Dr Fawad Farooq

Call Directions Website Contact the practice

Dr Fawad Farooq Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Fawad Farooq, Doctor, H. no B-234 Block 18 Gulshan-e-Iqbal Karachi, Karachi.

16/09/2026

❤️ ہارٹ اٹیک کے بعد مریض ڈاکٹر سے صرف اپنی رپورٹس نہیں پوچھتا… وہ اپنی زندگی کے بارے میں پوچھتا ہے۔

ہارٹ اٹیک کے بعد جب مریض فالو اَپ کے لیے ہمارے پاس آتا ہے تو یقیناً ہم اس کی علامات، بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول، ECG، رپورٹس اور ادویات کے بارے میں مکمل ہسٹری لیتے ہیں۔

لیکن اکثر مریض کے ذہن میں کچھ اور سوالات بھی ہوتے ہیں…
اور شاید یہی سوالات اس کے لیے سب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب، اب میں کیا کر سکتا ہوں اور کیا نہیں؟
کیا میں پہلے کی طرح چل پھر سکتا ہوں؟
کیا ورزش کر سکتا ہوں؟
کیا کام پر واپس جا سکتا ہوں؟
کیا میں سفر کر سکتا ہوں؟
کیا ازدواجی زندگی معمول کے مطابق جاری رکھ سکتا ہوں؟

پھر ایک اور بہت اہم سوال:

اب میں کیا کھاؤں؟
کون سی چیزیں چھوڑنی ہیں؟
کیا نمک بالکل بند ہے؟
کیا گوشت کھا سکتا ہوں؟
کیا چائے یا کافی پی سکتا ہوں؟

اور ان سب سوالات کے پیچھے ایک بنیادی خوف چھپا ہوتا ہے:

"ڈاکٹر صاحب، کیا یہ دوبارہ ہو سکتا ہے؟"

اور پھر شاید سب سے مشکل سوال:

"اب میری زندگی کتنی ہے؟ میرا مستقبل کیا ہے؟ کیا میں دوبارہ پہلے جیسی زندگی گزار سکوں گا؟"

یہاں ڈاکٹر کا کام صرف دوائیں لکھ دینا نہیں۔

مریض کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ ہارٹ اٹیک زندگی کا اختتام نہیں، بلکہ اکثر زندگی کو نئے انداز سے ترتیب دینے کا ایک موقع ہوتا ہے۔

صحیح ادویات، باقاعدہ فالو اَپ، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کا کنٹرول، ذیابیطس کی مناسب دیکھ بھال، سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز، متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور cardiac rehabilitation — یہ سب مل کر مریض کو دوبارہ ایک فعال اور بامقصد زندگی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

ہر مریض ایک جیسا نہیں ہوتا، اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اسے اس کی اپنی بیماری، دل کی حالت، علاج اور مجموعی صحت کے مطابق واضح اور عملی ہدایات دی جائیں۔

کیونکہ ہارٹ اٹیک کے بعد مریض کو صرف یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ
"مجھے کون سی دوا لینی ہے؟"

اسے یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ:

"اب مجھے اپنی زندگی کیسے گزارنی ہے؟"

اور شاید ایک اچھا follow-up وہی ہے جہاں مریض ڈاکٹر کے کمرے سے صرف نسخہ لے کر نہیں، بلکہ اعتماد، امید اور اپنی اگلی زندگی کا واضح راستہ لے کر باہر نکلے۔ ❤️

16/09/2026

آج کے راؤنڈ میں ہمارے ساتھ میڈیکل اسٹوڈنٹس بھی موجود تھے، اس لیے کوشش تھی کہ ایک ایسے مریض کے ذریعے، جس کی دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر کم تھی اور جسے ممکنہ طور پر پیس میکر کی ضرورت تھی، کچھ بنیادی مگر انتہائی اہم باتیں بھی سمجھائی جائیں۔

یہ لائیو کلینیکل سیشن Complete Heart Block کے ایک مریض کے گرد رکھا گیا، جس میں ہم نے نہ صرف مریض کی علامات اور کلینیکل presentation کو ڈسکس کیا بلکہ ECG کی بنیادی تبدیلیوں اور اس condition کو پہچاننے کے اہم نکات بھی سادہ انداز میں سمجھائے۔

یہ نشست خاص طور پر Medical Students، Junior Doctors اور Residents کے لیے مفید ہو سکتی ہے، کیونکہ بعض اوقات بنیادی clinical concepts ہی کسی پیچیدہ مریض کو بروقت پہچاننے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

امید ہے آپ اس سیشن کو ضرور دیکھیں گے، ان بنیادی نکات کو سمجھیں گے اور اپنی روزمرہ clinical practice میں اپنے مریضوں کے بہتر assessment اور management کے لیے ان معلومات سے فائدہ اٹھائیں گے۔

Learn the basics. Recognize early. Act appropriately. ❤️

15/09/2026

کولیسٹرال کم کرنے کی ضرورت نہیں یہ جسم کیلئے اچھا ہے دوائی بس کمپنیوں کی کہانی ماہرین کی رائے کمنٹ میں دیے لنک میں

15/09/2026

دل میں اسٹنٹ لگا ہے، تو کیا MRI نہیں ہو سکتی؟

یہ ایک ایسی غلط فہمی ہے جس کا سامنا ہمیں آج بھی بار بار کرنا پڑتا ہے۔ تقریباً ہر چند دن بعد ہمارے پاس کوئی نہ کوئی مریض ایسا آتا ہے جسے صرف اس وجہ سے MRI کے لیے واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ:

“آپ کے دل میں اسٹنٹ لگا ہوا ہے، اس لیے MRI نہیں ہو سکتی۔”

حالانکہ موجودہ دور میں استعمال ہونے والے coronary stents کے ساتھ MRI کی جا سکتی ہے۔ یہ بات صرف کسی ایک خاص قسم کے اسٹنٹ تک محدود نہیں، بلکہ آج کل لگائے جانے والے عام coronary stents MRI کے لیے مناسب ہوتے ہیں، مخصوص MRI conditions کے تحت۔

شاید یہ غلط فہمی ماضی کے زمانے سے چلی آ رہی ہے، جب مختلف metallic implants اور devices کے ساتھ MRI کے حوالے سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی تھی۔ لیکن موجودہ دور کے coronary stents کے بارے میں یہ کہنا کہ “stent لگا ہے، اس لیے MRI نہیں ہو سکتی” درست نہیں۔

لہٰذا اگر آپ کے دل میں اسٹنٹ لگا ہوا ہے اور آپ کو MRI کروانے کی ضرورت ہے تو صرف اسٹنٹ کی وجہ سے MRI سے انکار نہ کیا جائے۔

البتہ اگر اسٹنٹ کے علاوہ کوئی pacemaker، ICD یا کوئی اور implanted device بھی لگا ہوا ہے تو اس کے بارے میں اپنے cardiologist یا متعلقہ ڈاکٹر سے معلومات لینا ضروری ہے، کیونکہ ایسی صورت میں MRI کی safety الگ سے assess کی جاتی ہے۔

پیغام صرف اتنا ہے:

موجودہ دور کے coronary stents کے ساتھ MRI کی جا سکتی ہے۔
صرف stent لگا ہونا MRI نہ کروانے کی وجہ نہیں ہے۔

بڑا عہدہ، سادہ سفر — ایک قابلِ تقلید مثالتصویر میں پاکستان کی ایک انتہائی بااختیار اور اہم شخصیت کو اکانومی کلاس میں سفر...
15/09/2026

بڑا عہدہ، سادہ سفر — ایک قابلِ تقلید مثال
تصویر میں پاکستان کی ایک انتہائی بااختیار اور اہم شخصیت کو اکانومی کلاس میں سفر کرتے دیکھ کر ایک خیال ضرور آیا۔

اگر یہ محض دکھاوے کے لیے بھی ہو، تب بھی میرے خیال میں یہ ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سرکاری وسائل محدود ہیں اور قوم پہلے ہی بہت سے معاشی مسائل کا سامنا کر رہی ہے، اگر کسی بڑے سرکاری دورے یا ناگزیر ضرورت کے بغیر ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کرنا ہو تو غیر ضروری شاہانہ اخراجات سے گریز کیا جا سکتا ہے۔ آخر یہ بھی تو عوام ہی کا پیسہ ہے۔

اور بات صرف ایک تصویر کی نہیں۔

گزشتہ کچھ عرصے میں مجھے ذاتی طور پر پاسپورٹ آفس، نادرا کے شناختی کارڈ کے نظام اور PakID ایپ استعمال کرنے کی ضرورت پڑی۔ سچ کہوں تو ان معاملات میں بہتری دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اسی طرح ایئرپورٹس کے نظام میں بہتری کی کوششیں، کراچی ایئرپورٹ کے حالات کو بہتر بنانے کی کاوشیں، اور اسلام آباد میں گرینری سمیت مجموعی ماحول پر توجہ—یہ سب چیزیں نظر آتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ محسن نقوی صاحب کے بارے میں میری مجموعی رائے یہ بنی ہے کہ انتظامی صلاحیت کے حوالے سے انہوں نے بعض شعبوں میں واقعی نمایاں بہتری دکھانے کی کوشش کی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔

بالکل کیا جا سکتا ہے۔

خصوصاً حالیہ کرکٹ کے معاملات پر بھی سوالات اٹھے ہیں، اور میرے خیال میں پاکستان کرکٹ کا مسئلہ صرف چند فیصلوں یا چند افراد کا مسئلہ نہیں۔ اس کے پیچھے برسوں سے چلا آنے والا ایک بنیادی structural issue ہے، جسے درست کرنے کے لیے short-term فیصلوں کے بجائے long-term planning، institutional stability اور ایک واضح نظام کی ضرورت ہے۔

لیکن اصول بہت سادہ ہونا چاہیے:

اچھا کام اچھا ہے، چاہے کرنے والا کوئی بھی ہو۔
غلطی غلطی ہے، چاہے کرنے والا ہمارا پسندیدہ ہی کیوں نہ ہو۔

ہمیں شاید اپنی اجتماعی سوچ میں یہ توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی اختلاف کو اپنی جگہ رکھیں، لیکن جہاں کوئی شخص یا ادارہ اچھی کارکردگی دکھائے وہاں اسے تسلیم کرنے میں بھی بخل نہ کریں۔

تنقید جمہوری معاشرے کی ضرورت ہے، مگر اعترافِ خوبی بھی ایک خوبصورت معاشرتی رویہ ہے۔

اور اگر ایک بااختیار شخص اکانومی کلاس میں سفر کرکے قوم کے وسائل بچانے کی مثال قائم کرتا ہے تو، کم از کم اس پہلو سے، اسے سراہنے میں کیا حرج ہے؟

15/09/2026

خلیج میں ایک آئل ٹینکر پر حملہ، چند کریو ممبران کی شہادت… عموماً ایسی خبریں ہمارے لیے صرف ایک خبر ہوتی ہیں۔ ہم پڑھتے ہیں، افسوس کرتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔

لیکن دو دن پہلے یہی خبر میرے لیے صرف خبر نہیں تھی، ایک بجلی بن کر دل پر گری۔

شہید ہونے والوں میں حماد عبیدہ بھی تھا، جو میرا رشتے کا بھانجا لگتا ہے۔ ایک جوان، محنتی لڑکا، جو شپ پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا اور کبھی چھٹیوں میں گھر آتا تو ملاقات ہو جاتی۔ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے اس کے بھائی کی شادی میں ملاقات ہوئی تھی۔ ایک ننھا سا بچہ، ایک نوجوان خاندان کا بڑا سہارا… اور پھر اچانک ایک میزائل آیا اور سب کچھ بدل گیا۔

تب شدت سے احساس ہوا کہ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، ان کے شعلے گھروں تک پہنچتے ہیں۔ کسی ماں کی گود اجڑتی ہے، کسی بچے کے سر سے باپ کا سایہ اٹھتا ہے، کسی گھر کا سہارا اچانک چھن جاتا ہے۔

حماد کی شہادت کا دکھ ہمارے لیے ایک ذاتی سانحہ ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک بڑا سوال بھی ہے کہ آخر جنگوں کی قیمت ہمیشہ عام انسان ہی کیوں ادا کرتا ہے؟

اللہ تعالیٰ حماد عبیدہ کی شہادت کو قبول فرمائے، اس کے درجات بلند فرمائے، اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے اور اس کے ننھے بچے کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔

ابھی تک جسدِ خاکی کے حوالے سے بھی کوئی واضح اطلاع نہیں مل سکی۔ ہم حکومتِ پاکستان سے امید کرتے ہیں کہ وہ حماد کے خاندان کے ساتھ کھڑی ہوگی، اس کے جسدِ خاکی کی وطن واپسی اور دیگر تمام ضروری معاملات میں ہر ممکن مدد کرے گی۔

اللہ کسی گھر کو ایسا صدمہ نہ دکھائے۔

جنگوں کے فیصلے میزوں پر ہوتے ہیں، مگر ان کی قیمت گھروں کے چراغ ادا کرتے ہیں۔
Hammad Obaida

14/09/2026

ٹرایئگلسرائڈ کولیسٹرال کی ایسی قسم ہے جو دل سے زیادہ لبلبہ کو نقصان پہنچاتی ہے یہ کتنے سے زیادہ ہو تو دوا لی جائے ۔۔تفصیلات کمنٹ میں

14/09/2026

مرگلہ ٹریل پر ایک ایسی ملاقات ہوئی جس نے دل خوش کر دیا۔

واک کے دوران ہماری ملاقات اپنے ایک فین سے ہوئی۔ عمر 85 سال، اور حیرت کی بات یہ کہ تقریباً 30 سال پہلے ان کا بائی پاس ہو چکا تھا۔

لیکن فٹنس دیکھی تو یقین کرنا مشکل تھا کہ یہ 85 سالہ بزرگ ہیں۔ چستی، پھرتی اور توانائی کے اعتبار سے وہ کسی 40 سالہ نوجوان سے بھی آگے نظر آ رہے تھے۔ ماشاءاللہ، ہم لوگ ابھی پیچھے ہی تھے کہ وہ ہمیں چھوڑ کر ٹریل پر آگے نکل گئے!

میں نے ان سے درخواست کی کہ اگر ممکن ہو تو ہمارے ساتھ ایک مختصر ویڈیو بنائیں۔ انہوں نے خوشی سے حامی بھری، اور میں نے اس پورے منظر کو ویڈیو میں ریکارڈ کر لیا۔ وہی ویڈیو آج آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔

یہ صرف ایک خوبصورت ملاقات نہیں، بلکہ ایک بہت بڑا سبق ہے۔

دل کا مرض ہونا ہرگز اس بات کا مطلب نہیں کہ زندگی ختم ہو گئی ہے۔
بائی پاس یا انجیو پلاسٹی کے بعد زندگی رک نہیں جاتی؛ بلکہ درست طرزِ زندگی کے ساتھ ایک صحت مند، فعال اور بھرپور زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

خوف کو اپنے ذہن پر حاوی نہ ہونے دیں۔
اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ورزش کو زندگی کا حصہ بنائیں، غذا میں احتیاط کریں، اپنی دوائیں باقاعدگی سے لیں، سگریٹ اور دوسری نقصان دہ عادات سے دور رہیں اور سب سے بڑھ کر اپنے دل اور اپنی زندگی پر اعتماد رکھیں۔

85 سال کی عمر میں یہ بزرگ ہمارے لیے ایک زندہ مثال ہیں کہ
دل کا مریض ہونا زندگی کی آخری منزل نہیں، بلکہ احتیاط اور حوصلے کے ساتھ ایک نئی، بہتر زندگی کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔

ماشاءاللہ! ❤️
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، توانائی اور لمبی عمر عطا فرمائے۔

 # **ایمرجنسی میں بلڈ پریشر بڑھ جائے تو کیا فوراً دوا شروع کر دینی چاہیے؟**ایمرجنسی روم ہو یا جنرل پریکٹیشنر کا کلینک، ک...
14/09/2026

# **ایمرجنسی میں بلڈ پریشر بڑھ جائے تو کیا فوراً دوا شروع کر دینی چاہیے؟**

ایمرجنسی روم ہو یا جنرل پریکٹیشنر کا کلینک، کسی مریض کا بلڈ پریشر معمول سے زیادہ آ جانا ایک عام بات ہے۔ لیکن صرف ایک بلند ریڈنگ یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں کہ مریض ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے اور اسے فوراً مستقل طور پر بلڈ پریشر کی دوا شروع کر دی جائے۔

ہم اکثر ایسے مریض دیکھتے ہیں جو **سر درد، گھبراہٹ، جسمانی درد، تیزابیت، دل کی دھڑکن تیز ہونے یا کسی دوسری اچانک تکلیف** کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس آتے ہیں۔ ایسی کیفیت میں جسم کا قدرتی ردِعمل بھی بلڈ پریشر کو عارضی طور پر بڑھا سکتا ہے۔

اس لیے کسی شدید تکلیف، ذہنی دباؤ یا وقتی بیماری کے دوران بلڈ پریشر کی ایک دو بلند ریڈنگز کی بنیاد پر فوراً ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص کر دینا اور زندگی بھر کی دوا شروع کر دینا مناسب نہیں۔

# # # **پہلا قدم کیا ہونا چاہیے؟**

سب سے پہلے مریض کی اس تکلیف کو سمجھنا اور اس کا علاج کرنا چاہیے جس کی وجہ سے وہ ڈاکٹر کے پاس آیا ہے۔

مریض کو کچھ دیر سکون کا موقع دیں، اس کی تکلیف اور گھبراہٹ کم ہونے دیں، پھر مناسب طریقے سے بلڈ پریشر دوبارہ چیک کریں۔

لیکن یہاں ایک اہم بات ضرور سمجھنی چاہیے:

اگر بلڈ پریشر بہت زیادہ ہو اور ساتھ **دماغ، دل، گردوں یا جسم کے کسی اہم عضو کو اچانک نقصان پہنچنے کی علامات** موجود ہوں، تو یہ ایک مختلف اور ہنگامی صورتحال ہے۔ ایسی صورت میں تاخیر کیے بغیر فوری طبی تشخیص اور علاج ضروری ہے۔

# # # **اگر بلڈ پریشر معمول سے صرف تھوڑا زیادہ ہو؟**

اگر مریض کا بلڈ پریشر اس کے معمول یا مطلوبہ بلڈ پریشر سے صرف **5 سے 10 mmHg** زیادہ ہے، مریض کو کوئی خطرناک علامت نہیں اور ہائپرٹینسیو ایمرجنسی کے شواہد بھی موجود نہیں، تو صرف اس ایک ریڈنگ کی بنیاد پر فوری طور پر مستقل بلڈ پریشر کی دوا شروع کرنا عموماً ضروری نہیں ہوتا۔

اس موقع پر اصل ضرورت مریض کے **مجموعی قلبی خطرے** کو سمجھنے کی ہے۔

مریض کی عمر، ذیابیطس، کولیسٹرول، گردوں کی کارکردگی، وزن، سگریٹ نوشی، خاندانی تاریخ، پہلے سے موجود دل یا خون کی نالیوں کی بیماری اور دیگر خطرے کے عوامل کو سامنے رکھنا چاہیے۔

# # # **گھر کا بلڈ پریشر زیادہ حقیقت بتا سکتا ہے**

کئی مرتبہ کلینک یا ہسپتال میں ناپا جانے والا بلڈ پریشر مریض کے حقیقی معمول کے بلڈ پریشر کی درست تصویر پیش نہیں کرتا۔

اس لیے گھر پر مناسب طریقے سے، کچھ دیر آرام کے بعد، باقاعدگی سے بلڈ پریشر نوٹ کرنا بہت مفید ہے۔

اگلے **دو سے تین ہفتوں** کی یہ ریڈنگز ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ بلڈ پریشر واقعی مستقل طور پر بڑھا ہوا ہے یا صرف کسی وقتی کیفیت—جیسے درد، گھبراہٹ یا بیماری—کے باعث اس وقت زیادہ تھا۔

# # # **دوا کب شروع کرنی چاہیے؟**

بلڈ پریشر کی دوا شروع کرنے کا فیصلہ کسی ایک عدد یا ایک ہی دن کی ریڈنگ پر نہیں ہونا چاہیے۔

یہ فیصلہ **بار بار کی گئی پیمائش، مریض کی مجموعی صحت، اس کے قلبی خطرے اور ساتھ موجود دوسری بیماریوں** کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

اور جب دوا کی ضرورت ہو تو اس کا انتخاب، خوراک اور آغاز کا وقت بھی ہر مریض کے لیے یکساں نہیں ہو سکتا۔ مریض کی عمر، گردوں کی حالت، ذیابیطس، دل کی بیماری اور دوسری طبی ضروریات کے مطابق علاج کو انفرادی شکل دینا ضروری ہے۔

# # # **دوا کے ساتھ طرزِ زندگی بھی اہم ہے**

بلڈ پریشر کے علاج میں صرف دوا ہی سب کچھ نہیں۔

**نمک کا استعمال کم کرنا، وزن کو مناسب حد میں رکھنا، پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند، سگریٹ اور تمباکو سے مکمل پرہیز اور ذہنی دباؤ کو بہتر انداز میں سنبھالنا** بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

آخرکار ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ **عارضی طور پر بلڈ پریشر کا بڑھ جانا اور مستقل ہائی بلڈ پریشر دو الگ چیزیں ہیں۔**

بعض اوقات بہت جلدی دوا شروع کر دینے سے مریض غیر ضروری علاج میں مبتلا ہو جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف مستقل ہائی بلڈ پریشر کو نظر انداز کرنا بھی خطرناک ہے اور مستقبل میں دل، دماغ، گردوں اور خون کی نالیوں کی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

اس لیے بات بہت سادہ ہے:

# # # **بلڈ پریشر کی ایک بلند ریڈنگ کو فوراً بیماری کا نام نہ دیں۔**

مریض کو دیکھیں، اس کی کیفیت کو سمجھیں، بلڈ پریشر دوبارہ چیک کریں، مجموعی قلبی خطرے کا جائزہ لیں، اور پھر علاج کا فیصلہ کریں۔

خاص طور پر اگر بلڈ پریشر کسی **درد، گھبراہٹ یا اچانک طبی کیفیت** کے دوران بڑھا ہو تو ایک ہی ریڈنگ کی بنیاد پر زندگی بھر کی دوا شروع کرنے کے بجائے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ واقعی مستقل ہائی بلڈ پریشر ہے یا صرف اس لمحے کا ایک عارضی ردِعمل۔

**بحیثیت معالج، ہماری ذمہ داری صرف مانیٹر پر نظر آنے والے ایک ہندسے کا علاج کرنا نہیں؛ ہماری اصل ذمہ داری اس ہندسے کے پیچھے موجود انسان کو سمجھنا ہے۔**

**پروفیسر ڈاکٹر فواد فاروق، ایف سی پی ایس**
**جنرل سیکریٹری، پاکستان کارڈیک سوسائٹی**

جب اللہ رتبہ دے تو ظرف بھی دےکہتے ہیں، اللہ جب کسی کو رتبہ دیتا ہے تو اسے ظرف بھی دیتا ہے۔اور شاید دنیا میں سب سے مشکل ا...
14/09/2026

جب اللہ رتبہ دے تو ظرف بھی دے

کہتے ہیں، اللہ جب کسی کو رتبہ دیتا ہے تو اسے ظرف بھی دیتا ہے۔
اور شاید دنیا میں سب سے مشکل امتحان یہی ہے کہ انسان کامیابی، طاقت اور اختیار ملنے کے بعد بھی اپنے رویے میں شائستگی برقرار رکھ سکے۔

گزشتہ رات ایشیا کپ کے فائنل میں بھارتی خواتین ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سری لنکا کو شکست دی اور چیمپئن بن گئی۔ کھیل کے میدان میں ان کی کامیابی اپنی جگہ قابلِ تعریف ہے۔ مگر افسوس کہ اس خوبصورت کامیابی کے بعد ایک بار پھر کھیل کو سیاست اور ذاتی عداوت سے آلودہ کرنے کا منظر دیکھنے کو ملا۔

ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر سے ٹرافی وصول نہیں کی، کیونکہ وہ پاکستانی ہیں۔

یہاں ایک بہت سادہ سا سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر کسی ادارے کا سربراہ آپ کو کوئی اعزاز پیش کر رہا ہو تو کیا آپ اس شخص کو عزت دے رہے ہوتے ہیں، یا اس عہدے، ادارے اور اس پورے نظام کو جس کی نمائندگی وہ اس وقت کر رہا ہے؟

اگر ACC کا صدر کوئی پاکستانی ہے تو وہ اس موقع پر محض ایک پاکستانی شہری نہیں، بلکہ Asian Cricket Council کے صدر کی حیثیت سے موجود ہے۔ عہدہ کسی ایک فرد کی جاگیر نہیں ہوتا۔ آج ایک شخص اس منصب پر ہے، کل کوئی دوسرا ہوگا۔

دنیا کے مہذب معاشروں میں اختلاف اپنی جگہ ہوتا ہے، مگر اداروں اور عہدوں کا احترام ایک الگ اصول ہے۔

اگر ہر اختلاف کو ذاتی انا بنا لیا جائے، ہر عہدے کو اس شخص کی قومیت سے ناپا جائے جو اس پر فائز ہے، اور ہر کھیل کے میدان کو سیاسی محاذ بنا دیا جائے تو پھر کھیل اور سیاست میں فرق ہی کیا رہ جائے گا؟

حیرت تو اس بات پر ہے کہ کھیل توڑنے کے لیے نہیں، جوڑنے کے لیے ہوتے ہیں۔

کرکٹ کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ سرحدوں کے دونوں طرف لوگ ایک ہی شاٹ پر خوش ہوتے ہیں، ایک ہی وکٹ پر جذباتی ہوتے ہیں اور ایک ہی کھیل سے محبت کرتے ہیں۔ کھیل وہ پل ہیں جو سیاست کے بنائے ہوئے فاصلے کبھی کبھی کم کر سکتے ہیں۔

مگر اگر ٹرافی بھی قومیت دیکھ کر لی جائے، مصافحہ بھی پاسپورٹ دیکھ کر ہو اور عہدے کی عزت بھی اس بات سے مشروط ہو کہ اس پر بیٹھا شخص کس ملک سے تعلق رکھتا ہے، تو پھر شاید مسئلہ صرف کرکٹ کا نہیں رہتا، ظرف کا بن جاتا ہے۔

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طرزِ عمل سے جس شخص یا ملک کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے، اکثر سب سے زیادہ نقصان اپنی ہی عزت کا ہوتا ہے۔

کامیابی بڑی چیز ہے، لیکن کامیابی کے بعد کا رویہ انسان کا اصل قد بتاتا ہے۔

ٹرافی جیت لینا کھیل کی فتح ہے؛
مگر مخالف کے باوجود وقار قائم رکھنا کردار کی فتح ہے۔

دنیا کے بڑے کھلاڑیوں کو اس لیے یاد نہیں رکھا جاتا کہ انہوں نے صرف کتنی ٹرافیاں جیتیں، بلکہ اس لیے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی کامیابی کو کس ظرف کے ساتھ سنبھالا۔

اختلاف کیجیے، ضرور کیجیے۔
اپنے سیاسی مؤقف پر قائم رہیے، ضرور رہیے۔
مگر ہر جگہ سیاست لے آنا، ہر عہدے کو شخصی دشمنی کا میدان بنا دینا اور کھیل کے ایک خوبصورت لمحے کو بھی تلخی میں بدل دینا—یہ نہ کھیل کی روح ہے، نہ سفارت کاری کی، نہ تہذیب کی۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو کامیابی کے ساتھ ظرف، اختیار کے ساتھ ذمہ داری، اور اختلاف کے ساتھ شائستگی عطا فرمائے۔

کیونکہ آخرکار بات صرف یہ نہیں کہ ہم نے کیا جیتا؟

اصل سوال یہ بھی ہے کہ
ہم نے جیتنے کے بعد اپنے آپ کو کتنا بڑا ثابت کیا؟

Address

H. No B-234 Block 18 Gulshan-e-Iqbal Karachi
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Fawad Farooq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Fawad Farooq:

Shortcuts

Share

Category