19/08/2026
اللہ رب العزت انسان کو دے کر بھی آزماتا ہے اور انسان سے کچھ لے کر بھی انسان کو آزمایا جاتا ہے۔
انسان دنیا میں آزمائش کے لیے ہی بھیجا گیا ہے۔
انسان آزمائش اسی کو خیال کرتا ہے جس میں اسے تکلیف محسوس ہوتی ہے اور وہ انسان کے طبع کے موافق نہیں ہوتی انسان کو اس میں مشقت اٹھانی پڑتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ طبع کے موافق چیزیں بھی اور جن سے انسان لذت اٹھاتا ہے وہ بھی انسان کے لیے ازمائش ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً {الأنبیاء:35}
اور فرمایا:
وَبَلَوْنَاهُم بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ {الأعراف:168}
🎙️*شیخ موهب الرحيم العادلي –حفظه الله–*
*مأخوذ از درس: نعمة الابتلاء*