قسم کا تحفظ حاصل تھا؟ اور اگر خطرات موجود تھے تو ان سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے؟

یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ خواتین ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر ہیلتھ ورکرز روزانہ کن حالات میں کام کرتی ہیں۔ وہ رات کی ڈیوٹیاں دیتی ہیں، ایمرجنسی وارڈز میں خدمات انجام دیتی ہیں، مریضوں اور ان کے لواحقین کے دباؤ کا سامنا کرتی ہیں، مگر اکثر ان کی حفاظت، آرام اور عزت کو ترجیح نہیں دی جاتی۔

ہمارے معاشرے میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سی خواتین کو آج بھی صرف اس لیے ہراسانی، نفرت یا تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ تعلیم یافتہ، خودمختار اور پیشہ ورانہ زندگی گزار رہی ہوتی ہیں۔ جب ایک عورت گھر سے نکل کر اپنی شناخت بناتی ہے تو بعض بیمار ذہن اسے اپنی انا کے خلاف سمجھ لیتے ہیں۔

ڈاکٹر ماہ نور کا واقعہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں۔ یہ ان ہزاروں خواتین کی کہانی ہے جو روزانہ دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر شعبوں میں کام کرتی ہیں اور اس امید کے ساتھ گھر سے نکلتی ہیں کہ وہ شام کو محفوظ واپس لوٹیں گی۔

اس کیس میں قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، تحقیقات بھی ہوں گی، بیانات بھی آئیں گے۔ لیکن عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ اس حملے کے محرکات کیا تھے؟ اس واقعے کے پس منظر میں کیا عوامل کارفرما تھے؟ کیا ہسپتالوں کی سیکیورٹی میں کوئی کوتاہی تھی؟ اور آئندہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟

ڈاکٹر ماہ نور کو انصاف ضرور ملنا چاہیے۔ مگر انصاف صرف ایک ملزم کے انجام کا نام نہیں۔ انصاف اس دن ہوگا جب ہسپتالوں میں کام کرنے والی ہر خاتون خود کو محفوظ محسوس کرے گی۔ انصاف اس دن ہوگا جب کسی بیٹی کو اپنے خوابوں کی قیمت اپنے چہرے اور جسم سے ادا نہیں کرنا پڑے گی۔

آج پورا بلوچستان ڈاکٹر ماہ نور کے لیے دعا گو ہے۔ لیکن دعا کے ساتھ ساتھ سوال بھی ضروری ہیں۔ کیونکہ اگر سوال ختم ہو گئے تو شاید کل ایک اور ڈاکٹر ماہ نور ہمارے سامنے ہو گی، اور ہم پھر یہی پوچھ رہے ہوں گے کہ آخر اس کا قصور کیا تھا؟

🚨 فراڈ الرٹ | عوامی انتباہ 🚨السلام علیکمتمام اہلِ علاقہ، دوست احباب، اور پاکستان و بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو خبردار ...
01/06/2026

🚨 فراڈ الرٹ | عوامی انتباہ 🚨
السلام علیکم
تمام اہلِ علاقہ، دوست احباب، اور پاکستان و بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ ایک شخص جس کی شناخت عبدالباسط ولد نصیر خان کے نام سے ہوئی ہے، مبینہ طور پر شیخ کلے، ڈاکخانہ متھرا، ضلع پشاور کا رہائشی ہے اور اس وقت دوبئی میں موجود بتایا جاتا ہے۔
دستیاب معلومات اور شواہد کے مطابق مذکورہ شخص مالی فراڈ، جعلسازی، دھوکہ دہی اور دیگر افراد کے نام، شناختی کارڈز اور تصاویر کو غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں ملوث رہا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران میرے ساتھ بھی لاکھوں روپے مالیت کا فراڈ کیا گیا، جس میں اس نے اپنے قریبی عزیز کی شناخت استعمال کی۔
مزید اطلاعات کے مطابق یہ صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک معلوم ہوتا ہے، جو لوگوں کی ذاتی معلومات اور شناختی دستاویزات حاصل کرکے مالی فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کرتا ہے۔
⚠️ تمام افراد سے گزارش ہے:
کسی بھی قسم کے مالی لین دین، سرمایہ کاری، کاروباری معاملات یا ذاتی دستاویزات شیئر کرنے سے پہلے مکمل تصدیق ضرور کریں۔
میں متعلقہ اداروں، تھانہ حکام اور ایس پی ورسک ڈویژن سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ داران کو قانون کے مطابق گرفتار کرکے متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔
📢 اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ مزید لوگ فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔

30/05/2026

Pakistani currency on winter season 🤣

جس بندے عمران خان کے نام پہ ووٹ لئے اور قرآن پاک پہ حلف لیا کہ وہ خان کے ساتھ غداری نہیں کرے گا تو مومنہ کا ساتھ کیا نبھ...
26/05/2026

جس بندے عمران خان کے نام پہ ووٹ لئے اور قرآن پاک پہ حلف لیا کہ وہ خان کے ساتھ غداری نہیں کرے گا تو مومنہ کا ساتھ کیا نبھاتا؟

اس چدھڑ نامی بندے نے قرآن مجید کا حلف لے کر عمران کے نام پہ ووٹ لیا پھر یو ٹرن لے گیا وہ ایسی گھناؤنی حرکت کرنے میں کونسا دیر کرے گا یہ تو اس دن پتہ چل گیا تھا عوام کو جس دن اس بندے نے عوام کو دھوکہ دیا تھا ۔

اس معاملے کی پوری پوری انکوائری ہونی چاہیئے اور سیریس لینا چاہیے اداروں کو سیدھی اور چپڑی باتوں پہ نہیں آنا چائیے۔

ثاقب چڈھر MPA pp 97 چنیوٹ
۔2024 کے الیکشن میں عوام سے عمران خان کے نام پر ووٹ لیے اور قرآن پر حلف دے کر اپنی عوام سے کیے گئے وعدے سے مکر گیا اور مسلم لیگ ن میں نہ صرف چلا گیا بلکہ کیبنٹ کا بھی حصہ ہے۔

وعدہ خلافی کی حلف توڑا عوام جس نے عمران خان کی وجہ سے اسے ووٹ دیا مدمقابل مسلم لیگ ن کے امیدوار کے خلاف ووٹ ملا
چند دن بعد وفاداری بدل کر عوامی رائے اور عوامی منڈیٹ کی تذلیل کی
آج پوری دنیا کے سامنے اپنی شادی شدہ زندگی اور خاندان کی عزت کا جنازہ نکلوا چکا ہے
اور ذلیل خوار ہو رہا ہے
اللہ جسے چاہے عزت دے
جسے چاہے ذلت دے۔

25/05/2026

Saudi Arabia's Defence Ministry published video of air defense batteries positioned around Hajj pilgrimage sites

17/05/2026

Nigeria Motorcyclist Goes Viral for Wheelies While Carrying Casket in Uyo

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bang News Point posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share