02/08/2026
مہینے میں دو بار پیریڈ آنا کیا نارمل ہے؟ علامات، وجوہات، علاج اور کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے
مہینے میں دو بار پیریڈ آنا ہمیشہ غیر معمولی نہیں ہوتا، لیکن اسے نظر انداز بھی نہیں کرنا چاہیے۔
اگر آپ کا ماہواری کا چکر تقریباً اکیس دن کا ہے تو ایک ہی کیلنڈر مہینے میں دو مرتبہ خون آ سکتا ہے اور یہ بعض خواتین میں معمول کا حصہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر بار بار ایسا ہونے لگے، خون بہت زیادہ آئے، شدید درد ہو یا دیگر علامات بھی موجود ہوں تو اس کی وجہ ہارمون کی خرابی، رحم کی بیماری، حمل سے متعلق مسئلہ یا دیگر طبی حالتیں ہو سکتی ہیں جن کی جانچ ضروری ہے۔
مہینے میں دو بار پیریڈ آنا کیا ہوتا ہے؟
عام طور پر ماہواری کا ایک چکر اکیس سے پینتیس دن کے درمیان ہوتا ہے۔ اگر کسی عورت کا چکر نسبتاً مختصر ہو تو ایک ہی کیلنڈر مہینے میں دو مرتبہ ماہواری آ سکتی ہے۔
اس کے برعکس اگر خون غیر متوقع وقت پر آئے، بار بار آئے یا معمول سے مختلف ہو تو اسے غیر معمولی خون آنا سمجھا جا سکتا ہے جس کی وجہ معلوم کرنا ضروری ہوتی ہے۔
کلینیکل تجربے میں بہت سی خواتین اسی پریشانی کے ساتھ معائنہ کروانے آتی ہیں۔ ان میں سے بعض میں کوئی سنجیدہ بیماری نہیں ہوتی جبکہ بعض میں بروقت تشخیص سے علاج آسان ہو جاتا ہے۔
کیا یہ کبھی معمول کی بات ہو سکتی ہے؟
جی ہاں، بعض حالات میں ایسا ہونا معمول کا حصہ ہو سکتا ہے، مثلاً:
نوعمری میں ماہواری شروع ہونے کے ابتدائی سال
زچگی کے بعد ہارمون کی تبدیلیاں
حمل سے بچاؤ کی بعض ادویات شروع کرنے کے بعد ابتدائی مہینے
قدرتی طور پر مختصر ماہواری کا چکر
اگر یہ کیفیت صرف ایک بار ہو اور پھر ماہواری دوبارہ معمول پر آ جائے تو عموماً زیادہ پریشانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم بار بار پیریڈ آنا طبی معائنے کا تقاضا کرتا ہے۔
مہینے میں دو بار پیریڈ آنا کیوں ہوتا ہے؟
ہارمون کی خرابی
ہارمون وہ قدرتی کیمیائی مادے ہیں جو ماہواری کو قابو میں رکھتے ہیں۔
اگر ان میں توازن خراب ہو جائے تو جلدی جلدی پیریڈ آنا، ماہواری بے ترتیب ہونا یا غیر معمولی خون آنا شروع ہو سکتا ہے۔
بیضہ خارج ہونے کے وقت معمولی خون آنا
کچھ خواتین میں بیضہ خارج ہونے کے دوران ہلکا خون یا دھبے آ سکتے ہیں۔
یہ عموماً بہت کم مقدار میں ہوتا ہے اور مکمل ماہواری نہیں ہوتی۔
پولی سسٹک اووری سنڈروم
اس کیفیت میں بیضہ دانی کے کام میں خرابی آ جاتی ہے جس سے ماہواری بے ترتیب ہو سکتی ہے۔
علامات میں شامل ہو سکتی ہیں:
وزن بڑھنا
چہرے پر غیر معمولی بال
مہاسے
حمل میں دشواری
تھائیرائیڈ کی خرابی
گردن میں موجود غدود اگر کم یا زیادہ کام کرے تو ماہواری متاثر ہو سکتی ہے۔
اس کی وجہ سے:
بار بار پیریڈ آنا
دیر سے ماہواری آنا
بہت زیادہ یا بہت کم خون آنا
ممکن ہے۔
رحم کی رسولیاں
رحم میں بننے والی غیر سرطانی گلٹیاں بعض خواتین میں زیادہ خون آنے یا دو بار ماہواری کی وجہ بن سکتی ہیں۔
رحم کے اندر نرم ابھار
رحم کی اندرونی تہہ میں بننے والے نرم ابھار بھی غیر معمولی خون آنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
حمل سے متعلق خون آنا
اگر حمل کا امکان موجود ہو تو خون آنے کو کبھی بھی صرف ماہواری سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔
بعض اوقات ابتدائی حمل یا حمل سے متعلق پیچیدگی میں بھی خون آ سکتا ہے، جس کے لیے فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
عمر کے ساتھ ہارمون کی تبدیلیاں
چالیس سال کے بعد بعض خواتین میں قدرتی ہارمون کی تبدیلیوں کی وجہ سے ماہواری بے ترتیب ہونا شروع ہو سکتی ہے۔
ذہنی دباؤ
شدید ذہنی دباؤ جسم کے ہارمون پر اثر ڈال سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں دو بار ماہواری یا بے ترتیبی پیدا ہو سکتی ہے۔
وزن میں اچانک تبدیلی
بہت زیادہ وزن بڑھنے یا تیزی سے کم ہونے سے بھی ہارمون متاثر ہو سکتے ہیں۔
بعض ادویات
کچھ ادویات، خصوصاً ہارمون سے متعلق ادویات یا خون پتلا کرنے والی ادویات، غیر معمولی خون آنے کا باعث بن سکتی ہیں۔
دیگر طبی بیماریاں
بعض اوقات انفیکشن، خون جمنے کے مسائل یا دوسری طبی بیماریاں بھی اس مسئلے کی وجہ بن سکتی ہیں۔
اسی لیے صرف علامات کی بنیاد پر اصل وجہ کا تعین ممکن نہیں ہوتا۔
کن خواتین میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟
مندرجہ ذیل خواتین میں ماہواری بے ترتیب ہونے کا امکان نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔
چالیس سال سے زیادہ عمر
موٹاپا
پولی سسٹک اووری سنڈروم
تھائیرائیڈ کی بیماری
ذیابیطس
رحم کی سابقہ بیماریاں
ہارمون والی ادویات کا استعمال
شدید ذہنی دباؤ
کون سی علامات کو ہرگز نظر انداز نہ کریں؟
اگر مہینے میں دو بار پیریڈ آنے کے ساتھ درج ذیل علامات موجود ہوں تو جلد از جلد گائناکالوجسٹ سے رجوع کریں۔
بہت زیادہ خون آنا
ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں بار بار پیڈ مکمل بھر جانا
بڑے لوتھڑے آنا
شدید پیٹ یا کمر درد
چکر آنا یا بے ہوشی محسوس ہونا
کمزوری یا سانس پھولنا
حمل کا امکان ہونے کے باوجود خون آنا
مسلسل تین ماہ یا اس سے زیادہ عرصہ ماہواری بے ترتیب رہنا
مباشرت کے بعد خون آنا
جلد تشخیص اکثر علاج کو آسان بنا دیتی ہے جبکہ تاخیر بعض بیماریوں کو بڑھنے کا موقع دے سکتی ہے۔
گائناکالوجسٹ سے کب رجوع کریں؟
اگر:
مہینے میں بار بار پیریڈ آ رہے ہوں۔
خون پہلے سے زیادہ ہو۔
درد معمول سے زیادہ ہو۔
حمل کی منصوبہ بندی کر رہی ہوں۔
حمل ٹھہرنے میں مشکل پیش آ رہی ہو۔
خون آنے کا انداز اچانک بدل گیا ہو۔
تو طبی معائنہ ضرور کروائیں۔
ہر عورت کا جسم مختلف ہوتا ہے، اس لیے مناسب جانچ کے بغیر اصل وجہ معلوم نہیں کی جا سکتی۔
وجہ کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟
ڈاکٹر علامات، طبی تاریخ اور ماہواری کے ریکارڈ کو دیکھنے کے بعد ضرورت کے مطابق درج ذیل جانچ تجویز کر سکتے ہیں۔
جسمانی معائنہ
خون کے ٹیسٹ
حمل کا ٹیسٹ
تھائیرائیڈ کی جانچ
ہارمون کی جانچ
الٹراساؤنڈ
ضرورت پڑنے پر مزید مخصوص معائنہ
تمام خواتین کو ہر ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جانچ علامات کے مطابق منتخب کی جاتی ہے۔
علاج کے طریقے
علاج ہمیشہ اصل وجہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔
ممکنہ علاج میں شامل ہو سکتے ہیں:
ہارمون کو متوازن کرنے والی ادویات
خون کی کمی کا علاج
تھائیرائیڈ کا علاج
رحم کی بعض بیماریوں کا علاج
طرزِ زندگی میں تبدیلیاں
بعض صورتوں میں جراحی علاج
اپنی مرضی سے دوائیں شروع کرنا مناسب نہیں کیونکہ غلط دوا مسئلہ بڑھا سکتی ہے۔
کیا غذا مددگار ثابت ہو سکتی ہے؟
صرف غذا ہر مسئلے کا علاج نہیں، لیکن مناسب خوراک ہارمون کی صحت، خون کی کمی سے بچاؤ اور عمومی صحت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
پاکستانی غذائیں جو ہارمون کی صحت میں معاون ہو سکتی ہیں
پالک اور دیگر سبز پتوں والی سبزیاں، کیونکہ ان میں فولاد اور دوسرے غذائی اجزا ہوتے ہیں۔
دالیں اور چنے، جو جسم کو پروٹین اور فائبر دیتے ہیں۔
انڈے، جو جسم کی مرمت اور ہارمون بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
مچھلی، جس میں صحت مند چکنائی ہوتی ہے۔
دہی، جو آنتوں کی صحت کے لیے مفید ہے۔
خشک میوہ مناسب مقدار میں، کیونکہ ان میں مفید چکنائیاں اور معدنیات موجود ہوتے ہیں۔
تازہ پھل، خصوصاً امرود، مالٹا اور کینو، جن میں وٹامن موجود ہوتے ہیں۔
مناسب مقدار میں پانی پینا بھی ضروری ہے کیونکہ پانی جسم کے افعال کو بہتر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اگر خون زیادہ آتا ہو تو فولاد سے بھرپور غذاؤں پر خاص توجہ دیں تاکہ خون کی کمی کا خطرہ کم ہو۔
کن غذاؤں کو محدود رکھنا بہتر ہے؟
بہت زیادہ میٹھی اشیا
شکر والے مشروبات
بہت زیادہ تلی ہوئی غذائیں
بار بار بازار کے تیار شدہ کھانے
حد سے زیادہ نمک
اعتدال کے ساتھ متوازن غذا زیادہ فائدہ مند رہتی ہے۔
طرزِ زندگی میں مفید تبدیلیاں
مناسب نیند لیں۔
روزانہ ہلکی جسمانی سرگرمی کریں۔
ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کریں۔
وزن کو متوازن رکھیں۔
ماہواری کا ریکارڈ محفوظ رکھیں۔
غیر معمولی خون آنے کو نظر انداز نہ کریں۔
عام غلط فہمیاں
ہر دو بار ماہواری خطرناک ہوتی ہے۔
غلط۔ بعض اوقات یہ معمول کی بات بھی ہو سکتی ہے۔
زیادہ خون آنا جسم کی صفائی ہے۔
غلط۔ زیادہ خون آنا بیماری کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
ہر بے ترتیب ماہواری بانجھ پن کی علامت ہے۔
غلط۔ بہت سی خواتین مناسب علاج کے بعد کامیاب حمل حاصل کرتی ہیں۔
علاج کے بغیر خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔
ہر بار ایسا نہیں ہوتا۔ مسلسل مسئلہ ہو تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا مہینے میں دو بار پیریڈ آنا ہمیشہ بیماری ہے؟
نہیں، لیکن اگر بار بار ایسا ہو تو جانچ ضروری ہے۔
کیا ذہنی دباؤ اس کی وجہ بن سکتا ہے؟
جی ہاں، شدید دباؤ ہارمون پر اثر ڈال سکتا ہے۔
کیا حمل کے دوران خون آ سکتا ہے؟
جی ہاں، لیکن ایسی صورت میں فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
کیا اس سے حمل ٹھہرنے میں مشکل ہو سکتی ہے؟
کچھ بیماریوں میں ایسا ممکن ہے، لیکن ہر عورت میں نہیں۔
کیا صرف الٹراساؤنڈ سے وجہ معلوم ہو جاتی ہے؟
ہر بار نہیں۔ بعض اوقات خون کے ٹیسٹ اور دیگر جانچ بھی ضروری ہوتی ہیں۔
کیا خوراک سے ماہواری مکمل ٹھیک ہو سکتی ہے؟
خوراک مددگار ہو سکتی ہے، مگر اگر بنیادی بیماری موجود ہو تو اس کا علاج بھی ضروری ہوتا ہے۔
کیا مجھے ہر بار ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے؟
اگر مسئلہ بار بار ہو، خون زیادہ آئے یا دوسری علامات موجود ہوں تو ضرور رجوع کریں۔
آخری مشورہ
اگر آپ کو مہینے میں دو بار پیریڈ آنا، دو بار ماہواری، جلدی جلدی پیریڈ آنا یا بار بار پیریڈ آنا محسوس ہو رہا ہے تو خود سے اندازے لگانے کے بجائے مناسب طبی معائنہ کروانا بہتر فیصلہ ہے۔ ہر عورت کا ماہواری کا چکر مختلف ہوتا ہے اور صرف علامات دیکھ کر اصل وجہ معلوم نہیں کی جا سکتی۔ بروقت تشخیص نہ صرف ذہنی اطمینان دیتی ہے بلکہ بہت سی قابلِ علاج بیماریوں کا علاج بھی آسان بنا دیتی ہے۔
اگر آپ اپنی علامات کے بارے میں پریشان ہیں، حمل کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں، ماہواری بے ترتیب ہے یا ذاتی رہنمائی چاہتی ہیں تو آن لائن مشورہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انفرادی طبی معائنہ، آپ کی کیفیت کے مطابق علاج کا منصوبہ، مناسب غذائی رہنمائی، بانجھ پن سے متعلق مشورہ اور ماہواری کی بے ترتیبی کے انتظام کے لیے پیشہ ورانہ رہنمائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
آن لائن مشورہ فیس:
Rs. 2000/-
Clinic Location. Hina’s clinic seri chowk barakhu
Islamabad
Whatsapp # 03322066804
Disclaimer:
Every woman is different. The information provided in this article is for educational purposes only and should not be used as a substitute for professional medical assessment, diagnosis, or treatment. Please consult a qualified gynecologist before starting any treatment or diet plan.