Doctor Online

Doctor Online Homeopathic Treatment Services
We are providing treatment for Vitiligo,Chronic skin problems,all ty You do not need to come to the clinic. It is easy.

Welcome to my channel Doctor Online is the first virtual clinic in Pakistan for all over the world. Get safe and cost effective homeopathic, herbal and nutrition treatment for your diseases. It is good to take second opinion rather than to suffer in silence or opt for a surgical operation. Give a call or contact at [email protected].

کھیرا سب کے لیے فائدہ مند نہیں----------------------کھیرا عام طور پر ایک صحت بخش اور ہلکی غذا کے طور پر جانا جاتا ہے، خا...
14/04/2026

کھیرا سب کے لیے فائدہ مند نہیں
----------------------
کھیرا عام طور پر ایک صحت بخش اور ہلکی غذا کے طور پر جانا جاتا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو وزن کم کرنا چاہتے ہیں اسے اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بناتے ہیں۔

اس میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے سلاد، رائتہ، جوس اور اسموتھیز میں شوق سے استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرین غذائیت کے مطابق کھیرے میں 95 فیصد سے زائد پانی کے ساتھ وٹامن کے، وٹامن سی، پوٹاشیم، میگنیشیم اور فائبر جیسے اہم اجزا موجود ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف ہاضمے کو بہتر بناتا ہے بلکہ جسم میں سوزش کم کرنے، بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے اور جلد کی صحت بہتر بنانے میں بھی مددگار سمجھا جاتا ہے۔

تاہم جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں، وہیں ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ کچھ مخصوص طبی مسائل میں مبتلا افراد کے لیے کھیرا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، اس لیے اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔

سانس اور بلغم کے مسائل میں احتیاط

ماہر غذائیت کے مطابق کھیرے کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے، جو بعض افراد میں بلغم بڑھا سکتی ہے۔ نزلہ، کھانسی، دمہ، سائنوس یا دیگر سانس کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے اس کا استعمال مسائل کو بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر سرد موسم میں۔

نظامِ ہاضمہ کمزور ہو تو مسئلہ بن سکتا ہے

اگرچہ کھیرے میں موجود فائبر ہاضمے کے لیے مفید ہے، لیکن حساس معدہ رکھنے والے افراد کے لیے یہ مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اس میں موجود کیوکربیٹاسن نامی مرکب بعض لوگوں میں گیس، اپھارہ اور بدہضمی کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً وہ افراد جو آئی بی ایس یا دیگر معدے کے مسائل کا شکار ہوں۔

جوڑوں کے درد میں اضافہ ممکن

ماہرین کے مطابق گٹھیا یا جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو بھی احتیاط کرنی چاہیے۔ کھیرے کی سرد تاثیر بعض کیسز میں سوزش اور درد کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ٹھنڈے موسم میں۔

پیشاب کی نالی کے مسائل والے افراد کے لیے خطرہ

کھیرے میں قدرتی طور پر پیشاب آور خصوصیات پائی جاتی ہیں، اس لیے پیشاب کی نالی کے انفیکشن یا دیگر مسائل میں مبتلا افراد کے لیے اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کو محدود مقدار میں استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے احتیاط ضروری

اگرچہ کھیرا عام طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے بیج بعض صورتوں میں شوگر لیول کو حد سے زیادہ کم کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر مریض انسولین یا دیگر ادویات استعمال کر رہا ہو۔ اس سے کمزوری، چکر اور تھکن جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

رات کے وقت استعمال کیوں نقصان دہ؟

ماہرین غذائیت رات کے وقت کھیرے کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کی زیادہ پانی والی ساخت رات میں بار بار واش روم جانے کی وجہ بن سکتی ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ٹھنڈی تاثیر بھی رات کے وقت جسم کے لیے موزوں نہیں سمجھی جاتی۔

ماہرین کے مطابق کھیرا بلاشبہ ایک مفید غذا ہے، لیکن ہر شخص کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں۔ اس لیے اپنی صحت اور جسمانی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا استعمال کرنا ہی بہتر حکمت عملی ہے۔

کیا صبح سویرے گرم پانی پینا آپ کی صحت کے لیے مفید ہے؟چینی روایتی ادویات کا نظریہروایتی ادویات کے بارے میں ایک بنیادی عقی...
27/03/2026

کیا صبح سویرے گرم پانی پینا آپ کی صحت کے لیے مفید ہے؟
چینی روایتی ادویات کا نظریہ
روایتی ادویات کے بارے میں ایک بنیادی عقیدہ، جس پر چین میں لاکھوں لوگ عمل کرتے ہیں، یہ ہے کہ ’چی‘ (Qi) نامی توانائی، جسم میں بہتی ہے اور جب توانائی کا یہ بہاؤ مسدود یا غیرمتوازن ہو جاتا ہے تو انسان بیمار ہو جاتا ہے۔

اس خیال پر یقین رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ نیم گرم پانی جس کا درجہ حرارت 40 سے 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو، پینے سے ’چی‘ میں اضافہ ہوتا ہے اور جسم میں اس کا توازن برقرار رہتا ہے جس کا نتیجہ صحت میں بہتری اور طویل العمری کی شکل میں نکلتا ہے۔

روایتی چینی ادویات پر تحقیق کرنے والے پروفیسر شون او کا کہنا ہے کہ ’اسے ایک گھر کی طرح سمجھیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ صحت کے اس جامع نظام میں ٹھنڈا کھانا، گھر میں آنے والی ٹھنڈی ہوا کی مانند ہے۔

13/03/2026

صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل دیکھنے کی عادت صحت کے لیے نقصان دہ
----------------
موجودہ دور میں موبائل فون انسانی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے اور اکثر لوگ دن بھر وقفے وقفے سے اپنی اسکرین دیکھتے رہتے ہیں۔ ٹیکنالوجی جہاں زندگی کو آسان بنانے کا ذریعہ بنی ہے، وہیں اس کے بے جا استعمال کے باعث صحت اور روزمرہ زندگی پر کئی منفی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق موبائل فون کے استعمال سے متعلق کیے گئے ایک سروے نے اس عادت کے بارے میں تشویش ناک رجحان کی نشاندہی کی ہے۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً 84 فیصد موبائل صارفین صبح جاگنے کے فوراً بعد یا پندرہ منٹ کے اندر موبائل فون استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ عادت انسانی دماغ پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق جب انسان نیند سے بیدار ہوتا ہے تو اس کا دماغ ابتدائی طور پر ڈیلٹا اسٹیٹ یعنی گہرے سکون کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد دماغ آہستہ آہستہ الفا اسٹیٹ میں داخل ہوتا ہے، جس میں انسان بظاہر جاگ چکا ہوتا ہے مگر ذہن پوری طرح فعال نہیں ہوتا۔ بعد ازاں دماغ بیٹا اسٹیٹ میں پہنچتا ہے جہاں وہ مکمل طور پر متحرک ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص جاگتے ہی موبائل فون استعمال کرنا شروع کر دے تو دماغ کو سکون کی حالت سے اچانک مکمل سرگرمی کی حالت میں منتقل ہونا پڑتا ہے۔ اس تیز تبدیلی کے باعث ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے اور انسان بے چینی، چڑچڑاپن اور تھکن کا شکار ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات اس کے نتیجے میں انسان پورا دن کام میں دلچسپی محسوس نہیں کرتا۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ نیند سے بیدار ہونے کے بعد کم از کم تیس منٹ سے ایک گھنٹہ تک موبائل فون استعمال نہ کیا جائے تاکہ دماغ کو قدرتی طور پر بیدار ہونے کا وقت مل سکے۔ اسی طرح ماہرین اس بات پر بھی توجہ دلاتے ہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں سونے سے پہلے موبائل فون استعمال کرنے کا رجحان بھی تیزی سے بڑھا ہے۔

ان کے مطابق سونے سے پہلے اسکرین دیکھنے کی عادت نیند کے معمول کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف جسمانی اور ذہنی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بہتر صحت کے لیے موبائل فون کے استعمال میں اعتدال اور مناسب وقت کا انتخاب ضروری قرار دیتے ہیں۔

Send a message to learn more

22/02/2026

ہم کھجور سے روزہ کیوں کھولتے ہیں۔ ماہرین اس سلسلے اپنی بہت سی گزارشات پیش کرتے ہیں اور وجوہات بیان کرتے ہیں کمنٹس میں بتائیے گا کہ اپ کو یہ کیسا لگا۔ ...

19/01/2026

زیادہ تر لوگ دل اور معدے کو الگ الگ سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں دونوں ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوتے ہیں۔جب معدہ درست کام نہ کرے تو اس کا اثر صرف ہاضمے تک محدود نہیں رہتا بلکہ دل بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔معدے میں تیزابیت، گیس یا بھاری پن دل کی دھڑکن کو بے ترتیب محسوس کرا سکتا ہے۔اسی لیے بعض اوقات سینے میں بوجھ یا گھبراہٹ دل کا نہیں بلکہ معدے کا پیغام ہوتی ہے۔معدہ اور دل ایک ہی اعصابی راستے سے جڑے ہوتے ہیں، جسے جسم توازن کے لیے استعمال کرتا ہے۔جب معدہ دباؤ میں ہو تو اعصاب دل کو بھی غلط سگنل بھیجنے لگتے ہیں۔اسی وجہ سے بدہضمی کے دوران دل کی دھڑکن تیز یا بے چین محسوس ہو سکتی ہے۔یہ تعلق ان کو زیادہ متاثر کرتا ہے جو افراد جلدی کھاتے یا ضرورت سے زیادہ کھانا کھا لیتے ہوں۔کن کو خاص احتیاط کرنی چاہیے وہ لوگ جو گیس اور سینے کی گھبراہٹ کو صرف دل کا مسئلہ سمجھ کر چھوڑ دیتے ہوں۔مزاج کے لحاظ سے معدے کی گرمی دل میں بے چینی اور تیزی پیدا کر سکتی ہے۔بہترین وقت سنبھلنے کا وہ ہے جب کھانے کے فوراً بعد سینے میں بوجھ یا گھبراہٹ محسوس ہو۔ہلکی غذا، آہستہ کھانا اور کھانے کے بعد فوراً لیٹنے سے پرہیز اس رشتے کو متوازن رکھتا ہے۔جب معدہ سکون میں ہو تو دل کی دھڑکن بھی قدرتی رفتار پر آ جاتی ہے۔اکثر غیر ضروری دل کی پریشانی اصل میں معدے کی خرابی کا عکس ہوتی ہے۔دل کی حفاظت صرف دواؤں سے نہیں بلکہ ہاضمے کی درستگی سے بھی جڑی ہوتی ہے۔جو شخص اس گہرے رشتے کو سمجھ لیتا ہے وہ بہت سی غلط فہمیوں سے بچ جاتا ہے۔

14/01/2026

*Sarcopenia*
*⭕سارکوپینیا*

*عمر بڑھنے کے نتیجے میں ڈھانچے کے پٹھوں کا کم ھوتے جانا طاقت کا زوال ھے۔۔۔*

*یہ ایک خوفناک صورتحال ھے۔۔۔*

*آئیے سرکوپینیا پر غور کریں!!!*

*1- زیادہ سے زیادہ کھڑے رھنے کے قابل ھونے کی عادت پیدا کرنی چاھئے۔۔۔*

*کم سے کم بیٹھیں۔۔۔*
*بیٹھ سکتے ھیں، تو کم سے کم لیٹیں۔۔۔*

*2 - اگر کوئی ادھیڑ عمر شخص ھسپتال میں داخل ھو تو اسے مزید آرام کرنے کو نہ کہیں۔۔۔*
*لیٹ کر آرام کرنے اور بستر سے نہ اٹھنے کا مشورہ نہ دیں۔۔۔*

*ایک ھفتے تک لیٹنے سے پٹھوں کی تعداد کا کم از کم 5 فیصد کم ھو جاتا ھے۔۔۔*

*بوڑھا آدمی اپنے پٹھے دوبارہ بنا نہیں سکتا، بس ایک دفعہ گئے تو گئے۔۔۔*

*عام طور پر بہت سے بزرگ جو مددگاروں کی خدمات حاصل کرتے ھیں، وہ اپنے عضلات تیزی سے کھو دیتے ھیں۔۔۔*

*3 - سرکوپینیا آسٹیوپوروسس سے زیادہ خوفناک ھے۔۔۔*

*آسٹیوپوروسس میں آپ کو صرف محتاط رھنے کی ضرورت ھے، کہ گر نہ جائیں جب کہ سارکوپینیا نہ صرف زندگی کے معیار کو متاثر کرتا ھے، بلکہ پٹھوں کی ناکافی مقدار کی وجہ سے ھائی بلڈ پریشر اور شوگر کا سبب بھی بنتا ھے۔۔۔*

*4 - مسلز ایٹروفی میں سب سے تیزی سے نقصان ٹانگوں کے پٹھوں کو ھوتا ھے۔۔۔*
*کیونکہ جب کوئی شخص بیٹھتا ھے یا لیٹتا ھے تو ٹانگیں حرکت نہیں کرتیں اور ٹانگوں کے پٹھوں کی طاقت متاثر ھوتی ھے یہ بہت اھم ھے۔۔۔*

*آپ کو سارکوپینیا سے محتاط رھنا ھو گا۔۔۔*

*سیڑھیاں چڑھنا اور اترنا، ھلکی دوڑ، سائیکل چلانا یہ سب بہترین ورزشیں ھیں اور یہ پٹھوں کو بڑے پیمانے تک بڑھا سکتی ھیں۔۔۔*

*⭕بڑھاپے میں بہتر معیار زندگی کے لئے اپنے بزرگوں اور پیاروں کو یہ تحریر زیادہ سے زیادہ بھیجیں،،،*
*تاکہ انسانی پٹھوں کو ضائع ھونے سے بچایا جا سکے۔۔۔*

*بڑھاپا پاؤں سے شروع ھوتا ھے!*

*اپنے پاؤں کو متحرک اور مضبوط رکھیں۔۔۔*

*جیسے جیسے ھم بڑے ھوتے جاتے ھیں ھمارے پیروں کو ھمیشہ متحرک اور مضبوط رھنا چاھئے۔۔۔*

*اگر آپ صرف دو ھفتے تک اپنی ٹانگیں نہیں ھلاتے ھیں، تو آپ کی ٹانگوں کی حقیقی طاقت 10 سال تک کم ھو جاتی ھے۔۔۔*
*لہذا*
*باقاعدہ ورزش کرنا اور پیدل چلنا بہت ضروری ھے۔۔۔*

*ھمارے پاؤں کالم کی ایک قسم ھے*
*جس پر انسانی جسم کا پورا وزن ھے۔۔۔*
*ھر روز پیدل چلنا ضروری ھے۔۔۔*
*اھم بات یہ ھے کہ انسان کی 50 % ھڈیاں اور 50 % پٹھے پاؤں میں ھوتے ھیں۔۔۔*

*⭕کیا آپ روزانہ پیدل چلتے ھیں؟*

*انسانی جسم میں سب سے بڑا اور مضبوط جوڑ اور ھڈیاں بھی ٹانگوں میں پائی جاتی ھیں۔۔۔*

*انسانی سرگرمیوں اور توانائی کا 70 ٪ حصہ پاؤں سے ھوتا ھے۔۔۔*

*⭕پاؤں جسم کی حرکت کا مرکز ھیں۔۔۔*

*دونوں ٹانگوں میں انسانی جسم کے 50 % اعصاب، اور 50 % خون کی نالیاں ھیں اور 50 % خون ان میں رواں ھے۔۔۔*

*بڑھاپے کا آغاز پاؤں سے اوپر کی طرف ھوتا ھے۔۔۔*

*ٹانگوں کی ممکنہ ورزش ستر سال کی عمر کے بعد بھی کرتے رھیں۔۔۔*

*ھر روز کم از کم 30-40 منٹ تک وقفے وقفے سے چہل قدمی کریں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ کی ٹانگوں کی مناسب ورزش ھو رھی ھے اور آپ کی ٹانگوں کے پٹھے صحت مند ھیں۔۔۔*

*اس اھم تحریر کو اپنے بزرگوں، دوستوں اور 40 سال سے اوپر کے احباب کو ضرور بھیجیں، کیونکہ ھم سب روز بروز بوڑھے ھو رھے ھیں۔۔۔*

13/01/2026

ہائی بلڈ پریشر میں گھریلو تدابیر مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ابتدائی یا کنٹرول شدہ کیسز میں۔ یہ علاج مکمل علاج نہیں بلکہ سپورٹ کے طور پر دیکھے جائیں۔
روزمرہ عادات
نمک کم کریں۔ اچار، چپس، فاسٹ فوڈ اور تیار مصالحے محدود رکھیں۔
پانی مناسب مقدار میں پئیں، لیکن ایک ساتھ بہت زیادہ نہیں۔
روزانہ 20 سے 30 منٹ ہلکی واک یا سادہ ورزش کریں۔
نیند پوری کریں اور ذہنی دباؤ کم رکھنے کی کوشش کریں۔
غذائی تدابیر
لہسن: صبح نہار منہ ایک یا دو جوے نیم گرم پانی کے ساتھ مفید سمجھے جاتے ہیں۔
آملہ: ایک چمچ آملہ پاؤڈر یا تازہ جوس روزانہ۔
کیلا: پوٹاشیم کی وجہ سے بلڈ پریشر متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
دہی: باقاعدہ استعمال فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر بغیر نمک کے۔
السی: ایک چمچ پسی ہوئی السی دہی یا پانی کے ساتھ۔
جڑی بوٹیوں سے مدد
تخمِ دھنیا اور زیرہ: آدھا آدھا چمچ ایک کپ پانی میں ابال کر دن میں ایک بار۔
سبز چائے: دن میں ایک کپ، زیادہ نہیں۔
اہم احتیاط
اگر بلڈ پریشر بہت زیادہ رہتا ہے، سر درد، چکر، یا دل کی دھڑکن تیز ہو تو صرف گھریلو علاج پر انحصار نہ کریں۔
پہلے سے دوا استعمال کر رہے ہوں تو بغیر مشورے کے دوا بند نہ کریں۔
باقاعدہ بلڈ پریشر چیک کرتے رہیں۔

29/12/2025
17/12/2025

سکیبیر کی خارش۔۔۔۔۔

موسم تبدیل ہونا شروع ہوا ہے تو اس بیماری نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ خاص طور پر مدرسوں ہوسٹلوں میں رہنے والے طالب علم اور کمبائن فیملی سسٹم میں رہنے والے افراد اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔۔۔

پہلے سمجھیں بیماری ہے کیا ۔اگر بیماری کو سمجھ لیا تو گھر سے نکالنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔۔۔۔

سکیبیز کی خارش، خارش کی ایک ایسی قسم ہے جو ہمارے ہاں بہت عام ہے ۔ اور اس کے بارے میں درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے طویل عرصے تک لوگ خارش کا عذاب برداشت کرتے رہتے ہیں ۔ لوگوں کی طرف سے مرض کو صحیح طور پر نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ ٹائیفائیڈ اور نمونیا کا علاج تو آسان ہے لیکن سکیبیز کا نہیں کیونکہ یہ بیماری فرد واحد کی نہیں بلکہ پورے گھرانے کی ہے۔ بلکہ پورے معاشرے کی کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا

سکیبیز (خارش) کیا ہے؟

سکیبیز خارش کی ایک قسم ہے جو ایک کیڑے کی وجہ سے ہوتی ہے۔اس کی مادہ انسانی جلد میں سوراخ بنا کر انڈے دیتی ہے۔تین سے چار دن پر لاروا نکل کر بڑا ہوتا ہے اور نئی جگہیں تلاش کرکے انڈے دیتا رہتا ہے اور یوں جسم میں اس کی افزائش نسل جاری رہتی ہے۔ خارش کے عمل کے دوران اس کا کیڑا کپڑوں میں گر جاتا ہے اور ان کپڑوں کے ذریئے دوسروں تک پہنچ جاتا ہے یا خارش کے عمل کے دوران ہاتھوں کے ذریئے دوسروں تک پہنچنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اگر کیڑا بستر پر گر جائے تو جسم سے باہر بھی چوبیس سے چھتیس گھنٹے زندہ رہ سکتا ہے۔

خارش کا آغاز سکیبیز کا کیڑا جسم میں داخل ہونے کے ایک ڈیڑھ ماہ بعد شروع ہوتا ہے۔ اسلئے جب تک بیماری کا علم ہوتا ہے سارا گھر متاثر ہوچکا ہوتا ہے۔کیڑے سے متاثر بستر اور کپڑے بیماری کے فروغ کی ایک بڑی وجہ بن جاتے ہیں ۔

سکیبیز سے کون لوگ زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں ۔
یہ کیڑا کسی کے بھی جسم میں ڈیڑے ڈال سکتا ہے لیکن عام طور پر یہ مرض ان لوگوں میں زیادہ پھیلتا ہے ۔جوایک دوسرے کے زیادہ قریب رہتے ہیں۔ جیسے ہوسٹلوں میں رہنے والے طالب علم، دینی مدارس، کلاس روم، کمبائن فیملی سسٹم میں رہنے والے افراد ۔۔اور ایسے گھروں میں رہنے والے لوگوں میں بھی جہاں دھوپ کم آتی ہے نمی کا تناسب زیادہ رہتا ہے اور صفائی کا خیال کم رکھا جاتا ہے۔ ۔خارش والے مریض کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے کیڑا صحت مند جسم میں منتقل ہوجاتا ہے۔

علامات
سب سے واضح علامت خارش ہوتی ہے۔ جو دن بھر تنگ کرنے کے بعد، رات کو زیادہ ہوجاتی ہے۔ کمبل، رضائی لینے سے جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو خارش بھی بڑھ جاتی ہے۔ بہت سے لوگ مصالحے دار کھانے کے ساتھ بھی خارش کی شدت کو زیادہ محسوس کرتے ہیں ۔ اور اکثرلوگ گوشت کی الرجی سمجھ کر گوشت کھانا چھوڑ چکے ہوتے ہیں ۔
بڑوں میں زیادہ تر خارش ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان، کلائیوں پر، کہنیوں کے پیچھے اور بغلوں میں ہوتی ہے۔ عورتوں میں چھاتیوں کے نیچے اور مردوں میں پیشاب والی نالی کے اوپر خارش کے نشانات کافی واضح ہوتے ہیں ۔ چہرہ عام طور پر محفوظ رہتا ہے۔ بچوں میں پورا جسم متاثر ہوسکتا ہے۔جس میں پاؤں اور پاؤں کی انگلیوں کی درمیانی جگہ بھی شامل ہوتی ہے ۔۔

مناسب لائٹ کے ساتھ خارش والی جگہوں کو دیکھیں تو باریک باریک سوراخ نظر آئیں گے۔ یہ وہ پناہ گاہیں ہیں جن میں کیڑا انڈے دیتا ہے۔ جو خارش کی وجہ سے دانوں یا زخم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

بہت سے مریضوں میں بار بار خارش کرنے کی وجہ سے بیکٹرییل انفیکشن داخل ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے پیپ والے دانے بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ جو اکثر اوقات زخم کی صورت اختیار کرلیتے ہیں

علاج
علاج سے پہلے ضروری ہے کہ ان رستوں کو بند کیا جائے، جہاں سے کیڑا مریض تک منتقل ہوا ہے
سکول جانے والے بچوں کے یونیفارم کی صفائی میں بہت زیادہ احتیاط برتی جائے۔ گھر واپسی پر پہلا کام یہ کریں کہ یونیفارم تبدیل کروا کر یا تواسے دھو ڈالیں یا پھر استری کرکے اگلے دن کیلئے تیار کریں
ہوسٹل یا مدرسوں میں رہنے والے لوگ خارش والے لوگوں سے دور رہیں۔ اپنا تولیا صابن، بستر ہر چیز دوسروں سے الگ رکھیں۔
بستروں کی چادریں جلدی تبدیل کریں، تولیئے جلدی دھوئیں ہوسکے تو الگ الگ تولیا اور بستر استعمال کریں
سارے بستر ، رضائیاں، کمبل سرھانے، قالین، اور پردوں کو دھوپ لگوائیں تاکہ ان میں موجود کیڑا مر سکے
بچوں کے کپڑے دن میں دو تین بار بدلیں ، اور بڑے افراد بھی روزانہ تبدیل کریں
کپڑے جب بھی پہنیں استری کرکے پہنیں۔۔

اگر جسم پر زخم یا دانے موجود ہیں تو انٹی الرجی یا انٹی بائیوٹک استعمال کرکے پہلے زخموں اور دانوں کو بہتر بنا لیں۔
کیڑے کو مارنے کیلئے بہت سی کریمیں لوشن دستیاب ہیں جن کو جسم پر ملا جاتا ہے۔ جیسے پرمیتھرین، سلفر پلس کروٹامیٹون یا پھر صرف سادہ سلفر کسی لوشن میں ملا کر لگایا جاتا ہے۔
پرمیتھرین کو چونکہ ہر عمر کیلئے محفوظ سمجھا جاتا ہے اور اگر صحیح طرح استعمال کیا جائے تو صرف ایک بار لگانے سے سارے کیڑوں کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اسلیئے اس کا استعمال مناسب بھی ہے اور محفوظ بھی ۔
لوشن کو جسم پر لگانے سے پہلے درج ذیل باتوں کو دھیان میں رکھیں
ایک تو لوشن لگانے سے پہلے اگر جسم پر کوئی زخم وغیرہ موجود ہے تو اس کا پہلے علاج کروا لیں
دوسرا لوشن استعمال کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ گھر کے سب افراد دستیاب ہوں اور لوشن لگانے پر راضی بھی۔ بے شک کسی کو خارش ہے یا نہیں۔۔ یا پہلے تھی اب نہیں ، وہ بزرگ ہے یا کوئی شیر خوار بچہ ۔۔

ایک ہی دن سب لوگ لوشن لگائیں

لوشن لگانے سے پہلے نہائیں
نہانے کے بعد جسم کو تولیئے سے تھوڑا سا خشک کرکے سارے جسم پر لوشن کو ملیں
اس بات کو یقینی بنائیں کہ جسم کا کوئی حصہ بغیر دوائی کے نہ رہ جائے ۔ خاص طور پر ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان، بغلوں میں ، (عورتوں میں چھاتیوں کے نیچے)، پیشاب والی جگہ پر ، پخانے والی جگہ کے ارد گرد، پاؤں کے تلوئوں پر۔چار سے پانچ منٹ تک دوائی کو جسم میں جذب ہونے کا موقع دیں۔۔۔۔
جس دن دوائی جسم پر لگائی جائے تو پہلی دفعہ آئورمیکٹن کی تین گولیاں سب کو کھلا دی جائیں تو کیڑے کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔۔۔

دوائی لگانے کے بعد صاف ستھرے کپڑے پہنیں جو استری شدہ ہوں ۔
دوائی کو کم ازکم بارہ گھنٹے ورنہ مناسب ہوگا کہ چوبیس گھنٹے جسم پر لگا رہنا دیں
اگر اس دوران کہیں سے دوائی اتر جائے تو فوری طور پردوبارہ لگائیں
چوبیس گھنٹے بعد اچھی طرح صابن سے نہا کر دوائی کو صاف کر دیں اور صاف کپڑے پہن لیں
اتارے گئے کپڑوں کو گرم پانی سے دھوئیں اور اچھی طرح سے دھوپ لگوا دیں۔۔

دوائی ملنے سے لیکر صفائی کے اہتمام کو تین دن تک دھراتے رہیں۔۔۔

جب ایک بار اس سارے عمل سے گزر جائیں تو اس کیڑے کو گھر میں دوبارہ گھسنے سے روکنے کے لئے صفائی کا خاص رکھیں

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 10:00 - 11:00
Tuesday 10:00 - 11:00
Wednesday 10:00 - 11:00
Thursday 10:00 - 11:00
Friday 10:00 - 11:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Doctor Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Doctor Online:

Share