06/02/2026
جانوروں میں ڈی ورمنگ اندرونی کیڑے/ کرم/ ورم
کیا پیٹ کے کیڑوں کی دوائی جانوروں کو سال میں چار مرتبہ، یعنی ہر تین ماہ بعد دینا ضروری ہے؟
ایسا بلکل بھی ضروری نہیں ہے, یہ مارکیٹنگ والوں کا نعرہ تو ہو سکتا ہے, لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے, اگر جانور فارم پر ہی رہتے ہیں, چارہ کھرلیوں میں کھاتے ہیں, پانی صاف ہے, اور فارم پر صفائی ستھرائی کا بہتر انتظام ہے تو آپ کے جانوروں کو بلکل بھی سال میں چار یا تین بار ڈی ورمنگ کی ضرورت نہیں, ہاں اگر جانور چرائی پر جاتے ہیں، پانی کبھی جوہڑ کبھی نالے، کھالے، نہر سے پیتے ہیں اور لوگوں کے جانور بھی اسی طرح چرائی کرتے ہیں تو پھر آپ کو کم از کم تین بار ڈی ورمنگ کی ضرورت ہے, برسات کے بعد, شدید سردیوں سے پہلے اور موسم بہار / گرمیوں سے پہلے
بہت سے ایسے فارم ہیں, جہاں پچھلے تین سال سے بڑے دودھ والے جانوروں میں ڈی ورمنگ دوائی استمعال ہی نہیں ہوئی, اور بہت سے ایسے بھی ہیں جہاں ہر چار ماہ بعد دوائی پلانا ضروری ہوتا ہے
ایک بار ڈی ورمنگ دوائی پلانے کے ہفتہ / دس دن بعد میں دوبارہ پلانا ؟
تقریباً نوے فیصد حد تک یہ بات بھی درست نہیں ہے, اور ایک بار دوائی پلا کر دوبارا ایک ہفتے یا چودہ دن بعد دوبارہ پلانا بھی ٹھیک نہیں ہے اور آپ کے پیسے کا ضائع ہے,
کچھ مخصوص حالات میں اگر ڈاکٹر کا مشورہ ہو تو ضرور پلائیں، نہیں تو خود سے اپنے پیسے ضائع نہ کریں,
لیور فلوک / جگر کے کیڑوں کے لیے ایک دوائی کا فارمولہ استعمال ہوتا ہے، اور وہ صرف بالغ جگر کے کیڑوں کو ختم کرتا ہے، بچے /انڈے کو نہیں مارتا, اس لیے یہ دوائی دوبارہ پلانی پڑتی ہے, لیکن, اس فارمولہ کے علاوہ اور بھی بہت سے ادویات ہیں جو لیور فلوک / جگر کے کیڑوں بالغ, انڈے, بچوں کو بھی ختم کرتی ہیں
تو بات کو سمجھیں, ہر دوائی اور ہر طرح کے جانور کی حالت میں دوبارہ نہیں پلائی جاتی, ایسا نہیں ہے کہ آپ مرضی سے ایک ہفتے یا دو ہفتے بعد اپنے پیسے ضائع کریں, اگر مستند ڈاکٹر کا مشورہ ہو تو ضرور استعمال کریں
ڈی ورمنگ دوائی پانی/ لسی /دودھ میں مکس کر کے دینی چاہیے ؟
نہیں, اس کی کوئی ضرورت نہیں, بہتر تو یہی ہے کسی چیز میں بھی ڈی ورمنگ دوائی مکس نہ کیا جائے, اگر جانور چھوٹا ہو یا ڈی ورمنگ دوائی کی خوراک تھوڑی ہو تو انجیکشن / ٹیکے کی سوئی اُتار لیں اور جانور کو اس سے پلا دیں ،
یاد رکھیں جانوروں کو جو بھی دوائی آپ منہ