28/08/2026
کزن میرج ، خاندان اور ذات برادریوں میں شادی ہمارے معاشرتی رواج کا ایک حصہ ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ملک ساٹھ سے ستر فیصد تک شادیاں ایسی ہوتی ہیں۔
اس پوسٹ میں ہم کزن میرج اور کے بچوں میں جینیاتی مسائل پر اثرات کے بارے میں بات کریں گے۔
بہت سے لوگ کمنٹس میں یہ کہیں گے کہ وہ کئی نسلوں سے یہ رواج اپنائے ہوئے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں، ہر کیس میں کزن میرج جینیاتی بیماریوں کا سبب نہیں بنتی۔
لیکن ان کیسز میں جب خاندان کے کسی فرد میں جینیاتی مسائل ہوں، چاہے وہ ظاہر ہوں یا چھپے ہوئے ہوں، بار بار خاندان میں شادی کرنے سے بچوں میں جینیاتی بیماریوں کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
خاص طور پر ایسی بیماریاں جو آٹوسومل ریسسیو ڈس آرڈرز کہلاتی ہیں جیسے تھیلےسیمیا (خون کی بیماری)، سسٹک فائبروسس (ایک بیماری جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے)، مختلف میٹابولک ڈس آرڈرز اور کئی دیگر بیماریوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
ایسی حالت میں ہر بچے میں بیماری کا %25 خطرہ ہوتا ہے ہے کہ اس کو یہ بیمار لاحق ہو جو کہ کافی زیادہ ہے۔
کافی بچے جو سیریبرل پالس، مرگی اور چلنے پھرنے یا سوچنے سمجھنے سے معزوری کا شکار ہوتے ہیں اور اس کی وجہ کزن میرج ہوتی ہے۔ بعض دفعہ والدین کے سب بچے موروثی امراض کا شکار ہوتے ہیں، وہ بڑی مشکل سے انکو سنبھال رہیے ہوتے ہیں اور مزید بچے کرنے سے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ان میں بھی یہ مسلہ نہیں ہو ، تو یہ واقعی ایک بہت تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے۔
اگر کسی بھی وجہ سے آپ اپنے خاندان میں شادی کرنا چاہے تو آپکو اپنی جینیاتی تفصیلات، خاندان کی تفصیل اور مناسب جینیاتی مشاورت حاصل کرنی چاہیے۔
ایک اور اہم غلط فہمی یہ ہے کہ خاوند اور بیوی کا مختلف خون کے گروپ ہونے سے بچوں میں جینیاتی بیماریاں ہو سکتی ہیں- تو ایسا کچھ نہیں، بلڈ گروپ مختلف ہونے سے موروثی امراض نہیں ہوتے ۔
اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو برائے مہربانی کمنٹس میں پوچھیں۔
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
فاطمہ میموریل ہاسپٹل لاہور