Islamic Research Is On

Islamic Research Is On Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Islamic Research Is On, Medical Research Center, Karachi.

خلیفہ ھارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ بطور دی. یہ گھڑی 4 میٹر اونچی خالص پیتل سے بنی تھی اور پا...
16/12/2023

خلیفہ ھارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ بطور دی. یہ گھڑی 4 میٹر اونچی خالص پیتل سے بنی تھی اور پانی کے زور پر چلتی تھی.
گھنٹہ ہونے پر گھڑی کے اندر سے 1 گیند نکلتی، 2 گھنٹے پر 2 گیندیں اور 3 گھنٹے پر 3 گیندیں اس طرح ہر گھنٹے کے ساتھ ایک گیند کا اضافہ ہوتا تھا گیند کے نکلنے کے ساتھ ایک خوبصورت سریلی آواز کے ساتھ گیند کے پیچھے پیچھے ایک گھوڑا سوار نکلتا وہ گھڑی کے گرد چکر کاٹ کر واپس داخل ہوتا جب 12 بج جاتے تو بارہ گھڑ سوار نکلتے چکر کاٹ کر واپس جاتے.
‌گھڑی کی یہ حرکتیں دیکھ کر بادشاہ شارلمان کافی پریشان ہوا اس نے پادریوں اور نجومیوں کو محل میں بلایا، سب نے دیکھ کر کہا اس گھڑی کے اندر ضرور شیطان ھے.
سب رات کے وقت گھڑی کے پاس آئے کہ اس وقت شیطان سویا ہوگا چنانچہ انہوں نے گھڑی کھول لی تو آلات کے سوا کچھ نہیں ملا، لیکن گھڑی خراب ہوچکی تھی. پورے فرانس میں گھڑی کو ٹھیک کرنے کے لیئے کوئی کاریگر نہیں تھا شرمندگی کی وجہ سے ھارون الرشید سے بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ کوئی مسلمان کاریگر بھیج دیں.
مطلب یہ کہ جب سائنس پر مسلمانوں کی اجارہ داری تھی اس وقت یورپ سائنس کو جادو سمجھتا تھا...

دُنیا میں سب سے پہلا "کیمرہ" ایجاد کرنے والا "ابنِ الہیثم" ھے ۔۔
دُنیا میں سب سے پہلا "کیلنڈر" ایجاد کرنے والا "عُمرخیام" ھے ۔۔
آپریشن سے قبل مریض کو "بےہوش" کرنے کا طریقہ متعارف کروانے والا "زکریاالرازی" ھے ۔۔
دُنیا میں "الجبرا" ایجاد اور متعارف کروانے والا "موسیٰ الخوارزمی" ھے ۔۔
سن 1957 میں "شیمپو" ایجاد کرنے والا "محمد" ھے ۔۔
زمیں پہ آنے والے "زلزلوں" کی سب سے پہلے سائنسی وجوہات بیان کرنے والا ۔
"ابنِ سینا" ھے ۔۔
کپڑااورچمڑا رنگ کرنے اور گلاس بنانے کیلئے "میگنیزڈائی آکسائد" کا استعمال متعارف کروانے والا "ابنِ سینا" ھے ۔۔
دھاتوں کی صفائی ، "اسٹیل" بنانے کا طریقہ متعارف کروانے والا "ابنِ سینا" ھے ۔۔
مصنوعی "دانت" لگانے کا طریقہ متعارف کروانے والا "ابوالقاسم الزہروی" ھے ۔۔
ٹیڑھے "دانتوں" کو سیدھا کرنے اور خراب "دانت" نکالنے کا طریقہ متعارف کروانے والا "ابوالقاسم الزہروی" ھے ۔۔
دُنیا میں سب سے پہلے "ادویات" بنانے کے علم متعارف کروانے والا "ابنِ سینا" ھے ۔۔
دُنیا میں کششِ ثقل کی درست پیمائش کا طریقہ متعارف کروانے والا "عُمرخیام" ھے ۔۔
آنکھ ، ناک ، کان اور پتے کا "آپریشن" سے علاج متعارف کروانے والا "ابوالقاسم الزہروی" ھے ۔۔
دنیا میں "سرجری" کیلئے استعمال ھونے والے تین اہم ترین آلات متعارف کروانے والا "ابوالقاسم الزہروی" ھے ۔۔
دُنیاوی علموں میں "علمِ اعداد" اور "جدیدریاضی" کی بنیاد رکھنے والا "یعقوب الکندی" ھے ۔۔
مریضوں کو دی جانے والی "ادویات کی درست مقدار" کا تعین کرنے والا "یعقوب الکندی" ھے ۔۔
دُنیا کو "آنکھ" پہ روشنی کے مُضراثرات کا بتانے والا "زکریاالرازی" ھے ۔۔
روشنی کی "رفتار" کا آواز کی "رفتار" سے تیز ھونے کا انکشاف کرنے والا "البیرونی" ھے ۔۔
دنیا کو "زمین چاند اور سیاروں" کی حرکات اور خصوصیات سے روشناس کرنے والا "البیرونی" ھے ۔۔
دُنیا کو "قُطب شمالی اور قُطب جنوبی" کی سمت کا تعین کرنے کے "سات طریقے" بتانے والا "البیرونی" ھے
علمِ ارضیات میں مغرب والوں کی زبان سے "بابائےارضیات" کہلائے جانے والا
"ابنِ سینا" ھے ۔۔
دُنیا میں "ہائیڈروکلورک ایسڈ ، نائٹرک ایسڈ اور سفید سیسہ" بنانے کے طریقے بیان کرنے والا "ابنِ سینا" ھے..
کیمیکلز بنانے اور ایجاد کرنے میں "بابائےکیمیا" کہلائے جانے والا "ابنِ سینا" ھے..
دُنیا کو "روشنی کے انعکاس" اور بصارت میں "ریٹینا" کا مرکزی کردار متعارف کروانے والا "ابنِ الہیثم" ھے..
اور "سیاروں" کی حرکت کا درست تعین کرنے والا "نصیرالدین طوسی" ھے ۔۔

یہ سب مُسلمان سائنسدان ھی تھے اور تُم پوچھتے ھو کہ اِسلام نے آج تک دُنیا کو کیا دِیا ؟.. (منقول)

06/11/2023

انسانی عادتوں کے ماہرین نے ڈیٹا کی بنیاد پر ریسرچ کی ہے اور معلوم ہوا دنیا میں 99 فیصد غلط فیصلے دن دو بجے سے چار بجے کے درمیان ہوتے ہیں‘ یہ ڈیٹا جب مزید کھنگالا گیا تو پتا چلا دنیا میں سب سے زیادہ غلط فیصلے دن دو بج کر 50 منٹ سے تین بجے کے درمیان کیے جاتے ہیں۔

یہ ایک حیران کن ریسرچ تھی‘ اس ریسرچ نے ”ڈسین میکنگ“ (قوت فیصلہ) کی تمام تھیوریز کو ہلا کر رکھ دیا‘ ماہرین جب وجوہات کی گہرائی میں اترے تو پتا چلا ہم انسان سات گھنٹوں سے زیادہ ایکٹو نہیں رہ سکتے‘ ہمارے دماغ کو سات گھنٹے بعد فون کی بیٹری کی طرح ”ری چارجنگ“ کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم اگر اسے ری چارج نہیں کرتے تو یہ غلط فیصلوں کے ذریعے ہمیں تباہ کر دیتا ہے‘ ماہرین نے ڈیٹا کا مزید تجزیہ کیا تو معلوم ہوا ہم لوگ اگر صبح سات بجے جاگیں تو دن کے دو بجے سات گھنٹے ہو جاتے ہیں۔

ہمارا دماغ اس کے بعد آہستہ آہستہ سن ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ہم غلط فیصلوں کی لائین لگا دیتے ہیں چناں چہ ہم اگر بہتر فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں دو بجے کے بعد فیصلے بند کر دینے چاہئیں اور آدھا گھنٹہ قیلولہ کرنا چاہیے‘ نیند کے یہ30 منٹ ہمارے دماغ کی بیٹریاں چارج کر دیں گے اور ہم اچھے فیصلوں کے قابل ہو جائیں گے‘ یہ ریسرچ شروع میں امریکی صدر‘ کابینہ کے ارکان‘ سلامتی کے بڑے اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ شیئر کی گئی۔

یہ اپنے فیصلوں کی روٹین تبدیل کرتے رہے‘ ماہرین نتائج نوٹ کرتے رہے اور یہ تھیوری سچ ثابت ہوتی چلی گئی‘ ماہرین نے اس کے بعد ”ورکنگ آوورز“ کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا‘آفس کے پہلے تین گھنٹے فیصلوں کے لیے بہترین قرار دے دیے گئے‘ دوسرے تین گھنٹے فیصلوں پر عمل کے لیے وقف کر دیے گئے اور آخری گھنٹے فائل ورک‘ کلوزنگ اوراکاؤنٹس وغیرہ کے لیے مختص کر دیئے گئے‘ سی آئی اے نے بھی اس تھیوری کو اپنے سسٹم کا حصہ بنا لیا۔

مجھے جنرل احمد شجاع پاشا نے ایک بار بتایا تھا‘ امریکی ہم سے جب بھی کوئی حساس میٹنگ کرتے تھے تو یہ رات کے دوسرے پہر کا تعین کرتے تھے‘ میں نے محسوس کیا یہ میٹنگ سے پہلے ہمارے تھکنے کا انتظار کرتے ہیں چناں چہ ہم ملاقات سے پہلے نیند پوری کر کے ان کے پاس جاتے تھے۔میں نے برسوں پہلے ایک فقیر سے پوچھا تھا ”تم لوگ مانگنے کے لیے صبح کیوں آتے ہو اور شام کے وقت کیوں غائب ہو جاتے ہو“ فقیر نے جواب دیا تھا ”لوگ بارہ بجے تک سخی ہوتے ہیں اور شام کو کنجوس ہو جاتے ہیں‘ ہمیں صبح زیادہ بھیک ملتی ہے“ ۔

مجھے اس وقت اس کی بات سمجھ نہیں آئی تھی لیکن میں نے جب دو بجے کی ریسرچ پڑھی تو مجھے فقیر کی بات سمجھ آ گئی‘ آپ نے بھی نوٹ کیا ہوگا آج سے پچاس سال پہلے لوگ زیادہ خوش ہوتے تھے‘ یہ شامیں خاندان کے ساتھ گزارتے تھے‘ سپورٹس بھی کرتے تھے اور فلمیں بھی دیکھتے تھے‘کیوں؟ کیوں کہ پوری دنیا میں اس وقت قیلولہ کیا جاتا تھا‘ لوگ دوپہر کو سستاتے تھے مگر انسان نے جب موسم کو کنٹرول کر لیا‘ یہ سردی کو گرمی اور گرمی کو سردی میں تبدیل کرنے میں کام یاب ہو گیا تو اس نے قیلولہ بند کر دیا چناں چہ لوگوں میں خوشی کا مادہ بھی کم ہو گیا اور ان کی قوت فیصلہ کی ہیت بھی بدل گئی۔

ریسرچ نے ثابت کیا ہم اگر صبح سات بجے اٹھتے ہیں تو پھر ہمیں دو بجے کے بعد ہلکی نیند کی ضرورت پڑتی ہے اور ہم اگر دو سے تین بجے کے دوران تھوڑا سا سستا لیں‘ ہم اگر نیند لے لیں تو ہم فریش ہو جاتے ہیں اور ہم پہلے سے زیادہ کام کر سکتے ہیں‘ پوری دنیا میں فجر کے وقت کو تخلیقی لحاظ سے شان دارسمجھا جاتا ہے‘ کیوں؟ ہم نے کبھی غور کیا‘ اس کی دو وجوہات ہیں‘ ہم بھرپور نیند لے چکے ہوتے ہیں لہٰذا ہمارے دماغ کی تمام بیٹریاں چارج ہو چکی ہوتی ہیں اور دوسرا فجر کے وقت فضا میں آکسیجن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور آکسیجن ہمارے دماغ کے لیے اکسیر کاد رجہ رکھتی ہے۔

یہ ذہن کی مرغن غذا ہے چناں چہ ماہرین کا دعویٰ ہے آپ اگر بڑے فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو آپ یہ کام صبح بارہ بجے سے پہلے نمٹا لیں اور آپ کوشش کریں آپ دو سے تین بجے کے درمیان کوئی اہم فیصلہ نہ کریں کیوں کہ یہ فیصلہ غلط ہو گا اور آپ کو اس کا نقصان ہو گا
(منقول)

03/11/2023

‏فنگر پرنٹس_
سائینس بھی سوچتی ہو گی۔۔۔
انسانی جسم کی انگلیوں میں لکیریں تب نمودار ہونے لگتی ہیں جب انسان ماں کے شکم میں 4 ماہ تک پہنچتا ہے یہ لکیریں ایک ریڈیایی لہر کی صورت میں گوشت پر بننا شروع ہوتی ہیں ان لہروں کو بھی پیغامات ڈی۔۔این۔۔اے دیتا ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ پڑنے والی لکیریں کسی صورت بھی اس بچے کے جد امجد اور دیگر روئے ارض پر موجود انسانوں سے میل نہیں کھاتیں گویا لکیریں بنانے والا اس قدر دانا اور حکمت رکھتا ہے کہ وہ کھربوں کی تعداد میں انسان جو اس دنیا میں ہیں اور جو دنیا میں نہیں رہے ان کی انگلیوں میں موجود لکیروں کی شیپ اور ان کے ایک ایک ڈیزائن سے باخبر ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بار ایک نئے انداز کا ڈیزائن اس کی انگلیوں پر نقش کر کے یہ ثابت کرتا ہے ۔۔
کہ ہے کوئ مجھ جیسا ڈیزائنر ؟؟
کوئ ہے مجھ جیسا کاریگر ؟؟
کوئ ہے مجھ جیسا آرٹسٹ ؟؟
کوئ ہے مجھ جیسا مصور ؟؟
کوئ ہے مجھ جیسا تخلیق کار ؟؟
حیرانگی کی انتہاء تو اس بات پر ختم ہوجاتی ہے کہ اگر جلنے زخم لگنے یا کسی وجوہات کی بنیاد پر یہ فنگر پرنٹ مٹ بھی جائے تو دوبارہ ہو بہو وہی لکیریں جن میں ایک خلیے کی بھی کمی بیشی نہیں ہوتی ظاہر ہو جاتی ہیں۔۔۔۔
پس ہم پر کھلتا ہے کہ پوری دنیا بھی جمع ہو کر انسانی انگلی پر کسی وجوہات کی بنیاد پر مٹ جانے والی ایک فنگر پرنٹ نہیں بنا سکتی
کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے
وہی خدا ہے وہی خدا ہے وہ ہی خدا ہے

26/10/2023

ہم نے چار شادیوں پر زور دیئے رکھا، لیکن یہ کبھی نہ بتایا کہ رسول پاک نے اپنی جوانی کے 25 سال ایک ہی عورت کے ساتھ گزارے اور حضرت سودہ سے دوسری شادی حضرت خدیجہ رض کی وفات کے بعد کی۔
ہم نے یہود نصاری کی دشمنی کا راگ الاپے رکھا، لیکن یہ کبھی نہ بتایا کہ میثاق مدینہ کے وقت یہودیوں کے دس قبائل تھے اور وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتحادی تھے، فرانس نے گستاخی کی تو ہم نے اپنے ہی ملک میں آگ لگا دی، لیکن یہ کبھی نہ بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنان اسلام کو معاشی طور پر کمزور کرکے اپنی دھاک بٹھائی تھی۔

مشرکین مکہ تاجر تھے اور تجارت کی غرض سے شام جایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے شمال کی راستہ پر واقع قبائل سے دوستیاں کیں اور مشرکین مکہ کی تجارت کا راستہ بند کروایا، جب وہ جنوب کے راستہ یمن جانے لگے تو آپ نے وہاں کے باشندوں سے معاہدے کر کے اہل قریش کا راستہ روک دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہی ملک کو آگ نہیں لگائی تھی بلکہ دشمن کو معاشی طور پر کمزور کرکے اس کی کمر توڑ دی، نوبت فاقوں تک پہنچی تو ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا کہا کہ ان کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچ سو اشرفیوں کے ساتھ بہترین کھجوریں دیتے ہوئے تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔
یعنی اہل قریش دشمن بن کر آئے تو آپ نے ان کی کمر توڑ دی۔ لیکن وہی دشمن بطور انسان رحم کی بھیک مانگنے آئے تو آپ نے ان کی مدد کی۔

مجھ میں اتنی تاب نہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور نبی سمجھ سکتا لہذا میں نے آپ کو بطور انسان سمجھنے کی کوشش کی، میں نے جانا:

آپ ایک عظیم مدبر تھے، آپ نے اپنی تدبیر سے صلح حدیبیہ جیسے معاہدے کیے جو بظاہر مسلمانوں کو کمزور کرنے والے تھے، لیکن وہی معاہدے آپ کے لیے فتح مکہ کا باعث بنے۔ آپ نے دشمنوں کی جاسوسی کے لیے حضرت ابو ہریرہ کی ڈیوٹی لگائی تاکہ دشمنان کے ارادے جان سکیں۔

آپ ایک عظیم سفارتکار تھے۔ آپ نے اپنے دشمن کے دوستوں سے دوستیاں کی تاکہ ان کا اثر کم ہوسکے۔ مدینہ کے شمال میں خیبر اور جنوب میں مکہ تھا، اور ان دونوں شہروں کے باشندے مسلم مخالف تھے، آپ نے کمال ذہانت سے صلح حدیبیہ میں اہل مکہ سے وعدہ کیا کہ وہ مسلمانوں کی کسی جنگ میں دشمن کا ساتھ نہ دیں گے، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ نے خیبر اور اہل مکہ کے مشرکین کو جدا کر کے شکست دی۔

آپ ایک کمال سپہ سالار تھے۔ مدینہ شہر کے تینوں اطراف پہاڑ تھے اور واحد زمینی راستہ پر آپ نے خندق کھدوا کر مدینہ کو آنچ نہ آنے دی۔
آپ نے یہودیوں کے دس قبائل سے معاہدے کیے کہ وہ اپنے مختلف مذہب کے باوجود مسلمانوں کی جنگی مدد کریں گے اور جنگی اخراجات مل کر برداشت کریں گے۔

آپ ایک بہترین منتظم تھے، آپ نے اپنی بہترین نظامت سے ایک اسلامی ریاست کو بام عروج پر پہنچایا، آپ نے پولیس اور انصاف کا نظام متعارف کروایا۔ اور مجرم کو گردن سے پکڑنے کی ذمہ داری حضرت علی کے سپرد کی، آپ نے مختلف ریاستوں کے گورنر نامزد کیے اور ان سے خط و کتابت سے امور مملکت جانتے رہے۔

آپ ایک بہترین معلم تھے، آپ نے کچھ نہ ہونے کے باوجود صفہ کا قیام عمل میں لایا اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کا نظام واضع کیا۔ میں کیا، دنیا کا کوئی فلسفی، کوئی دانشور یا کوئی محقق دنیا کی عظیم ترین شخصیات کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے افضل پاتا ہے۔

لیکن ہم نے اپنے نبی کے مقام و مرتبہ کے ساتھ ناانصافی کی، ہم ساری زندگی چاند کو توڑنے اور واقعہ معراج جیسے معجزات بیان کرتے رہے، لیکن بطور بشر آپ کے کمالات کو کبھی بیان کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ بالکل ایسے جیسے امام حسین کے واقعہ کربلا کے علاوہ کسی کو امام کی ذات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، لیکن میں نے کوشش کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے مہینہ میں لوگوں کو بتاؤں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور نبی معجزات سے نہیں بلکہ بطور بشر تن تہنا، ایک ایسی ریاست کا قیام عمل میں لائے جسے دیکھ کر قیصر و کسری اور فارس کے محلات بھی انگشت بدنداں ہوگئے۔ پھر وہ وقت آن پہنچا، جب دنیا کے عظیم ترین انسان میدان عرفات میں لاکھوں کے جھرمٹ میں یہ اعلان کر رہے تھے۔
"الیوم اکملت لکم دینکم " (آج کے دن دین مکمل ہوگیا)۔ گویا وہ بشری معراج پر پہنچ چکے تھے اور اس کے بعد یہ سلسلہ قیامت تک کے لئے بند کردیا گیا۔

دنیا کے عظیم ترین لیڈر، عظیم ترین سیاست دان، عظیم ترین سفارتکار، عظیم ترین سپہ سالار اور عظیم ترین معلم ۔

لاکھوں سلام آپ پر صل علی محمد
دونوں جہاں کے تاجور صل علی محمد و علی آل محمد

ایک کائناتی اصول ہے کہ اگر کسی چیز کی حیثیت کا تعین کرنا ہے تو اس کے لئے اس کے سامنے ایک ریفرنس پوائنٹ رکھا جاتا ہے جسے ...
15/10/2023

ایک کائناتی اصول ہے کہ اگر کسی چیز کی حیثیت کا تعین کرنا ہے تو اس کے لئے اس کے سامنے ایک ریفرنس پوائنٹ رکھا جاتا ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے کسی شے کی اہمیت کو بہتر طریقے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اسی طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے ہم دو مختلف چیزوں کو آمنے سامنے رکھ کر انکی اہمیت و قدر کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

تو چلیں تھوڑی دیر کے لئے اپنی اب تک کی گزرنے والی کل زندگی کا ایک جائزہ لیجئے۔ یہی نہیں بلکہ کچھ دیر کے لئے زندگی کے ان مراحل کو بھی تصور کر لیجئے جن سے آپ آگے چل کر گزریں گے۔
آپ کی پیدائش جب اس دنیا سے آپکا پہلی بار تعارف ہوا، آپ کی آنکھیں اس دنیا میں پہلی بار کھلیں۔ آپ کا لڑکپن، پیٹ بھرنے کے لئے دودھ پر ہی اکتفا کرنا، گٹھنوں کے بل چلنے کی کوشش، لڑکھڑاتے ڈگمگاتے چلنا، کھانے کی شروعات، جسم اور صحت میں بڑھاوا، والدین سے محبت کرنا سیکھنا، بھائی بہنوں سے محبت، آپکی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز، سوچ اور ذہنیت میں ٹھہرائو، اسکول کی زندگی کی ابتداء، دن مہینے اور سالہا سال عبور کرتے ہوئے جوانی کی دہلیز میں قدم رکھنا، کالج اور پھر یونیورسٹی کے دور کا آغاز، کسی لڑکی سے محبت میں گرفتار ہونے کا مرحلہ، اس محبت کے نام جوانی کے چند سال، ایک دیوانی، جنونی اور منچلی زندگی جو کہ عموما ہر انسان کی اس طویل کہانی کا لازم جز بنتی ہے۔
پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہوش اور حواس میں ٹھہرائو آیا، عملی زندگی کی طرف ایک نیا سفر، ترجیحات آہستہ آہستہ بدلنا شروع ہوگئیں۔ رزق، مال اور پیسے کے تعاقب میں گزرتی زندگی، ازدواجی زندگی کا نیا سفر، زندگی میں شریک حیات کا ظہور، اولاد کی آمد، خاندان کی کفالت کے قصد میں تیزی سے گزرنے والے زندگی کے پے در پے سال بغیر کسی احساس کے کہ آپ زندگی کا کتنا حصہ روز مرہ کی دوڑ دھوپ میں کاٹ چکے ہیں۔
پھر بھی ایک بہتر سے بہتر مستقبل کی تلاش, پھر ایک مرحلہ وہ بھی آیا جب آپ کو تھکاوٹ محسوس ہونا شروع ہوئی، صحت اور عمر میں گراوٹ، چہرے پر جھریاں نمودار ہونے کا آغاز، بڑھاپے کی دہلیز میں رکھا گیا قدم، آپ کی ہڈیوں سے مضبوطی اور طاقت رفع ہونے لگی، بیماریاں بھی آہستہ آہستہ جسم پر حملہ آور ہونا شروع ہوگئیں۔
اور یوں ہی بڑھاپے اور بیماریوں سے لڑتے لڑتے زندگی کے لگ بھگ 70 یا 80 سال گزار کر آپ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
تو ایک عجیب و غریب، مختلف رنگوں اور مناظر سے بھری زندگی کی اس طویل ترین کہانی کی عمر تقریبا 80 سال رہی۔
اب آتے ہیں تصویر کے دوسرے پہلو کی طرف۔
رات کے آسمان پر ٹمٹمانے والا ایک ستارہ جسے 'بیتلجوس' 'Betelgeuse' ستارہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ستارہ ہماری زمین سے تقریبا 650 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ یعنی کہ اس ستارے کی جو روشنی اور چمک ہمیں رات کے آسمان پر نظر آتی ہے وہ روشنی آج سے 650 سال پہلے اس ستارے سے خارج ہوئی تھی اور اب ہم تک پہنچی ہے۔ ساڑھے چھ سو سال لمبا یہ عرصہ بے شک کوئی چھوٹا عرصہ نہیں۔ اس قدر طویل عرصے پہلے جب اس ستارے سے کوئی روشنی کی شعاع خارج ہوئی، اس وقت وہاں کے کیا حالات تھے اور اب جب وہ روشنی ہم تک پہنچی، اس دورانیے تک وہاں کیا کچھ بدل چکا ہوگا۔
سوچنے والی بات ہے کہ ایک انسان کی زندگی پیدائش سے لیکر اپنی موت تک اگر 80 سال طویل بھی رہی، تو یہ دورانیہ بھی 'بیتلجوس' ستارے سے لے کر زمین تک سفر کرنے والی روشنی کے اس ساڑھے چھ سو سالہ عرصے کے محض آٹھویں حصے کے برابر ہے۔ یعنی جتنے عرصے میں اس ستارے سے روشنی خارج ہوکر اس دنیا تک پہنچی، اس دورانیہ میں ایک انسان کی ساری زندگی اور اس کی اگلی سات نسلوں کی زندگیاں شروع ہوکر تمام ہوگئیں۔
ان کائناتی حقائق کے باوجود بھی ہم انسان سمجھتے ہیں کہ 'اس کائناتی پیرائے میں ہم بہت خاص ہیں'!
از تحریر: محمد حسیب

13/10/2023

ڈائلاسس(Dialysis) کے دوران جسم سے خون سرخ نالی سے باہر نکالا جاتا ہے ، پھر مشین سے اسے گزارنے کے بعد جسم میں دوبارہ نیلی نلی سے داخل کردیا جاتا ہے۔

ایک ڈائلاسیس کا process تقریباً چار گھنٹے چلتا ہے، اور یہ عمل مریض کو ہفتے میں دو سے تین مرتبہ دہرانا پڑتا۔

وہیں جن لوگوں کے گردے ، صحت مند ہیں ان کے جسم میں یہی عمل خود بخود دن میں 36 مرتبہ ہوتا ہے، بنا کسی تکلیف کے اور مکمل آرام کے ساتھ ۔

آپ نہیں جانتے کہ ہر دم ، ہر آن رب تعالیٰ کی کس قدر نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں۔ اس لئے ہمیشہ رب کا شکر ادا کرتے رہیں۔

۝ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ۝

✨Over 1400 years ago, when a child was born, the Prophet ‎ﷺ made it his Sunnah to take a small part of a date and place ...
10/10/2023

✨Over 1400 years ago, when a child was born, the Prophet ‎ﷺ made it his Sunnah to take a small part of a date and place it in his mouth. He would then chew it until it was soft and then rub it onto the palate of the new born baby. This is called Taḥnīk.

“ ‘A’isha told that boys used to be brought to Prophet Mohammed (pbuh), and he would invoke blessings on them and soften some dates and rub their palates with them.
[Saḥīḥ Muslim, page 165, Ḥadīth 101]

'✨Today', BBC News has reported that "experts" have said - "A dose of sugar given as a gel rubbed into the inside of the cheek is a cheap and effective way to protect premature babies against brain damage." (Source can be found in the comment section below)

This is why Muslims follow the Sunnah of the Messenger of Allāh ‎ﷺ without questioning it. Science is only now discovering a tradition that was introduced 1400 years ago because Islām was and still is the forefront of development.
Link to the article - http://www.bbc.co.uk/news/health-24224206
————————————-

07/10/2023

آسمان کیا ہے؟

کافی بار اس گروپ میں اس بات پر بحث ہوتی ہے کہ آسمان وجود رکھتا ہے یا نہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سائنس کے مطابق آسمان کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں۔

جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آسمان بلکل وجود رکھتا ہے لیکن وہ اتنا دور ہے کہ ابھی تک سائنس وہاں پر پہنچ نہیں پائی۔

اب اِن دونوں میں سے آخر درست کون ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اِس سوال کا تعلق سائنس سے ہے ہی نہیں بلکہ اس کا تعلق لسانیات (linguistics) سے ہے۔

آسمان کو سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں لفظ آسمان کا مطلب سمجھنا ہوگا، دراصل آسمان ایک لسانی اصطلاح ہے جو ہمارے اوپر کے تمام علاقے کے لیے استعمال ہوتی ہے جس میں فضاء (atmosphere) اور اس کے باہر کا سارا خلا (Space) شامل ہے۔ اس تمام اوپر کے علاقے کو عام زبان میں آسمان ہی کہا جاتا ہے۔

اور جو چیزیں بھی فضاء (atmosphere) اور خلا (Space) میں ہیں وہ تمام چیزیں آسمان کا ہی حصہ ہیں۔

مثال کے طور پر ہم کہتے ہیں کہ آسمان میں پرندے پرواز کر رہے ہیں یا آسمان میں ستارے چمک رہے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پرندے فضاء (atmosphere) میں جبکہ ستارے خلا (Space) میں ہوتے ہیں. لیکن پھر بھی ہم عام طور پر ان دونوں کے لئے آسمان کا لفظ استمعال کرتے ہیں. کیوں کہ فضاء (atmosphere) اور خلا (Space) سائنسی اصطلاحات ہیں جن کے لیے عام زبان میں آسمان کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے.

خلاصہ: فضاء (atmosphere) اوراس کے باہر خلا (Space) کا سارا علاقہ عام زبان میں آسمان ہی کہلاتا ہے-

سبحان یوشع
Painter Art

07/10/2023

قرآن اور سائنس کے دلچسپ حقائق

1= ہر چیز پانی سے بنی ہے:
مائکرواسکوپ کی ایجاد کے بعد آج سائنس یہ بات ثابت کرتی کہ ہر جاندار کے خلیے کا %90 حصہ پانی سے بنا ہے۔ لیکن قرآن نے یہ بات چودہ سو سال پہلے ہی کہہ دی تھی۔
ہم نے ہر جاندارکو پانی سے پیدا کیا پھر تم ایمان کیوں نہیں لاتے؟ (القرآن21: 30)

2= لوہا باہر سے لایا گیا:
لوہا اس زمین کی پیداوار نہیں ہے یہ باہر سے لایا گیا ہے۔ سائنس اس بات کو اب ثابت کر رہی ہے کہ ہزاروں سال پہلے خلا سے ایک meteorites زمیں پر مارا گیا جس سے زمیں پر لوہا پھیل گیا۔ اللہ نے قرآن میں یہ بات اس طرح بتائی ہے کہ:
ہم نے لوہا لوگوں کے فائدے کے لئے اتارا جس میں بڑا ہی زور ہے۔ (القرآن 57:25)

3=آسمان محفوظ چھت:
سائنس اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ آسمان ہمارے درجہ ء حرارت کو کنٹرول کرتا ہے۔ سورج کی ایسی شعائیں جو زمین کے لئے نقصان دہ ہیں ،آسمان پر موجود لیئرایسی نقصان دہ شعاوءں کو روک لیتی ہے۔ جبکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔
اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا۔مگر یہ اس کی نشانیوں کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ (القرآن 21:32)

4=پہاڑ زمین میں میخیں ہیں:
یہ پہاڑ زمین کو ایک جگہ جمائے ہوئے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوں تو زمین اِدھرُ ادھر ڈولنے لگے۔ اس کی جڑیں زمیں میں ہماری سوچ سے زیادہ گہری ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
کیا یہ واقعہ نہیں کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ (القرآن78:6-7)

5= کائنات بڑھ رہی ہے:
کائنات مستقل بڑھ رہی ہے یہ بات بیسویں صدی میں اسٹیفن ہاکنگ نامی سائنسدان نے کہی ہے اس سے پہلے دنیا اس بات کا تصور بھی نہیں رکھتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن میں چودہ سو سال پہلے ارشاد فرمایا۔
آسمان کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اور بے شک ہم اس میں وسعت دینے والے ہیں۔ (القرآن51:47)

6=سورج اپنے مدار میں حرکت کرتا ہے:
انیسویں صدی تک دنیا اس بات کو مانتی تھی کہ یہ سورج ایک جگہ رکا ہوا ہے جبکہ سیارے اور زمین اس کے گرد گردش کرتے ہیں۔ لیکن یہ تھیوری غلط ثابت ہوئی۔ اب سائنس کہتی ہے کہ سورج بھی اپنے مدار میں گردش کر رہا رہا ہے اور یہ بات قرآن نے پہلے ہی بتا دی۔
اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے۔سورج اور چاند کو پیدا کیا۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔ (القرآن21:33)

10/06/2023

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر کے متعلق دریافت کیا کرتے تھے جبکہ میں آپ سے شر کے متعلق ، اس اندیشے کے پیش نظر پوچھا کرتا تھا کہ وہ کہیں مجھے اپنی گرفت میں نہ لے لے ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم جاہلیت اور شر میں مبتلا تھے ، اللہ نے ہمیں اس خیر سے نواز دیا ، تو کیا اس خیر کے بعد کوئی شر بھی آئے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ میں نے عرض کیا اس شر کے بعد کوئی خیر بھی آئے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ! لیکن اس میں کمزوری ہو گی ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اس کی کمزوری کیا ہو گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کچھ لوگ میری سنت اور میرے طریق کے خلاف چلیں گے ، ان کی بعض باتوں کو تم اچھا سمجھو گے اور بعض کو برا ۔‘‘ میں نے عرض کیا : کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، ابواب جہنم پر دعوت دینے والے ہوں گے ، جس نے ان کی دعوت کو قبول کر لیا تو وہ اس کو اس میں پھینک دیں گے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان کا تعارف کرا دیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ ہمارے ہی قبیلے سے ہوں گے اور وہ ہماری زبان میں کلام کریں گے ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اگر اس (زمانے) نے مجھے پا لیا تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امیر کے ساتھ لگ جانا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اگر ان کی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا امام (تو پھر کیا کروں ؟) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان تمام فرقوں سے الگ ہو جانا خواہ تمہیں درخت کی جڑیں چبانی پڑیں حتیٰ کہ تمہیں اسی حالت میں موت آ جائے ۔‘‘اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ میرے بعد حکمران ہوں گے جو نہ تو میری ہدایت و طریق سے راہنمائی لیں گے اور نہ میری سنت کے مطابق عمل کریں گے اور ان میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے ، جن کے ڈھانچے انسانی اور دل شیطان ہوں گے ۔‘‘ حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اگر میں یہ صورت حال دیکھوں تو میں کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ، اگرچہ تجھے مارا جائے اور تمہارا مال لے لیا جائے ، تم سنو اور اطاعت کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔ (مشکوۃ : 5382)

02/06/2023

امریکہ کے ایک ہسپتال میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا

اور اس واقعے کے زیر اثر امریکن ڈاکٹر مسلمان ہو گیا۔

مذکورہ ہسپتال میں ایک روز ڈلیوری کے دو کیس ایک ساتھ آئے۔ ایک عورت سے لڑکا پیدا ہوا
اور دوسری سے لڑکی…

جس رات میں ان دونوں بچوں کی ولادت ہوئی اتفاق سے نگران ڈاکٹر موقع پر موجود نہیں تھا‘ دونوں بچوں کی کلائی میں وہ پٹی بھی نہیں باندھی ہوئی تھی جس پر بچے کی ماں کا نام درج ہوتا ہے

تو نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں بچے خلط ملط ہو گئے اور ڈاکٹروں کیلئے یہ شناخت کرنا مشکل ہو گیا کہ کس عورت کا کون سا بچہ ہے حالانکہ ان میں سے ایک لڑکی تھی اور دوسرا لڑکا…

ولادت کی نگرانی کرنیوالے ڈاکٹروں کی ٹیم میں ایک مسلمان مصری ڈاکٹر تھا جس کو اپنے فن میں بڑی مہارت حاصل تھی اور امریکن ڈاکٹروں سے اس کی بڑی اچھی شناسائی تھی اور اپنے سٹاف کے ایک امریکی ڈاکٹر سے گہری دوستی تھی۔

دونوں ڈاکٹرز سخت پریشان تھے کہ اس مشکل کا حل کیسے نکالا جائے؟???????

امریکی غیرمسلم ڈاکٹر نے مصری ڈاکٹر سے کہا کہ تم تو دعویٰ کرتے ہو کہ قرآن ہر چیز کی تبیین و تشریح کرتا ہے ا ور اس میں ہر طرح کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے تو اب تم ہی بتاؤ کہ ان میں سے کون سا بچہ کس عورت کا ہے؟??

مصری ڈاکٹر نے کہا کہ ہاں قرآن حکیم بے شک ہر معاملے میں نص ہے اور میں اسے آپ کو ثابت کر کے دکھاؤں گا۔ مگر مجھے ذرا موقع دیجئے کہ میں خود پہلے اس معاملے میں اطمینان حاصل کر لوں

چنانچہ مصری ڈاکٹر نے باقاعدہ اس مقصد کیلئے مصر کا سفر کیا اور جامع ازہر کے بعض شیوخ سے اس مسئلے میں استفسار کیا اور امریکن دوست ڈاکٹر کے ساتھ کی گئی بات چیت کی روداد بھی پیش کی۔ ازہری عالم نے جواب دیا کہ مجھے طبی معاملات و مسائل میں ادراک حاصل نہیں ہے۔

البتہ میں قرآن کی ایک آیت پڑھتا ہوں۔ آپ اس پر غورو فکر کریں۔

اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ کو اس مسئلے کا حل اس میں مل جائے گا چنانچہ اس عالم نے درج ذیل آیت پڑھ کر سنائی۔

’’ترجمہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔‘‘ (النساء 11)

مصری ڈاکٹر نے اس آیت میں غور و تدبر شروع کر دیا اور گہرائی میں جانے پر اسے اس مشکل کا حل بالآخر مل ہی گیا۔ چنانچہ وہ لوٹ کر امریکہ آیا اور اپنے دوست ڈاکٹر کو اعتماد بھرے لہجے میں بتایا کہ قرآن نے ثابت کردیا ہے کہ ان دونوں میں سے کون سا بچہ کس ماں کا ہے۔

امریکن ڈاکٹر نے بڑی حیرت سے پوچھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے؟

مصری ڈاکٹر نے کہا کہ ہمیں ان دونوں عورتوں کا دودھ ٹیسٹ کرنے کا موقع دیجئے تو اس معمے کا حل معلوم ہو جائے گا۔ چنانچہ تجزئیے و تحقیق کے نتیجے میں معلوم ہو گیا کہ کون سا بچہ کس عورت کا ہے اور مصری ڈاکٹر نے اپنے غیر مسلم دوست ڈاکٹر کو اس نتیجے سے پورے اعتماد کے ساتھ آگاہ کر دیا۔ ڈاکٹر حیران و ششدر تھا کہ آخر یہ کیسے معلوم ہو گیا؟

مصری ڈاکٹر نے بتایا کہ اس تحقیق و تجزئیے کے نتیجے میں جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ تھی کہ لڑکے کی ماں میں لڑکی کی ماں کے مقابلے میں دوگنا دودھ پایا گیا مزید برآں لڑکے کی ماں کے دودھ میں نمکیات اور وٹامنز (حیاتین) کی مقدار بھی لڑکی کی ماں کے مقابلے میں دوگنی تھیں۔

پھر مصری ڈاکٹر نے امریکن ڈاکٹر کے سامنے قرآن کریم کی وہ متعلقہ آیت تلاوت کی (مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے) جس کے ذریعے اس نے اس مشکل کا حل تلاش کیا اور جس عقدے کو حل کرنے میں دونوں ڈاکٹر نہایت پریشان تھے۔ چنانچہ وہ امریکی ڈاکٹر فوراً ایمان لے آیا. 🙏

02/06/2023

تابوت سکینہ۔ (Ark of the Covenant)
اس صندوق میں کیا ہے؟۔ یہ صندوق یہودیوں کے لئے زندگی موت کا مسلہ کیوں بنا ہوا ہے؟۔ یہودی اس صندوق کا کیا کرنا چاہتے ہیں؟۔
سب سے پہلے ہم قران پاک میں دیکھتے ہیں کہ اس صندوق کی کیا اہمیت تھی اور اس میں کیا تھا۔ہمارے لئے قران پاک سے بڑھ کر اور کوئی حوالہ نہیں۔
وَقَالَ لَهُمْ نِبِیُّهُمْ إِنَّ آیَةَ مُلْکِهِ أَن یَأْتِیَکُمُ التَّابُوتُ فِیهِ سَکِینَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَکَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلآئِکَةُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَةً لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ۔ سورہ بقرہ:248
اور ان سے ان کے پیغمبر نے کہا: اس کی بادشاہی کی علامت یہ ہے کہ وہ صندوق تمہارے پاس آئے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے سکون و اطمینان کا سامان ہے اور جس میں آل موسیٰ و ہارون کی چهوڑی ہوئی چیزیں ہیں جسے فرشتے اٹهائے ہوئے ہوں گے، اگر تم ایمان والے ہو تو یقینا اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے۔
تفاسیر کے مطابق یہ صندوق سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام پر جنت سے اتارا گیا تھا یہ " شمشاد" نامی لکڑی سے بنا ہوا تھا۔ اس مقدس و متبرک صندوق میں حضرت آدم علیہ السلام اپنا ضروری سامان رکھا کرتے تھے۔ یہ صندوق نسل در نسل چلتا ہوا حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام یہودا تھا جن کی نسل کو ھم یہودیوں کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ صندوق بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے پاس آ گیا۔ یہودیوں کے پہلے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے یہ صندوق ان کے زیراستعمال رہا۔ اس میں آپ علیہ السلام اپنا عصا مبارک اور آپ پر نازل ہونے والی تورات کی لوحیں رکھا کرتے تھے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے دنیا سے رخصت ہونے پر ان کے لباس عصا مبارک ، عمامہ مبارک اور آسمان سے اتارا جانے والا من و سلویٰ بھی اس صندوق میں محفوظ کر دیا گیا اور یہ صندوق قوم کے سرداروں کی تحویل میں چلا گیا۔ بنی اسرائیل کے لوگ اس صندوق کا بے حد احترام کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی اس صندوق کی برکت سے ان کو بہت زیادہ فوائد حاصل ہوتے تھے کبھی کوئی آسمانی آفت آتی تو یہ اس صندوق کے سامنے بیٹھ کر دعا کرتے تو وہ آفت حیرت انگیز پر فورا" ٹل جاتی۔کبھی زلزلہ ، سیلاب خوفناک آندھی و طوفان آتا تو یہ تابوت سکینہ کے وسیلے سے دعا کرکے اس سے نجات پا لیا کرتے۔ اسی طرح جنگ و جدل کے دوران بڑے سے بڑے لشکر کے ساتھ مقابلہ کرتے وقت صندوق فوج کے آگے لیکر چلتے جس کی برکت سے ان کے حوصلے بھی بلند ہوجاتے اور دشمن کی افواج پر کم سے کم جانی نقصان کے بدلے غالب آ جاتے۔ خاص موقعوں اور تہواروں پر یہ صندوق کو عزت و احترام سے کندھوں پر اٹھا کر جلوس نکالا کرتے۔اس کی حفاظت کے لئے فوج کا ایک خصوصی محافظ دستہ تعینات ہوتا تھا۔
یہ قوم بہت عجیب و غریب عادات کی مالک تھی ایک طرف تو صندوق اور اس میں موجود اشیا کا احترام اس قدر کہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا دوسری طرف اللہ کے احکامات سے مکمل روگردانی کرنا ان کا معمول بن چکا تھا۔ یہ نہایت ضدی اڑیل مغرور اور سرکش لوگ تھے۔ حد سے زیادہ لالچی مال دولت سے محبت کرنے والے اور ظالم تھے اپنے انبیا اور علما کی روک ٹوک پر ان کو خوفناک اذیتیں دیا کرتے تھے۔ جب ان کی سرکشی حد سے بڑھنے لگی تو اللہ نے ان کو عذاب دینے کے لئے ان پر قوم عمالقہ مقرر کر دی۔ اس قوم کے بادشاہ جالوت نے ان پر انتہائی زبردست حملہ کیا ، ان کی بستیاں اجاڑ دیں ، شہروں کو جلا کر راکھ کے ڈھیر بنا دیا ، بے شمار لوگوں کو قتل عام کرکے ہلاک کر دیا اور ان کا تابوت سکینہ چھین کر ساتھ لے گیا۔ مفسرین کے مطابق اس نے اس تابوت کو گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ تابوت کی اس بے حرمتی پر اللہ کی طرف سے قوم عمالقہ پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔جس شہر کے گندگی ڈھیر پر یہ صندوق پھینکا گیا تھا اس شہر میں ایک عجیب سی وبا پھوٹ پڑی جس کا کسی حکیم معالج کے پاس علاج نہیں تھا۔ لوگ بہت تیزی سے لقمہ ء اجل بننے لگے۔ لوگ پریشان ہوکر حاکم شہر کے پاس پہنچے اس نے کاہنوں کو جمع کیا اور ان سے اس عذاب کی وجہ معلوم کرنا چاہی۔ کاہنوں نے حساب لگا کر بتایا کہ اس عذاب کی وجہ تابوت سکینہ کی شدید بے حرمتی ہے۔ وہ لوگ اس صندوق کو بنی اسرائیل کو کسی صورت میں واپس نہیں کرنا چاہتے تھے چناچہ یہ صندوق ایک دوسرے شہر میں پہنچا دیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر صندوق پہنچانے کے بعداس شہر میں بھی وہی خوفناک مرض پھوٹ پڑا اور ہزاروں کی تعداد میں روزانہ انسان مرنے لگے۔ کہا جاتا ہے اس صندوق کی وجہ اس قوم کے پانچ شہر مکمل طور پر تباہ ھوگئے مختلف آفات امراض نے اس قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس پر فیصلہ کیا گیا کہ یہ تابوت واپس بنی اسرائیل کو دے دیا جائے۔ صندوق کو ایک بیل گاڑی پر رکھا گیا اور اسے شہر سے نکال دیا گیا۔ خدا کی قدرت سے بیل اس صندوق کو لیکر بنی اسرائیل کے ملک کی طرف روانہ ھوگئے۔ دوسری جانب اس زمانے میں بنی اسرائیل میں حضرت شموئیل علیہ السلام معبوث کئیے گئے تھے ۔ حضرت شموئیل علیہ السلام طالوت کو جو کہ ایک نیک انسان تھے بنی اسرائیل کا بادشاہ بنانا چاھتے تھے جبکہ بنی اسرائیل حسب معمول سرکشی اختیار کئیے ہوئے تھے۔اپنے نبی کی کسی بات پر عمل کرنے کو تیار نہیں تھے۔ آخرکار قوم کے سرداروں نے جان چھڑانے کی خاطر حضرت شموئیل علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اللہ کے سچے نبی ہیں اور چاھتے ھیں کہ ان کا حکم مانا جائے تو وہ دعا کریں کہ ان کا قیمتی اور مقدس تابوت سکینہ ان کو واپس مل جائے اگر ان کی دعا قبول ھوگئی تو وہ ان کی ہر بات تسلیم کر لیں گے۔ اس پر حضرت شموئیل علیہ السلام نے حکم ربی سے ان کے ساتھ وعدہ کر لیا کہ تابوت سکینہ اگلے روز صبح تک خودبخود ان کے پاس پہنچ جائے گا۔ اس پر سردار ان کا مذاق اڑانے لگے کیونکہ وہ قوم عمالقہ کی غضبناکی سے اچھی طرح واقف تھے اور جانتے تھے کہ ان کے قبضے سے اس تابوت کا واپس ملنا ناممکن تھا۔ اگلے روز بیل گاڑی پر لدا ہوا تابوت سکینہ ان تک پہنچ گیا جس پر حسب وعدہ انہوں نے اپنے نبی کا حکم مان کر طالوت کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا۔ اوپر والی قران پاک کی آیت میں اسی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ تابوت سکینہ دوبارہ حاصل ہونے پر اس قوم کے حالات میں ایک بار پھر بہتری آنے لگی لیکن ان کے اعمال وہی رھے۔
پھر حضرت داؤد علیہ السلام کا دور آیا، آس وقت تک یہ قوم خانہ بدوشوں کی سی زندگی گذارتی تھی اور تابوت سکینہ بھی ایک خیمہ میں ہی رکھا جاتا تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے ان کے لئے ایک عبادت گاہ تعمیر کرنے کا ارادہ کیا جسے ان کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس کے مقام پر عظیم الشان عبادتگاہ کی شکل میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ تابوت سکینہ کو خیمے سے نکال کر اس عبادتگاہ میں رکھ دیا گیا۔ حضرت سلیمان کی وفات کے بعد آپ کی انگوٹھی مبارک بھی اسی تابوت میں محفوظ کر دی گئی۔ جب حضرت زکریا علیہ السلام کا زمانہ آیا تو اس وقت تک یہ قوم اس قدر گمراہی میں ڈوب چکی تھی کہ اللہ کے پیغمبروں کی تذلیل و تحقیر ان کا معمول بن چکی تھی ان پہ ظلم و تشدد ان کے لئے عام سی بات تھی۔ جب حضرت زکریا علیہ السلا م کوزندہ آرے سے چیرا گیا ، اور بعد میں ان کے بیٹے حضرت یحیٰ علیہ السلام کو انتہائی بے رحمی سے قتل کیا گیا تو اللہ تعالی ان سے سخت ناراض ہوگیا۔ یہ حضرت مُحَمَّد ﷺ کی پیدائش مبارک سے 586 سال پہلے کی بات ہے کہ حضرت یحیٰ کے قتل کے تھوڑے ہی عرصہ بعد عراق کے بادشاہ بخت نصر نے اسرائیل پر بہت بڑا حملہ کیا ، اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، لاکھوں یہودی قتل کئیے اور لاکھوں کو غلام بنا لیا۔ بیت المقدس کو مکمل تباہ کر دیا اور اس میں رکھے تابوت سکینہ کو قبضے میں لے کر اپنے ساتھ لے گیا۔ یہ وقت بنی اسرائیل پر تاریخ میں سب سے کڑا تھا۔ بخت نصر نے تابوت سکینہ کا کیا کیا، یہ آج تک کسی کو معلوم نہیں ہوسکا۔
تابوت سکینہ ہمیشہ کے لئے یہودیوں سے چھن گیا۔ساتھ ہی یہودی قوم۔۔۔۔ وہ قوم جو تاریخ کی سب سے بہترین قوم تھی۔ جسے اللہ کی لاڈلی قوم ہونے کا فخر حاصل تھا اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے اللہ کی بارگاہ میں ملعون ہوگئی۔ دنیا میں رسوا ہوکر رہ گئی۔
آج یہودیوں کو دو ہزار سال بعد دوبارہ اسرائیل کی سرزمین پر قدم جمانے کا موقع ملا ہے تو بھی اس قوم کی وہی عادات و اطوار ہیں۔ وہی ظلم و جبر، دھونس دھاندلی، تکبر،خود کو ساری دنیا سے اعلیٰ و ارفع سمجھنے کا خناس، اللہ کی طرف سے لعنت زدہ ہوجانے کے باوجود بھی ابھی تک اللہ کی لاڈلی قوم ہونے کی خوش فہمی موجود ہے۔ وہی مال و دولت کا لالچ اور مال جمع کرنے کے وہی صدیوں پرانے شیطانی طریقے، ان کا کچھ بھی نہیں بدلا۔آج بھی اسی جگہ حضرت سلیمان علیہ السلام والی عبادت گاہ تعمیر کرنے کا جنون اور اسی طرح تابوت سکینہ کو دوبارہ حاصل کرکے ھیکل سلیمانی میں رکھنے کا بخارہے۔ یہ آج بھی مسجد اقصیٰ کی مغربی دیوار جو ٹائٹس کے حملے میں بچ گئی تھی ھیکل سلیمانی کی آخری نشانی سمجھ کر اس سے لپٹ لپٹ کر دھاڑیں مار کر روتے ہیں۔ اپنی عظمت کے دنوں یاد کرکے رونا ان کی عبادت بن چکی ہے۔ ان کو اپنے مسایا (آخری مسیحا) کا بے صبری سے انتظار ہے جس کے جھنڈے تلے ایک بار پھر ان کو پوری دنیا پر غلبہ حاصل ہوجائے گا۔ اس ایک آنکھ والے مسایا (دجال اکبر) سے ان کو اس قدر محبت ہے کہ پوری دنیا میں اس کی ایک آنکھ کی نشانی کا پرچار کرتے پھر رھے ھیں۔اس کی آمد پر متحد ھونے کے لئے کئی خفیہ تنظیمیں بنا رکھی ہیں جو اسے خوش آمدید کہہ کر اسے خدا مان لیں گی۔
تابوت سکینہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں بہرحال کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال انہیں ناکامی کا سامنا ہے۔ اور حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ تابوت کہاں ہے۔
Copied

Address

Karachi
YOU

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Research Is On posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share