Al-Taiba International

Call Directions Website Contact the practice

Al-Taiba International Although our focus has been on Miswak, shyhd and Islamic books in the past.

Al-Taiba International Publishers is an International Islamic publishing house established in 2017 in Moon Market Allama Iqbal, Lahore Pakistan and serving Islam in all countries.

بسم اللہ الرحمن الرحیم ازقلم زینب صفدرتاریخ: 15/6/26کالم نمبر:514 مستند احادیث اور ہمارے بچوں کا روشن مستقبلآج کل ایک سو...
15/06/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ازقلم زینب صفدر
تاریخ: 15/6/26
کالم نمبر:514

مستند احادیث اور ہمارے بچوں کا روشن مستقبل

آج کل ایک سوچ عام ہو رہی ہے کہ ہمارے پاس قرآن موجود ہے پھر ہمیں احادیث کی کیا ضرورت؟ حالانکہ یہ حقیقت ہمیں کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ قرآن اور حدیث ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں احکام نازل فرمائے وہیں ان پر عمل کرنے کا طریقہ اور ان کی تشریح ہمیں نبی کریم ﷺ کی احادیث سے ہی ملتی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی طرف سے بات گھڑ کر اسے حدیث کا نام دے دیتے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک عمل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا (یعنی اپنی بات کو میری طرف منسوب کیا) وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
اسی لیے یہ ضروری ہے کہ ہم خود بھی مستند احادیث کا مطالعہ کریں اور اپنے بچوں کی بنیاد بھی صحیح علم پر رکھیں۔

کیا آپ اپنے بچوں کے لیے کوئی ایسی کتاب تلاش کر رہے ہیں جو ان کی عمر کے مطابق ہو سمجھنے میں آسان ہو اور جس کا مواد مستند ہو؟
یاد رکھیں! بچوں کی تربیت میں چھوٹی سی کوشش بھی بڑے اثرات مرتب کرتی ہے۔ بظاہر ہمیں لگتا ہے کہ بچہ ابھی چھوٹا ہے اسے کیا سمجھ آئے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر بات اور ہر رویے کو بہت گہرائی سے محسوس کرتا ہے۔ آپ جس طرح اس کی تربیت کا بیج بوئیں گی وہی پھل پائیں گئیں
اگر آپ الطبیہ انٹرنیشنل کی اس کتاب کو اپنے معمول کا حصہ بنا لیں روزانہ بچے کو اپنے پاس بٹھا کر ایک حدیث اور اس کا ترجمہ سنائیں تو یقین جانیں کہ اس کے دل میں نبی کریم ﷺ کی محبت کا پودا جڑ پکڑ لے گا۔ یہ کتاب محض الفاظ نہیں بلکہ آپ کے بچے کی زندگی سنوارنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے جو اسے چھوٹی عمر سے ہی اسلامی تعلیمات سے جوڑ دے گی۔
آپ کی اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے "الطبیہ انٹرنیشنل" نے ایک انتہائی خوبصورت اور مختصر کتاب پیارے بچوں کے لیے 50 احادیث تیار کی ہے۔

اس میں انتہائی اہم احادیث کا انتخاب کیا گیا ہے۔
احادیث کا مفہوم انتہائی آسان زبان میں پیش کیا گیا ہے تاکہ بچے آسانی سے سمجھ سکیں۔
بچوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے خوبصورت رنگوں کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔
والدین کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی سے منور کریں۔ یہ چھوٹی سی کتاب نہ صرف بچوں کی تربیت میں معاون ثابت ہوگی بلکہ ان کے لیے دین اسلام کو سمجھنے کا پہلا قدم بھی بنے گی۔
ان شاءاللہ تعالیٰ
آج ہی اپنے بچوں کے لیے یہ کتاب حاصل کریں اور انہیں اسلامی تعلیمات کے خوبصورت سفر کا حصہ بنائیں۔

رابطہ کے لیے:
فون: 04237800917

ازقلم زینب صفدرتاریخ:13/6/26کالم نمبر:512اپنے رب کو یاد کرنے کا خوبصورت اندازکیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ کو ایک ایس...
14/06/2026

ازقلم زینب صفدر
تاریخ:13/6/26
کالم نمبر:512

اپنے رب کو یاد کرنے کا خوبصورت انداز

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ کو ایک ایسی کتاب مل جائے جو آپ کو براہ راست انبیاء کرام اور صالحین کی زبان سے اللہ کو پکارنے کا سلیقہ سکھائے؟ یہ ایک ایسا انمول خزانہ ہے جسے حاصل کرنا ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے۔ جب انسان کو دعا کی اہمیت، افادیت اور اس کے مانگنے کے قرآنی اسلوب کا صحیح اندازہ ہو جائے تو آپ ایسی کتاب کی تلاش میں بے چین ہوں ۔ آج میں آپ کو ایک ایسی ہی خاص کاوش سے متعارف کروانے جا رہی ہوں جسے الطبیہ انٹرنیشنل نے "ربنا" کے نام سے انتہائی خوبصورت اور جامع انداز میں شائع کیا ہے۔

اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں قرآنِ مجید کی موجود وہ تمام دعائیں یکجا کر دی گئی ہیں جو "ربنا" (اے ہمارے رب) سے شروع ہوتی ہیں۔ الطبیہ انٹرنیشنل کے اونر محترم محمد طارق شاہد صاحب کی اس کاوش میں انبیاء کرام اور نیک لوگوں کے مانگے گئے وہ مبارک الفاظ موجود ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں رہتی دنیا تک کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔
اس کتاب کا سب سے منفرد پہلو اس کی ترتیب ہے۔ یہاں صرف دعائیں نہیں بلکہ ہر آیت کے ساتھ اس کا سہل اور عام فہم ترجمہ شامل کیا گیا ہے۔ اس سے آپ یہ جان سکتے ہیں کہ انبیاء کرام اپنی مشکل، آزمائش، شکر گزاری اور اپنی ضروریات کے لمحات میں اللہ کو کیسے پکارتے تھے۔ یہ کلامِ الٰہی کو سمجھنے اور دعا کا صحیح قرآنی اسلوب سیکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانے اور سمجھانے کی اشد ضرورت ہے کہ دعا مانگنا صرف ایک عمل نہیں بلکہ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان رابطے کا سب سے حسین ذریعہ اور ایک عبادت ہے۔ اس کتاب کے ذریعے آپ اپنے بچوں کی تربیت اس انداز میں کر سکتے ہیں:
بچے یہ جان سکیں گے کہ ادب و احترام کے ساتھ اللہ کو کیسے پکارنا چاہیے۔ ترجمہ کے ساتھ آیات پڑھنے سے بچوں کے دلوں میں قرآنی الفاظ کی محبت پیدا ہوگی جب بچے پڑھیں گے کہ سیدنا ابراہیمؑ، سیدنا موسیٰؑ یا سیدنا یوسفؑ نے کون سی مشکل میں کیا دعا مانگی تو ان کے دلوں میں انبیاء سے محبت اور دینِ اسلام کی وقعت مزید گہری ہوگی۔

الطبیہ انٹرنیشنل نے اس کتاب کی تیاری میں معیار کا خاص خیال رکھا ہے۔ اس کے صفحات انتہائی عمدہ، ملائم ہیں جو پڑھنے والوں کے لیے ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوتے ہیں۔ کتاب کے الفاظ کا انتخاب اس قدر سادہ رکھا گیا ہے کہ عام انسان سے لے کر بچے تک ہر کوئی اسے شوق اور دلچسپی سے پڑھ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ کتاب مختلف سائز (چھوٹی اور بڑی) میں دستیاب ہے تاکہ آپ اپنی سہولت اور ضرورت کے مطابق انتخاب کر سکیں۔ آپ اسے اپنے گھر میں ضرور لائیں اپنے بچوں کو بطور تحفہ دیں اور انہیں اس نورِ ایمان سے روشناس کروائیں۔ یہ کتاب الطبیہ انٹرنیشنل سے باآسانی خریدی جا سکتی ہے۔
آئیں اس کتاب کے ذریعے اپنے گھروں کو دعا کے نور سے منور کریں اور اپنے بچوں کے دلوں میں اللہ کی محبت کا بیج بوئیں۔

رابطہ کے لیے:
فون: 04237800917
واٹس ایپ: 03219779100

13/06/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج کے دور میں جہاں فاسٹ فوڈ اور غیر متوازن طرزِ زندگی عام ہے، وہاں موٹاپا ایک سنگین عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ "موٹا ہونا صحت مندی کی علامت ہے"۔ حقیقت میں موٹاپا تمام بیماریوں کی ماں ہے، جو خاموشی سے بلڈ پریشر، کولیسٹرول، دائمی قبض اور جوڑوں کے درد جیسے مسائل کو جنم دیتا ہے۔ ان تمام مسائل کے حل کے لیے *الطبیہ انٹرنیشنل* ایک مکمل اور قدرتی علاج لے کر حاضر ہوا ہے۔


اگر آپ کیمیکل سے پاک اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق علاج کے متلاشی ہیں، تو *الطبیہ* کی پیشکش "قلبی جدید" آپ کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ *الطبیہ انٹرنیشنل* نے اس پروڈکٹ کو پانچ ایسی قدرتی غذاؤں سے تیار کیا ہے جن کا ذکر طبِ نبوی میں جابجا ملتا ہے:
1. *شہد:* شفا کا منبع، اور توانائی کا خزانہ۔
2. *لہسن:* شریانوں کی صفائی اور دل کی مضبوطی کا راز۔
3. *ادرک:* نظامِ ہاضمہ کی درستی اور جسمانی سوزش کا خاتمہ۔
4. *لیموں:* جسم کی فالتو چربی کو قدرتی طور پر پگھلانے والا۔
5. *سیب کا سرکہ:* خون میں شوگر اور کولیسٹرول کو متوازن رکھنے کے لیے لاجواب۔

*الطبیہ انٹرنیشنل* کی یہ خاص پیشکش محض وزن کم نہیں کرتی بلکہ آپ کی مجموعی صحت کو بہتر بناتی ہے:

یہ جسم کے میٹابولزم کو متحرک کرتا ہے جس سے فالتو چربی قدرتی طور پر ختم ہونے لگتی ہے۔
*قلبی صحت:* دل کی شریانوں کو کھول کر خون کی گردش کو رواں دواں رکھتا ہے۔


عام مسائل کے ساتھ ساتھ اگر آپ اپنی قوتِ مدافعت اور جسمانی توانائی کو مزید جلا بخشنا چاہتے ہیں، تو قلبی پلس ایک خاص تحفہ ہے۔ اس میں بنیادی اجزاء کے ساتھ ساتھ دو انتہائی قیمتی اشیاء کا اضافہ کیا گیا ہے:
*کلونجی* : جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ "اس میں موت کے سوا ہر بیماری کے لیے شفا ہے"۔ یہ جسم کے دفاعی نظام کو فولادی بناتی ہے۔

*زعفران* : دنیا کی مہنگی ترین بوٹی، جو نہ صرف اعصابی کمزوری کو دور کرتی ہے بلکہ آپ کے چہرے پر قدرتی رونق اور تازگی لاتی ہے۔

شوگر کے مریضوں کے لیے *الطبیہ انٹرنیشنل* نے خاص طور پر "قلبی شوگر فری" متعارف کروایا ہے تاکہ وہ بھی بغیر کسی فکر کے صحت یاب ہو سکیں۔

*درد سے نجات:* پٹھوں اور جوڑوں کے درد کے مریضوں کے لیے *الطبیہ* کا یہ نسخہ کسی معجزے سے کم نہیں۔

اسلام ہمیں اپنی صحت کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔ زیادہ کھانا اور جسم کا بھاری پن نہ صرف دنیاوی کاموں میں سستی لاتا ہے بلکہ اللہ کی عبادت میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔

*الطبیہ* کا "قلبی جدید" اسی فلسفہِ اعتدال کے تحت تیار کیا گیا ہے تاکہ آپ چاق و چوبند رہ کر دین و دنیا کے کام سرانجام دے سکیں۔
*آج ہی رابطہ کریں اور زندگی بدلیں!*
آپ کی عمر چاہے کچھ بھی ہو، ایک فعال اور بیماریوں سے پاک زندگی گزارنا اب ناممکن نہیں رہا۔ *الطبیہ* پر آپ کے لیے قلبی جدید ،قلبی پلس اور قلبی شوگر فری کی مکمل رینج دستیاب ہے۔
رابطہ کی تفصیلات:
فون : 04237800917
واٹس ایپ: 03219779100

12/06/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ازقلم: زینب صفدر
تاریخ: 12/6/26
کالم نمبر: 511
شرط لگانا تفریح یا حرام اور گناہ؟
ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی برائیاں جڑ پکڑ چکی ہیں جنہیں اب گناہ سمجھنے کے بجائے تفریح کا نام دے دیا گیا ہے۔ انہی میں ایک تیزی سے پھیلتی ہوئی لعنت شرط لگانا ہے۔ دوستوں کی محفل ہو، کرکٹ کا میچ ہو، یا کوئی معمولی سی بات، اکثر لوگ ہنستے کھیلتے کہتے ہیں کہ چلو اس بات پر سو روپے کی شرط لگائی جائے۔ دیکھنے میں یہ عمل ایک معمولی سا کھیل محسوس ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہ وہ دلدل ہے جسے اسلام نے جوا (قمار) قرار دے کر قطعی طور پر حرام ٹھہرایا ہے۔
شرط لگانے کا عمل محض پیسوں کا لین دین نہیں بلکہ یہ انسان کی نفسیات کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ شرط لگانے کی عادت انسان کو آہستہ آہستہ ذہنی مریض بنا دیتی ہے۔ جب کوئی شخص شرط ہارتا ہے تو اسے شدید شرمندگی اور اپنے آپ پر غصہ آتا ہے۔ یہ منفی کیفیت اسے دوسروں کے ساتھ بدتمیزی اور جھگڑے پر اکساتی ہے اور وہ اپنے غصے پر قابو پانے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ دوسری طرف جو جیت جاتا ہے اس کے اندر مفت خوری کا لالچ پیدا ہوتا ہے۔ یہ لالچ اسے مزید اندھا کر دیتا ہے اور وہ بار بار اسی عمل کو دہرانے کے چکر میں خود کو تباہی کے دہانے پر لے آتا ہے۔
آج کل تو یہ لعنت ہر جگہ پھیل چکی ہے۔ اکثر لوگ فارغ اوقات میں لڈو کھیلتے ہوئے بھی شرطیں لگاتے ہیں۔ یہ محض وقت گزاری نہیں بلکہ حرام کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔ اگر ہم غور کریں تو معاشرے میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی شرطیں لگاتے نظر آتے ہیں۔ ان معصوموں کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ ثواب کا کام ہے یا گناہ وہ تو بس بڑوں کو دیکھ کر یہ سیکھ رہے ہیں کہ یہ تو پیسے کمانے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ یہ عادت ان کی شخصیت اور تربیت پر نہایت برا اثر ڈالتی ہے اور وہ بچپن ہی سے حرام اور حلال کے فرق کو مٹانے لگتے ہیں۔
قرآنِ مجید میں واضح ارشاد ہے:
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا کے لیے نصب کردہ چیزیں اور فال کے تیر سراسر گندے ہیں، شیطان کے کام میں سے ہیں، سو اس سے بچو، تاکہ تم فلاح پاؤ "(سورہ المائدہ: 90)
شرط لگانے کا یہ عمل انسان کے اندر مفت خوری اور دوسروں کا مال ناحق ہڑپ کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ دینِ اسلام ہمیشہ محنت کی کمائی اور حلال رزق پر زور دیتا ہے۔ جب ایک شخص شرط میں جیتتا ہے تو وہ بغیر کسی محنت کے دوسرے کا مال حاصل کر لیتا ہے اور جو ہارتا ہے اس کے دل میں نفرت اور حسد کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کھیل آگے چل کر بڑے جرائم، آپس میں لڑائی جھگڑوں اور گھروں کی بربادی کا سبب بنتا ہے حد تو یہ ہے لوگ اس جوے میں اپنے گھر بار کے ساتھ بیوی تک ہار جاتے ہیں

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل کی نوجوان نسل اسے محض ایک کھیل سمجھ کر اپنا رہی ہے۔ یاد رکھیے! گناہ، گناہ ہی رہتا ہے چاہے پوری دنیا اسے فیشن یا تفریح کا نام دے دے۔ شرط لگانا کوئی بہادری کا کام نہیں بلکہ یہ اپنے دامن کو حرام کمائی سے داغدار کرنے کے مترادف ہے۔
رسول اللہﷺکی ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص (بلا ارادہ یا مذاق میں بھی) اپنے ساتھی سے یہ کہہ دے کہ "آؤ میں تمہارے ساتھ جوا کھیلوں یا شرط لگاؤں تو اسے چاہیے کہ وہ اس گناہ کی نیت کے ازالے کے لیے صدقہ کرے۔ یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ شریعت میں یہ معاملہ کتنا سنجیدہ ہے۔
آئیے! اپنے معاشرے کو اس پوشیدہ برائی سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اپنی محفلوں کو پاکیزہ رکھیں اپنی سوچ کو مثبت بنائیں اور تفریح کے نام پر ایسے حرام کاموں سے خود کو بھی بچائیں اور اپنے عزیزوں کو بھی محفوظ رکھیں۔

11/06/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ازقلم زینب صفدر
تاریخ: 10/6/26
کالم نمبر: 510

کامیابی دو جہاں کی

آج کے دور میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں ٹی وی (TV) موجود نہ ہو۔ یہ ہماری روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ٹیکنالوجی خود اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ کچھ لوگ اسے علم، شعور اور اچھائی پھیلانے کا ذریعہ بناتے ہیں تو کچھ نادانی میں اس کے ذریعے منفی باتوں کو اپنے گھروں میں جگہ دے دیتے ہیں۔
اگر ہم غور کریں تو ٹی وی چینلز کی دنیا میں بھی دو واضح راستے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف وہ چینلز ہیں جہاں فلمیں، ڈرامے اور ساس بہو کی لڑائی، بے مقصد چیزیں اور منفی رویے دکھا کر لوگوں کے ذہنوں کو خراب کیا جارہا ہے اور دین سے دور کیا جارہا ہے
دوسری طرف کچھ ایسے روشن ستارے بھی ہیں جہاں ہمیشہ مثبت، تعمیری اور روح کو سکون دینے والا مواد پیش کیا جاتا ہے۔
اسی مثبت چینلز میں ایک نام "پیغام ٹی وی" کا ہے۔ یہ چینل موجودہ دور میں ہمارے لیے ایک بہترین گائیڈ لائن (رہنما) کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں دین اور دنیا کی خوبصورت باتیں آسان انداز میں پیش کی جاتی ہیں کہ سننے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہاں ہونے والی تمام گفتگو خالصتاً قرآن اور سنت کے مطابق ہوتی ہے جس میں کسی قسم کی ملاوٹ یا من گھڑت باتیں نہیں ہوتیں اور انسان کا ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ اسی ایمان افروز ماحول کو مزید خوبصورت بنانے کے لیے اس چینل پر تلاوت قرآن مجید اور دلوں کو منور کرنے والی حمد و نعت بھی پیش کی جاتی ہیں جو گھر میں برکت اور سکون کا باعث بنتی ہیں۔
والدین کے لیے بچوں کی تربیت آج کے دور کا ایک بڑا چیلنج ہے۔ بچوں کو فضولیات اور موبائل میں فالتو ویڈیوز دیکھنے کی لت سے نکالنے کے لیے یہاں خاص طور پر اسلامک کارٹون نشر کیے جاتے ہیں جو تفریح کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیغام ٹی وی پر بچوں کی تربیت کے حوالے سے اتنے دلچسپ اور مزے مزے کے موضوعات لائے جاتے ہیں جو والدین کو اپنی گھریلو زندگی کو خوشگوار اور منظم بنانے میں بہت مدد دیتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ عوام الناس کی شرعی رہنمائی کے لیے اس چینل پر مختلف سوالات کے جوابات بھی دیے جاتے ہیں اور مستند فتاویٰ بھی پیش کیے جاتے ہیں تاکہ ہر کوئی اپنے مسائل کا حل قرآن و حدیث کی روشنی میں آسانی سے جان سکے۔
اس چینل کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں کوئی بوجھل یا الجھانے والے فلسفے بیان نہیں کیے جاتے جنہیں سمجھنا عام انسان کے لیے مشکل ہو۔ یہاں کی گفتگو بالکل صاف، سیدھی اور واضح ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے کوئی پڑھا لکھا ہو یا عام انسان جب اس گفتگو کو سنتا ہے تو اس کا دل ان سچی باتوں کو فوراً قبول کر لیتا ہے۔

اگر ہم اپنے گھروں کا ماحول بدلنا چاہتے ہیں اپنی نسلوں کو ایک مثبت سوچ دینا چاہتے ہیں تو جہاں ہم پیغام ٹی وی سے علم و ہدایت کی روشنی لیتے ہیں وہیں ہم اپنی مادی اور صحت کی ضروریات کا بہترین سامان "الطبیہ سٹور" سے خرید سکتے ہیں الطبیہ حج عمرے اور اسلامی ضروریاتِ زندگی کے مکمل سامان کا سب سے بڑا قابل اعتماد ادارہ ہے۔
پیغام ٹی وی جیسے چینل کے ساتھ الطبیہ
سٹور کا انتخاب ہماری گھریلو زندگی کو سنوارنے میں بہترین معاون ثابت ہوسکتا ہے ۔
ان شاءاللہ

07/06/2026
13/05/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ازقلم: زینب صفدر
آج کل ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ "موٹا ہونا صحت مندی کی نشانی ہے"۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ موٹاپا بذاتِ خود ایک بیماری ہے جسے تمام بیماریوں کی جڑ کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن جب یہ بلڈ پریشر، کولیسٹرول، دائمی قبض اور جوڑوں کے درد کی شکل میں سامنے آتا ہے، تب تک کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
اگر آپ بھی موٹاپے سے تنگ ہیں اور ایک ایسا حل چاہتے ہیں جو کیمیکلز سے پاک اور سنتِ نبوی ﷺ کے قریب ہو، تو الطبیہ پیش کرتا ہے
قلبی جدید۔
یہ محض ایک پروڈکٹ نہیں، بلکہ پانچ طاقتور قدرتی غذاؤں کا مرکب ہے:
1. شہد: شفا کا منبع اور توانائی کا خزانہ۔
2. لہسن: شریانوں کی رکاوٹ ختم کرنے کے لیے بہترین۔
3. ادرک: نظامِ ہاضمہ کو درست کرتا اور سوزش ختم کرتا ہے۔
4. لیموں: قدرتی طور پر چربی پگھلانے (Fat Burner) کا کام کرتا ہے۔
5. سیب کا سرکہ: خون میں شوگر اور کولیسٹرول کو متوازن رکھتا ہے۔
قلبی جدید کے حیرت انگیز فوائد
وزن میں قدرتی کمی یہ جسم کے میٹابولزم کو تیز کرتا ہے جس سے فالتو چربی خود بخود ختم ہونے لگتی ہے۔
دل کی حفاظت: دل کی شریانوں کو صاف کر کے خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے۔
جسمانی درد سے نجات: پٹھوں اور جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کے لیے یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔
شوگر کے مریضوں کے لیے خوشخبری: الطبیہ نے خاص طور پر "قلبی شوگر فری" تیار کیا ہے تاکہ ذیابیطس کے مریض بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔
اسلام ہمیں اپنی صحت کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ زیادہ کھانا اور پیٹ کا بڑھ جانا نہ صرف سستی پیدا کرتا ہے بلکہ عبادت میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔
فرمانِ رسول ﷺ ہے:
"آدمی نے اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھ سکیں..."
(جامع ترمذی: 2380)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ خوراک میں اعتدال اور پیٹ کو ہلکا رکھنا ہی تمام بیماریوں سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔ قلبی جدید اسی فلسفے کے تحت بنایا گیا ہے تاکہ آپ کا وزن کم رہے اور آپ چاک و چوبند رہیں۔
ابھی آرڈر کریں اور تندرستی کی طرف قدم بڑھائیں!
چاہے آپ کی عمر کچھ بھی ہو، اگر آپ ایک فعال اور صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں، تو آج ہی قلبی جدید، قلبی پلس یا قلبی شوگر فری کا انتخاب کریں۔
رابطہ کے لیے:
فون: 03237800917
واٹس ایپ: 03219779100

06/05/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ازقلم زینب صفدر

الطبیہ اسلامک سپر سٹور کے اونر، جو میری لکھنے کی عادت اور ذوق سے بخوبی واقف ہیں، انہوں نے ایک دن مجھ سے ایک بہت گہرا سوال کیا:
یہ عدم برداشت کیا ہوتی ہے؟"
میں نے جواباً عرض کیا: *" عدم برداشت یہ ہے کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ ہر لحاظ سے صرف ہم ہی درست ہیں اور باقی سب غلط ہیں۔"*

اس پر انہوں نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا: *"تو پھر آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے جو آج کل میاں بیوی میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں اور بات قتل تک جا پہنچتی ہیں ؟"*
میں کچھ دیر خاموش رہی، تو انہوں نے خود ہی اس کی تلخ حقیقت بیان کی کہ: *"ہم ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے، اور کوئی بھی فیصلہ شرعی لحاظ سے نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ گھر اجڑ جاتے ہیں۔"*
پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں اس موضوع پر اپنے انداز میں کچھ لکھوں، تاکہ لوگوں کی اصلاح ہو سکے۔

میرا ماننا ہے خوشحال گھرانے کا راز کسی مادی سہولت میں نہیں، بلکہ دینِ الٰہی کی پیروی اور سنتِ نبوی ﷺ کی تابعداری میں ہے۔ جب انسان اپنی ضد کو دین کے سانچے میں ڈھال لیتا ہے، تو گھر بسانا بوجھ نہیں بلکہ ایک خوبصورت سفر بن جاتا ہے

دینِ اسلام نے زندگی کو مشکل بنانے کے لیے نہیں بلکہ آسان بنانے کے لیے احکامات دیے ہیں۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر رشتے میں اونچ نیچ آتی ہے اور یہ ہم سے صبر کا تقاضا کرتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہمت ہارنے کے بجائے، میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ صبر سے کام لیں اور پیار محبت سے معاملات سلجھانے کی کوشش کریں۔ اگر بات خود سے نہ بن پا رہی ہو، تو خاندان کے بڑوں سے مشورہ کرنے اور ان کی بات ماننے میں کوئی برائی نہیں۔ رشتہ بچانے کے لیے آخری حد تک کوشش کرنا ہی اصل عقلمندی ہے۔

لیکن اگر تمام تر کوششوں، دعاؤں اور سمجھانے کے باوجود حالات نہ بدلیں اور میاں بیوی کا ساتھ نبھانا ناممکن ہو جائے، تو اللہ نے زندگی کو مشکل بنانے کے لیے نہیں بلکہ آسان بنانے کے لیے راستے دیے ہیں۔ جب عزت کے ساتھ ساتھ رہنا ممکن نہ رہے، تو ایسی صورتحال کے لیے دین نے طلاق یا خلع کا اختیار دیا ہے تاکہ انسان بوجھ بن جانے والے رشتے سے نکل کر سکون کی زندگی گزار سکے

فرمانِ الہی ہے:
"پس یا تو اچھے طریقے سے (بیوی کو) روکنا ہے یا بھلے طریقے سے رخصت کر دینا ہے۔"
(سورۃ البقرہ: 229)

صحابہ کرامؓ کے دور میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ حضرت جمیلہ بنتِ ابیؓ (زوجہ حضرت ثابت بن قیسؓ) رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ انہیں اپنے شوہر کے اخلاق یا دین سے کوئی شکایت نہیں، لیکن وہ ان کے ساتھ نباہ نہیں کر سکتیں۔ آپ ﷺ نے ان کی مجبوری کو سمجھا اور مہر کی واپسی کی شرط پر انہیں علیحدگی (خلع) کی اجازت دے دی، مگر زبردستی نباہ کا حکم نہیں دیا تاکہ کوئی فتنہ کھڑا نہ ہو۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم "لوگ کیا کہیں گے" کے ڈر سے تو گھبراتے ہیں، مگر اللہ کے خوف سے عاری ہو جاتے ہیں۔ ہم اس قدر ذہنی دباؤ اور پاگل پن کا شکار ہو جاتے ہیں کہ علیحدگی اختیار کرنے کے بجائے (نعوذ باللہ) میاں بیوی ایک دوسرے کو قتل کرنے پر اتر آتے ہیں۔ ہم خود کو اور اپنی اولاد کو ختم کر دیتے ہیں۔

یاد رکھیں، اگر آپ کے دل میں معاشرے کا خوف ہے، تو اس سے پہلے اللہ کا خوف پیدا کریں۔ اپنی انا کی خاطر اپنی اور دوسروں کی زندگی برباد کرنا کوئی بہادری نہیں ہے۔ کیا ایسے سنگین جرم کی معافی مل سکتی ہے؟ دنیا میں تو شاید انسان قانون کی گرفت سے بچ جائے یا کسی طرح چھوٹ جائے، لیکن ضمیر کی خلش اسے کبھی چین نہیں لینے دیتی۔ اور بالفرض اگر کوئی دنیاوی سزا سے بچ بھی جائے، تو اللہ کی عدالت اور آخرت کے حساب سے بچنا ناممکن ہے۔ وہاں تو ذرہ برابر ظلم کا بھی حساب دینا ہوگا، جہاں نہ کوئی سفارش چلے گی اور نہ ہی کوئی بہانہ

شروع میں ہم اپنی مرضی سے فیصلے کرتے ہیں، پسند کی شادیاں کرتے ہیں، لیکن جب نباہ کا وقت آتا ہے تو صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ اللہ کا خوف کریں! اپنی انا کی خاطر معصوم بچوں کا مستقبل اور اپنی عاقبت برباد نہ کریں۔ اگر ساتھ رہنا ممکن نہ ہو تو شرافت اور وقار کے ساتھ الگ ہو جائیں، مگر ظلم کی حدیں پار نہ کریں۔

اے اللہ ہمارے گھروں کو امن و سکون کا گہوارہ بنا دے۔

3/5/2026

ویب سائٹ : www.altaiba.com
ای میل : [email protected]
واٹس ایپ : 03219778200
فون : 04237800917

Online Islamic Store - All Islamic Products in one place. Islamic Books, Hajj & Umrah Complete Accessories, Zamzam Water & Saudi Dates, Alchohol Free Fragrance & Pure Honey

05/05/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ازقلم : زینب صفدر

انسانی زندگی میں گفتگو محض الفاظ کا تبادلہ نہیں ہوتی بلکہ یہ انسان کے عقیدے اور ایمان کی عکاس ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک ایسی مہلک عادت جڑ پکڑ چکی ہے جسے ہم بہت معمولی سمجھتے ہیں، لیکن دینِ اسلام میں اس کی حیثیت انتہائی سنگین ہے۔ وہ عادت ہے "غیر اللہ کی قسم" کھانا۔ کبھی ہم محبت میں اولاد کی قسم کھاتے ہیں، کبھی عقیدت میں کعبہ کی، اور کبھی جذبات میں آکر ماں باپ یا اپنی زندگی کی قسم کھا بیٹھتے ہیں۔ بظاہر یہ چھوٹے سے الفاظ معلوم ہوتے ہیں، مگر یہ ہمارے توحید کے ستون کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔

اسلام میں قسم صرف اس ہستی کی کھائی جاتی ہے جو کائنات میں سب سے اعلیٰ، برتر اور طاقتور ہو۔ جب ہم کسی کی قسم کھاتے ہیں، تو درحقیقت ہم اس ہستی کی عظمت کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی جائے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے اس مخلوق کو (نعوذ باللہ) اللہ کے برابر تعظیم دے دی۔ اسی لیے اسے "شرکِ اصغر" (چھوٹا شرک) کہا گیا ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
"پس تم اللہ کے شریک نہ ٹھہراؤ، حالانکہ تم جانتے ہو۔
(سورۃ البقرہ: 22)

نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو اس حوالے سے بہت واضح ہدایات دی ہیں۔ آپ ﷺ نے نہ صرف غیر اللہ کی قسم سے روکا، بلکہ اسے کفر اور شرک کے مترادف قرار دیا۔

*جامع ترمذی کی روایت ہے:*
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*"جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔"* (سنن ترمذی: 1535)

*صحیح بخاری کی روایت ہے:*
آپ ﷺ نے فرمایا:
*"خبردار! اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسمیں کھاؤ۔ جسے قسم کھانی ہو، وہ صرف اللہ کی قسم کھائے یا پھر خاموش رہے۔"* (صحیح بخاری: 6108)

کعبہ اللہ کا گھر ہے اور انبیاء اللہ کے برگزیدہ بندے، مگر وہ معبود نہیں۔ ان کی قسم کھانا ان کی شان میں غلو کرنا ہے۔

اگرچہ قرآن اللہ کا کلام ہے، لیکن علمائے کرام فرماتے ہیں کہ عام گفتگو میں اسے ڈھال بنانا بھی ناپسندیدہ ہے، کیونکہ مومن کی بات اتنی سچی ہونی چاہیے کہ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہ پڑے۔

بعض لوگ سچے ہونے کے باوجود بات بات پر "اللہ کی قسم" کھاتے ہیں۔ یہ عمل بھی اللہ کے عظیم نام کی بے ادبی ہے۔ اللہ کے نام کو اپنی چھوٹی چھوٹی دنیاوی باتوں کی تصدیق کے لیے استعمال کرنا ایک مومن کے شایانِ شان نہیں۔

اگر غیر اللہ کی قسم کھانا گناہ ہے، تو اللہ کے نام پر "جھوٹی قسم" کھانا وہ کبیرہ گناہ ہے جو انسان کی عاقبت برباد کر دیتا ہے۔ یہ منافق کی نشانی ہے اور اس سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔

اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے قسم کے بجائے سچائی اور دیانت داری کو اپنا شعار بنائیں۔

اپنے گھر والوں اور دوستوں کو پیار سے اس گناہ کی سنگینی سمجھائیں۔

دین کی سمجھ بوجھ رکھنا اور اپنے الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا ہی اصل دانائی ہے۔ ہماری زبان ہمارا عکس ہوتی ہے۔ آئیے آج یہ عہد کریں کہ ہم اپنی گفتگو کو شرک اور لغویات کی آلائشوں سے پاک رکھیں گے۔ ہم اپنی زبانوں کو صرف اللہ کے ذکر اور سچی باتوں کے لیے وقف کریں گے، تاکہ کل روزِ قیامت ہمیں اپنے الفاظ پر شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

آئیے ہم سب مل کر دعا کریں
*اے اللہ! ہمیں اپنی زبان کی لغزشوں سے محفوظ فرما، ہمارے ایمان کو شرک سے بچا اور ہمیں اپنی عظمت کا صحیح ادراک عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔*

نوٹ: یہ تحریر "الطیبہ اسلامک سپر سٹور" کے اونر کی خصوصی فرمائش اور اصلاحی جذبے کے تحت مرتب کی گئی ہے، تاکہ معاشرے میں پھیلی اس اہم غلطی پر غور و فکر کیا جا سکے اور ہم اپنی اصلاح کر سکیں۔

ویب سائٹ : www.altaiba.com
ای میل : [email protected]
واٹس ایپ : 03219778200
فون : 04237800917

Online Islamic Store - All Islamic Products in one place. Islamic Books, Hajj & Umrah Complete Accessories, Zamzam Water & Saudi Dates, Alchohol Free Fragrance & Pure Honey

04/05/2026

ازقلم: زینب صفدر
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ رب العزت کی عطا کردہ فہم و فراست انسان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ زندگی میں بہت سے ایسے جملے اور الفاظ ہوتے ہیں جنہیں ہم عام سا سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن اگر گہرائی میں جا کر سوچا جائے تو ان کے پیچھے ایک پوری کہانی یا خاص مقصد چھپا ہوتا ہے۔
ہم اکثر گفتگو میں یا مثال دیتے ہوئے کچھ ناموں کا انتخاب کرتے ہیں، جیسے "زید نے اسے مارا" یا "بکر نے لڑائی کی"۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ محض فرضی نام ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ مثال کے لیے ہمیشہ یہی نام کیوں سامنے آتے ہیں؟ "زید" ایک جلیل القدر صحابیِ رسول ﷺ کا نام ہے اور "بکر" کی نسبت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عظیم شخصیت کی طرف جاتی ہے۔
تاریخی طور پر بعض ایسے عناصر رہے ہیں جنہوں نے ان مبارک ناموں کو عام گفتگو اور منفی مثالوں میں اس لیے شامل کیا تاکہ ان کا وقار کم ہو سکے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ آج ہم بھی جانے انجانے میں کسی کی برائی بیان کرنی ہو یا کوئی جھگڑے کی مثال دینی ہو، تو یہی نام استعمال کرتے ہیں۔
ہمیں اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ یہ عام نام نہیں ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہ عظیم ہستی ہیں جنہیں اللہ کے نبی ﷺ نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی تھی۔ ان کا نام ادب و احترام کا تقاضا کرتا ہے، نہ کہ اسے لڑائی جھگڑے کی فرضی مثالوں کی زینت بنایا جائے۔
اسی طرح تعلیمی نصاب میں بھی "ضرب" (مارنا) جیسے الفاظ کی تکرار نظر آتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے الفاظ کا چناؤ کرتے وقت خود بھی محتاط رہیں اور دوسروں کو بھی پیار سے سمجھائیں۔ اگر کوئی ناسمجھ ایسے الفاظ استعمال کر رہا ہے تو کم از کم ہم اپنی تحریر اور گفتگو کو ان سے پاک رکھیں۔
یاد رکھیں، الفاظ ہی انسان کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم ان پاک ہستیوں کے ناموں کا احترام کریں گے اور اپنی مثالوں میں بھی ادب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے۔
سوچنا چاہیے آخر ان مبارک ناموں کو ہی مثالوں کے لیے کیوں چنا گیا؟
اس گہری سوچ کی جانب مجھے 'الطبیہ اسلامک سپر سٹور' کے اونر نے متوجہ کیا اور انہوں نے ہی اس بات پر زور دیا کہ اس موضوع پر ایک اصلاحی تحریر لکھی جائے، تاکہ ہم سب مل کر اس پیغام کو عام کریں اور ہمارے دلوں میں ان عظیم ہستیوں کی عظمت کا شعور بیدار ہو سکے۔"
Visit http://altaaiba.my.canva.site/welcome-to-altaiba-islamic-store

Address

Lahore Plaza Moon Market، Allama Iqbal Town، Satluj Block Allama Iqbal Town, Punjab 54570
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Taiba International posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Al-Taiba International:

Shortcuts

Share