19/07/2025
السلام علیکم!
میرے تمام دوست، جو ایک عرصے سے میرے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، وہ میری نیچر سے بخوبی واقف ہیں۔ میں کبھی بھی کوئی غیر ضروری یا فالتو پوسٹ نہیں کرتا۔ ہمیشہ اسی وقت کچھ کہتا ہوں جب کوئی اہم بات ہو۔
اس پوسٹ کو غور سے پڑھئے گا
یہ عقل والوں کے لئے اس میں اشارے ہیں
آج کا موضوع بے حد خاص ہے: "شرفِ مشتری"
یعنی مشتری اگلے مہینے اپنی پوری طاقت، مستی اور عروج میں آنے والا ہے۔
ہر سیارہ ایک مخصوص وقت کے بعد اپنے شرف کی حالت میں آتا ہے۔ یعنی وہ اُس برج میں داخل ہوتا ہے جو اس کا مخصوص یا موزوں برج ہوتا ہے۔ اس وقت اُس کی قوت اور سعد توانائی پوری شدت سے ظاہر ہوتی ہے۔ اسی وقت کو "شرف کا وقت" کہا جاتا ہے، اور یہ ہر سیارے کے لیے مخصوص ہو سکتا ہے۔
سیارہ مشتری تقریباً 12 سال بعد شرف کی حالت میں آتا ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ عاملین اور نجومیوں نے مشتری کو صرف دولت کے ساتھ منسوب کر رکھا ہے۔
جاہل عاملین اور خود ساختہ نجومیوں نے پیسہ کمانے کے چکر میں
حالانکہ پیسہ کمانے میں کوئی حرج نہیں،
لیکن کم از کم اس شعبے کا علم تو حاصل کر لو۔
جس شعبہ کو پیسہ کمانے کے لئے تم چُن رہے ہو صرف چند نجوم کی اور جفر کی ترجمہ شُدہ کتابیں پڑھ کر تم ماہر بن گئے
اس کی مثال ایسے ہی ہے کتابوں سے پڑھ کر دل کے ڈاکتر بن جاؤ گھر بیٹھے بیٹھے اور جا کر کسی کا دل کھول کر بیٹھ جاؤ ایسا نہیں ہوتا
ہمارے پاکستان میں یہ ایک المیہ بن چکا ہے کہ ہر شخص خود کو اُس کام میں ماہر ظاہر کر رہا ہے جس کی اُس نے تربیت تک نہیں لی ہوتی۔
لیکن مشورہ دینے میں ضرور شامل ہوتا ہے۔
واقعی یہ بھی ایک "کمال" ہے، پاکستان کے فراڈ عاملین اور نجومیوں کا۔
شرفِ مشتری کو زیادہ تر صرف دولت سے جوڑا جاتا ہے،
حالانکہ حقیقت میں یہ وقت روحانی ترقی، علمی بلندی اور شعوری وسعت کے لیے ایک بہترین موقع ہوتا ہے۔
بہت غور سے پڑھنا ان باتوں کو اب
میں نے خود اپنے بہت سے مشہور نجومی و ماہر جفار دوستوں کو پوچھا
"فرض کریں کوئی سائل آپ کے پاس آئے اور کہے کہ وہ شرفِ مشتری، شرفِ قمر یا شرفِ زہرہ کی لوح بنوانا چاہتا ہے، تو آپ کیا کریں گے؟"
جواب:
"سائل کا نام اور والدہ کا نام لے کر ان کے اعداد نکالتے ہیں، پھر کسی قرآنی آیت مبارکہ کے اعداد ملا کر ایک نقش ترتیب دیتے ہیں، اُسے دھات پر کندہ کر دیتے ہیں۔ بس یہی شرفِ مشتری کی لوح ہے۔"
میں نے کہا: واہ! کیا کمال ہے۔ ایسے نجومی اور جفار تو ایوارڈ کے مستحق ہیں!
اب ذرا آگے سنیں:
کچھ اور "جفار حضرات" سے جب یہی سوال کیا کہ "آپ شرف کی لوح کیسے تیار کرتے ہیں؟"
تو جواب آیا:
"ہم شرفِ مشتری کے مخصوص حروف لیتے ہیں اور سائل کے نام کے اعداد میں مکس کر کے لوح تیار کر دیتے ہیں۔"
میں نے پوچھا:
"کون سے حروف لیتے ہیں شرفِ مشتری کے؟"
جواب آیا: "ھ، و، ز، ح"
یہ وہ چار حروف ہیں جو، ان کے بقول، تمام کتابوں میں لکھے گئے ہیں۔
میں نے پوچھا:
"ان چار حروف میں ایسی کیا بات ہے جو آپ نے مان لیا کہ یہ مشتری سے تعلق رکھتے ہیں؟"
جواب سن کر میں تو ان تمام دوستوں کا مرید ہو گیا
جواب تھا فلاں کتاب میں لکھے ہیں دیکھ لو میں نے کہا کیا یہ دلیل ہے کہ فلاں کتاب میں کسی مصنف نے لکھ دیا ہے تو کیا یہ حروف مشتری ہو گئے کہتے جی بلکل یہ وہ لوگ ہیں علم جن سے اتنا ہی دور ہے جتنا گدھے کے سر سے سنگھ
میں نے کہا:
"بس؟ فلاں مصنف نے لکھ دیا تو آپ نے مان لیا؟ یہ دلیل تو کسی اہلِ علم کی نہیں ہو سکتی۔"
اسی گفتگو سے اندازہ ہو گیا کہ یہ لوگ محض نام کے ماہر ہیں، اور لوگوں کو لوٹنے کے سوا کچھ نہیں جانتے۔
میرا ایک آخری سوال ریڑح کی ہڈی رکھنے والا سوال تھا:
"یہ حروف اور نام کے اعداد جو آپ شرفِ مشتری میں استعمال کرتے ہیں، وہ کس ابجد سے لیتے ہیں؟"
جواب آیا: "ابجدِ قمری سے"
میں نے کہا:
"واہ واہ! اگر چاند کے لیے الگ ابجد ہے، سورج کے لیے الگ، تو مشتری کی اپنی ابجد کہاں غائب ہو گئی؟"
چاند آبی عنصر سے تعلق رکھتا ہے اور مشتری آتشی عنصر سے تعلق رکھتا ہے آگ اور پانی کو ملا کر تم لوگ وڈے سائنس دانوں سے بھی اگے نکل گئے ہو
یہ سنتے ہی ان کے چہرے فق ہو گئے، اور ان کی بولتی بند۔ بولتی بند ہونی ہی ہونی تھی کیوں کے علم سے لاکھوں میل دور رہتے ہیں
یہ لوگ لیکن عوام کا ہجوم ان ہی کے پاس بہتر ہے کیونکہ عوام کھری اور سچی باتیں کرنے والے کہاں پسند آتے ہیں
یہ وہ لوگ ہیں جن کا علم سے کوئی واسطہ نہیں۔
اللہ کے فضل اور مرشدِ سرکار کی عطا سے ہمیں مشتری کے حقیقی حروف بھی معلوم ہیں اور اس کی اصل ابجد بھی، جو بزرگوں نے ہر سیارے کے لیے الگ الگ ترتیب دی ہے۔
یہ سب علم ہمارے سینوں میں محفوظ ہے۔
ہم کسی کتاب میں لکھی ہوئی بات کو اندھا دھند نہیں مانتے۔سوائے قران پاک کے
ہم دلیل، منطق، اور حقیقی علم کی بنیاد پر ہر بات کو سمجھتے ہیں:
کس حرف کا کیا مطلب ہے؟
کون سی ابجد کیوں مخصوص ہے؟
شرف کیا ہے؟
کس درجے پر ہوتا ہے؟ اور کیوں اس شرف پر سائل کی پیدائش وقت سیارے ڈگری اور نام کے زائچہ سے سیارے ڈگری کہاں کھڑی ہے کونسی چیز اس شرف میں سائل کو فائدہ دے سکتے ہے بس اس کو تحریک دے دی جائے تو کیا ہوگا
سائل کا پیدائشی زائچہ کیا کہتا ہے؟ یہ شرف میں اس کے لئے علم ہے دولت ہے یا وسعت وسائل ہیں
زائچہ روحی کیا بتاتا ہے؟ ان سب کے بارے
پھر ہم اس کے زائچے کے مطابق مشتری کی ڈگری اور اس سے منسوب مخصوص حروف اخذ کرتے ہیں۔پھر ڈگری کے حروف اخذ کئے جاتے ہیں
پھر نام کا
نام کا زائچہ بناتے ہیں،
اور اُس کے مطابق حرفِ مشتری کو گرفت میں لاتے ہیں۔ پھر جا کر ایک سائل کے لئے لوح مشتری تیار ہوتی ہے
پھر اس کو مکمل تسخیر شفاف کرنے کا عمل کچھ دن جاری رہتا ہے تا کے شرف کے دوران جو دوسرے سیاروں کی نیگٹو انجریز کو لوح سے جدا کیا جاتا ہے یہ بھی بزرگوں کے عطا کردہ علم میں سے بڑا علم ہے لوح سے دوسرے سیاروں کی نیگٹیو انجریز کو الگ کرانا
لوح سے باقی سیاروں کی انرجیز کو نیگٹیو انرجیز کو الگ کرنا
اب اتا زبردست مرحلہ
علم فتائیل سے سائل کے پہلے سے موجود سیاروں کی نیگیٹو انرجیز کو الگ کیا جاتا ہے نیوٹرل کیا جاتا ہے تا کے لوح کی انجریز کے ساتھ خرابی نہ ہو
اس کے بعد علمِ فتائل سے مخصوص فتیلے تیار کیے جاتے ہیں جو سائل کم از کم 9 دن استعمال کرتا ہے
تاکہ اُس کے آس پاس موجود سیاروں کی نیگیٹو انرجیز ختم ہو جائیں۔ علم فتائل کے تو یہ نجومی نام سے بھی واقف نہیں قانون علم تو دور کی بات ہے
تب جا کر اصل لوح استعمال میں آتی ہے — جو ابجدِ مشتری سے تیار کی جاتی ہے، سائل کے مخصوص وقت، مزاج اور زائچہ کے مطابق۔
یاد رکھیں:
یہ سب بچوں کا کھیل نہیں۔
یہ محض "نقش بنا کر دھات پر کندہ کر دینا" نہیں ہوتا۔
یہ علم ہے، روحانی فن ہے، تدبیر ہے، ذمہ داری ہے۔
اللہ کے فضل سے تمام علم ہمارے سینوں میں اپنی اصل حقیقت کے ساتھ محفوظ ہے۔
مشتری 12 سال بعد شرف میں آتا ہے۔
ایسے نایاب وقت کو ان جاہل عاملین کے ساتھ ضائع نہ کیجیے۔
یہ وقت بہت قیمتی ہوتا ہے۔
موجودہ دور کے خود ساختہ عاملین و نجومیوں سے بچیں مجھے ایک عرصہ ہو گیا ہے ان خود ساختی کتابی جاہل عملین و نجومیوں کی تیار کردو لوحوں سے سائلین کا علاج کرتے ہوئے کیونکہ یہ جاہل لوگ جتنا زبردست شرف ہو گا اتنا زبردست جہالت کی وجہ سے تباہی بھی ہو گی ان لوگوں سے بچیں اپنا پیشہ سب کچھ محفوظ رکھیں
یہ علم الواح علم عملیات سے بلکل الگ علم ہے جس کا ذکر کسی کتاب میں نہیں ملتا یہ لوگ عام نقش بنانے کے طریقے کو ہی شرف کے دوران لکھ لینے کو ہی شرف کی لوح مانتے ہیں جو اول درجہ کی علمی جہالت ہے
اصل علم سے بنائی گئی لوح چاہئے کسی بھی سیارے کے شرف کی ہو
علمی و روحانی تدبیر کے طور پر ایک دفعہ انسان کو بتا پتا دیتی ہے کوئی روحانی تدبیر ہوئی علمی طور
آپ کا بھائی اپ کا دوست قیصر رفیق اگر کچھ معلومات چاہئے ہوں تو حاضر ہے 03084747471