Hakeem mehboob elahi

Call Directions

Hakeem mehboob elahi فاضل طب والجراحت رجسٹرڈ نیشنل کونسل فار طب ۔
رجسٹرڈ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن
تجربہ کارمعالج امراض معدہ جگر و مخصوصہ مردانہ.انفرٹیلٹی

یہ پیج عوام الناس کی صحت اور صحت کے مسائل پر طب یونانی (ہربل ) کے مطابق مفید مشاورت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے
اس پیج پر دی گئی معلومات کا مقصد ہرگز خود علاجی کی ترغیب نہیں ہے۔ مستند اور کوالیفائیڈ معالج سے مشاورت کے بغیر دوا لینے سے گریز فرمائیے۔
وارننگ:
یہاں دئے گئے نسخہ جات صرف مستند طبیب حضرات کے ساتھ نالج شیئرنگ کے نقطہ نظر سے دیے جاتے ہیں عام لوگ خود بنا کر ستعمال نہ کریں ۔

کیا آپ جانتے ہیں پتہ کی پتھری کن لوگوں میں زیادہ بنتی ہے ؟ یہ چھ ایف ہیں جنہیں پتھری بننے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں ۔اگر آپ...
08/09/2026

کیا آپ جانتے ہیں
پتہ کی پتھری کن لوگوں میں زیادہ بنتی ہے ؟
یہ چھ ایف ہیں جنہیں پتھری بننے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں ۔
اگر آپ بھی شامل ہیں تو جن چیزوں سے بچا جاسکتا ہے ان سے بچیں اور پتھری کے رسک کو کم از کم کریں
وہ چھ ایف یہ ہیں

​Female (خاتون):
خواتین میں مردوں کے مقابلے میں پتے کی پتھری بننے کا امکان دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ نسوانی ہارمون ایسٹروجن (Estrogen) ہے، جو صفراء (Bile) میں کولیسٹرول کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے اور پتے کی حرکت کو سست کر دیتا ہے۔
​Fat / Fatty
(موٹاپا یا اضافی چربی):
وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جگر صفراء میں زیادہ کولیسٹرول خارج کرنے لگتا ہے، جو جم کر پتھری کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
​Forty
(چالیس سال یا اس سے زیادہ عمر):
عمر کے ساتھ ساتھ جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے۔ 40 سال کی عمر کے بعد یا درمیانی عمر میں پتے کی پتھری بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
​Fertile
(بچے پیدا کرنے کی صلاحیت / حمل):
حمل (Pregnancy) کے دوران جسم میں پروجیسٹرون (Progesterone) اور ایسٹروجن ہارمونز کی سطح بہت بلند ہو جاتی ہے۔ پروجیسٹرون پتے کے سکڑنے کی صلاحیت کو کم کر دیتا ہے جس سے صفراء رکنے لگتا ہے اور پتھری بن جاتی ہے۔
​Fair
(روشن / گورا رنگ):
طبی تحقیق اور شماریات (Statistics) کے مطابق گوری یا روشن رنگت والے افراد یا جغرافیائی اعتبار سے مخصوص ریس (Caucasian) میں کولیسٹرول والی پتھری کا تناسب دیگر کے مقابلے میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔
​Family History
(خاندانی رجحان):
اگر خاندان میں والدین یا بہن بھائیوں میں پتے کی پتھری کا مسئلہ رہا ہو تو وراثتی طور پر اس کے امکانات کافی حد تک بڑھ جاتے ہیں۔
​مختصر خلاصہ:
اگر کسی خاتون کی عمر 40 سال کے قریب یا اس سے زیادہ ہو، وزن زیادہ ہو، بچوں والی ہو اور خاندانی ہسٹری بھی ہو، تو اس میں پتے کی پتھری بننے کے چانسز عام افراد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔
حکیم محبوب الہٰی
فاضل طب والجراحت

آج سے دہائیوں پہلے جب جدید ایلوپیتھک کی جدید تحقیقات  ذیابیطس  کو صرف لبلے کی خرابی کہہ کر لوگوں میں خوف پیدا کررہی تھیں...
08/09/2026

آج سے دہائیوں پہلے جب جدید ایلوپیتھک کی جدید تحقیقات ذیابیطس کو صرف
لبلے کی خرابی کہہ کر لوگوں میں خوف پیدا کررہی تھیں
اطباء اسے اس وقت بھی اس کی تین اقسام قرار دیا کرتے تھے
ذیابیطس اعصابی
اعصابی نظام کی خرابی کے باعث ہونے والی ذیابیطس
ذیابیطس معدی
نظام ہضم کی خرابی سے پیدا ہونے والی ذیابیطس
ذیابیطس کبدی
افعال جگر میں خرابی کے باعث پیداہونے والی شوگر
اور یہ سب ہماری پرانی طبی کتب میں موجود ہے ۔
اب آج ایک ڈاکٹر کی وڈیو دیکھی وہ کہہ رہے تھے ذیابیطس ٹائپ ٹو جو ہے یہ لبلبے کا مرض ہی نہیں ہے یہ تو معدہ اور آنت کا مرض ہے۔
مجھے بڑی ہنسی آئی کہ جو بات تم کئی دہائیوں بعد مان رہے ہو وہ ہم بہت پہلے کہہ رہے ہیں ۔لیکن ہیلتھ سسٹم پر قبضہ تمہارا ہے ۔ حکومتیں تمہیں سپورٹ کرتی ہیں اس لیے ہماری کون سنتا ہے خیر اس کی جو تفصیل یہ جدیدہ والے بتارہے ہیں وہ یوں ہے

ٹائپ 2 ذیابیطس (Type 2 Diabetes)

​روایتی طور پر ذیابیطس کو صرف لبلبے (Pancreas) اور انسولین کی کمی کا مرض سمجھا جاتا تھا، لیکن جدید میڈیکل سائنس یہ مانتی ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کی شروعات لبلبے سے نہیں بلکہ نظامِ ہضم (معدے، معدی نالی اور چھوٹی آنت) سے ہوتی ہے۔
​اس پورے میکانزم کی مکمل تفصیل درج ذیل ہے:
​1. چھوٹی آنت اور انکریٹن اثر (Incretin Effect)
​جب ہم کھانا کھاتے ہیں، تو غذا معدے سے ہوتی ہوئی چھوٹی آنت (Small Intestine) کے آخری حصے (Ileum) میں پہنچتی ہے۔ چھوٹی آنت کے مخصوص خلیے (L-Cells) غذا کی موجودگی کو محسوس کرتے ہی ایک ہارمون خارج کرتے ہیں جسے GLP-1 (Glucagon-like Peptide-1) کہا جاتا ہے۔
​عام اور صحت مند جسم میں GLP-1 درج ذیل اہم کام کرتا ہے:
​لبلبے کو سگنل دینا: یہ لبلبے کو پیغام بھیجتا ہے کہ خون میں شوگر آنے والی ہے، لہٰذا ضرورت کے مطابق انسولین خارج کی جائے۔
​گلوکاگون (Glucagon) کو روکنا: یہ جگر کو اضافی شوگر خون میں شامل کرنے سے روکتا ہے۔
​معدے کی حرکت کو سست کرنا: یہ معدے کو آہستہ آہستہ خالی کرتا ہے تاکہ خون میں شوگر دم دم سے نہ بڑھے۔
​دماغ کو بھوک کم کرنے کا سگنل: یہ دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو بھوک اور اشتہا کو کنٹرول کرتا ہے۔
​2. آنتوں سے مرض کا آغاز کیسے ہوتا ہے؟
​ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں بنیادی خرابی چھوٹی آنت سے شروع ہوتی ہے:
​GLP-1
کی کمی یا مزاحمت: غلط طرزِ زندگی، پروسیسڈ غذاؤں، معدے کے بیکٹیریا (Gut Microbiome) کے بگاڑ اور سوزش (Inflammation) کی وجہ سے چھوٹی آنت سے GLP-1 ہارمون کی پیداوار یا تو بہت کم ہو جاتی ہے یا اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔
​انسولین ریزسٹنس (Insulin Resistance):
جب آنتوں سے GLP-1 کا سگنل صحیح طرح لبلبے تک نہیں پہنچتا، تو لبلبہ خون میں بڑھی ہوئی شوگر کو قابو کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ انسولین بنانا شروع کر دیتا ہے۔ مسلسل زیادہ انسولین کی موجودگی کی وجہ سے جسم کے خلیے انسولین کو قبول کرنا بند کر دیتے ہیں، جسے انسولین ریزسٹنس کہتے ہیں۔
​لبلبے کا تھک جانا (Pancreatic Exhaustion):
انسولین ریزسٹنس اور GLP-1 کی عدم موجودگی کی وجہ سے لبلبے کے بی ٹا خلیوں (Beta Cells) پر سالہا سال اضافی بوجھ پڑتا ہے، جس کے بعد وہ آہستہ آہستہ کام کرنا کم کر دیتے ہیں۔
​یعنی لبلبے کی خرابی دراصل بیماری کی وجہ نہیں، بلکہ آنتوں کے بگاڑ اور انسولین ریزسٹنس کا نتیجہ (Effect) ہے۔
​
​خلاصہ
​ٹائپ 2 ذیابیطس بنیادی طور پر میٹابولک بگاڑ (Metabolic Disorder) ہے جس کی جڑیں معدے اور آنتوں کی صحت، غذا کی نوعیت اور آنتوں کے ہارمونز (GLP-1) سے جڑی ہیں۔ جب نظامِ ہضم میں یہ ہارمونل سگنل خراب ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں انسولین ریزسٹنس پیدا ہوتی ہے اور آخر میں لبلبہ متاثر ہوتا ہے۔
تو حضور طب کی دہائیاں پرانی کتب میں اطباء نے ذیابیطس کو اعصابی ۔ معدی کبدی میں تقسیم کیا تھا ۔
ذیابیطس معدی کو آج ایلوپیتھی نہ صرف تسلیم کررہی ہے بلکہ اب علاج میں ایسی ادویات شامل کی جارہی ہیں جن کا ایکشن GLP -1 جیسا ہے یعنی علاج معدے اور آنت کی طرف چلاگیا ہے ۔ جب کہ ہم دہائیوں سے مختلف جڑی بوٹیوں سے یہی کرتے ہیں
لیکن جیسا کہ مذکورہ بالا تحقیات میں بھی اب تسلیم کرلیا گیا ہے کہ یہ نظام ہضم کا مسلہ ہے تو یہ بات آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے کہ اسے ٹھیک کرنے کے لیے وہ تمام غذائیں چھوڑنا ضروری ہیں جو اس مسلے کو پیدا کررہی ہیں ۔
یہ ایک الگ لمبا موضوع ہے کہ کون کون سی غذائیں ہمارے جسمانی سسٹم میں کیا کیا خراںیاں پیدا کرتی ہیں ۔مختصر یہ ہے کہ ہماری زندگی سے قدرتی چیزوں کو نکال کر کیمیکل زدہ کھانے شامل کرکے جسم کو بیماریوں کی آماج گاہ بنا دیا گیا اور دواساز اداروں نے روزانہ دوائی پر لگا کر بلین ڈالرز کا دھندہ کھڑا کرلیا ہے ۔
آپ ایلوپیتھی یا ہربل کو سائیڈ پر کر دیں ۔ اس بحث کو چھوڑیں ۔ صرف اتنا کریں اپنے لائف سٹائل کو بدلیں بالکل نیچرل غذاؤں پر شفٹ ہوں آپ کی ستر فیصد بیماریاں بغیر کسی بھی علاج کے ختم۔ہونا شروع ہوجائیں گی ۔
حکیم محبوب الہٰی
فاضل طب والجراحت
ترجمان وفاق اطباء پاکستان

ہربل طریقہ علاج نہ صرف صدیوں سے آزمودہ ہے بلکہ مکمل سائٹیفک بھی ہے آج کل ایک دو نفسیاتی مریض جو بظاہر میڈیکل کے ڈگری ہول...
05/08/2026

ہربل طریقہ علاج نہ صرف صدیوں سے آزمودہ ہے بلکہ مکمل سائٹیفک بھی ہے آج کل ایک دو نفسیاتی مریض جو بظاہر میڈیکل کے ڈگری ہولڈر ہیں اپنی پیتھی کی پریکٹس کرنے کی بجائے اپنی توانائیاں ہربل کے خلاف پراپیگنڈہ پر ضائع کررہے ہیں ۔ اور اسے غلط غیر سائنسی قرار دینے کے لیے اتاولے ہو رہے ہیں ۔
ہر طریقہ علاج کی اپنی خوبیاں بھی ہیں ۔ اور کمزوریاں بھی ہیں ۔ہمارا کام اپنی پیتھی کو مزید نکھارنا ہے اور انسانیت کی بہتر خدمت ہے ۔
خیر چھوڑیے ہم کام کی بات کرتے ہیں
اور وہ یہ کہ انسولین کی مزاحمت (Insulin Resistance) کو کم کرنے اور خلیات (Cells) کی انسولین حساسیت (Insulin Sensitivity) کو بڑھانے کے لیے مستند اور سائنسی تحقیقات سے ثابت شدہ امر یہ ہے کہ بہت ساری جڑی بوٹیاں انسولین کے خلاف خلیاتی مزاحمت کو کم کرکے شوگر کو موثر طریقے سے کنٹرول کرتی ہیں
آئیے ان میں سے چند جڑی بوٹیوں کا ذکر کرتے ہیں ۔
درج ذیل جڑی بوٹیوں (Herbs) کو سب سے زیادہ فعال اور سائنسی طور پر ثابت شدہ تسلیم کیا گیا ہے:

​۱. دار چینی (Cinnamon)

​طریقہ کار: دار چینی میں Methylhydroxychalcone Polymer (MHCP) نامی ایک مرکب پایا جاتا ہے جو جسم میں انسولین کی نقل (Mimic) کرتا ہے۔

​فائدہ: یہ خلیات کا ڈور (Receptor) کھول کر گلوکوز کو سیل کے اندر داخل ہونے میں مدد دیتی ہے، جس سے خون میں شوگر کی مقدار کم ہوتی ہے اور انسولین ریزسٹنس میں واضح کمی آتی ہے۔

​۲. میتھی دانہ (Fenugreek)

​طریقہ کار: میتھی دانے میں 4-hydroxyisoleucine نامی امینو ایسڈ اور وافر مقدار میں حل پذیر فائبر (Soluble Fiber) موجود ہوتا ہے۔

​فائدہ: یہ آنتوں میں شوگر کے جذب ہونے کی رفتار کو سست کرتا ہے اور لبلبے سے انسولین کے صحیح اخراج اور استعمال کو بہتر بناتا ہے۔

​۳. کریلہ / تخمِ کریلہ (Bitter Melon)

​طریقہ کار: کریلے میں تین اہم فعال اجزاء پائے جاتے ہیں: چارنٹن (Charantin)، وائسین (Vicine)، اور پولی پیپٹائڈ-پی (Polypeptide-p) (جسے نباتاتی انسولین بھی کہا جاتا ہے)۔

​فائدہ: یہ جگر اور مسلز میں انسولین کے سگنلنگ پاتھ وے (Signaling Pathway) کو فعال کر کے انسولین ریزسٹنس کو کم کرتا ہے۔

​۴. ہلدی / کرکومن (Turmeric / Curcumin)

​طریقہ کار: انسولین ریزسٹنس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک جسم میں اندرونی سوزش (Systemic Inflammation) ہے۔ ہلدی کا بنیادی جز Curcumin ایک بہترین اینٹی سوزش اور اینٹی آکسیڈینٹ ہے۔

​فائدہ: یہ فیٹی ٹشوز اور جگر کی سوزش کو ختم کر کے انسولین ریسیپٹرز کی کارکردگی کو بحال کرتا ہے۔

​۵. گڑ مار بوٹی (Gymnema Sylvestre)

​طریقہ کار: اسے سنسکرت اور طبی دنیا میں گڑمار یعنی شوگر کو مارنے والی) کہا جاتا ہے۔ اس میں Gymnemic Acid ہوتا ہے۔

​فائدہ: یہ آنتوں میں شوگر کے مالیکیولز کو بائنڈ (Bind) ہونے نہیں دیتی اور لبلبے کے بیٹا سیلز (Beta Cells) کی بحالی میں مددگار ثابت ہوتی ہے جس سے انسولین ریزسٹنس ٹوٹتی ہے۔

​۶. دار ہلدی / رسونت (Berberis Aristata / Berberine)

​طریقہ کار: دار ہلدی اور زرشک میں بربرین (Berberine) نامی الکلائیڈ پایا جاتا ہے۔

​فائدہ: جدید سائنس کے مطابق بربرین جسم کے اندر AMPK (ایک اہم میٹابولک انزائم) کو فعال کرتی ہے۔ AMPK جسم میں بالکل ایسے کام کرتا ہے جیسے شوگر کی مشہور دوا (Metformin) کام کرتی ہے، یعنی یہ جگر میں گلوکوز بننے کی رفتار کو کم کرتی ہے اور مسلز میں انسولین کی حساسیت بڑھاتی ہے۔
احتیاط
اوپر بیان کردہ جڑی بوٹیاں شاندار نتائج کی حامل ہیں اس لیے کسی ایلوپیتھی دوا کے ساتھ لینے سے ممکنہ طور پر شوگر کا لیول زیادہ نیچے گر سکتا ہے۔ اور ہائپو گلائسیمیا ہو سکتا ہے جو ایک خطرناک صورتحال ہوسکتی ہے ۔اس لیے ان ہربز کا استعمال مستند معالج کے مشورے سے ہی کریں ۔ کیونکہ ہر مریض کا شوگر لیول الگ ہوتا ہے جسمانی حالت ۔ شوگر سے پیدا شدہ پیچیدگیاں ۔ شوگر کے علاوہ دیگر مسائل سب میں الگ ہوتے ہیں۔ ان سب چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی ایک مستند طبیب نسخہ تشکیل دیتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ نسخہ میں کس ہرب کو کتنی مقدار میں شامل کیا جائے ۔مریض کی کنڈیشن کے مطابق نسخہ میں معاون ادویات مصلح ادویات شامل کرتا ہے ڈوز سیٹ کرتا ہے ڈوز کا دورانیہ طے کرتا ہے ۔یہ پورا علم ہے ۔ محض جڑی بوٹی کی افادیت معلوم ہوجانا کافی نہیں ۔اس لیے علاج کے لیے ہمیشہ مستند طبیب سے رجوع کریں ۔
دوسرا پہلو اس سے بھی اہم ہے کہ کافی سارے پنسار سٹورز غلط جڑی بوٹی بھی دے دیتےہیں ۔جیسا کہ میتھی دانہ کی بجائے شٹالے کے بیج بیچ دینا کافی عام ہے ۔ خود علاجی سے فائدے کی بجائے نقصان ہوسکتا ہے ۔
اللہ کریم آپ سب کو صحت وسلامتی والی لمبی عمر عطا فرمائے
حکیم محبوب الہٰی
فاضل طب والجراحت

https://oladoc.com/pakistan/lahore/dr/naturopathic-doctor/mahboob-elahi/3533284

آج کل جو سیزن چل رہا ہے اس میں پیٹ کی خرابیوں کے کافی کیسز آرہے ہیںعلامات پانی جیسے پتلے موشن آنا یا پیٹ میں درد کے ساتھ...
19/05/2026

آج کل جو سیزن چل رہا ہے اس میں پیٹ کی خرابیوں کے کافی کیسز آرہے ہیں
علامات
پانی جیسے پتلے موشن آنا یا پیٹ میں درد کے ساتھ لوز موشن ہونا یا قے ہونا۔ان علامات میں ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ
قے آنے سے یا اسہال سے سب سے بڑا خطرہ جسم میں پانی اور نمکیات کمی ہوتا ہے پانی کی شدید کمی سے گردے متاثر ہو سکتے ہیں اور نمکیات کے توازن بگڑنے سے دل کی دھڑکن بے قاعدہ ہو سکتی ہے
اس کا حل کیا ہے ؟
جونہی بچے کو یا کسی بڑے کو لوز موشن آئیں یا قے آئے تو فوری طور پر اسے
او آر ایس یعنی نمکول پلانا شروع کر دیں
اور وقفے وقفے سے بار بار پلائیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو علاج کے معاملے میں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ محلے کے کسی عطائی سے موشن روکنے کی دوائی لینا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ پیچش کو کسی دوائی سے فوری روک دینا علاج نہیں ہے اس سے پیٹ میں موجود انفیکشن بڑھ سکتا ہے اور بچے کا پیٹ بھول جائے گا تکلیف بڑھ جائے گی اصل علاج انفیکشن کو دور کرنا ہے۔ اس لیے ہمیشہ مستند معالج سے رجوع کریں۔
پانی کی کمی کی علامات
اگر بچے نے چار گھنٹے یا چھ گھنٹے سے چھوٹا پیشاب کھل کر نہیں کیا ہے تو یہ پانی کی شدید کمی کی علامات ہیں۔
اس کے ہونٹ خشک ہو رہے ہیں آنکھیں خشک ہو رہی ہیں بچہ روتا ہے آنسو نہیں نکل رہے ۔یا نڈھال ہو رہا ہے تو بچے کو فوری طور پر قریبی ہاسپٹل منتقل کریں

اگر بچے نے گزشتہ چار گھنٹے میں ایک بار بھی کھل کر پیشاب کیا ہے بچہ چاک و چوبند ہے چست ہے اس کی جلد خشک نہیں اس کے ہونٹ خشک نہیں تو خطرے کی کوئی بات نہیں ہے
اپنے گھر میں او آر ایس کے دو پیکٹ لازمی رکھیں جو کسی بھی ایمرجنسی میں آپ کے کام ا سکتے ہیں او آر ایس بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ
ایک لیٹر پانی کو ابال کر ٹھنڈا کر لیجئے اور اس میں ایک پیکٹ او آر ایس گھول لیں اب اس کو وقفے وقفے سے بچے کو پلائیں۔
حکیم محبوب الہٰی

14/05/2026

14/05/2026
اٹھرا کے لیے ہمارا دو دہائیوں  سے آزمودہ اور معمول مطب نسخہ صرف ایک کیپسول روزانہ  کھانا ہے ایک ماہ کا نصاب معہ کوریئر چ...
13/05/2026

اٹھرا کے لیے ہمارا دو دہائیوں سے آزمودہ اور معمول مطب نسخہ
صرف ایک کیپسول روزانہ کھانا ہے
ایک ماہ کا نصاب معہ کوریئر چارجز
صرف 2000 روپے
03004666421

Address

Ahmad Dawakhana Kahara Choungi Khara Road Kasur
Kasur
55050

Opening Hours

Monday 10:00 - 13:00
16:00 - 21:00
Tuesday 10:00 - 13:00
16:00 - 21:00
Wednesday 10:00 - 13:00
16:00 - 21:00
Thursday 10:00 - 13:00
16:00 - 21:00
Friday 16:00 - 20:00
Saturday 10:00 - 13:00
16:00 - 21:00

Telephone

03004666421

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem mehboob elahi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category