10/09/2026
وسوسہ
جب ہمارا تعلق اللّه سے کمزور ہوتا ہے تب لالچ خوف اور وسوسہ پیدا ہوتا ہے یہ ہمارے کمزور ایمان کی نشانی ہے ۔ ہمیں چاہتے ہیں کہ جو ہمارے پاس ہے وہ کھو نہ جاِے ۔چلا نہ جائے ختم نہ ہو جائے ۔وسوسہ بے بے یقینی سے ' لالچ سے ہوتا ہے ۔ وسوسہ غلط دوست سے ہوتا ہے ۔ شیطان دل میں وسوسہ ڈالتا ہے اور انسان بھی۔۔۔
ابو سعید فضل اللّه بن محمّد رح ایک درویش کے ساتھ کہیں جا رہے تھے ۔۔ راستے میں ایک سرد وادی پڑتی تھی خشکی کی وجہ سے آپ کے پاؤں سرد ہو گے
درویش نے سوچا کے کے اپنا کمربند پھاڑ کر دونوں پیروں پر لپیٹ دے ۔پھر خیال آیا کمر بند اتنا خوبصورت ہے ضائع نہیں کرنا چاہئیے ۔ منزل پر پہنچ کر درویش نے پوچھا :
وسوسہ اور الہام میں کیا فرق ہے ؟
آپ نے فرمایا: کمر بند کو پھاڑ کر پاؤں پر ڈال دینے کا خیال " الہام "( یعنی اللّه کی طرف سے ) تھا ۔ اور روکنے والی چیز وسوسہ ( یعنی نفس کا خیال) تھا ۔
آکٹھا اور ساتھ لے جانے کی تمنا اگر ختم ہو جاِے تو وسوسہ ختم ہو جاتا ہے ۔
یہ زندگی ہمیں بن مانگے ملی اور بیشمار نعمتیں بھی بن مانگے مل گئی یہ اللّه نے دی اور کچھ ملتا ہے اسکا کرم ہے تو جب وہ چاہے گا لے لے گا ہم جیسے آِے ویسے چلے جائیں گے اگراس بات پر ہمارا ایمان مضبوط ہو جاِے تو چین ہی چین ہے ۔
ہم خود خدا بن جاتے ہیں اور ہر چیز پر اپنا حق بھی جتاتے ہیں اور سارے معاملات اپنے زمے لے لیے ہے سارا بوجھ اپنے کندھوں پر ڈال لیا ہے ۔۔ہم خدا کے ساتھ وہ شراکت داری قائم ہی نہیں کرتے ہیں کہ یا اللّه میں نے اپنے ذمے کا کام کر دیا ہے اب تیرے سپرد تو جیسا کرے میں راضی ۔۔ اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڈ دیں جو آپ کو یہاں تک لے آیا وہ اگے بھی لے جائے گا بن مانگے اتنا کچھ مل گیا جو اور بہتر ہو گا وہ بھی مل جائے