04/06/2026
مسکراتے چہرے کے پیچھے چھپا ہوا طوفان
سیشن نمبر 3: وہ خط جس نے برسوں سے بند دروازہ کھول دیا
تیسرے سیشن کے دن جب وہ میرے آفس میں داخل ہوئیں تو میں نے فوراً محسوس کیا کہ ان کے اندر کچھ بدل رہا ہے۔
اس بار ان کے چہرے پر پہلے جیسی بے بسی نہیں تھی، لیکن ایک عجیب سی سنجیدگی ضرور موجود تھی۔
سلام دعا کے بعد وہ خاموشی سے بیٹھ گئیں۔
ان کے ہاتھ میں چند تہہ شدہ صفحات تھے۔
میں سمجھ گئی کہ وہ اپنا ہوم ورک مکمل کر چکی ہیں۔
میں نے نرمی سے پوچھا:
"خط لکھ لیا؟"
انہوں نے سر ہلایا۔
"جی... دونوں لکھ لیے۔"
پھر چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولیں:
"لیکن میڈم، مجھے نہیں معلوم تھا کہ چند صفحات لکھتے ہوئے انسان اتنا رو بھی سکتا ہے۔"
میں خاموشی سے سنتی رہی۔
کبھی کبھی علاج سوال پوچھنے سے نہیں بلکہ مریض کو اپنی کہانی سنانے کی جگہ دینے سے آگے بڑھتا ہے۔
میں نے ان سے والد کے نام لکھے گئے خط کے بارے میں پوچھا۔
انہوں نے خط کھولا اور چند جملے پڑھنے شروع کیے۔
"ابو... میں نے ہمیشہ آپ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔"
"میں نے ہمیشہ اچھی بیٹی بننے کی کوشش کی۔"
"میں نے کبھی آپ سے کچھ نہیں مانگا، صرف یہ چاہا کہ آپ ایک بار کہیں کہ آپ مجھ پر فخر کرتے ہیں۔"
یہ پڑھتے پڑھتے ان کی آواز لرزنے لگی۔
آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
چند لمحوں کے لیے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
پھر انہوں نے ایک جملہ کہا:
"مجھے لگتا ہے میں آج بھی وہی دس سال کی بچی ہوں جو اپنے ابو کی توجہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔"
یہ وہ لمحہ تھا جب انہیں اپنے درد کی جڑ نظر آنا شروع ہوئی۔
کئی بار موجودہ رشتوں میں ہونے والی تکلیف صرف حال سے متعلق نہیں ہوتی۔
وہ ماضی کے ان جذبات سے جڑی ہوتی ہے جو کبھی مکمل طور پر بھر نہیں پاتے۔
کچھ دیر بعد ہم نے دوسرا خط کھولا۔
یہ خط ان کے شوہر کے نام تھا۔
فرق واضح تھا۔
پہلے سیشن میں وہ شوہر سے ناراض تھیں۔
آج وہ اپنی تکلیف کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
خط میں انہوں نے لکھا تھا:
"مجھے آپ سے نفرت نہیں ہے۔"
"مجھے صرف یہ ڈر لگتا ہے کہ شاید میں آپ کے لیے اہم نہیں ہوں۔"
"جب آپ میری بات نہیں سنتے تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میری کوئی اہمیت نہیں۔"
یہ جملہ پڑھنے کے بعد وہ خود خاموش ہوگئیں۔
پھر انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا:
"شاید میں ہر بار ان کے رویے کو مسترد کیے جانے کے طور پر محسوس کرتی ہوں۔"
یہ سیشن کا دوسرا بڑا موڑ تھا۔
اب وہ صرف شوہر کے رویے کو نہیں دیکھ رہی تھیں بلکہ اپنے جذباتی ردعمل کو بھی سمجھ رہی تھیں۔
ہم نے کافی دیر اس بات پر گفتگو کی کہ کس طرح بچپن کے تجربات بعض اوقات ہمارے موجودہ تعلقات کی تشریح کو متاثر کرتے ہیں۔
سیشن کے اختتام کے قریب میں نے ان سے ایک سوال کیا:
"اگر آپ کے شوہر واقعی آپ کو نظر انداز نہیں کر رہے بلکہ صرف اپنے انداز میں زندگی گزار رہے ہیں، تو کیا ممکن ہے کہ آپ ان کے کچھ رویوں کو اپنے ماضی کے زخموں کی عینک سے دیکھ رہی ہوں؟"
وہ خاموش ہوگئیں۔
کافی دیر تک سوچتی رہیں۔
پھر دھیرے سے بولیں:
"شاید... پہلی بار مجھے لگ رہا ہے کہ مسئلہ صرف ان میں نہیں ہے۔"
یہ اعتراف آسان نہیں تھا۔
لیکن یہی وہ لمحہ تھا جہاں حقیقی تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے۔
سیشن ختم ہونے سے چند منٹ پہلے میں نے انہیں اگلا ہوم ورک دیا۔
میں نے کہا:
"اس ہفتے آپ اپنے شوہر کے بارے میں روزانہ ایک مثبت مشاہدہ لکھیں گی۔"
"چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔"
انہوں نے حیرت سے پوچھا:
"اگر مجھے کچھ مثبت نظر نہ آیا تو؟"
میں مسکرائی۔
"پھر یہی آپ کا سب سے اہم کام ہوگا۔"
وہ ہلکا سا مسکرائیں۔
شاید کئی ہفتوں بعد پہلی بار۔
لیکن مجھے معلوم تھا کہ اصل امتحان ابھی باقی ہے۔
کیونکہ اگلے سیشن میں انہیں صرف اپنے جذبات نہیں سمجھنے تھے...
بلکہ اپنے شوہر کے ساتھ پہلی بار ایک مختلف انداز میں بات بھی کرنی تھی۔
اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں اکثر لوگ تبدیلی سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔
جاری ہے...
اگلا سیشن:
"جب اس خاتون نے پہلی بار اپنے شوہر سے شکایت نہیں، بلکہ اپنے احساسات کا اظہار کیا..."
Case Reflection Series By
Iqra Awan
(Consultant Psychologist)
CEO, Mental Health Care Hospital, Islamabad
International Certified Addiction Professional (ICAP)
Mental Health & Addiction Specialist