Dr. Arshad Mehmood - Child Specialist

Call Directions

Dr. Arshad Mehmood - Child Specialist FCPS Paediatrics🥇
FCPS Paediatric Neurology
Fatima Memorial Hospital, Lahore
5:00-7:00 Pm (Monday- Saturday)
For Appointment : 0343 6883859

کزن میرج ، خاندان اور ذات برادریوں میں شادی  ہمارے معاشرتی رواج کا ایک حصہ ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ملک ساٹھ س...
28/08/2026

کزن میرج ، خاندان اور ذات برادریوں میں شادی ہمارے معاشرتی رواج کا ایک حصہ ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ملک ساٹھ سے ستر فیصد تک شادیاں ایسی ہوتی ہیں۔
اس پوسٹ میں ہم کزن میرج اور کے بچوں میں جینیاتی مسائل پر اثرات کے بارے میں بات کریں گے۔
بہت سے لوگ کمنٹس میں یہ کہیں گے کہ وہ کئی نسلوں سے یہ رواج اپنائے ہوئے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں، ہر کیس میں کزن میرج جینیاتی بیماریوں کا سبب نہیں بنتی۔
لیکن ان کیسز میں جب خاندان کے کسی فرد میں جینیاتی مسائل ہوں، چاہے وہ ظاہر ہوں یا چھپے ہوئے ہوں، بار بار خاندان میں شادی کرنے سے بچوں میں جینیاتی بیماریوں کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
خاص طور پر ایسی بیماریاں جو آٹوسومل ریسسیو ڈس آرڈرز کہلاتی ہیں جیسے تھیلےسیمیا (خون کی بیماری)، سسٹک فائبروسس (ایک بیماری جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے)، مختلف میٹابولک ڈس آرڈرز اور کئی دیگر بیماریوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
ایسی حالت میں ہر بچے میں بیماری کا %25 خطرہ ہوتا ہے ہے کہ اس کو یہ بیمار لاحق ہو جو کہ کافی زیادہ ہے۔
کافی بچے جو سیریبرل پالس، مرگی اور چلنے پھرنے یا سوچنے سمجھنے سے معزوری کا شکار ہوتے ہیں اور اس کی وجہ کزن میرج ہوتی ہے۔ بعض دفعہ والدین کے سب بچے موروثی امراض کا شکار ہوتے ہیں، وہ بڑی مشکل سے انکو سنبھال رہیے ہوتے ہیں اور مزید بچے کرنے سے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ان میں بھی یہ مسلہ نہیں ہو ، تو یہ واقعی ایک بہت تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے۔

اگر کسی بھی وجہ سے آپ اپنے خاندان میں شادی کرنا چاہے تو آپکو اپنی جینیاتی تفصیلات، خاندان کی تفصیل اور مناسب جینیاتی مشاورت حاصل کرنی چاہیے۔

ایک اور اہم غلط فہمی یہ ہے کہ خاوند اور بیوی کا مختلف خون کے گروپ ہونے سے بچوں میں جینیاتی بیماریاں ہو سکتی ہیں- تو ایسا کچھ نہیں، بلڈ گروپ مختلف ہونے سے موروثی امراض نہیں ہوتے ۔

اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو برائے مہربانی کمنٹس میں پوچھیں۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
فاطمہ میموریل ہاسپٹل لاہور

26/08/2026

A child was brought to our clinic with difficulty walking. On examination, the gait abnormality was not due to weakness, spasticity, or ataxia. Instead, the child was found to have a significant limb length discrepancy, with one lower limb shorter than the other.

Limb length discrepancy is an important and often overlooked cause of gait abnormalities in children. Depending on the severity, children may present with limping, toe walking on the shorter side, pelvic tilt, compensatory scoliosis, hip or back pain, and progressive gait dysfunction.

Common causes of limb length discrepancy in children include:

• Developmental dysplasia of the hip (DDH)
• Previous fractures involving the growth plate
• Congenital limb deficiencies or hemihypoplasia
• Cerebral palsy and other neuromuscular disorders
• Perthes disease
• Slipped capital femoral epiphysis (SCFE)
• Post-infectious or post-traumatic growth disturbances
• Overgrowth syndromes such as Beckwith-Wiedemann syndrome and hemihyperplasia
• Vascular malformations and syndromic conditions

Management depends on the underlying cause, the degree of discrepancy, and the child's remaining growth potential. Mild discrepancies may only require observation or shoe lifts, while larger discrepancies may need orthopedic intervention. Early recognition is essential to prevent secondary musculoskeletal complications and optimize long-term function.

When evaluating a child with gait abnormality, always compare limb lengths and look for pelvic asymmetry. Sometimes the cause of an abnormal gait is not neurological—it may simply be a difference in leg

تمام والدین کے لیے اہم پیغام!! براہ کرم اپنے روتے ہوئے ایک سال سے کم عمر بچے کو چپ کرانے کی کوشش کرتے ہوتے  بچے کے سر کو...
26/08/2026

تمام والدین کے لیے اہم پیغام!! براہ کرم اپنے روتے ہوئے ایک سال سے کم عمر بچے کو چپ کرانے کی کوشش کرتے ہوتے بچے کے سر کو ہلانے سے گریز کریں۔
بچوں میں اور خاص طور پر تین ماہ سے کم عمر کے بچوں میں رونا بہت عام ہے کیونکہ کولک یا پیٹ کا درد ہفتے میں تین دن تک اور دن میں تین گھنٹے تک مسلسل رہ سکتا ہے جس میں بچہ روتا ہے اور بمشکل ہی چپ کرتا ہے۔
روتے ہوئے بچے کو چپ کرانے کی کوشش کرتے ہوئے والدین خود بھی بہت بے چین ہو جاتے ہیں۔ زیادہ تر بچوں کو چپ کروانے کے لیے ماٸیں اٹھا کر جھلاتی ہیں .بچے کے مسلسل رونے کی وجہ سے کچھ بے چین والدین بچے کوچپ کرواتے ہوۓ زور سے ہلا سکتے ہیں جس سے بچوں کے دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے .
بچے تین ماہ کی عمر میں گردن سنبھالنا شروع کرتے ہیں اور ان کے سر کا سائز جسم کے سائز کے مقابلے میں بڑا ہوتا ہے۔ لہذا بچے کا بھاری سر اور گرن نہ سنبھالنا دماغ کے متاثر ہونے کا سبب بنتا ہے ۔
سر کو زور سے ہلانے سے دماغ اور دماغ کے اندر خون کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں۔ اس سے ہونے والے مثاٸل مستقل ہوتے ہیں جو زندگی بھر کے لیے بچے کی معزوری کا باعث بن سکتے ہیں۔
بچوں کی مساٸل سے متعلق رہنماٸ کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ھمارے معلوماتی پیغام پڑھتے رہیں
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
فاطمہ میموریل ہاسپٹل لاہور

24/08/2026

This child has had a large pigmented lesion on the side of the neck and extending onto the scalp since birth. Over time, the lesion has grown proportionally with the child and is covered in hair.

What's your diagnosis?
How would you assess the risk of malignant transformation?
Would you recommend neuroimaging in this patient?
Finally, what are the treatment options and long-term follow-up strategy?

بچوں میں سر درد ایک عام مسئلہ ہے اور زیادہ تر صورتوں میں یہ کسی معمولی اور بے ضرر وجہ سے ہوتا ہے، جیسے نیند کی کمی، پانی...
24/08/2026

بچوں میں سر درد ایک عام مسئلہ ہے اور زیادہ تر صورتوں میں یہ کسی معمولی اور بے ضرر وجہ سے ہوتا ہے، جیسے نیند کی کمی، پانی کم پینا، زیادہ اسکرین ٹائم، امتحانی دباؤ، ذہنی تناؤ یا کھانا وقت پر نہ کھانا۔ ایسے سر درد عموماً وقتی ہوتے ہیں اور آرام، مناسب نیند اور روزمرہ روٹین بہتر بنانے سے خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

لیکن بچوں میں سر درد کی ایک اہم وجہ مائیگرین بھی ہو سکتی ہے۔ مائیگرین دماغ کی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دماغ کے اعصاب غیر معمولی طور پر حساس ہو جاتے ہیں،دماغ میں خون کی نالیاں پھول جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں شدید سر درد کے دورے پڑتے ہیں۔ عام طور پر اسے بڑوں کی بیماری سمجھا جاتا ہے مگر یہ بچوں میں بھی ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ کم عمری میں بھی، اور اکثر خاندان میں اور لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

بچوں میں مائیگرین کی مختلف
علامات ہو سکتی ہیں۔ بعض بچوں میں سر کے ایک طرف درد ہوتا ہے جبکہ بعض میں پورے سر میں۔ درد کے ساتھ متلی، قے، روشنی یا آواز سے بے چینی، تھکن، چڑچڑاپن اور درد کے دوران لیٹ جانے کی خواہش ہو سکتی ہے۔ چھوٹے بچے اپنے درد کو الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے، اس لیے وہ خاموش ہو جاتے ہیں، کھیل چھوڑ دیتے ہیں یا رونے لگتے ہیں۔ ایسے بچے اکثر اسکول میں توجہ نہیں دے پاتے اور ان کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔

جب بچے کو مائیگرین کا دورہ پڑے تو فوری طور پر اسے پرسکون اور خاموش ماحول فراہم کرنا چاہیے۔ لائٹ بند کر کے بچے کو پرسکون جگہ پر لٹائیں، پانی پلائیں اور موبائل یا ٹی وی سے دور رکھیں۔ ہلکے یا درمیانے درجے کے درد میں سادہ درد کی ادویات، جیسے پیراسیٹامول یا آئبوپروفن، ڈاکٹر کے مشورے سے دی جا سکتی ہیں۔ ہر سر درد پر یا بار بار خود سے دوا دینا درست نہیں کیونکہ اس سے سر درد مزید بڑھ سکتا ہے اور دوا کے عادی ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

یہ جاننا بھی والدین کے لیے بہت ضروری ہے کہ اگر بچے کو سر درد بہت زیادہ بار بار ہونے لگے، اگر درد کے دورے بہت لمبے ہو جائیں، یا اگر سر درد بچے کی روزمرہ زندگی، اسکول حاضری، پڑھائی یا کھیل کود کو واضح طور پر متاثر کرنے لگے، تو صرف وقتی درد کی ادویات کافی نہیں ہوتیں۔ ایسی صورت میں ماہرِ چائلڈ نیورولوجسٹ کی نگرانی میں روٹین کے ساتھ روزانہ دوائ دی جاتی ہے۔ اسکا مقصد سر درد کے دوروں کی تعداد، شدت اور مدت کو کم کیا جا سکے۔ یہ دوائیں مہینوں تک دی جا سکتی ہیں اور ہر بچے کے لیے دوا کا انتخاب اس کی عمر، وزن اور علامات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ یہ علاج ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے ہی شروع اور بند کیا جانا چاہیے۔

مائیگرین کے علاج میں دوا کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی میں بہتری نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بچے کو روزانہ مناسب اور وقت پر نیند دینی چاہیے، کھانے کے اوقات باقاعدہ ہونے چاہئیں اور دن میں مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔ روزانہ ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی، کھیل کود اور اسکرین ٹائم کی حد مقرر کرنا مائیگرین کے دوروں کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ والدین اگر سر درد کی ایک سادہ ڈائری رکھیں، جس میں درد کا وقت، دورانیہ اور ممکنہ وجہ نوٹ کریں، تو علاج میں بہت آسانی ہو جاتی ہے۔

اس کے برعکس، بچے کو دیر تک جاگنے، کھانا چھوڑنے، بہت زیادہ موبائل یا ٹی وی دیکھنے، فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس اور کیفین والی اشیاء کے زیادہ استعمال سے بچانا چاہیے۔ ہر سر درد پر فوراً دوا دینا یا بغیر مشورے کے مختلف دوائیں آزمانا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بچے کے سر درد کو لاپرواہی یا بہانہ سمجھ کر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ بروقت تشخیص سے بچے کی زندگی کا معیار بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

اگر بچے کو سر درد کے ساتھ بار بار قے ہو، نظر کا مسئلہ ہو، جسم کے کسی حصے میں کمزوری آئے، دورے پڑیں، یا اس کی پڑھائی اور رویے میں واضح تبدیلی آ جائے، تو فوراً ماہرِ چائلڈ نیورولوجسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ درست ہسٹری، مکمل معائنہ اور ضرورت پڑنے پر مناسب ٹیسٹس کے ذریعے ہی بہترین علاج کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

صحیح تشخیص، مناسب علاج اور والدین کے تعاون سے مائیگرین ایک قابلِ کنٹرول مسئلہ ہے، اور زیادہ تر بچے ایک نارمل، فعال اور خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

جھٹکے یا دورے (fits) دماغ میں ایک غیر معمولی برقی کرنٹ یا اسپارک کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ کرنٹ دماغ کے مختلف حصوں میں...
23/08/2026

جھٹکے یا دورے (fits) دماغ میں ایک غیر معمولی برقی کرنٹ یا اسپارک کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ کرنٹ دماغ کے مختلف حصوں میں اچانک خارج ہوتا ہے، جس سے پٹھے اچانک حرکت کرتے ہیں، ہوش متاثر ہوتا ہے اور بچے کے جسم پر جھٹکے ظاہر ہوتے ہیں۔ جھٹکے کسی بھی عمر میں اور کسی بھی جگہ ہو سکتے ہیں، گھر، پارک، ہسپتال یا بلڈنگ میں۔
سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ پریشان یا گھبراہٹ میں نہ آئیں۔ والدین کا سکون بچے کے لیے بہت ضروری ہے۔
جھٹکے کے دوران سب سے پہلے بچے کو محفوظ جگہ پر رکھیں اور بچے کے اردگرد کوئی سخت، نوکیلی یا خطرناک اشیاء ہٹا دیں۔ اگر بچے کے گلے میں کوئی سخت یا تنگ چیز ہو تو نکال دیں ، کالر کو ڈھیلا کردیں۔ بچے کے پاس پانی، آگ یا کوئی خطرناک چیز ہو تو اسے بھی دور کریں۔
جھٹکے کے دوران بچے کو ہمیشہ سائڈ پر لٹائیں، تاکہ اگر منہ سے الٹی یا جھاگ نکلے تو وہ پھیپھڑوں میں نہ جائے اور باہر نکل سکے۔ منہ میں جمع بلغم یا تھوک کو آرام سے صاف کریں اور بچے کو سکون کے ساتھ سانس لینے دیں۔ جھٹکے کے دوران بچے کے جسم کو زور سے دبانے یا قابو پانے کی کوشش نہ کریں، بس محفوظ جگہ پر رکھیں تاکہ کوئ چوٹ نہ لگ جائے۔
جھٹکے کے دوران کبھی بھی بچے کے منہ میں پانی نہ ڈالیں۔ بہت سے والدین سمجھتے ہیں کہ پانی دینے سے جھٹکے رک جائیں گے یا کم ہوں گے، لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ جھٹکے کے دوران بچہ نا تو ہوش میں ہوتا ہے اور نہ ہی اسے کچھ معلوم ہوتا ہے۔ پانی دینے سے وہ سیدھا سانس کی نالی میں چلا جائے گا اور بچے کا سانس بند ہو سکتا ہے۔
بچے کے سر کو نرم سطح پر رکھیں، جیسے تکیہ یا ہاتھ وغیرہ۔ بازو یا ٹانگوں کو زور سے دبانے، پکڑنے کی کوشش نہ کریں۔ اکثر جھٹکے چند منٹ میں خود بخود ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ دماغ کا خودکار نظام انہیں کنٹرول کر لیتا ہے۔ جھٹکے کے آغاز کے وقت سے ٹائم نوٹ کرنا شروع کریں۔ اگر جھٹکے تین منٹ سے زیادہ جاری رہیں تو فوری توجہ درکار ہے۔ اگر جھٹکے پانچ منٹ تک ختم نہ ہوں تو فوراً ایمبولینس یا ہسپتال سے رابطہ کریں۔ پانچ منٹ کے بعد اگر جھٹکے کنٹرول نہ ہوں تو دماغ میں نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے طویل جھٹکوں کو Status Epilepticus کہا جاتا ہے اور یہ ایمرجنسی ہے۔
اگر جھٹکے گھر پر رک جائیں تو اکثر بچے جھٹکے کے بعد نیند میں چلے جاتے ہیں۔ جب بچہ اٹھتا ہے تو سر میں درد ہو سکتا ہے۔عام طور بچے کو جھٹکے کی چیزیں یاد نہیں رہتی ہیں۔ یہ اکثر معمول کی بات ہے اور یہ علامات کچھ گھنٹوں میں بہتر ہو جاتی ہیں۔ تاہم اگر جھٹکے کے رک جانے کے بعد بھی بچہ کئی گھنٹے تک ہوش میں نہ آئے، یا ہوش میں آئے لیکن جسم کے کسی حصے میں کمزوری ہو، یا شدید سر درد ہو جو وقت کے ساتھ بہتر نہ ہو، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
باقاعدہ چائلڈ نیورولوجسٹ کے چیک اپ بھی بہت ضروری ہے کیونکہ جھٹکوں کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے بخار کے جھٹکے، یا مرگی (Epilepsy)۔ چائلڈ نیورولوجسٹ مکمل معائنہ کرکے وجہ کا تعین کرے گا اور مناسب علاج تجویز کرے گا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ والدین جھٹکوں کے دوران پرانے روایتی یا غلط طریقے جیسے جراب یا جوتے سونگھانا وغیرہ استعمال نہ کریں۔ یہ عمل اور دیگر مشہور خرافات جھٹکوں کو روکنے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے اور صرف غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
فاطمہ میموریل ہاسپٹل لاہور

23/08/2026

بچوں میں مٹی،کاغذ کھانے کی وجوہات اور حل !

22/08/2026

A 9-month-old infant was brought with a history of intermittent head nodding, along with occasional deviation of the head to one side. Parents also noticed abnormal movements of both eyes over the past few weeks. The child is otherwise thriving well, has normal developmental milestones, and is able to fix and follow objects appropriately. Neurological examination is otherwise unremarkable.
How would you proceed with the evaluation of this child? Which investigations would you perform?
what is your most likely diagnosis?

بچوں میں دورے یا جھٹکے پڑنا ایک بہت عام مسئلہ ہے، اور اسی وجہ سے والدین اکثر شدید پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ میں آج ...
21/08/2026

بچوں میں دورے یا جھٹکے پڑنا ایک بہت عام مسئلہ ہے، اور اسی وجہ سے والدین اکثر شدید پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ میں آج خاص طور پر والدین کے ساتھ ایک نہایت اہم نکتے پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ گزارش ہے کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ سب کو فائدہ ہو۔ جزاک اللہ۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر خود آنکھوں سے بچے کے دورے نہ دیکھ سکے تو مرگی یا جھٹکوں کی درست تشخیص کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ کوئی ایک ایسا ٹیسٹ موجود نہیں جو سو فیصد یہ ثابت کر دے کہ بچے کو واقعی مرگی کے دورے پڑ رہے ہیں۔ اکثر اوقات والدین جس چیز کو دورہ سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ حقیقت میں دورہ نہیں ہوتا بلکہ کوئی اور مسئلہ ہو سکتا ہے۔
ای ای جی ایک اہم ٹیسٹ ہے جو ہم عموماً کرواتے ہیں، لیکن یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ اگر بچے کو واقعی مرگی ہو تب بھی ای ای جی نارمل آ سکتا ہے۔ اسی لیے صرف ٹیسٹ پر انحصار کرنا کافی نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ اہم چیز دورے کی مکمل تفصیل جاننا اور اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہے۔
آج کے دور میں تقریباً ہر شخص کے پاس کیمرے والا موبائل فون موجود ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی بچے کو جھٹکے لگیں تو ایک فرد بچے کو محفوظ طریقے سے سنبھالے اور دوسرا شخص کوشش کرے کہ اس دورے کی ویڈیو موبائل پر ریکارڈ کر لے۔ یہ ویڈیو تشخیص کے لیے انتہائی قیمتی ثابت ہوتی ہے۔
دوروں کی درست قسم جاننا بہت ضروری ہے، کیونکہ مختلف قسم کے دوروں کے لیے مختلف دوائیں استعمال کی جاتی ہیں۔ اگر بچے کو مرگی نہ ہو اور صرف اندازے کی بنیاد پر مرگی کی دوا شروع کر دی جائے تو اس کے دیرپا اثرات ہو سکتے ہیں۔ ان میں روزانہ دوا دینا، دوا کا مسلسل بندوبست، دواؤں کے ممکنہ مضر اثرات، معاشرتی دباؤ، والدین کی مسلسل ذہنی پریشانی، اور بچے کی روزمرہ زندگی اور روٹین کا متاثر ہونا شامل ہے۔
اسی لیے ہم ہمیشہ زور دیتے ہیں کہ مرگی یا جھٹکوں کی درست تشخیص بہت ضروری ہے، اور اس میں والدین کی بنائی گئی ویڈیو ہماری بہت بڑی مدد کر سکتی ہے۔ بروقت اور درست تشخیص سے نہ صرف غیر ضروری دواؤں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ بچے کی زندگی کو بھی نارمل رکھا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ
چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

20/08/2026

A 10-month-old infant was brought with recurrent episodes of jerking involving the right side of the body, each lasting about 1–2 minutes. The child is developmentally appropriate for age and has no significant antenatal or perinatal history.
On examination, there is a well-defined, flat, reddish-purple birthmark involving the left forehead, present since birth. The rest of the systemic examination is unremarkable.
The MRI brain report is attached at the end of the video.
What is this facial skin lesion called?
What is the most likely diagnosis?
Which additional investigation is essential in this child?

Address

Lahore

Telephone

+923436883859

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Arshad Mehmood - Child Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category