28/05/2026
عید کا چاند نظر آیا ہے،
گھر کی دیواروں پر، بام و در پر
ایک رنگِ طرب تو بکھرا ہے،
مگر اس دل کے اجڑے گوشے میں
روایت کی وہ رونق نہیں آئی۔
ہر طرف قربانی کی تیاریاں ہیں،
کہیں تکبیروں کی گونج ہے، کہیں رونقیں ہیں،
نئے ملبوس کی خوشبو سے ہوا مہکی ہے،
پر میری آنکھوں میں،
میرے چہرے کی ان اداس لکیروں میں،
ایک خلا سا ٹہلتا ہے۔
ابو جان!
آج عیدِ قرباں کا دن آپ کے بغیر،
عید تو ہے، پر عید جیسا نہیں۔
آپ اس دنیا کے ہنگاموں سے دور جا چکے ہیں،
مٹی کی چادر تانے کہیں سوئے ہیں،
لیکن اس دل کی دھڑکن میں،
میری سوچ کے ہر اک زاویے میں،
آپ کی موجودگی اب بھی سانس لیتی ہے۔
آپ تو میرے وجود کا حصہ ہیں،
آپ مر کر بھی کب مرے ہیں؟
آپ تو میرے دِل میں رہتے ہیں۔
میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں،
اور شاید اسی محبت کا یہ قرض ہے،
کہ آج جب سب سنتِ ابراہیمی کا جشن منا رہے ہیں،
تو میری پلکوں پر آپ کی یادوں کے ستارے ٹوٹ رہے ہیں۔
آج آپ کی کمی بہت شدت سے پکارتی ہے،
آج قربانی کے اس دن آپ کا وہ بڑھ کر ہاتھ بٹانا،
سب کو دیکھ کر مسکرانا، اور گلے سے لگانا،
بہت یاد آتا ہے۔
یہ چہرے کی اداسی کوئی شکوہ نہیں،
بس آپ کے پیار کی ایک گواہی ہے،
کہ عیدِ قرباں کا دن بھی
آپ کی یاد کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
عید الاضحیٰ مبارک 😇