اویسیہ دواخانہ

اویسیہ دواخانہ Awaisea Dawakhana — Established in 1970

اویسیہ دواخانہ


شفا کی روایت — Since 1970

1970ء میں معروف حکیم "حکیم غلام رسول (مرحوم)" نے اویسیہ دواخانہ کی بنیاد رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے ہاتھ میں بے شمار مریضوں کے لیے شفا رکھی، اور اُن کے علم، تجربے، دیانت اور خلوص کی بدولت اُن کی حکمت کا چرچا پنجاب کے دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ یہی اعتماد اور کامیابی اویسیہ دواخانہ کی پہچان بنی۔
اُن کے وصال کے بعد اُن کے جانشینوں نے اس عظیم مشن کو پوری

ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا۔ باقاعدہ حکمت کی تعلیم، عملی تجربے اور حکومتِ پاکستان کے قانونی اجازت نامے (لائسنس) کے تحت آج بھی اویسیہ دواخانہ اسی اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ مریضوں کی خدمت کر رہا ہے۔
الحمدللہ آج اویسیہ دواخانہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے مریضوں کو بھی طبی مشاورت اور معیاری یونانی و قدرتی ادویات فراہم کر رہا ہے۔ روزانہ بے شمار مریض فون، واٹس ایپ اور دیگر ذرائع سے رابطہ کرتے ہیں، اپنی رپورٹس بھیجتے ہیں، مشورہ حاصل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے صحت یاب ہوتے ہیں۔
ہمارا عزم
ہماری کوشش ہے کہ ہر مریض کو اس کی طبیعت اور ضرورت کے مطابق معیاری، محفوظ اور مؤثر علاج فراہم کیا جائے، تاکہ وہ صحت مند، پُرسکون اور خوشحال زندگی گزار سکے۔
اویسیہ دواخانہ گزشتہ پانچ دہائیوں سے اعتماد، تجربے اور خدمتِ انسانیت کی ایک روشن روایت کا نام ہے، اور ان شاء اللہ یہ سفر آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔
اویسیہ دواخانہ
Since 1970
اعتماد • تجربہ • خدمت • شفا

04/08/2026
17/07/2026
10/07/2026

# بواسیر: ایک خاموش مگر قابلِ علاج مرض

بواسیر ان بیماریوں میں سے ایک ہے جو ابتدا میں معمولی محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو رفتہ رفتہ مریض کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر دیتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ شرم یا جھجک کی وجہ سے اس مرض کا ذکر کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بیماری بڑھتی رہتی ہے اور بعد ازاں علاج نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک تجربہ کار حکیم کی نظر میں بواسیر محض مقعد کی رگوں کی سوجن کا نام نہیں، بلکہ یہ جسم کے اندر پیدا ہونے والی کئی خرابیوں، خصوصاً قبض، نظامِ ہضم کی کمزوری، خون کی حدت اور غلط طرزِ زندگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔

بواسیر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مقعد اور آخری آنت کی رگوں پر مسلسل دباؤ پڑنے کے باعث وہ پھیل جاتی ہیں، اپنی قدرتی مضبوطی کھو بیٹھتی ہیں اور ان میں سوجن پیدا ہو جاتی ہے۔ ابتدا میں مریض کو صرف رفع حاجت کے دوران ہلکی سی تکلیف یا تازہ سرخ خون کے چند قطرے نظر آتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی کیفیت درد، جلن، خارش، سوجن اور گلٹیوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ بعض مریضوں میں یہ گلٹیاں اندر رہتی ہیں جبکہ بعض میں باہر نکل آتی ہیں، جس سے چلنا پھرنا، بیٹھنا اور روزمرہ کے معمولات بھی دشوار ہو جاتے ہیں۔

اس مرض کی سب سے بڑی وجہ مسلسل قبض ہے۔ جب سخت پاخانہ زور لگا کر خارج کیا جاتا ہے تو مقعد کی رگوں پر غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے، جو رفتہ رفتہ انہیں کمزور کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ پانی کم پینا، سبزیوں اور فائبر والی غذا سے پرہیز، زیادہ مرچ مصالحے، فاسٹ فوڈ، مسلسل بیٹھ کر کام کرنا، جسمانی مشقت کی کمی، موٹاپا، حمل، وزن اٹھانے کی عادت اور رفع حاجت کے دوران زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا بھی بواسیر پیدا ہونے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ حکمت کی رو سے خون کی گرمی، خشکیِ مزاج، جگر کی کمزوری اور نظامِ ہضم کی خرابی بھی اس بیماری کے پسِ پردہ اہم عوامل تصور کیے جاتے ہیں۔

بواسیر کی علامات ہر مریض میں یکساں نہیں ہوتیں، لیکن عموماً رفع حاجت کے دوران تازہ خون آنا، مقعد میں درد، جلن، خارش، سوجن، گلٹی محسوس ہونا، بیٹھنے میں دشواری، رفع حاجت کے بعد بھی مکمل صفائی کا احساس نہ ہونا اور بعض اوقات رطوبت کا اخراج اس کی نمایاں علامات ہیں۔ اگر خون مسلسل آتا رہے تو مریض آہستہ آہستہ خون کی کمی، کمزوری، چکر آنے اور تھکن کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

حکمت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ صرف ظاہری علامات کو ختم کرنا کافی نہیں، بلکہ بیماری کی اصل وجہ کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اگر قبض اپنی جگہ موجود رہے، ہاضمہ خراب رہے اور غذائی بے احتیاطی جاری رہے تو وقتی آرام کے باوجود بیماری دوبارہ لوٹ سکتی ہے۔ اسی لیے ایک ماہر حکیم علاج کے آغاز میں معدہ، جگر اور آنتوں کی اصلاح پر توجہ دیتا ہے، قبض کا خاتمہ کرتا ہے، خون کی حدت کو معتدل کرتا ہے، سوجن کم کرتا ہے اور رگوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ مرض جڑ سے ختم ہو اور دوبارہ پیدا ہونے کے امکانات کم سے کم رہ جائیں۔

غذا بواسیر کے علاج میں دوا سے کم اہم نہیں۔ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا، سبز پتوں والی سبزیاں، دلیہ، جَو، انجیر، آلو بخارا، پپیتا، سیب، ناشپاتی اور فائبر سے بھرپور غذاؤں کا استعمال آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتا ہے اور قبض سے بچاتا ہے۔ اس کے برعکس زیادہ مرچ مصالحے، بازاری کھانے، خشک اور تلی ہوئی غذائیں، سگریٹ، تمباکو اور پانی کی کمی بیماری کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح روزانہ کم از کم تیس منٹ کی چہل قدمی، وزن کو متوازن رکھنا اور رفع حاجت کی خواہش کو نہ روکنا بھی اس مرض سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہر وہ خون جو رفع حاجت کے دوران آئے، ضروری نہیں کہ بواسیر ہی کی علامت ہو۔ بعض اوقات مقعد کی دراڑ، آنتوں کی سوزش، پولپس یا بڑی آنت کی دیگر بیماریاں بھی خون آنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس لیے اگر خون زیادہ مقدار میں آئے، شدید درد ہو، گلٹی مستقل باہر رہے، بخار ہو، یا خون آنے کا سلسلہ بار بار جاری رہے تو خود علاج کرنے کے بجائے مستند معالج سے مکمل معائنہ کروانا نہایت ضروری ہے۔

مختصراً کہا جائے تو بواسیر ایک ایسی بیماری ہے جس کا بروقت علاج، مناسب غذا، متوازن طرزِ زندگی اور صحیح تشخیص کے ذریعے کامیابی سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیے، شفا صرف دوا میں نہیں بلکہ صحیح پرہیز، متوازن خوراک، باقاعدہ ورزش، قبض سے حفاظت اور معالج کی ہدایات پر عمل کرنے میں بھی پوشیدہ ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جن پر عمل کر کے نہ صرف بواسیر سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ اس کے دوبارہ ہونے کے امکانات کو بھی نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

10/07/2026

سر درد: ایک معمولی تکلیف یا کسی بڑی خرابی کی علامت؟

سر درد ایک ایسی شکایت ہے جس کا سامنا تقریباً ہر انسان اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی ضرور کرتا ہے۔ بعض اوقات یہ صرف تھکن، نیند کی کمی یا ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات یہی درد جسم کے اندر موجود کسی بڑی خرابی کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے۔ اس لیے سر درد کو ہمیشہ معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔

آج کی مصروف زندگی میں موبائل، کمپیوٹر، بے وقت کھانا، کم پانی پینا، رات دیر تک جاگنا اور مسلسل ذہنی دباؤ سر درد کی عام وجوہات بن چکی ہیں۔ اس کے علاوہ قبض، معدے کی خرابی، آنکھوں کی کمزوری، بلڈ پریشر میں کمی یا زیادتی، اور موسم کی شدت بھی سر درد کا سبب بن سکتی ہے۔

حکمت کی نظر میں سر درد

قدیم طبِ یونانی کے مطابق سر درد صرف سر کا مسئلہ نہیں بلکہ اکثر پورے جسم کے نظام میں خرابی کی علامت ہوتا ہے۔ جب معدہ درست کام نہ کرے، قبض ہو جائے، جسم میں غیر ضروری مادے جمع ہو جائیں یا اعصاب کمزور ہو جائیں تو اس کا اثر سر پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اسی لیے صرف درد کش دوا کھا لینے سے وقتی آرام تو مل جاتا ہے، لیکن اصل وجہ ختم نہیں ہوتی۔

سر درد سے بچاؤ کے آسان اصول

✔ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پئیں۔
✔ رات کو وقت پر سوئیں اور کم از کم 7 سے 8 گھنٹے آرام کریں۔
✔ کھانا وقت پر کھائیں اور زیادہ چکنائی والی غذا سے پرہیز کریں۔
✔ چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس کا ضرورت سے زیادہ استعمال نہ کریں۔
✔ روزانہ ہلکی پھلکی واک یا ورزش کو معمول بنائیں۔
✔ ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے کچھ وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر، تلاوت اور گہری سانس لینے کی مشق کے لیے ضرور نکالیں۔

چند گھریلو مفید تدابیر

اگر سر درد معمولی نوعیت کا ہو تو ٹھنڈے پانی کی پٹی ماتھے پر رکھنا، مناسب آرام کرنا، پانی پینا اور ہلکی غذائیں استعمال کرنا فائدہ دے سکتا ہے۔ بعض افراد کو ادرک یا پودینے کا قہوہ بھی سکون پہنچاتا ہے، تاہم ہر نسخہ ہر شخص کے لیے یکساں مفید نہیں ہوتا۔

اہم بات

اگر سر درد بار بار ہو، کئی دن تک برقرار رہے، اچانک بہت شدید ہو جائے، اس کے ساتھ نظر دھندلی ہونے لگے، ہاتھ پاؤں میں کمزوری محسوس ہو، بخار یا الٹی بھی ہو، یا بلڈ پریشر کا مسئلہ ہو تو خود علاج کرنے کے بجائے فوراً مستند ڈاکٹر یا ماہر حکیم سے معائنہ کروائیں، کیونکہ بعض اوقات یہ کسی سنجیدہ بیماری کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

یاد رکھیں!

صحت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ متوازن غذا، مناسب نیند، ذہنی سکون اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرکے نہ صرف سر درد بلکہ بہت سی بیماریوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

اویسیہ دواخانہ
"شفا کی روایت، اعتماد کے ساتھ"
Since 1970

 # معدہ — صحت کا محافظ یا بیماریوں کا دروازہ؟**تحریر: طبی و صحت عامہ کے موضوع پر ایک علمی مضمون**قدرت نے انسانی جسم کو ا...
08/07/2026

# معدہ — صحت کا محافظ یا بیماریوں کا دروازہ؟

**تحریر: طبی و صحت عامہ کے موضوع پر ایک علمی مضمون**

قدرت نے انسانی جسم کو ایک نہایت باریک اور حیرت انگیز نظام پر قائم فرمایا ہے۔ اس نظام میں معدہ وہ مرکز ہے جہاں غذا قوت میں، اور قوت زندگی میں تبدیل ہوتی ہے۔ اگر معدہ اپنی فطری حالت پر قائم رہے تو بدن میں نشاط، خون میں پاکیزگی اور اعضاء میں توانائی برقرار رہتی ہے، لیکن جب یہی عضو کمزور پڑ جائے تو جسم آہستہ آہستہ بیماریوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے اہلِ طب نے معدے کو صحت کا دروازہ قرار دیا ہے۔

آج کے دور میں معدے کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ہماری بدلتی ہوئی غذائی عادات، بے ترتیبی، ذہنی دباؤ اور مصنوعی طرزِ زندگی ہے۔ فاسٹ فوڈ، بازاری مشروبات، ضرورت سے زیادہ مرچ مصالحہ، بے وقت کھانا، رات گئے تک جاگنا اور جسمانی مشقت سے دوری وہ عوامل ہیں جو معدے کی فطری قوت کو بتدریج کمزور کر دیتے ہیں۔

معدے کی عام بیماریوں میں تیزابیت، معدے کی سوزش (گیسٹرائٹس)، معدے کا السر، بدہضمی، معدے کے انفیکشن اور بعض اوقات معدے کا کینسر بھی شامل ہے۔ اگرچہ کینسر نسبتاً کم پایا جاتا ہے، مگر اس کی بروقت تشخیص نہایت ضروری ہے۔

معدے کی خرابی کی علامات اکثر ابتدا میں معمولی محسوس ہوتی ہیں، جیسے سینے میں جلن، کھٹی ڈکاریں، پیٹ میں درد یا بوجھ، گیس، اپھارہ، متلی، قے یا بھوک میں کمی۔ لیکن اگر وزن مسلسل کم ہونے لگے، خون کی قے آئے یا پاخانہ سیاہ ہو جائے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے اور ایسے میں فوراً مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

حکمت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ غذا ہی دوا ہے، بشرطیکہ اعتدال اور اصول کے ساتھ کھائی جائے۔ مقررہ وقت پر کھانا، اچھی طرح چبا کر کھانا، پیٹ کو حد سے زیادہ نہ بھرنا، صاف پانی استعمال کرنا اور سادہ، تازہ غذا کو ترجیح دینا معدے کی بہترین حفاظت ہے۔ اسی طرح تمباکو نوشی، نشہ آور اشیاء اور درد کش ادویات کا بلا ضرورت استعمال معدے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

روایتی طور پر سونف، اجوائن، زیرہ اور سبز الائچی کو ہاضمے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، جبکہ نیم گرم پانی، ہلکی چہل قدمی اور قبض سے بچاؤ بھی نظامِ ہضم کو بہتر رکھنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ معاون تدابیر ہیں، مستقل علاج کا متبادل نہیں۔ اگر علامات بار بار ظاہر ہوں یا شدت اختیار کریں تو مکمل طبی معائنہ ضروری ہے، کیونکہ بعض مریضوں میں *Helicobacter pylori* نامی بیکٹیریا بھی السر اور معدے کی سوزش کا سبب بنتا ہے، جس کا مناسب علاج صرف مستند طبی رہنمائی سے ہی ممکن ہے۔

یاد رکھیں! صحت مند معدہ صرف اچھی غذا سے نہیں بلکہ متوازن طرزِ زندگی، ذہنی سکون، مناسب آرام اور اعتدال سے قائم رہتا ہے۔ جو شخص اپنے معدے کی حفاظت کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے پورے جسم کی حفاظت کرتا ہے، کیونکہ تندرست معدہ ہی صحت مند زندگی کی بنیاد ہے۔

Address

Hospital Chowk Malkah
Kharian
50090

Opening Hours

Monday 08:00 - 18:00
Tuesday 08:00 - 18:00
Wednesday 08:00 - 18:00
Thursday 08:00 - 18:00
Friday 08:00 - 18:00
Saturday 08:00 - 18:00
Sunday 08:00 - 18:00

Telephone

+923456922868

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اویسیہ دواخانہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to اویسیہ دواخانہ:

Shortcuts

Share