04/10/2026
سید سلطان نبی شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ
ایک درویشانہ زندگی، ایک باوقار کردار اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشن داستان
بعض انسان دنیا میں آتے ہیں، زندگی گزارتے ہیں اور پھر وقت کے دھارے میں کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں؛ مگر کچھ نفوس ایسے ہوتے ہیں جن کی زندگی خود ایک خاموش کتاب بن جاتی ہے۔ ان کے الفاظ کم ہوتے ہیں مگر کردار بولتا ہے، ان کی محفل مختصر ہوتی ہے مگر صحبت دیر تک اثر چھوڑتی ہے، اور ان کی زندگی کا اصل تعارف ان کے دعووں سے نہیں بلکہ ان کے سجدوں، ان کے اخلاق، ان کی خاموشیوں اور ان کے آنسوؤں سے ہوتا ہے۔ سید سلطان نبی شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی ایسی ہی باوقار، خاموش اور محبت میں ڈوبی ہوئی شخصیت تھے۔
آپ 1948ء میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جس کی فضا ہی علم، دین، ذکر اور روحانی نسبت سے معمور تھی۔ آپ کے والدِ محترم سید سیدن شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ تھے اور آپ کے جدِ امجد سید معظم شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ، جبکہ ان سے اوپر سید امیر شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ جیسے بزرگوں کی نسبت آپ کے خانوادے کی روحانی تاریخ کا حصہ تھی۔ یہ وہ گھر تھا جہاں دین صرف پڑھایا نہیں جاتا تھا بلکہ جیا جاتا تھا، جہاں بزرگوں کی خدمت سعادت سمجھی جاتی تھی اور جہاں نسبت صرف نام کے ساتھ نہیں بلکہ کردار کے ساتھ چلتی تھی۔
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی۔ بعد ازاں علم کی پیاس نے آپ کو دارہ سیداں تک پہنچایا، جہاں آپ نے اعلیٰ تعلیم کے مراحل طے کیے اور میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی ہی سے آپ کی ذہانت، عمدہ تحریر اور خوش خطی نمایاں تھی۔ کلاس میں نمایاں کارکردگی اور خوب صورت لکھائی کے باعث اساتذہ کی نگاہِ التفات میں رہتے، مگر ذہانت کے ساتھ ادب کا ایسا حسین امتزاج تھا کہ علم نے آپ کے اندر غرور پیدا نہیں کیا بلکہ عاجزی کو اور بڑھا دیا۔
آپ کے والدِ محترم بیان فرمایا کرتے تھے کہ سلطان نبی شاہ ہمیشہ ان کے قدموں میں بیٹھتے تھے، برابر میں بیٹھنے کو بھی پسند نہ کرتے تھے۔ یہ ایک معمولی سا واقعہ نہیں؛ یہ اس تربیت کی جھلک ہے جس میں علم سے پہلے ادب، مقام سے پہلے خدمت اور محبت سے پہلے اطاعت سیکھی جاتی ہے۔
تعلیم کے بعد آپ نے پاکستان نیوی میں خدمات انجام دیں۔ ابتدا ہی سے آپ کی کارکردگی نمایاں رہی اور اپنی محنت، دیانت اور صلاحیت کے باعث مختلف ذمہ داریوں میں ممتاز رہے۔ بحری جہازوں پر فرائض انجام دیتے ہوئے آپ نے دنیا کے متعدد ممالک کا سفر کیا۔ سمندروں کے ان طویل سفروں نے آپ کو دنیا دیکھنے کا موقع دیا، مگر دنیا کی وسعت آپ کے دل کی وسعت کا سبب بنی، دل کا مرکز نہ بن سکی۔
سفر سے واپس آتے تو اپنے اہلِ خانہ کے لیے تحائف لاتے اور اپنی خوشی دوسروں کی خوشی میں محسوس کرتے۔ جو کچھ کماتے، اسے صرف اپنے لیے جمع کرکے رکھنے کے بجائے گھر والوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرنے میں عار محسوس نہ کرتے۔ دنیا دیکھی، مگر دنیا کو دل میں جگہ نہ دی۔
بالآخر 1998ء میں Honorary Sub-Lieutenant کے منصب سے پاکستان نیوی سے ریٹائر ہوئے۔ ملازمت ختم ہوئی، مگر ذمہ داریوں کا سفر ختم نہ ہوا۔
آپ نے پوری زندگی رزقِ حلال کو اپنا شعار بنایا۔ اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت میں دین کو بنیادی حیثیت دی۔ نماز، روزہ، تہجد، وظائف اور اذکار آپ کی زندگی کے معمولات میں شامل رہے۔ طبیعت میں کم گوئی ایسی تھی کہ اگر کوئی ضروری بات کرتا تو پوری توجہ سے جواب دیتے، ورنہ اکثر اوقات خاموش بیٹھے ذکر و اذکار میں مشغول رہتے۔ آپ کی زبان پر کثرت سے درودِ پاک جاری رہتا اور آنکھیں اکثر نم رہتیں۔
یہ آنسو کسی دنیاوی محرومی کے نہ تھے؛ ان آنکھوں کو مدینے کی یاد نے نم کر رکھا تھا۔
حج کی سعادت حاصل ہوئی، متعدد مرتبہ عمرے کی حاضری نصیب ہوئی اور بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو کر گریہ و زاری آپ کے لیے محض ایک سفر کی یاد نہ تھی، بلکہ دل کی وہ کیفیت تھی جسے آپ عمر بھر اپنے ساتھ لیے پھرتے رہے۔ مدینۂ منورہ کی یاد آتی تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے، کبھی گریہ ہچکیوں میں بدل جاتا، اور ایسا محسوس ہوتا جیسے دل ابھی تک انہی گلیوں میں چھوڑ آئے ہیں جہاں محبوبِ خدا، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس کی خوشبو دلوں کو زندگی عطا کرتی ہے۔
آپ کے ساتھ رہنے والوں کی گواہی ہے کہ انہوں نے آپ کو کبھی کسی سے لڑتے جھگڑتے، کسی کی برائی کرتے یا فضول گفتگو میں مبتلا نہیں دیکھا۔ کم گوئی آپ کا مزاج تھی، تہجد آپ کی خلوت تھی، ذکر آپ کی رفاقت تھی اور درودِ پاک آپ کے دل کی دھڑکن۔
والدین کی خدمت — زندگی کا ایک روشن باب
ان کی زندگی کا ایک نہایت روشن اور قابلِ ذکر باب اپنے والدین کی خدمت تھا۔ خصوصاً اپنے والدِ محترم سید سیدن شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت کا انہیں ایسا موقع ملا جسے انہوں نے اپنی زندگی کی بڑی سعادت سمجھا۔
والد کی ضروریات کا خیال رکھنا، انہیں سہارا دینا، ضرورت کے وقت ہسپتال لے جانا اور ان کی خدمت کے لیے ہر وقت حاضر رہنا ان کے معمولات میں شامل تھا۔ انہوں نے والد کی خدمت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ ان کے نزدیک والد کی خدمت صرف ایک خاندانی ذمہ داری نہیں بلکہ ایسی سعادت تھی جس کے ذریعے وہ دعاؤں کا ذخیرہ جمع کر رہے تھے۔
وہ جانتے تھے کہ والد کی خدمت کے دن دوبارہ نہیں آتے؛ چنانچہ جب یہ موقع ملا تو انہوں نے اسے پوری محبت اور ذمہ داری کے ساتھ نبھایا۔
ان کی والدہ کا وصال ان کے آبائی گاؤں کڑکا سیداں، مانسہرہ میں ہوا۔ اس وقت سید سلطان نبی شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کراچی میں پاکستان نیوی کی ڈیوٹی پر تھے۔ فوجی ذمہ داری اور ڈیوٹی کی مجبوری کے باعث وہ والدہ کے جنازے میں بروقت شریک نہ ہوسکے۔ ایک بیٹے کے لیے اس سے بڑھ کر دل کو چھو لینے والی محرومی کیا ہوگی کہ ماں رخصت ہو اور بیٹا اپنی ڈیوٹی کی پابندیوں کے باعث آخری دیدار اور جنازے میں حاضر نہ ہوسکے۔
اہلِ خانہ کی آزمائشیں اور خدمت
گھر والوں کے لیے ان کی محبت صرف الفاظ تک محدود نہ تھی بلکہ آزمائش کے وقت ان کا کردار سامنے آتا تھا۔
ان کی اہلیہ تقریباً سات سال تک برین ٹیومر کے مرض میں مبتلا رہیں۔ بیماری کے ان طویل اور مشکل برسوں میں انہوں نے ان کی دیکھ بھال، تیمارداری اور خدمت میں کوئی کمی نہ کی۔ اپنی زندگی کی مصروفیات کے باوجود ان کی بیماری کے دوران ان کے ساتھ کھڑے رہے۔
سات برس کی یہ خدمت محض ازدواجی ذمہ داری نہیں تھی؛ یہ صبر، وفا، محبت اور ایثار کا ایک طویل امتحان تھا جسے انہوں نے خاموشی سے نبھایا۔
اسی طرح ان کے بڑے صاحبزادے سید اقبال شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ صرف نو برس کی عمر میں جسمانی معذوری کا شکار ہوگئے۔ اس کے بعد تقریباً ستائیس برس تک وہ اپنے صاحبزادے کی دیکھ بھال کرتے رہے، یہاں تک کہ سید اقبال شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ تقریباً چھتیس برس کی عمر میں وصال کرگئے۔ یہ طویل عرصہ ایک باپ کے صبر، حوصلے اور شفقت کا ایسا باب ہے جسے چند سطروں میں سمیٹنا آسان نہیں۔
ان کے ایک اور صاحبزادے سید ذیشان شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی چند ماہ کی عمر ہی میں وصال فرما گئے۔
اپنی بہنوں اور بہن بھائیوں سے بھی ان کا تعلق محبت اور ذمہ داری پر قائم تھا۔ ایک نیک اور صاحبِ نسبت بہن کی خدمت کرتے، ان کی دعائیں لیتے اور ان کے ساتھ رہتے اور شادی بیاہ جیسے مواقع پر اپنی استطاعت کے مطابق بھرپور ساتھ دیتے۔ خاندان کے بڑوں کی دعائیں لینا اور چھوٹوں کے لیے سہارا بننا ان کی طبیعت کا حصہ تھا۔
خدمتِ خلق اور بے نیازی
وہ ضرورت مند انسان کی ضرورت کو محسوس کرنے والے شخص تھے۔ اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کے کام آتے اور کسی کی حاجت سامنے آتی تو اپنی حیثیت کے مطابق مدد کرنے کی کوشش کرتے۔
اپنی کمائی اور جمع پونجی کو صرف اپنے آرام کے لیے محفوظ رکھنے کے بجائے اہلِ خانہ اور ضرورت مندوں پر خرچ کرنا ان کی عادت تھی۔ روحانی نسبت رکھنے کے باوجود انہوں نے اسے کبھی دنیاوی منفعت کا ذریعہ نہیں بنایا اور مریدین سے نذرانہ لینے کا مزاج نہیں رکھا۔
ان کے لیے عزتِ نفس، خودداری اور باوقار زندگی بہت اہم تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی اولاد بھی محنت، دین داری اور وقار کے ساتھ زندگی گزارے۔
عبادت اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مگر سلطان نبی شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا سب سے حسین باب شاید ان کی خاموش عبادت اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھا۔
وہ درود پڑھتے تھے اور آنکھیں بھیگ جاتی تھیں۔ مدینہ یاد آتا تھا تو دل بھر آتا تھا۔ بیماری آتی تھی تو جسم کمزور ہوتا تھا، مگر نماز مضبوط رہتی تھی۔ عمر ڈھلتی گئی، مگر ذکر کی لذت کم نہ ہوئی۔ دنیا سے تعلق نبھایا، مگر دل دنیا میں نہ چھوڑا۔
ان کے لیے درودِ پاک صرف زبان کا ورد نہ تھا؛ یہ دل کی ایک ایسی کیفیت تھی جس میں زبان ذکر کرتی اور آنکھیں گواہی دیتیں۔ مدینۂ منورہ کا نام آتا تو چہرے پر ایک خاص کیفیت اترتی اور آنکھیں نم ہوجاتیں۔ کبھی آنسو خاموشی سے بہتے اور کبھی گریہ و زاری کی کیفیت ہچکیوں تک پہنچ جاتی۔
آخری ایام
بیماری بھی آپ کی عبادت کے راستے کی دیوار نہ بن سکی۔ آخری عمر میں بھی نماز کی پابندی ایسی تھی کہ بیماری کی شدت میں بھی نماز قضا نہ ہونے دی۔ جسم کمزور ہوتا گیا، مگر تعلقِ الٰہی اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرارت کم نہ ہوئی۔
اور پھر وہ ساعت بھی آگئی جب اس عاشقِ درود کو اپنے رب کی طرف لوٹنا تھا۔
24 اگست 2021ء کو تقریباً 72 برس کی عمر میں سید سلطان نبی شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
جب انہیں قبر میں اتارا جا رہا تھا تو حاضرین نے ان کے چہرۂ انور پر تبسم کی کیفیت دیکھی۔ زندگی بھر جس چہرے نے خاموشی میں ذکر کیا، جس آنکھ نے مدینے کی یاد میں آنسو بہائے، جس دل نے درود کو اپنا رفیق بنایا، رخصت ہوتے وقت بھی اسی چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ تھی جس نے اہلِ محبت کے دلوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ شاید یہ مسکراہٹ اس مسافر کی ہے جسے اپنے محبوب کی طرف جانے کی امید مل گئی ہو۔
ایک نسبت جو آج بھی زندہ ہے
ان کے وصال کے بعد بھی ان کی محبت اور نسبت نے ان کے گھر کو چھوڑا نہیں۔ راقم الحروف سید بابر شاہ گیلانی روزانہ اپنے والدِ محترم کے مزارِ انوار پر حاضری دیتے ہیں۔
اس حاضری کے بارے میں ایک اللہ والے سے یہ بات سننے کو ملی کہ:
"تمہارا ان کے مزار پر روزانہ حاضر ہونا اللہ کی طرف سے تمہاری ڈیوٹی ہے۔ وہ دنیا میں میرے ذکر میں رہتے تھے، میرے محبوب پر درود پڑھتے تھے اور محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وفا کرکے گئے؛ اب تمہاری ذمہ داری ہے کہ ان کے مزار پر حاضری کا یہ سلسلہ تا دمِ حیات قائم رکھو۔"
یہ جملہ محض ایک نصیحت نہیں، ایک نسبت کی ذمہ داری کا احساس ہے۔
شاید یہی گلستانِ گیلانی کی اصل روح بھی ہے۔
ایک نسل نے نسبت کو محبت سے سینچا، دوسری نے اسے ادب سے سنبھالا، اور اب آنے والی نسلوں کے ذمے ہے کہ وہ اس امانت کو تحقیق، دیانت اور عقیدت کے ساتھ آگے پہنچائیں۔
ایک خاموش میراث
سید سلطان نبی شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کسی شور انگیز دعوے کی زندگی نہ تھی۔ وہ خاموشی کی زندگی تھی؛ مگر ایسی خاموشی جس میں ذکر تھا، ایسی تنہائی جس میں درود تھا، ایسی عاجزی جس میں بڑوں کا ادب تھا، ایسی تربیت جس میں اولاد کے لیے دین تھا، اور ایسے آنسو تھے جن کے پیچھے مدینے کی محبت تھی۔
وہ دنیا سے گئے تو اپنے پیچھے دولت کے انبار نہیں، ایک کردار، ایک تربیت، ایک نسبت اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھیگا ہوا ایک گھرانہ چھوڑ گئے۔
ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کی اصل دولت اس کے ہاتھ میں موجود مال نہیں، بلکہ وہ دعائیں ہیں جو اسے والدین کی خدمت سے ملتی ہیں، وہ محبت ہے جو اس کے کردار سے دوسروں کے دل میں پیدا ہوتی ہے، وہ عبادت ہے جو اسے اپنے رب سے جوڑتی ہے اور وہ نسبت ہے جو اس کے بعد بھی اس کے گھرانے کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔
اور شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے یہ شعر کہا جا سکتا ہے:
میں چلا ہوں نبی ﷺ سے ملاقات کو
جس کی تھی آرزو، وہ گھڑی آگئی ہے۔