Neurologist Dr. Muhammad Owais Hashmat, Karachi

Call Directions Website Contact the practice

Neurologist Dr. Muhammad Owais Hashmat, Karachi Consultant Neurologist, Aga Khan University Hospital, Karachi
(Online Consultation available)
(11)

Dr Muhammad Owais Hashmat is Consultant Neurologist at Aga Khan Hospital for Women and Children, Garden East and other prominent hospitals.

11/10/2026
جب بچے کے لیے EEG ٹیسٹ تجویز کیا جاتا ہے تو اکثر والدین پریشان ہو جاتے ہیں کہ یہ ٹیسٹ کیسا ہوگا، درد تو نہیں ہوگا، اور ہ...
07/10/2026

جب بچے کے لیے EEG ٹیسٹ تجویز کیا جاتا ہے تو اکثر والدین پریشان ہو جاتے ہیں کہ یہ ٹیسٹ کیسا ہوگا، درد تو نہیں ہوگا، اور ہمیں گھر سے کیا تیاری کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ EEG ایک محفوظ، بغیر درد کا ٹیسٹ ہے، جس میں نہ کوئی سوئی لگتی ہے اور نہ ہی بجلی کا جھٹکا دیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں صرف بچے کے دماغ کی قدرتی برقی سرگرمی کو ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

ٹیسٹ سے پہلے سب سے اہم تیاری بچے کے سر کے بالوں سے متعلق ہوتی ہے۔ بچے کا سر منڈوانے یا بال کٹوانے کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔ البتہ ٹیسٹ سے ایک رات پہلے یا اسی دن بچے کے بال عام شیمپو سے اچھی طرح دھلوا دینا بہت ضروری ہے۔ صاف بال دماغ کی برقی سرگرمی کو بہتر طریقے سے ریکارڈ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ بالوں میں تیل، کریم، جیل یا کوئی اور چیز لگانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے ریکارڈنگ متاثر ہو سکتی ہے۔

اکثر بچوں میں EEG ٹیسٹ جاگتے ہوئے اور سوتے ہوئے دونوں حالتوں میں کیا جاتا ہے، کیونکہ نیند کے دوران دماغ کی کچھ ایسی برقی تبدیلیاں سامنے آتی ہیں جو جاگتے ہوئے نظر نہیں آتیں۔ اسی لیے والدین کو اکثر یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ بچے کو ٹیسٹ والے دن جلدی جگایا جائے یا رات کو دیر سے سلایا جائے تاکہ وہ ٹیسٹ کے دوران آسانی سے سو سکے۔ نیند کی کمی سے EEG کی افادیت بڑھ جاتی ہے اور رپورٹ میں ابنارمل علامات آسانی سے نظر آجاتی ہیں۔

ٹیسٹ سے پہلے والدین کا بچے کو ذہنی طور پر تیار کرنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ بچے کو آسان الفاظ میں سمجھائیں کہ یہ ایک سادہ ٹیسٹ ہے، اس میں درد نہیں ہوگا، اور ڈاکٹر صرف سر پر کچھ تاریں لگائیں گے۔ بچے کو ڈرانے یا بار بار یہ کہنے سے کہ “حرکت نہیں کرنا” گھبراہٹ بڑھ سکتی ہے، اس لیے بچے کو پُرسکون رکھنا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ والدین میں سے کسی ایک کا بچے کے ساتھ رہنا بھی بچے کو اعتماد دیتا ہے۔

عام طور پر EEG ٹیسٹ کے لیے بچے کو بھوکا رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بچہ معمول کے مطابق کھا پی سکتا ہے، خاص طور پر چھوٹے بچوں کو خالی پیٹ لانے سے وہ چڑچڑا ہو سکتے ہیں اور ٹیسٹ مشکل ہو جاتا ہے۔ البتہ چاکلیٹ، کیفین والے مشروبات یا بہت زیادہ میٹھی چیزوں سے پرہیز بہتر ہوتا ہے کیونکہ یہ دماغ کی برقی سرگرمی کو عارضی طور پر متاثر کر سکتی ہیں۔

اگر بچہ پہلے سے کسی دوا پر ہے، خاص طور پر مرگی کی دوا، تو عام طور پر وہ دوا بند نہیں کی جاتی جب تک ڈاکٹر خاص طور پر ایسا کہنے نہ۔ والدین کو چاہیے کہ بچے کی تمام پچھلی رپورٹس، نسخے اور اگر ممکن ہو تو دورے کی ویڈیو اپنے ساتھ لے آئیں، کیونکہ یہ معلومات EEG کے نتائج کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

یہ بات بھی والدین کو معلوم ہونی چاہیے کہ EEG کے دوران بچے کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ سر پر لگائے گئے الیکٹروڈز صرف ریکارڈنگ کے لیے ہوتے ہیں، ان کے ذریعے کوئی کرنٹ نہیں دیا جاتا۔ پورا ٹیسٹ عموماً بیس سے تیس منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، اور ٹیسٹ کے فوراً بعد بچہ اپنی معمول کی سرگرمیاں کر سکتا ہے۔

آخر میں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ EEG ٹیسٹ کی اچھی تیاری سے رپورٹ کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔ صاف بال، مناسب نیند یا نیند کی کمی، بچے کا پُرسکون ہونا، اور والدین کا تعاون — یہ سب مل کر ٹیسٹ کو آسان اور زیادہ مؤثر بناتے ہیں۔ والدین جتنا پُرسکون ہوں گے، بچہ بھی اتنا ہی مطمئن رہے گا اور ٹیسٹ بہتر انداز میں مکمل ہو سکے گا۔

Address

C-47 Mamji Hospital, Water Pump Chowrangi, FB Area
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Neurologist Dr. Muhammad Owais Hashmat, Karachi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Neurologist Dr. Muhammad Owais Hashmat, Karachi:

Shortcuts

Share

Category