Al SAAD Medical Centre

Al SAAD Medical Centre 24 hours service

📢 خوشخبری خوشخبری خوشخبری 📢🏥 السعد میڈیکل سنٹر فری چیک اپ کیمپ 🏥✨ ڈاکٹر سعد ملک کی زیر نگرانی مفت چیک اپ کا خصوصی انتظام...
05/09/2026

📢 خوشخبری خوشخبری خوشخبری 📢

🏥 السعد میڈیکل سنٹر فری چیک اپ کیمپ 🏥

✨ ڈاکٹر سعد ملک کی زیر نگرانی مفت چیک اپ کا خصوصی انتظام!

🗓️ ہر اتوار ⏰ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک

👨‍⚕️ Dr Saad Malik
MBBS, MD, RMP, PMDC

✅ امراضِ معدہ و جگر
✅ شوگر
✅ بلڈ پریشر
✅ دمہ و الرجی
✅ دل کی بیماری
✅ خواتین و مردانہ امراض
✅ جوڑوں اور ہڈیوں کے مسائل
✅ اور دیگر عمومی امراض

🎁 لیب ٹیسٹ پر 40% تک ڈسکاؤنٹ

📍 مقام: جھوک روڈ، کوٹ چٹھہ

📞 رابطہ:7134330 -0330

اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی صحت کا خیال رکھیں۔ مفت چیک اپ کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور بروقت تشخیص کے ذریعے بہتر صحت کی جانب قدم بڑھائیں۔

02/09/2026

بچے کی آنتوں میں پہلی ننھی دنیا کہاں سے آتی ہے؟ — نئی تحقیق میں ماں کا حیرت انگیز کردار
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

جب ایک نومولود بچہ دنیا میں آتا ہے، تو صرف اس کا اپنا جسم ہی نشوونما نہیں پا رہا ہوتا، بلکہ اس کے اندر ایک اور پوری دنیا بھی آہستہ آہستہ آباد ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

یہ دنیا ہمیں عام آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی۔ اس میں بیکٹیریا (Bacteria) اور دوسرے بے شمار ننھے جاندار شامل ہوتے ہیں، جو وقت کے ساتھ بچے کی آنتوں میں ایک پیچیدہ نظام اور بستی بنا لیتے ہیں۔ سائنس کی زبان میں اسے مائیکرو بایوم (Microbiome) کہا جاتا ہے۔

یہ جراثیم پیٹ میں بیٹھے کوئی فالتو مسافر نہیں ہوتے۔ ان میں سے بہت سے جراثیم ہماری خوراک ہضم کرنے، بیماریوں سے لڑنے والے نظام (Immune System) کو سکھانے اور جسم کے دوسرے کئی اہم کاموں میں بڑا حصہ لیتے ہیں۔

لیکن ایک بنیادی سوال ایک عرصے سے سائنس دانوں کو الجھائے ہوئے تھا: بچے کی آنتوں میں شروع میں آباد ہونے والے یہ جراثیم آخر آتے کہاں سے ہیں؟

اگست 2026ء میں مشہور سائنسی جریدے نیچر (Nature) میں شائع ہونے والی ایک بڑی تحقیق نے اس سوال کا بہت دلچسپ جواب دیا ہے۔

714 ماؤں اور بچوں کا ایک سال تک طویل مطالعہ
یہ کوئی چند بچوں پر کیا گیا چھوٹا موٹا تجربہ نہیں تھا۔ نیدرلینڈز میں ہونے والے ایک بڑے تحقیقی منصوبے میں سائنس دانوں نے 714 ماؤں اور ان کے بچوں کا تفصیلی مطالعہ کیا۔

حمل کے 12ویں ہفتے سے لے کر بچے کی پیدائش کے بعد ایک سال تک مختلف اوقات میں ان کے ٹیسٹ لیے گئے۔ مجموعی طور پر ماؤں اور بچوں کے پاخانے کے 4,526 نمونوں کا جینیاتی ٹیسٹ (Genetic Analysis) کیا گیا۔

اس کے علاوہ ماں کے دودھ اور پیدائشی راستے (Va**na) کے جراثیم کا بھی بہت گہرائی سے مطالعہ کیا گیا، جبکہ خوراک، پیدائش کے طریقے، بیماریوں، سگریٹ نوشی، دودھ پلانے کی عادت اور گھر کے ماحول جیسی 474 مختلف باتوں کو بھی تحقیق میں شامل کیا گیا۔ اس ساری محنت کا مقصد صرف یہ جاننا تھا کہ بچے کی آنتوں میں بسنے والے یہ جراثیم کن ذرائع سے آتے ہیں اور کن چیزوں کی وجہ سے ان کی بناوٹ میں تبدیلی آتی ہے۔

جراثیم کا سب سے بڑا خزانہ ماں کی آنت نکلی
تحقیق کے نتائج میں سب سے نمایاں بات یہ سامنے آئی کہ بچے کی آنتوں میں پائے جانے والے زیادہ تر جراثیمی خاندانوں کا سب سے بڑا معلوم ذریعہ خود ماں کی اپنی آنتوں کا مائیکرو بایوم تھا۔

سائنس دانوں نے صرف یہ نہیں دیکھا کہ ماں اور بچے دونوں میں ایک ہی قسم کا بیکٹیریا موجود ہے، بلکہ انہوں نے جراثیم کی بہت باریک جینیاتی پہچان کی—جسے ہم آسان زبان میں کسی جرثومے کا مخصوص 'خاندانی نشان' یا فنگر پرنٹ کہہ سکتے ہیں۔

بہت سے مواقع پر انہوں نے دیکھا کہ بچے کے اندر موجود جرثومے کا یہی مخصوص نشان بالکل ماں کی آنت میں موجود جرثومے سے ملتا تھا۔ جس جرثومے کی مقدار ماں کی آنت میں جتنی زیادہ ہوتی، اس کے بچے تک پہنچنے کا امکان بھی اتنا ہی زیادہ نظر آیا۔

یوں ماں صرف بچے کو اپنی شکل و صورت اور خوبیاں (Genetics) ہی وراثت میں نہیں دیتی؛ بلکہ پیدائش کے آس پاس اور ابتدائی زندگی میں ماں کے ساتھ رہنے والی یہ ننھے جانداروں کی دنیا بھی بچے کے اپنے جراثیمی نظام کو بنانے میں نہایت اہم حصہ ڈالتی دکھائی دیتی ہے۔

کیا سارے جراثیم پیدائش کے وقت ہی مل جاتے ہیں؟
جی نہیں۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ماں اور بچے کے درمیان جراثیم کا یہ لین دین وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔

بچے کی آنتوں کا مائیکرو بایوم کوئی تیار شدہ بنی بنائی چیز نہیں ہے جو پیدائش کے پہلے ہی دن مکمل ہو جائے۔ زندگی کے ابتدائی ہفتوں اور مہینوں میں اس کی بناوٹ مسلسل بدلتی رہتی ہے۔

بچہ اپنی ماں، خوراک، گھر کے ماحول، دوسرے لوگوں اور ممکنہ طور پر کئی دوسرے ذرائع سے نئے جراثیم حاصل کرتا رہتا ہے۔ اسی لیے ایک سال کے بچے کی آنتوں کا نظام ایک نومولود بچے سے بہت حد تک مختلف ہو سکتا ہے۔

تو پھر پیدائش کے طریقے کا کیا کردار ہے؟
یہاں تحقیق نے ایک اہم فرق واضح کیا۔ ماں کے پیدائشی راستے اور دودھ میں بھی ایسے جراثیم موجود تھے جو بعض بچوں میں منتقل ہوئے، لیکن مجموعی طور پر اس تحقیق میں ان دونوں ذرائع سے براہِ راست ملنے والے مخصوص جراثیم قدرے کم تھے۔ اس کے مقابلے میں ماں کی آنت زیادہ بڑا خزانہ ثابت ہوئی۔

لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ نارمل ڈلیوری یا ماں کا دودھ غیر اہم ہیں۔ تحقیق نے ثابت کیا کہ نارمل پیدائش یا آپریشن (C-section) کے ذریعے پیدائش اور ماں کا دودھ یا ڈبے کا دودھ، بچے کے اندر جراثیم کی اس دنیا کی مجموعی ساخت پر اہم اثر ڈالنے والے عوامل میں شامل تھے۔

یعنی اہم سوال صرف یہ نہیں کہ کون سا جرثومہ کہاں سے آیا، بلکہ یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ بچے کی آنت کے اندر کون سا ماحول موجود ہے، جس میں کچھ جراثیم آسانی سے اپنی جگہ بنا سکتے ہیں اور کچھ نہیں۔

ماں کی آنت سے بچے تک یہ جراثیم کیسے پہنچتے ہیں؟
یہ سوال ابھی پوری طرح حل نہیں ہوا۔ جراثیم کی آپس میں ملکی جلتی علامات (جینیاتی مماثلت) ہمیں یہ مضبوط اشارہ ضرور دیتی ہیں کہ ماں کی آنت ہی بچے کے جراثیم کا ایک بڑا ذریعہ ہے، لیکن اس سے ہر جرثومے کے سفر کا راستہ معلوم نہیں ہو جاتا۔

ماں کے ساتھ مسلسل جسمانی رابطہ، ہاتھوں کا چھونا، گھر کا ماحول، دیکھ بھال اور دوسرے راستے ان جراثیم کی منتقلی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ تحقیق نے ہمیں ان جراثیم کے آنے کا مضبوط سراغ دیا ہے، لیکن ہر جرثومے کے سفر کا مکمل نقشہ ابھی تک نہیں بنایا جا سکا۔ سائنس کی دنیا میں یہ فرق بہت اہم ہوتا ہے۔

جلد کی بیماری 'ایکزیما' (Eczema) سے ایک انوکھا تعلق
اس تحقیق کا ایک اور نتیجہ بہت زیادہ توجہ طلب تھا۔ جن ماؤں کے بچے زندگی کے پہلے سال میں جلد کی بیماری 'ایکزیما' (Eczema) کا شکار ہوئے، ان ماؤں کی آنتوں کے مائیکرو بایوم میں کچھ واضح فرق پائے گئے۔

سائنس دانوں نے ماں کے جراثیم دیکھ کر یہ اندازہ لگانے کا طریقہ بھی بنایا کہ کن بچوں میں ایکزیما کی بیماری پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن یہاں سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس تحقیق نے یہ بالکل ثابت نہیں کیا کہ ماں کی آنتوں کے جراثیم ہی بچے میں ایکزیما پیدا کرتے ہیں۔

خود محققین نے یہ بات واضح کی ہے کہ یہ محض ایک تعلق کی شروعاتی رپورٹوں میں سے ایک ہے، اس کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں، اور اسے مختلف آبادیوں پر دوبارہ تحقیق کر کے ثابت کرنا بہت ضروری ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ماں کا مائیکرو بایوم حمل کے دوران بیماریوں سے لڑنے والے نظام پر اثر انداز ہونے والے کیمیائی مادّوں کے ذریعے اپنا کردار ادا کرے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے مشترکہ عوامل اس بیماری کے ذمہ دار ہوں۔ فی الحال ہمارے پاس صرف ایک تعلق موجود ہے، بیماری کی حتمی وجہ نہیں۔

بچے کے مدافعتی نظام (Immune System) کے لیے یہ ننھی دنیا کیوں اہم ہے؟
پیدائش کے بعد بچے کا بیماریوں سے لڑنے والا نظام بہت تیزی سے سیکھ رہا ہوتا ہے۔ اسے یہ پہچاننا ہوتا ہے کہ کس چیز کو برداشت کرنا ہے اور کس جراثیم کے خلاف اپنا دفاع کرنا ہے۔

آنتوں میں موجود یہ فائدہ مند جراثیم اس نظام کو سکھانے اور تربیت دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ہماری کھائی ہوئی خوراک کو توڑتے ہیں، ایسے کیمیائی مادّے بناتے ہیں جو آنت کے خلیوں سے رابطہ کرتے ہیں اور مدافعتی نظام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔

اسی لیے سائنس اب مائیکرو بایوم کو محض 'پیٹ کے کیڑے' یا جراثیم نہیں سمجھتی، بلکہ یہ انسان کے جسم کے ساتھ مل کر کام کرنے والا ایک پورا چلتا پھرتا حیاتیاتی ماحول ہے۔ لیکن یہاں بھی یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ 'اچھا مائیکرو بایوم' کسی ایک بیکٹیریا کا نام نہیں ہے۔ انسانی مائیکرو بایوم بے حد پیچیدہ ہوتا ہے، یہ ہر انسان میں مختلف ہوتا ہے اور خوراک، عمر، ماحول، بیماری، دواؤں اور بہت سے دوسرے عوامل کی وجہ سے بدلتا رہتا ہے۔

کیا اب حاملہ خواتین کو پروبائیوٹکس (Probiotics) لینا شروع کر دینا چاہیے؟
اس تحقیق سے کوئی ایسا نتیجہ نکالنا بالکل درست نہیں ہوگا۔ یہ مطالعہ یہ نہیں کہتا کہ کسی خاص دوائی، غذا یا جرثومے کو استعمال کرنے سے بچے کو ایکزیما سے بچایا جا سکتا ہے۔

نہ ہی اس تحقیق کی بنیاد پر حاملہ خواتین کو اپنی خوراک، دوا یا پیدائش کے طریقے میں خود سے کوئی تبدیلی کرنی چاہیے۔ اس تحقیق نے ہمارے سامنے محض ایک قدرتی تعلق کو کھول کر بیان کیا ہے۔ اس تعلق کو باقاعدہ علاج میں بدلنے کے لیے ڈاکٹروں کو ابھی مزید تجربات اور طبی ٹیسٹ کرنے ہوں گے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سائنسی خبر اور ڈاکٹر کے باقاعدہ طبی مشورے میں فرق کرنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔

اپنے ہی جسم کے اندر ایک پوری کائنات
قرآن مجید انسان کو صرف دور دراز آسمانوں پر ہی غور کرنے کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ خود انسان کے اپنے وجود کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے:
﴿وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ﴾
ترجمہ: "اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی نشانیاں ہیں، تو کیا تم دیکھتے نہیں؟" (سورۃ الذاریات: 21)

یہ آیت مائیکرو بایوم کی کوئی سائنسی تفصیل بیان نہیں کرتی، اور یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ قرآن نے جدید جرثومی تحقیق کی پہلے سے پیش گوئی کر دی تھی۔ البتہ جدید سائنس جب انسانی جسم کے اندر چھپی ہوئی کھربوں جانداروں کی اس پیچیدہ دنیا کو ہمارے سامنے کھولتی ہے، تو یہ آیت انسان کو اپنے ہی وجود پر مزید گہرائی سے غور کرنے کا ایک انتہائی خوبصورت موقع ضرور فراہم کرتی ہے۔

ہم خود کو صرف ایک جسم سمجھتے ہیں۔ لیکن اسی جسم کے اندر کھربوں ننھے جانداروں کی آبادیاں ہمارے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں، وہ ہماری خوراک سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور بدلے میں ہمارے جسم کے بہت سے نظاموں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔ اور بچے کی زندگی کے بالکل شروعاتی دنوں میں ہی اس پوری ننھی دنیا کی بنیاد پڑنا شروع ہو جاتی ہے۔

حاصلِ کلام
اگست 2026ء میں نیچر (Nature) میگزین میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 714 ماؤں اور ان کے بچوں کے 4,526 نمونوں کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔

ان نتائج سے یہ معلوم ہوا کہ بچے کی آنتوں میں بسنے والے بہت سے شروعاتی جراثیمی خاندانوں کا سب سے بڑا خزانہ خود ماں کی آنتوں کا مائیکرو بایوم ہے۔ اس کے علاوہ پیدائش کا طریقہ، دودھ پلانے کی عادت اور دوسرے ابتدائی حالات بھی اس ننھی حیاتیاتی دنیا کو بنانے پر بہت گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

اس تحقیق میں ماں کے مائیکرو بایوم اور بچے میں ایکزیما کی بیماری کے درمیان ایک دلچسپ تعلق بھی ملا ہے، لیکن ابھی یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ یہ دونوں ایک دوسرے کی براہِ راست وجہ ہیں۔

اس ساری تحقیق میں سب سے حیران کن بات شاید یہی ہے کہ: ایک بچہ دنیا میں کبھی اکیلا نہیں آتا۔ اس کی زندگی کی شروعات سے ہی اس کے اندر ایک پوری ننھے جانداروں کی دنیا آباد ہونا شروع ہو جاتی ہے—اور اس دنیا کو بنانے میں ایک ماں کا کردار ہماری پرانی سمجھ کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم دکھائی دے رہا ہے۔

حوالہ جات:
• نیچر (Nature) — Maternal Influences on Infant Gut Microbiome and Health، 12 اگست 2026
• نیچر میڈیسن (Nature Medicine) — Tracing the Origins of Babies’ Microbiomes، 26 اگست 2026
• پب میڈ (PubMed) — Maternal Influences on Infant Gut Microbiome and Health
• القرآن الكريم — سورۃ الذاریات: 21

⚠️ مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کی 10 نشانیاں — کیا آپ میں بھی یہ علامات ہیں؟ 🧔‍♂️کیا آپ پہلے کی نسبت زیادہ تھکن محسوس ک...
01/09/2026

⚠️ مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کی 10 نشانیاں — کیا آپ میں بھی یہ علامات ہیں؟ 🧔‍♂️

کیا آپ پہلے کی نسبت زیادہ تھکن محسوس کرتے ہیں؟ 😴
کیا جسمانی طاقت، جنسی خواہش یا موڈ میں واضح تبدیلی آ رہی ہے؟
یہ علامات صرف مصروف زندگی یا عمر کا حصہ نہیں ہوتیں؛ بعض مردوں میں ان کی ایک وجہ ٹیسٹوسٹیرون کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔

ٹیسٹوسٹیرون ایک اہم ہارمون ہے جو مردانہ صحت، جنسی خواہش، پٹھوں، طاقت، ہڈیوں اور مجموعی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 💪🧔‍♂️

🟣 1۔ جنسی خواہش میں کمی ❤️‍🔥
➤ جنسی تعلق میں دلچسپی پہلے کی نسبت کم ہو سکتی ہے۔
➤ ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور دیگر مسائل بھی اس کی وجہ بن سکتے ہیں۔

🟣 2۔ جنسی کارکردگی میں مسئلہ
➤ عضو میں سختی حاصل کرنے یا برقرار رکھنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
➤ لیکن یہ مسئلہ صرف ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا۔

🟣 3۔ ہر وقت تھکن اور کم توانائی 😴
➤ معمولی کام کے بعد بھی تھکن محسوس ہونا۔
➤ توانائی اور جسمانی سرگرمی کا جذبہ کم محسوس ہونا۔

🟣 4۔ موڈ میں تبدیلی یا چڑچڑاپن 😟
➤ بے وجہ چڑچڑاپن، اداسی یا طبیعت میں بے دلی محسوس ہو سکتی ہے۔
➤ ڈپریشن، اسٹریس اور نیند کے مسائل بھی ایسی علامات پیدا کر سکتے ہیں۔

🟣 5۔ پٹھوں کا کم ہونا 💪
➤ وقت کے ساتھ پٹھوں کی جسامت کم محسوس ہو سکتی ہے۔
➤ ورزش کے باوجود پٹھے بنانا مشکل لگ سکتا ہے۔

🟣 6۔ جسمانی طاقت میں کمی 🏋️‍♂️
➤ پہلے کی نسبت وزن اٹھانے یا ورزش کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔
➤ جسمانی سرگرمی کے دوران جلد تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔

🟣 7۔ پیٹ کے گرد چربی بڑھنا ⚠️
➤ خاص طور پر کمر اور پیٹ کے اردگرد چربی بڑھ سکتی ہے۔
➤ بعض مردوں میں سینے کے ٹشوز میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

🟣 8۔ داڑھی یا جسم کے بالوں میں کمی 🧔‍♂️
➤ بعض مردوں میں داڑھی یا جسمانی بالوں کی افزائش کم ہو سکتی ہے۔
➤ یہ علامت زیادہ واضح طور پر طویل عرصے یا شدید ہارمون کی کمی میں دیکھی جا سکتی ہے۔

🟣 9۔ توجہ اور ذہنی یکسوئی میں کمی 🧠
➤ توجہ مرکوز کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے۔
➤ بعض افراد ذہنی دھندلاہٹ یا ذہنی تیزی میں کمی محسوس کرتے ہیں۔

🟣 10۔ ہڈیوں کی کمزوری 🦴
➤ طویل عرصے تک ٹیسٹوسٹیرون کی کمی ہڈیوں کی مضبوطی کو متاثر کر سکتی ہے۔
➤ ہڈیوں کی کثافت کم ہونے سے بعض افراد میں فریکچر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

🩺 تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

صرف ان علامات کی بنیاد پر ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔

اگر یہ علامات مسلسل موجود رہیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ 👨‍⚕️

ڈاکٹر ضرورت کے مطابق صبح کے وقت خون میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح چیک کروا سکتا ہے۔ اگر نتیجہ کم آئے تو عموماً دوبارہ ٹیسٹ کے ذریعے اس کی تصدیق کی جاتی ہے۔ ضرورت کے مطابق دیگر ہارمونز اور ٹیسٹ بھی تجویز کیے جا سکتے ہیں تاکہ اصل وجہ معلوم ہو سکے۔

🏠 گھر میں کن باتوں کا خیال رکھیں؟

🌙 نیند پوری کریں: روزانہ مناسب اور باقاعدہ نیند لینے کی کوشش کریں۔

🥗 متوازن غذا کھائیں: سبزیاں، پھل، دالیں، انڈے، مچھلی، گوشت، دودھ یا دہی اور صحت مند غذائیں اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔

🏃‍♂️ باقاعدہ ورزش کریں: چہل قدمی، جسمانی سرگرمی اور مناسب طاقت کی ورزش مجموعی صحت کے لیے مفید ہے۔

⚖️ وزن کو قابو میں رکھیں: زیادہ وزن، خصوصاً پیٹ کی اضافی چربی، ہارمونل صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

😌 اسٹریس کم کریں: مسلسل ذہنی دباؤ توانائی، نیند، موڈ اور جنسی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔

🚭 تمباکو نوشی سے پرہیز کریں: صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی کوشش کریں۔

💧 مناسب پانی پئیں اور دن بھر جسمانی سرگرمی برقرار رکھیں۔

⚠️ اہم احتیاط
ہر تھکن، کمزوری، جنسی مسئلے یا موڈ کی تبدیلی کو ٹیسٹوسٹیرون کی کمی نہ سمجھیں۔ ان علامات کی بہت سی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔

❌ صرف علامات دیکھ کر خود تشخیص نہ کریں۔
❌ خود سے ہارمون یا کوئی علاج شروع نہ کریں۔
🩺 مسلسل یا پریشان کن علامات کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے معائنہ اور مناسب ٹیسٹنگ کروائیں۔

اپنے جسم میں آنے والی مسلسل تبدیلیوں کو نظر انداز نہ کریں—صحیح وجہ معلوم کرنا ہی بہتر صحت کی طرف پہلا قدم ہ ❤️

خوش آمدید! Al SAAD Medical Centre          کے آفیشل پیج پر آپ کا استقبال ہے۔ہم آپ کو معیاری، محفوظ اور بہترین طبی سہولیا...
22/08/2026

خوش آمدید!

Al SAAD Medical Centre

کے آفیشل پیج پر آپ کا استقبال ہے۔

ہم آپ کو معیاری، محفوظ اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہماری اولین ترجیح آپ کی صحت اور اطمینان ہے۔

🩺 ہماری خدمات:
✅ جنرل چیک اپ
✅ طبی مشاورت
✅ بیماریوں کی تشخیص اور علاج
✅ صحت سے متعلق رہنمائی

📍 پتہ: السعد میڈیکل سنٹر ، جھوک روڈ کوٹ چھٹہ
📞 رابطہ نمبر: 03307134330

ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ آپ صحت سے متعلق مفید معلومات، طبی مشورے اور کلینک کی تازہ ترین اپ ڈیٹس حاصل کر سکیں۔

آپ کی صحت، ہماری ذمہ داری۔

ماشاءاللہ ڈی جی خان کے مایہ ناز سرجن آب آپ کے اپنے شہر کوٹ چھٹہ میں ہر جمعرات کو مریضوں کا معائنہ کریں گے لائف کیر ہسپتا...
17/09/2025

ماشاءاللہ ڈی جی خان کے مایہ ناز سرجن آب آپ کے اپنے شہر کوٹ چھٹہ میں ہر جمعرات کو مریضوں کا معائنہ کریں گے لائف کیر ہسپتال جھوک روڈ کوٹ چھٹہ آنے سے پہلے نمبر لیں 03339045252 Saad Ur Rahman Awais Mehar

Address

Near Old Cinema, Jhok Road
Kot Chutta
32350

Telephone

+923339045252

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al SAAD Medical Centre posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Al SAAD Medical Centre:

Shortcuts

Share

Category