Dr. Muhammad Asif Chuadhry

Dr. Muhammad Asif Chuadhry Educationist, Researcher, Writer, Trainer, Consultant, Policy Maker, Institutional Planner

12/07/2026

**ہر بچہ محفوظ بچپن کا حق دار ہے**

ذرا سوچیں... اگر آپ کا بچہ اسکول سے مسکراتا ہوا نہیں بلکہ خوفزدہ واپس آئے، اگر کسی ماں کی گود اس کے لاپتہ بچے کے انتظار میں ویران ہو، یا کوئی معصوم بچہ کھیلنے کی عمر میں مزدوری پر مجبور ہو... تو یہ صرف ایک خاندان کا نہیں، پوری قوم کا المیہ ہے۔

زینب، فرشتہ اور بے شمار معصوم بچوں کے نام ہم بھول جاتے ہیں، مگر ایسے سانحات رکتے نہیں۔ افسوس کہ ہم ہر واقعے کے بعد چند دن غم مناتے ہیں، انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں، پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔

بچوں کی حفاظت صرف حکومت یا پولیس کی ذمہ داری نہیں۔ والدین، اساتذہ، علما، میڈیا، عدلیہ اور ہم سب کو مل کر ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں ہر بچہ بلا خوف اسکول جا سکے، کھیل سکے اور محفوظ گھر واپس آ سکے۔

یاد رکھیں، **خاموشی مجرم کی طاقت بنتی ہے، جبکہ آواز اٹھانا ایک بچے کی زندگی بچا سکتا ہے۔**

آئیے عہد کریں کہ پاکستان میں کوئی بھی بچہ خوف کے سائے میں اپنی معصومیت نہ کھوئے۔

**کیونکہ ہر بچہ تحفظ، عزت اور بے خوف بچپن کا حق دار ہے۔**

— **ڈاکٹر محمد آصف چوہدری**
*Educationist | Research Fellow | Policy Analyst*

Observes this during heatwave.... stay cool stay safe
30/06/2026

Observes this during heatwave.... stay cool stay safe

If you have any physio-related issue, consult the best physiotherapist of the town.
30/06/2026

If you have any physio-related issue, consult the best physiotherapist of the town.

29/06/2026
Visit Aqua Medical Center for your physical rehabitation issues
22/05/2026

Visit Aqua Medical Center for your physical rehabitation issues

19/05/2026

# **گرمیوں کی چھٹیاں: بچوں کی صلاحیتیں نکھارنے کا سنہری موقع**

**تحریر: ڈاکٹر محمد آصف چوہدری**
**ماہرِ تعلیم، پالیسی تجزیہ کار اور ریسرچ فیلو**

گرمیوں کی چھٹیاں بچوں کے لیے خوشی، آرام، کھیل کود اور گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موسم ہوتی ہیں، مگر والدین کے لیے یہ ایک اہم موقع بھی ہے کہ وہ بچوں کی شخصیت، عادات، زبان، اعتماد، سوچ اور بنیادی مہارتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ خاص طور پر **پانچ سے دس سال** کی عمر کے بچے تیزی سے سیکھتے ہیں۔ اس عمر میں جو اچھی عادات اور مہارتیں پیدا ہو جائیں، وہ بچے کی آئندہ تعلیمی اور عملی زندگی میں مضبوط بنیاد بن جاتی ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر گرمیوں کی چھٹیاں بے ترتیب معمولات، زیادہ موبائل استعمال، دیر سے سونے، دیر سے اٹھنے اور وقت ضائع کرنے میں گزر جاتی ہیں۔ نتیجتاً بچے نہ مکمل آرام کر پاتے ہیں اور نہ ہی کوئی نئی مہارت سیکھ پاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین ان چھٹیوں کو صرف “چھٹیاں” نہ سمجھیں بلکہ انہیں بچوں کی **صلاحیتوں کو نکھارنے کا موسم** بنائیں۔

سب سے پہلے بچوں کی **زبان اور اظہارِ خیال** پر توجہ دی جانی چاہیے۔ والدین روزانہ دس سے پندرہ منٹ بچے سے گفتگو کریں۔ اس سے پوچھیں کہ آج اس نے کیا دیکھا، کیا سیکھا، کون سی چیز پسند آئی اور کیوں پسند آئی۔ بچے کو کہانی سنائیں اور پھر اسی سے کہیں کہ وہ اپنے الفاظ میں کہانی دوبارہ سنائے۔ اس عمل سے بچے کی زبان، یادداشت، اعتماد اور گفتگو کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

دوسری اہم چیز **مطالعہ کی عادت** ہے۔ بچوں کو صرف نصابی کتابوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ تصویری کہانیاں، اخلاقی کہانیاں، آسان سائنسی معلومات، بچوں کے رسائل اور معلوماتی کتابیں بھی پڑھائی جائیں۔ اگر بچہ روزانہ صرف پندرہ منٹ بھی پڑھنے کی عادت ڈال لے تو اس کی vocabulary، spelling، comprehension اور imagination میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔

اسی طرح **لکھنے کی مہارت** کو بھی روزمرہ معمول کا حصہ بنایا جائے۔ بچے سے روزانہ دو سے پانچ جملے لکھوائے جائیں۔ چھوٹے بچوں کے لیے موضوعات آسان رکھے جائیں، مثلاً “میرا گھر”، “میری امی”، “میرا پسندیدہ پھل”، “My Family” یا “My Summer Day”۔ اس عمر میں مقصد perfect grammar نہیں بلکہ writing habit، sentence formation اور سوچ کو الفاظ میں بیان کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔

بچوں کی **بنیادی ریاضی** کو بھی دلچسپ انداز میں بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ والدین روزمرہ زندگی سے maths سکھائیں۔ بازار میں چیزوں کی قیمتیں گنوانا، گھر میں اشیا count کروانا، گھڑی دیکھنا سکھانا، addition اور subtraction کھیل کے انداز میں کروانا، یہ سب سرگرمیاں بچے کے ذہن سے maths کا خوف کم کرتی ہیں اور اسے عملی سمجھ دیتی ہیں۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کو **زندگی کی بنیادی مہارتیں** ضرور سکھائی جائیں۔ بچہ اپنا بستر درست کرے، کھلونے سمیٹے، کپڑے تہہ کرنا سیکھے، پانی پینے کی عادت بنائے، جوتے ترتیب سے رکھے، سلام کرے، شکریہ کہے، معذرت کرنا سیکھے اور بڑوں سے ادب سے بات کرے۔ یہی چھوٹی چھوٹی عادتیں کل ایک بااعتماد، مہذب اور ذمہ دار شخصیت بناتی ہیں۔

آج کے دور میں **ڈیجیٹل نظم و ضبط** بھی بہت ضروری ہے۔ موبائل اور ٹیبلٹ کو مکمل طور پر بند کرنا شاید ممکن نہ ہو، مگر ان کا وقت ضرور مقرر ہونا چاہیے۔ بچے کو بے مقصد ویڈیوز کے بجائے educational videos، phonics، storytelling، drawing، science experiments اور learning games دکھائے جائیں۔ والدین کو یاد رکھنا چاہیے کہ موبائل بچے کا مددگار بھی بن سکتا ہے اور نقصان دہ عادت بھی؛ فرق صرف نگرانی، وقت اور مقصد کا ہے۔

بچوں کی جسمانی صحت کے لیے **جسمانی سرگرمی** لازمی ہے۔ روزانہ کم از کم تیس سے پینتالیس منٹ outdoor play، cycling، football، badminton، skipping یا کوئی بھی جسمانی سرگرمی بچے کی صحت، نیند، بھوک، مزاج اور اعتماد کے لیے بہت ضروری ہے۔ ایک active بچہ عموماً ذہنی طور پر بھی زیادہ alert اور خوش رہتا ہے۔

اسی طرح بچوں کی **تخلیقی صلاحیت** کو بڑھانے کے لیے drawing، colouring، paper craft، clay work، gardening، cooking with parents، storytelling اور simple science experiments جیسے کام کروائے جا سکتے ہیں۔ ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کوئی drawing میں اچھا ہوتا ہے، کوئی بولنے میں، کوئی چیزیں بنانے میں، کوئی observation میں۔ والدین کا کام بچے کا موازنہ کرنا نہیں بلکہ اس کی صلاحیت کو پہچاننا اور نکھارنا ہے۔

والدین کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ چھٹیوں میں بچے کو ہر وقت پڑھائی کے دباؤ میں رکھنا بھی درست نہیں۔ بچے کو آرام، کھیل، نیند، خاندان کے ساتھ وقت، بزرگوں کی کہانیاں، گھر کے چھوٹے کام اور تفریح سب کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصل کامیابی balance میں ہے۔ نہ مکمل آزادی، نہ غیر ضروری سختی؛ بلکہ محبت، routine اور نگرانی کے ساتھ رہنمائی۔

ایک آسان سا summer plan یہ ہو سکتا ہے: صبح مطالعہ، دوپہر تخلیقی سرگرمی، شام outdoor play، اور رات story time۔ اس مختصر routine سے بچے کی زبان، سوچ، اعتماد، صحت، نظم و ضبط اور تخلیقی صلاحیت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

آخر میں والدین کے لیے یہی پیغام ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں بچوں کو صرف مصروف رکھنے کا وقت نہیں بلکہ انہیں بہتر بنانے کا موقع ہیں۔ اگر والدین تھوڑی سی منصوبہ بندی، محبت اور مستقل مزاجی سے کام لیں تو یہ چھٹیاں بچوں کی شخصیت اور صلاحیتوں کو نکھارنے کا واقعی سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہیں۔

26/02/2026

🌙 رمضان، کمر درد اور فزیوتھراپی کی اہمیت
عبادت کے ساتھ صحت کا توازن بھی ضروری

تحریر: ڈاکٹر عبدالغفور
Doctor of Physical Therapy (DPT) | Orthopedic Manual Physical Therapist (OMPT)
PhD in Physiotherapy / Rehabilitation Sciences
Professor | Clinical Specialist | Healthcare Consultant
25 سالہ کلینیکل تجربہ

رمضان المبارک روحانی بالیدگی اور عبادت کا مہینہ ہے، مگر اس دوران روزمرہ معمولات میں اچانک تبدیلی جسمانی مسائل کو جنم دے سکتی ہے، خصوصاً کمر درد (Backache)۔ بطور فزیوتھراپسٹ اور ری ہیبلیٹیشن اسپیشلسٹ، اپنے پچیس سالہ کلینیکل تجربے میں میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ رمضان کے ایام میں کمر، گردن اور جوڑوں کے درد کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں پانی کی کمی، نیند کے اوقات میں بے ترتیبی، سحری کے بعد فوری آرام، افطار کے بعد بھاری غذا، اور تراویح میں طویل قیام شامل ہیں۔

روزے کے دوران جسم میں پانی کی کمی (Dehydration) پٹھوں میں سختی اور کھچاؤ پیدا کرتی ہے، جس سے ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بڑھتا ہے۔ جب عضلات اپنی لچک کھو دیتے ہیں تو معمولی حرکت بھی درد کا باعث بن سکتی ہے۔ کلینک میں اکثر مریض یہ شکایت کرتے ہیں کہ رمضان کے دوسرے یا تیسرے عشرے میں درد شدت اختیار کر لیتا ہے۔ اگر اس مرحلے پر مناسب اسٹریچنگ، پوسچر کی درستگی اور فزیوتھراپی مداخلت نہ کی جائے تو مسئلہ دائمی نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں رمضان کے دوران گھریلو اور سماجی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔ خواتین افطار کی تیاری میں طویل وقت کھڑے رہتی ہیں، جبکہ مرد حضرات افطار کے بعد غیر مناسب انداز میں بیٹھنے یا طویل نشستوں کی وجہ سے کمر پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ تراویح میں طویل قیام اگرچہ روحانی سکون کا باعث ہے، مگر کمزور عضلات رکھنے والے افراد میں درد کو بڑھا سکتا ہے۔ میرے کلینیکل مشاہدے میں کئی کیسز ایسے آئے جہاں ابتدائی درد کو نظر انداز کرنے کے باعث مریض ڈسک کے مسائل یا اعصابی دباؤ تک پہنچ گئے۔

ہمارے معاشرے میں عام رجحان ہے کہ درد کی صورت میں فوری طور پر پین کلرز یا گھریلو ٹوٹکوں کا سہارا لیا جاتا ہے، جو وقتی آرام تو دیتے ہیں مگر بنیادی مسئلے کو حل نہیں کرتے۔ پیشہ ورانہ فزیوتھراپی تشخیص کے ذریعے درد کی اصل وجہ معلوم کر کے مخصوص علاج اور ورزش تجویز کی جاتی ہے، جو دیرپا فائدہ فراہم کرتی ہے۔

رمضان کے دوران کمر درد سے بچاؤ کے لیے چند احتیاطی تدابیر نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہیں:

سحری اور افطار کے درمیان مناسب مقدار میں پانی پینا

ہلکی اسٹریچنگ اور مختصر چہل قدمی

درست نشست و برخاست (Posture Correction)

تراویح کے دوران وزن کی متوازن تقسیم

متوازن غذا اور منرلز کا مناسب استعمال

بطور Professor، Clinical Specialist اور Healthcare Consultant میری پیشہ ورانہ رائے ہے کہ جو افراد پہلے سے کمر، گردن یا جوڑوں کے مسائل کا شکار ہیں وہ رمضان سے قبل احتیاطی مشاورت ضرور حاصل کریں۔ بروقت رہنمائی نہ صرف درد کو کم کرتی ہے بلکہ مستقبل کی پیچیدگیوں سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔

رمضان روحانی اصلاح کا مہینہ ہے، مگر جسمانی صحت بھی اسی قدر اہم ہے۔ اگر ہم عبادت کے ساتھ اپنی جسمانی ضروریات کا بھی خیال رکھیں تو یہ بابرکت مہینہ سکون، صحت اور توازن کا حقیقی پیغام بن سکتا ہے۔

05/02/2026

ADVERTISEMENT – REQUIREMENT OF PROSTHESIS & ORTHOSIS DEVELOPMENT SERVICES
Aqua Medical Center, Islamabad

Aqua Medical Center invites applications/proposals from qualified Prosthetists & Orthotists (P&O), P&O Technicians, and Prosthesis/Orthosis Development Service Providers for the provision of professional prosthetic and orthotic assessment, fabrication, fitting, and rehabilitation support services.

Scope of Services

Design, development, and fitting of upper and lower limb prosthesis

Fabrication and fitting of customized orthotic devices (AFO, KAFO, TLSO, splints, braces, etc.)

Patient assessment, measurements, casting, and clinical fitting

Follow-up, adjustments, and rehabilitation coordination

Provision of high-quality customized mobility support solutions

Eligibility Criteria

Relevant qualification/certification in Prosthetics & Orthotics (P&O)

Practical experience in fabrication and fitting of prosthesis/orthosis

Commitment to professional standards and patient-centered care

Location

Aqua Medical Center
Executive Complex, G-8 Markaz, Islamabad

Contact & Submission

Interested professionals/vendors may share their profile, credentials, portfolio, and service proposal via:

📞 Contact: 0333-5199420

Great ideas start in a meeting, but real action starts after it
25/01/2026

Great ideas start in a meeting, but real action starts after it

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Muhammad Asif Chuadhry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category