Coaching Minds Psychological Help

Coaching Minds Psychological Help Clinical Psychologist, Behaviour Therapist, Researcher, Lecturer, Counsellor

In-person and Online Counseling is provided to children, adolescents, adults and family for behavioral, emotional and other issues.Meet Face-to-face with or online with a certified therapist for all you psychological struggles

Today, we honor the dedication, resilience, and hard work of every worker who contributes to building a better society. ...
01/05/2026

Today, we honor the dedication, resilience, and hard work of every worker who contributes to building a better society. 🌍💙

On this International Labour Day, Coaching Minds Psychological Help pays tribute to all individuals striving every day for their families, dreams, and communities. Your efforts matter, and so does your mental well-being.

While working hard for others, don’t forget to care for yourself too. A healthy mind is the foundation of a productive and meaningful life.

✨ Every effort counts. Every worker matters.
✨ Your mind matters. You matter.

📍 Visit us for consultations:
🏥 Recovery Psychiatry Clinic, Johar Town Lahore
🏥 Iqra Medical Complex Extension, near KIPS Academy & School, Maulana Shaukat Ali Road

📞 For Appointments: 0300-7705111

🌿 Coaching Minds Psychological Help
“Return to being you.”

20/04/2026

دعا کریں یا دوا کریں؟

ایک تحریر جو ان گنت زندگیاں بچا سکتی ہے. شیئر کریں کہ سوشل میڈیا اصل میں اسی لیے بنا ہے.

لاہور کے ایک متوسط گھرانے کی بائیس سالہ لڑکی۔ نام فاطمہ رکھ لیجیے۔ اصلی نام نہیں ہے، مگر کہانی اصلی ہے۔ مہینوں سے بستر سے نہیں اٹھ پاتی۔ کھانے میں ذائقہ مر چکا ہے۔ رات بھر چھت کو گھورتی ہے اور آنکھوں سے خاموش آنسو بہتے رہتے ہیں۔ وہ خود کو بیکار سمجھتی ہے۔ ایک بوجھ جو نہ گھر کے کام کی، نہ دنیا کے۔ اس نے کئی بار سوچا: اگر میں نہ ہوتی تو سب کو سکون ہوتا۔

اس کی ماں نے محلے کی عورتوں سے مشورہ کیا۔ سب نے ایک ہی بات کہی: نظر لگ گئی ہے۔ باپ اسے پیر صاحب کے پاس لے گیا۔ پیر صاحب نے کہا: جنات کا سایہ ہے، چلّہ کاٹو، تعویذ باندھو، سات شبِ جمعہ دم کرواؤ۔ چھ مہینے گزرے ۔فاطمہ اور ٹوٹ گئی۔ پھر ایک سمجھدار خالہ اسے ماہرِ نفسیات کے پاس لے گئیں۔ تشخیص ہوئی: شدید نوعیت کا ذہنی دباؤ۔ چند مہینوں کی مشاورت اور تھیریپی سے فاطمہ اٹھنے لگی، کھانے لگی، مسکرانے لگی۔

فاطمہ کی زندگی کے وہ چھ مہینے کس نے چرائے؟ اور کتنی فاطمائیں ہیں جن کے حصے میں وہ سمجھدار خالہ بھی نہیں آئی؟

یہ صرف ایک کہانی نہیں یہ پاکستان کے لاکھوں گھروں کی حقیقت ہے۔ اور اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک سوال کا جواب ڈھونڈنا ہوگا جو تکلیف دہ ہے مگر ضروری ہے: کیا دعا اور دوا۔ واقعی ایک دوسرے کی دشمن ہیں؟ یا ہم نے خود یہ لڑائی گھڑی ہے؟

یووال نوح ہراری نے لکھا تھا کہ انسان حقیقت میں نہیں، کہانیوں میں رہتا ہے اور سب سے خطرناک وہ کہانی ہوتی ہے جسے ہم سچ مان لیں۔ بغیر جانچے۔ پاکستانی معاشرے میں ایک ایسی ہی کہانی مشہور ہے: مذہب اور سائنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اور کہ جوشخص نفسیاتی مسائل کے لئے ماہر نفسیات کے جاتا ہے وہ اللہ کی ذات پر بھروسہ نہیں رکھتا۔ جس نے نفسیاتی علاج کے لئے دوا کھائی اس کا ایمان کمزور ہے۔
یہ جھوٹی کہانی کس نے گھڑی؟کون ہمیں اس مقام تک لایا ہے۔ اور تو اور خود اسلامی تاریخ اس جھوٹ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

نویں صدی عیسوی میں جب یورپ اندھیرے دور میں ڈوبا ہوا تھا بغداد میں ایک مسلمان طبیب ابو زید البلخی نے ایک کتاب لکھی: 'مصالح الابدان والانفس' یعنی جسم اور روح کی صحت۔ اس کتاب میں انہوں نے ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ کو الگ الگ اقسام میں بیان کیا، ان کی وجوہات سمجھائیں، اور ایسے علاج تجویز کیے جنہیں آج کی جدید نفسیات 'Cognitive Behavioral Therapy' کہتی ہے۔ یہ کام مغربی ماہرین سے ہزار سال پہلے ہوا۔ ہزار سال یہ تعداد ذرا دہرائیے۔

عثمانی دور کے ہسپتالوں میں ذہنی مریضوں کا علاج موسیقی، خوشبو، اور باغبانی سے کیا جاتا تھا وہی طریقے جنہیں آج مغرب 'جدید نفسیات' کے نام سے پیش کرتا ہے گویا کہ یہ جیسےکوئی نئی دریافت ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر رانیہ عوّاد جو خود ایک اسلامی عالمہ بھی ہیں نے اپنی تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ مریض اور معالج کے درمیان اعتماد کا رشتہ، مریض کی نفسیاتی بحالی، اور ادراکی حکمت عملیاں ان سب پر مسلمان علماء نے یورپ سے صدیوں پہلے لکھا۔

تو سوال یہ ہے: جس مذہب نے دنیا کو ذہنی علاج کی بنیادیں دیں اسی مذہب کے ماننے والے آج ذہنی علاج سے کیوں بھاگتے ہیں؟

سائنس کو سمجھنا ہر انسان کا حق ہے بشرطیکہ اسے سادہ زبان میں بیان کیا جائے۔ تو آئیے سادہ زبان میں سمجھتے ہیں کہ ذہنی بیماری میں دماغ کے اندر کیا ہو رہا ہوتا ہے۔

جب کوئی شخص شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے دماغ کا وہ حصہ جو فیصلے کرتا ہے، امید دیتا ہے اور مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے اس کی سرگرمی کم ہو جاتی ہے۔ دباؤ کا ہارمون "کورٹیسول" مسلسل خون میں بہنے لگتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے جسم کا خطرے کا الارم مسلسل بجتا رہے، بغیر کسی حقیقی خطرے کے۔ اس شخص کے اعصاب تھکے ہوئے ہیں، اس کا دماغ تھکا ہوا ہے، اس کا جسم تھوڑا تھوڑا مر رہا ہے مگر باہر سے سب ٹھیک دکھتا ہے۔

اب ایک سیدھی سی بات سوچیے: اگر کسی کا گردہ ناکارہ ہو جائے تو کیا آپ کہیں گے کہ صرف دعا کرو، ڈاکٹر کی ضرورت نہیں؟ اگر دل کا دورہ پڑے تو کیا تعویذ باندھ کر ہسپتال نہیں جائیں گے؟ ہر عقلمند آدمی کہے گا: بھائی دعا بھی کرو اور ڈاکٹر کے بھی جاؤ۔ دونوں کام ساتھ ساتھ کرو۔ تو پھر جب دماغ بیمار ہو۔ جب اس کی کیمسٹری بگڑ جائے تو صرف دعا پر اکتفاء کیوں ہے؟ دماغ بھی ایک عضو ہے، بالکل دل اور گردے کی طرح اور عضو بیمار ہوتا ہے تو اس کا علاج بھی ہوتا ہے۔
ڈاکٹر رانیہ عوّاد جو اسٹینفورڈ میں بنیادی طور پر اسلام اور نفسیات کے اشتراک پر کام کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اسلامی علوم میں انسان کو تین پرتوں میں سمجھا گیا: روح، قلب اور نفس اور یہ تینوں آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ جب نفس بیمار ہوتا ہے تو صرف روحانی تدبیر کافی نہیں عملی علاج بھی لازم ہے۔ اور اس بات کی تائید خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ہوتی ہے: 'اللہ کے بندو، علاج کرواؤ، کیونکہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں بنائی جس کی دوا نہ بنائی ہو، سوائے ایک بڑھاپے کے۔' یہ حدیث واضح ہے یہ علاج سے روکنے کی نہیں، علاج کی ترغیب ہے۔

اعداد و شمار تکلیف دہ ہیں مگر ضروری ہیں۔ پاکستان میں بیس کروڑ سے زیادہ آبادی کے لیے ماہرین نفسیات کی تعداد پانچ سو سے بھی کم ہے یعنی ہر دس لاکھ لوگوں کیلئے تین ڈاکٹرز بھی نہیں۔ لیکن اصل مسئلہ تعداد نہیں اصل مسئلہ سوچ ہے۔
ایک سروے میں ساڑھے تین ہزار پاکستانیوں سے پوچھا گیا: آپ نفسیاتی مدد کیوں نہیں لیتے؟ جوابات یہ تھے: 'جو قسمت میں ہے وہی ہوگا'، خاندان کی ممانعت، ذاتی شرمندگی، اور نفسیاتی علاج پر بھروسے کا نہ ہونا۔ پاکستانی یونیورسٹیوں کے طلبہ پر ہونے والے ایک اور سروے کا نتیجہ اور بھی چونکا دینے والا تھا: بتیس فیصد نے ذہنی بیماری کی وجہ کالا جادو قرار دیا۔ یہ اَن پڑھ گاؤں والے نہیں یہ یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے نوجوان ہیں۔ اور صرف عوام ہی نہیں طبی شعبے کے لوگوں پر ہونے والی تحقیق نے بتایا کہ نصف سے زیادہ ڈاکٹر بھی ذہنی امراض کے بارے میں منفی رویے رکھتے ہیں۔ یعنی جو دوا دینے والے ہیں وہ خود بھی اس بیماری کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

انسان وہ واحد جانور ہے جو اپنے درد کو چھپانے کی تربیت لیتا ہے۔ پاکستانی معاشرے نے اس تربیت کو فن بنا دیا ہے۔ مرد کو سکھایا جاتا ہے: روؤ مت، تم مرد ہو۔ عورت کو سکھایا جاتا ہے: صبر کرو، یہی عورت کا مقدر ہے۔ بچے کو سکھایا جاتا ہے: بڑے ہو جاؤ، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اور جب یہ دبایا ہوا درد پھٹتا ہے۔ بے خوابی کی شکل میں، غصے کے بے قابو دوروں میں، یا اس سے بھی بدتر صورت میں تو ہم حیران ہوتے ہیں کہ یہ اسے، اچانک کیا ہو گیا ہے۔ اچانک کچھ نہیں ہوا۔ ہم نے صرف توجہ نہیں دی۔

سب سے زیادہ نقصان انہیں ہوتا ہے جن کی آواز سب سے کم سنی جاتی ہے۔ وہ بیٹی جو مسلسل گھبراہٹ میں رہتی ہے جس کا دل بلا وجہ دھڑکتا ہے، ہاتھ کانپتے ہیں، سانس تنگ ہوتی ہے اس سے کہا جاتا ہے: صبر کرو بیٹا، اللہ کی مرضی ہے۔ وہ ماں جو بچے کی پیدائش کے بعد اندھیرے میں ڈوب رہی ہے کھانا نہیں بنا پاتی، بچے کو اٹھانے کی ہمت نہیں، رات بھر روتی ہے اس سے کہا جاتا ہے: ماں بن کر ،ناشکری کرتی ہو؟ شکر کرو اللہ نے بیٹا دیا۔ وہ نوجوان جو وسوسوں میں مبتلا ہے بار بار وضو کرتا ہے، بار بار نماز پڑھتا ہے، ہر لمحے خوف میں جیتا ہے کہ اس سے کوئی گناہ ہو گیا ہے۔ اس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں: ماشاء اللہ بہت پرہیزگار ہے۔

یہ تینوں ایک ہی بات چیخ رہے ہیں مگر کوئی سن نہیں رہا۔ بیٹی کو 'اینگزائٹی ڈس آرڈر' ہے ایک حقیقی نفسیاتی بیماری جس کا علاج ممکن ہے۔ ماں 'ولادت کے بعد کے ذہنی دباؤ' سے گزر رہی ہے جو دنیا بھر میں ہر سات میں سے ایک ماں کو ہوتا ہے اور جس کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ ماں اور بچے دونوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ اور وہ نوجوان؟ اسے 'Obsessive Compulsive Disorder' ہے جس میں دماغ ایک ریکارڈر کی طرح ایک ہی خیال بار بار دہراتا ہے اور شخص اس خیال سے بچنے کے لیے ایک ہی عمل بار بار کرتا ہے۔ یہ پرہیزگاری نہیں یہ بیماری ہے۔
کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہ اپنے طاقتوروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ اپنے کمزوروں کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ اور ہم اپنے کمزوروں کو تعویذ تھما کر کہہ رہے ہیں: بس یہ باندھ لو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔

اس پوری بحث میں ایک بات بالکل واضح ہونی چاہیے: مذہب طاقت دیتا ہے یہ حقیقت ہے اور اس سے انکار نہ سائنسی ہے نہ ضروری۔ نماز میں سکون ہے۔ ذکر میں اطمینان ہے۔ قرآن میں شفاء ہے۔ تحقیق بھی بتاتی ہے کہ مذہبی عقائد اور روحانی عمل ذہنی صحت کے لیے حفاظتی ڈھال کا کام کرتے ہیں وہ انسان کو معنویت دیتے ہیں، تنہائی میں ساتھ دیتے ہیں، مصیبت میں سہارا بنتے ہیں۔ مسئلہ مذہب نہیں مسئلہ مذہب کی وہ غلط تشریح ہے جو کہتی ہے: 'اگر تم نے ڈاکٹر کے پاس قدم رکھا تو اس کا مطلب ہے تمہارا ایمان ادھورا ہے۔' یہ سوچ نہ اسلامی ہے، نہ عقلی۔ یہ صرف خطرناک ہے۔

ڈاکٹر رانیہ عوّاد نے اسٹینفورڈ میں ایک ماڈل بنایا ہے جس میں جدید نفسیاتی تکنیکوں کو اسلامی فکری ڈھانچے کے اندر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مرکز میں وہ مسلمان مریض آتے ہیں جو کسی عام ماہرِ نفسیات کے پاس اس لیے نہیں جاتے کیونکہ انہیں ایسے معالج کی ضرورت ہے جو ان کی ایمانی زبان بھی سمجھے۔ اوراس ماڈل کے نتائج حوصلہ افزا ہیں کیونکہ جب مریض کو لگتا ہے کہ اس کا معالج اس کے عقیدے کا احترام کرتا ہے، تو اعتماد بنتا ہے اور اعتماد علاج کی بنیاد ہے۔

پاکستان میں ایک عملی حقیقت ہے جسے ہم نظرانداز نہیں کر سکتے: لوگ بحران میں سب سے پہلے مسجد جاتے ہیں، ماہرِ نفسیات کے پاس نہیں۔ تحقیق بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مسلم معاشروں میں مذہبی رہنما ذہنی بحران میں پہلی پناہ گاہ ہوتے ہیں۔ یہ کوئی عیب نہیں۔ یہ ایک زبردست موقع ہے۔ اگر مسجد کے امام کو ذہنی صحت کی بنیادی تربیت دی جائے۔ اگر وہ صرف اتنا سیکھ لے کہ شدید ذہنی دباؤ کی بنیادی علامات کیا ہیں اور مریض کو صحیح جگہ کیسے بھیجنا ہے تو لاکھوں لوگ بروقت علاج تک پہنچ سکتے ہیں۔ مسجد اور مشاورتی مرکز کا اشتراک ممکن ہے بلکہ آج کے پاکستان میں یہ شاید سب سے ضروری اشتراک ہے۔

اپنی سوچ بدلیے۔ ذہنی بیماری ایمان کی کمزوری نہیں ہے۔ جیسے شوگر اور بلند فشارِ خون کا علاج کروانے میں کوئی شرم نہیں، ویسے ہی ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ کا علاج کروانا شرم کی بات نہیں۔ جسم کا ہر عضو بیمار ہو سکتا ہے دماغ بھی ایک عضو ہے۔ اس سادہ سی بات کو ماننا پہلی فتح ہے۔

دوسرا قدم علامات پہچانیے۔ اپنی بھی اور اپنے پیاروں کی بھی۔ ہفتوں تک مسلسل اداسی، نیند کا بگاڑ، ہر وقت خوف یا بے چینی کا احساس، روزمرہ کاموں سے دلچسپی ختم ہونا، خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات یہ 'نظر' نہیں ہے، یہ 'جنات' نہیں ہیں۔ یہ طبی علامات ہیں۔ اور جس طرح سینے میں درد ہو تو دل کے ڈاکٹر کودکھاتے ہیں، اسی طرح یہ علامات ہوں تو ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا عقل کا تقاضا ہے۔

خاموشی توڑیے۔ گھر میں، خاندان میں، مسجد میں، محلے میں اس موضوع کو زبان دیجیے۔ ذہنی صحت پر بات کرنا شرم کی بات نہیں شرم کی بات یہ ہے کہ ہم خاموش رہیں اور ہمارے لوگ تنہا ٹوٹتے رہیں، مدد مانگنے کی ہمت جمع نہ کر سکیں۔ ایک ماں جو اپنے بیٹے سے پوچھے 'بیٹا تم ٹھیک ہو؟' وہ شاید کسی دوا سے بھی پہلے شفا دے رہی ہے۔

ایک سادہ سی مثال سے بات ختم کرتا ہوں۔ اگر آپ کے گھر میں آگ لگ جائے تو آپ کیا کریں گے؟ دعا بھی مانگیں گے اور آگ بجھانے والوں کو بھی فون کریں گے۔ کوئی عقلمند آدمی صرف دعا پر بھروسہ کر کے آگ کو گھر جلاتا نہیں دیکھے گا اور کوئی صاحبِ ایمان آدمی آگ بجھاتے ہوئے دعا بھی نہیں چھوڑے گا۔ دونوں ساتھ ہیں بلکہ دونوں کو ساتھ ہونا چاہیے۔

آئزک ایسیموف نے لکھا تھا کہ سائنس کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ ہمیشہ سچ کی طرف لے جاتی ہے چاہے سچ کتنا بھی تکلیف دہ ہو۔ اور سچ یہ ہے کہ ہم نے مذہب کے نام پر اپنے مریضوں کو دوہرا نقصان پہنچایا ہے ایک بار بیماری نے توڑا، دوسری بار ہم نے علاج سے روک کر۔

لیکن یہ بھی سچ ہے اور یہ سچ خوبصورت ہے کہ وہ مذہب جس نے نویں صدی میں دنیا کے پہلے نفسیاتی شفاخانے بنائے، وہ مذہب آج بھی وہی کہتا ہے جو ہمیشہ سے کہتا آیا ہے: اللہ کے بندو، علاج کرواؤ۔

عمر فاروق کی شاندار پوسٹ!

Ömer Faruk

عمر فاروق، اپنی طرح نفسیات کے طالب علم ہیں اور مختلف موضوعات پر اچھا لکھتے ہیں. ان سے جڑے رہیں.

11/07/2025

"کیوں کچھ شوہر کہتے ہیں: 'وہ صرف میری دوست ہے'… مگر پھر چھپ کر بات کرتے ہیں؟"

دماغی تضاد (Cognitive Dissonance) کیا ہوتا ہے؟
دماغی تضاد (Cognitive Dissonance) ایک نفسیاتی کیفیت ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کی سوچ اور عمل میں تضاد ہوتا ہے۔ مثلاً، ایک شوہر خود کو وفادار، نیک اور محبت کرنے والا سمجھتا ہے، لیکن وہ خفیہ طور پر کسی دوسری خاتون سے جذباتی یا flirt آمیز بات چیت کرتا ہے۔ اس تضاد کو دماغ برداشت نہیں کر پاتا، اس لیے وہ خود کو مطمئن کرنے کے لیے مختلف جواز تراشتا ہے، جیسے کہ: "وہ تو صرف ایک دوست ہے"، "ہم کچھ غلط نہیں کر رہے"، یا "بیوی کو بتا کر بلاوجہ شک پیدا نہیں کرنا چاہتا"۔ یہ جواز بظاہر بے ضرر لگتے ہیں، مگر درحقیقت یہ عمل جذباتی فریب کی ایک شکل ہوتے ہیں۔

مرد دماغ میں خود کو کیسے بے قصور ثابت کرتا ہے؟
جب کسی مرد کا رویہ اس کے اصولوں سے متصادم ہوتا ہے، تو اس کے اندر ایک نفسیاتی کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ وہ خود کو اچھا انسان سمجھتا ہے، لیکن خفیہ رابطے اس کی اس شناخت کو چیلنج کرتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے دماغ ایک راستہ نکالتا ہے جسے Moral Rationalization کہتے ہیں، یعنی انسان اپنے غلط عمل کو اخلاقی طور پر درست ٹھہرانے کے لیے ذہنی دلیلیں بناتا ہے۔ مثلاً: "بیوی سے میری جذباتی دوری ہے، اس لیے کسی سے بات کر لینا کوئی بڑی بات نہیں"، یا "میں دھوکہ نہیں دے رہا، بس بات ہی تو کر رہا ہوں"۔ اس طرح وہ اندرونی گناہ کے احساس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔

خفیہ بات چیت کا مقصد محض دوستی نہیں ہوتا:
اگر واقعی بات صرف دوستی ہو، تو اسے چھپانے کی ضرورت نہ ہو۔ جب کوئی مرد کسی خاتون سے خفیہ طور پر بات کرتا ہے، بات چیت delete کرتا ہے، یا مخصوص وقتوں میں رابطہ کرتا ہے، تو یہ صاف اشارہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ عمل شریکِ حیات کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے۔ اکثر یہ تعلقات جذباتی validation یا ایک "خفیہ جذباتی خلا" کو پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں، جو مرد کو وقتی طور پر خوشی یا دلچسپی فراہم کرتے ہیں، مگر طویل مدت میں اصل رشتے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

نیورولوجیکل اور نفسیاتی بنیادیں:
جب کوئی مرد خفیہ بات چیت کرتا ہے، تو اس عمل کے دوران دماغ میں dopamine خارج ہوتا ہے، جو خوشی، سرشاری اور "نئی چیز" کا احساس پیدا کرتا ہے۔ یہ ایک قسم کی دماغی "reward" بن جاتی ہے، جو مرد کو دوبارہ اسی رویے کی طرف لے جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دماغ کا prefrontal cortex جو فیصلے اور اخلاقی سمجھداری کا مرکز ہے — بعض اوقات جذبات کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتا ہے، خاص طور پر جب فرد تناؤ، بوریت یا تعلقی خالی پن کا شکار ہو۔ یوں انسان وہ سب کرنے لگتا ہے جو وہ اپنے اصولوں کے خلاف سمجھتا ہے، مگر پھر بھی جاری رکھتا ہے۔

بیوی سے چھپانے کی نفسیاتی وجوہات:
بہت سے مرد اس خفیہ بات چیت کو اس لیے چھپاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ضمیر کے سامنے شرمندہ تو ہوتے ہیں، مگر اس رشتے کو مکمل طور پر توڑنے یا تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اصل رشتہ بھی محفوظ رہے، اور خفیہ دلچسپی بھی جاری رہے۔ یہ ایک نفسیاتی تضاد ہے، جسے "dual emotional attachment" بھی کہا جاتا ہے — یعنی ایک وقت میں دو جذباتی سمتوں میں جھکاؤ۔ لیکن سچ یہ ہے کہ جتنا زیادہ فرد چھپاتا ہے، اتنا ہی وہ اعتماد کی دیوار کو کمزور کرتا ہے، چاہے وہ خود کو کچھ بھی سمجھا لے۔

کیا یہ دھوکہ ہے؟
اس سوال کا جواب ہر رشتے کی حدود پر منحصر ہوتا ہے، مگر عمومی طور پر اگر کوئی عمل چھپایا جا رہا ہے، دل میں کشش موجود ہے، یا جذباتی قربت پیدا ہو رہی ہے، تو یہ جذباتی بے وفائی کہلاتی ہے۔ خفیہ بات چیت اکثر جسمانی دھوکہ نہیں ہوتی، مگر یہ emotional cheating کے دائرے میں آتی ہے — جس کا اثر کبھی کبھار جسمانی بے وفائی سے بھی زیادہ گہرا ہوتا ہے، کیونکہ یہ اعتماد اور جذباتی سچائی پر حملہ کرتی ہے۔

اگر چھپانا پڑے، تو سوال ضرور اٹھتا ہے:
جب کوئی شوہر کہے: "وہ صرف میری دوست ہے"، مگر بات چیت خفیہ ہو، تو یہ صرف دوستی نہیں رہتی۔ یہ ایک ایسا نفسیاتی اور اخلاقی تضاد ہوتا ہے جس میں فرد خود سے سچ چھپاتا ہے تاکہ اپنے عمل کو جائز ٹھہرا سکے۔ Cognitive Dissonance، dopamine-driven behavior، اور moral rationalization, یہ سب اس عمل کو ذہنی طور پر قابلِ قبول بنا دیتے ہیں، مگر حقیقت میں رشتہ کھوکھلا ہوتا جاتا ہے۔ اگر ہم رشتوں میں سچائی، شفافیت اور جذباتی ایمانداری کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے عمل کو دیانتداری سے دیکھنا سیکھنا ہوگا — خاص طور پر تب، جب ہم خود سے کہہ رہے ہوں: "یہ تو بس دوستی ہے۔

27/04/2025

۔دماغ عادات کا مجموعہ ہوتا ہے،، جب آپ کسی چیز کی خواہش میں تڑپتے رہتے ہیں تو آپ کا دماغ عادی پوجاتا ہے تڑپنے، پریشان رہنے اور ناخوش رہنے کا۔۔۔ پھر جب آپ کی خواہشات کی تکمیل ہو بھی جاتی ہے تب بھی آپ کا دماغ ناخوش ہی رہتا ہے۔۔۔ آپ نے دیکھا ہوگا کے لوگوں کو بلکہ خود بھی تجربہ کیا ہوگا کپ شدید ترین خواہش پوری ہونے کے بعد بھی مزید اور مزید اور کا دل کرتا ہے،،، جو مل جاتا ہے اس پر دل راضی نہیں ہوتا بلکہ عجیب بے چینی شروع ہوجاتی ہے۔۔کیونکہ دماغ کو اب کچھ " اور" چاہئے،، پھر کچھ اور پھر کچھ اور۔۔۔
اسی لئے کہا جاتا ہے کہ لمحہ موجود میں خوش رہا کریں، راضی رہا کریں تا کہ لمحہ مستقبل میں بھی آپ خوش ہی رہیں۔۔۔

Changing the  Narrative  on “suicide  “
10/09/2024

Changing the Narrative on “suicide “

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923007705111

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Coaching Minds Psychological Help posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Coaching Minds Psychological Help:

Share