Nadia Malik Clinical Psychologist

Nadia Malik Clinical Psychologist Consultant Clinical Psychologist at Akram Medical Complex and Ejaz Memorial Hospital.

Consultant clinical psychologist
ABA therapist _ provide services 👇
Psychological interventions ,ABA therapy online/home/in person sessions and IEPs.

🧠 Become More Confident in Assessing & Treating PTSDTrauma can have a lasting impact on thoughts, emotions, relationship...
20/07/2026

🧠 Become More Confident in Assessing & Treating PTSD

Trauma can have a lasting impact on thoughts, emotions, relationships, and daily functioning. Join our 2-Days Online PTSD Training Workshop to develop practical skills in understanding, assessing, and managing Post-Traumatic Stress Disorder using evidence-based approaches.

📅 Dates: 30 & 31 July 2026
💻 Mode: Zoom Live
💰 Fee: Rs. 1000/-

🎁 Perks Included: ✔ E-Certificate
✔ PTSD Therapy Worksheets
✔ Psychoeducation Material
✔ Comprehensive Notes
✔ Recorded Lectures
✔ Therapy Books (Soft Copy)
✔ Reading Material

👥 Who Should Attend? Psychologists, Psychology Students, Counselors, Therapists, Social Workers, and other Mental Health Professionals.

📲 Register Now: 0326-6459858

Limited Seats Available! Reserve your place today and enhance your clinical skills with My Therapist Psychological Services Lahore.

ایکولالیا (Echolalia)  جب بچہ الفاظ دہراتا ہے، مگر شاید وہ بات کرنا سیکھ رہا ہوتا ہےاکثر والدین پریشان ہو کر کہتے ہیں، "...
15/07/2026

ایکولالیا (Echolalia) جب بچہ الفاظ دہراتا ہے، مگر شاید وہ بات کرنا سیکھ رہا ہوتا ہے
اکثر والدین پریشان ہو کر کہتے ہیں، "ہم سوال پوچھتے ہیں، لیکن ہمارا بچہ جواب دینے کے بجائے ہماری ہی بات دہرا دیتا ہے۔" بعض لوگ اسے ضد، شرارت یا سیکھنے کی کمی سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے بچوں کے لیے یہ Communication Development کا ایک مرحلہ ہو سکتا ہے، جسے Echolalia کہا جاتا ہے۔
Echolalia سے مراد کسی لفظ، جملے یا آواز کو سننے کے بعد اسے دوبارہ دہرانا ہے۔ یہ رویّہ خاص طور پر Autism Spectrum Disorder (ASD) والے بچوں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے، پرسکون یہ صرف آٹزم تک محدود نہیں۔ زبان سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں عام بچے بھی کچھ عرصے تک الفاظ دہرا سکتے ہیں۔
بعض اوقات بچہ سوال کے جواب میں وہی سوال دہرا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ پوچھیں، "کیا تم پانی پیو گے؟" تو وہ جواب دینے کے بجائے کہتا ہے، "کیا تم پانی پیو گے؟" پہلی نظر میں پرسکون لگ سکتا ہے کہ بچہ بات نہیں سمجھ رہا، لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو۔ کئی بار وہ الفاظ کو سمجھنے، یاد رکھنے یا اپنی بات کہنے کے لیے یہی طریقہ استعمال کر رہا ہوتا ہے۔
کچھ بچے فوراً الفاظ دہراتے ہیں، جسے Immediate Echolalia کہا جاتا ہے، جبکہ کچھ بچے کئی گھنٹوں یا دنوں بعد کسی فلم، کارٹون یا پہلے سنے ہوئے جملے کو دہراتے ہیں، جسے Delayed Echolalia کہا جاتا ہے۔ والدین اکثر حیران ہوتے ہیں کہ بچہ اچانک کسی اشتہار یا کارٹون کا جملہ کیوں بولنے لگا، حالانکہ وہ دراصل اسی ذریعے سے اپنے جذبات یا ضروریات کا اظہار کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ Echolalia ہمیشہ بے مقصد نہیں ہوتی۔ بعض اوقات بچہ اسی کے ذریعے اپنی ضرورت بتاتا ہے، خود کو پرسکون کرتا ہے، گفتگو میں حصہ لیتا ہے یا زبان سیکھنے کی مشق کرتا ہے۔ اسی لیے صرف بار بار روکنا یا ڈانٹنا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔
والدین اور اساتذہ کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ بچے کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں، مختصر اور واضح جملے استعمال کریں، درست جواب کا نمونہ (Modeling) دیں اور بچے کو اپنی بات خود کہنے کا موقع دیں۔ مثال کے طور پر اگر بچہ کہتا ہے، "کیا تم جوس پیو گے؟" تو آپ مسکرا کر کہہ سکتے ہیں، "مجھے جوس چاہیے۔" اس طرح بچہ آہستہ آہستہ مناسب انداز میں اظہار کرنا سیکھتا ہے۔

SCHIZOPHRENIA and Other Psychotic DisordersDIAGNOSIS & MANAGEMENT TRAININGOrganized by My Therapist Psychological Servic...
30/06/2026

SCHIZOPHRENIA and Other Psychotic Disorders

DIAGNOSIS & MANAGEMENT TRAINING

Organized by My Therapist Psychological Services, Lahore

📅 Date: 10 & 11 July 2026
🕗 Time: 8pm to 10 pm
💻 Mode: Zoom
Fee: 1000/-
🎓 Certificate Included

What You Will Learn:

✔ Understanding Schizophrenia Spectrum Disorders (DSM-5-TR)
✔ Positive, Negative & Cognitive Symptoms
✔ Differential Diagnosis & Assessment Techniques
✔ Case Formulation and Risk Assessment
✔ Medication Overview and Multidisciplinary Management
✔ CBT for Psychosis (CBTp) Principles
✔ Family Psychoeducation & Relapse Prevention
✔ Ethical Considerations and Clinical Practice GuidelineShould

🎯 Who Should Attend?
Psychology Students, Clinical Psychologists, Counselors, Special Educators, and Mental Health Professionals.

📜 Training Benefits:
• E-Certificate
• Training Notes & Resources
• Case Discussions
• Practical Management Strategies
• Question & Answer Session

📍 My Therapist Psychological Services, Lahore
📞 Contact: 0326-6459858

Enhance your clinical skills in the assessment, diagnosis, and evidence-based management of schizophrenia spectrum disorders.

کربلا سے مسلمانوں کے لیے نفسیاتی اور روحانی اسباقBattle of Karbala اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور دردناک واقعہ ہے جس نے ام...
27/06/2026

کربلا سے مسلمانوں کے لیے نفسیاتی اور روحانی اسباق

Battle of Karbala اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور دردناک واقعہ ہے جس نے امتِ مسلمہ کو حق، صبر، استقامت اور قربانی کا لازوال درس دیا۔ نواسۂ رسول، حضرت امام حسین علیہ السلام، نے اپنے نانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی سربلندی اور حق کی حفاظت کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ کربلا کا پیغام صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے نفسیاتی، اخلاقی اور روحانی رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔

نفسیاتی اعتبار سے کربلا ہمیں سب سے پہلے حق پر ثابت قدم رہنے کی تعلیم دیتی ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے ظاہری طاقت، دنیاوی مفادات اور خوف کے باوجود سچائی اور انصاف کا راستہ اختیار کیا۔ جدید نفسیات میں اسے اخلاقی جرات کہا جاتا ہے، یعنی ایسے حالات میں بھی اپنے اصولوں پر قائم رہنا جب مخالفت، نقصان یا دباؤ کا سامنا ہو۔ یہ سبق مسلمانوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں دیانت، سچائی اور عدل کو اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔

کربلا کا دوسرا بڑا سبق صبر اور برداشت ہے۔ زندگی میں مشکلات، آزمائشیں اور ناکامیاں انسان کا امتحان لیتی ہیں، لیکن حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں نے صبر و رضا کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ نفسیات کے مطابق وہ افراد جو اپنی زندگی کو ایک اعلیٰ مقصد سے وابستہ کر لیتے ہیں، وہ مصائب کا سامنا زیادہ حوصلے اور استقامت کے ساتھ کرتے ہیں۔

کربلا سے مسلمانوں کے لیے نفسیاتی اور روحانی اسباق
Battle of Karbala
اسلام حکمت، صبر اور حسنِ اخلاق کے ساتھ حق بات کہنے کی تعلیم دیتا ہے تاکہ معاشرے میں اصلاح اور خیر کو فروغ مل سکے۔
اس واقعے سے محاسبۂ نفس کا درس بھی ملتا ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال، نیتوں اور فیصلوں کا جائزہ لیتا رہے۔ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ آیا اس کے اعمال انصاف، رحم، دیانت اور اسلامی اقدار کے مطابق ہیں یا نہیں۔ یہی خود آگاہی اور خود احتسابی ذہنی سکون، اخلاقی ترقی اور مضبوط شخصیت کی بنیاد بنتی ہے۔

پاکستان میں بڑھتے ہوئے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ایک ماہرِ نفسیات کی نظر سےپاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی...
24/06/2026

پاکستان میں بڑھتے ہوئے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات
ایک ماہرِ نفسیات کی نظر سے
پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات نہ صرف ایک قانونی اور سماجی مسئلہ ہیں بلکہ ایک سنگین نفسیاتی اور اخلاقی بحران بھی ہیں۔ ایک ماہرِ نفسیات کے طور پر دیکھا جائے تو ایسے جرائم متاثرہ بچوں کی ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوونما پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔
جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچے اکثر خوف، شرمندگی، اضطراب، ڈپریشن اور عدمِ تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات ان میں بعد از صدمہ ذہنی دباؤ (PTSD) کی علامات پیدا ہو جاتی ہیں، جن میں ڈراؤنے خواب، لوگوں پر اعتماد کا ختم ہو جانا، سماجی تنہائی اور بار بار واقعے کی یاد آنا شامل ہیں۔ اگر بروقت نفسیاتی مدد فراہم نہ کی جائے تو یہ اثرات پوری زندگی پر محیط ہو سکتے ہیں۔
ان واقعات میں اضافے کی ایک اہم وجہ معاشرتی تربیت اور اخلاقی اقدار کا کمزور ہونا بھی ہے۔ جب خاندان، تعلیمی ادارے اور معاشرہ بچوں اور نوجوانوں کی کردار سازی، احترامِ انسانیت، ذمہ داری اور اخلاقی حدود کی تعلیم پر مناسب توجہ نہیں دیتے تو منفی رویوں کے فروغ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ والدین کی مصروفیات، بچوں کی نگرانی میں کمی، تشدد اور غیر اخلاقی رویوں کی معمول بن جانے والی مثالیں بھی شخصیت کی تشکیل پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
مزید برآں، جنسی جرائم کے بارے میں خاموشی، بدنامی کا خوف، متاثرین کو موردِ الزام ٹھہرانے کا رویہ، اور مجرموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونا بھی اس مسئلے کو بڑھاتے ہیں۔ جب معاشرہ ایسے جرائم پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتا ہے تو مجرموں کو بالواسطہ طور پر حوصلہ ملتا ہے اور متاثرین انصاف اور مدد حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ گھروں میں بچوں کی اخلاقی اور سماجی تربیت پر توجہ دی جائے، انہیں محفوظ اور غیر محفوظ لمس کے بارے میں آگاہی دی جائے، اور والدین کے ساتھ کھلے رابطے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ تعلیمی اداروں کو بھی کردار سازی، احترامِ انسانیت اور حفاظتی آگاہی کو نصاب اور تربیتی سرگرمیوں کا حصہ بنانا چاہیے۔
بچوں کا تحفظ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Stimming  ہر بار عجیب رویّہ نہیں، کبھی کبھی بچے کا خود کو سنبھالنے کا طریقہ ہوتا ہےکئی والدین اپنے بچے کو بار بار ہاتھ ہ...
23/06/2026

Stimming

ہر بار عجیب رویّہ نہیں، کبھی کبھی بچے کا خود کو سنبھالنے کا طریقہ ہوتا ہے
کئی والدین اپنے بچے کو بار بار ہاتھ ہلاتے، گھومتے، آوازیں نکالتے، ایک ہی چیز کو بار بار کرتے یا کسی حرکت کو دہراتے دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ اکثر پہلا سوال یہی ہوتا ہے:
“یہ ایسا کیوں کرتا ہے؟”
“کیا یہ عادت خراب ہے؟”
لیکن بعض اوقات یہ Stimming ہو سکتا ہے۔
Stimming (Self-Stimulatory Behavior) ایسے رویّوں کو کہا جاتا ہے جو انسان خود کو regulate کرنے، جذبات سنبھالنے، sensory input حاصل کرنے یا اپنے ماحول سے cope کرنے کے لیے کرتا ہے۔
یہ صرف Autism تک محدود نہیں۔ خوشی، بے چینی، excitement، stress یا boredom میں بہت سے لوگ کسی نہ کسی شکل میں stimming کرتے ہیں۔ کوئی قلم گھماتا ہے، کوئی ٹانگ ہلاتا ہے، کوئی ناخن چباتا ہے۔
بچوں میں یہ رویّہ زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اپنی ضروریات یا احساسات ہمیشہ الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے۔
کبھی بچہ بہت خوش ہوتا ہے تو ہاتھ ہلانے لگتا ہے۔
کبھی شور یا زیادہ stimulation میں ایک ہی حرکت دہرانے لگتا ہے۔
اور کبھی یہ اس کے لیے خود کو پرسکون رکھنے کا طریقہ بن جاتا ہے۔
اسی لیے ہر stimming کو فوراً روکنے کی کوشش ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتی۔
زیادہ اہم سوال یہ ہو سکتا ہے:
یہ رویّہ بچے کو کیا دے رہا ہے؟
کیا وہ sensory input لے رہا ہے؟
کیا وہ stress کم کر رہا ہے؟
کیا وہ communicate کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟
البتہ اگر stimming کی وجہ سے بچے کو چوٹ لگ رہی ہو، سیکھنے میں نمایاں رکاوٹ آ رہی ہو یا روزمرہ زندگی متاثر ہو ہر بار عجیب رویّہ نہیں، کبھی کبھی بچے کا خود کو سنبھالنے کا طریقہ ہوتا ہے
کئی والدین اپنے بچے کو بار بار ہاتھ ہلاتے، گھومتے، آوازیں نکالتے، ایک ہی چیز کو بار بار کرتے یا کسی حرکت کو دہراتے دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ اکثر پہلا سوال یہی ہوتا ہے:
“یہ ایسا کیوں کرتا ہے؟”
“کیا یہ عادت خراب ہے؟”
لیکن بعض اوقات یہ Stimming ہو سکتا ہے۔
Stimming (Self-Stimulatory Behavior) ایسے رویّوں کو کہا جاتا ہے جو انسا، تو اس وقت observation اور professional guidance مددگار ہو سکتی ہے۔

بعض اوقات وہ رویّہ جسے ہم “غلط عادت” سمجھتے ہیں،
درحقیقت بچے کی اپنے جسم اور جذبات کو سنبھالنے کی کوشش ہوتی ہے۔

Nadia Malik
clinical psychologist and ABA therapist

21/06/2026

OCD، Autism اور Tourette Syndrome کیا یہ ایک دوسرے سے جڑے ہو سکتے ہیں؟
Obsessive Compulsive Disorder (OCD) ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کے ذہن میں بار بار آنے والے خیالات (obsessions) اور ان خیالات کو کم کرنے کے لیے کیے جانے والے بار بار کے عمل (compulsions) شامل ہوتے ہیں۔
مثلاً کسی شخص کو بار بار یہ خیال آ سکتا ہے کہ “اگر میں نے ہاتھ صحیح طرح نہیں دھوئے تو جراثیم لگ جائیں گے”، اور پھر وہ بار بار ہاتھ دھوتا ہے تاکہ اس بے چینی کو کم کر سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ OCD بعض دوسری نیورو ڈیولپمنٹل اور نیورولوجیکل حالتوں کے ساتھ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

Tourette Syndrome اور OCD
Tourette Syndrome ایک ایسی حالت ہے جس میں شخص کو اچانک غیر ارادی حرکات یا آوازیں (tics) آ سکتی ہیں، جیسے جھٹکے دینا، پلکیں بار بار جھپکانا یا اچانک آواز نکالنا۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ افراد جنہیں Tourette Syndrome ہوتا ہے، ان میں OCD کی علامات بھی پائی جا سکتی ہیں۔ اس کی وجہ دماغ کے کچھ مشترکہ pathways اور impulse control سے متعلق مسائل ہو سکتے ہیں۔
تاہم یہ ضروری نہیں کہ ہر Tourette والے شخص کو OCD ہو، لیکن دونوں conditions ایک ساتھ بھی موجود ہو سکتی ہیں۔
Autism اور OCD کا تعلق
Autism Spectrum Disorder (ASD) کے کچھ افراد، خاص طور پر وہ جنہیں پہلے Asperger Syndrome کہا جاتا تھا، ان میں بھی OCD جیسی علامات دیکھی جا سکتی ہیں۔
مثلاً: • چیزوں کو ایک خاص ترتیب میں رکھنے کی خواہش
• ایک ہی routine کو بار بار دہرانا
• تبدیلی سے پریشانی محسوس کرنا
• مخصوص دلچسپیوں میں حد سے زیادہ لگاؤ
یہ رویے بعض اوقات OCD سے ملتے جلتے لگ سکتے ہیں، لیکن ان کی وجہ مختلف ہو سکتی ہے۔ Autism میں یہ زیادہ تر sensory needs، structure اور predictability کی ضرورت سے جڑے ہوتے ہیں، جبکہ OCD میں یہ زیادہ تر anxiety کو کم کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
OCD کب شروع ہوتا ہے
OCD بعض اوقات بچپن میں ہلکی شکل میں ظاہر ہو سکتا ہے،
جیسے:
• چیزوں کو بہت ترتیب سے رک
• مخصوص طریقے سے کام کرنا
• یا کچھ “غیر معمولی” عادات
لیکن زیادہ واضح OCD عموماً نوجوانی (teenage years) یا early adulthood میں شروع ہوتا ہے۔
علامات وقت کے ساتھ بڑھ اور کم ہو سکتی ہیں۔ بعض افراد میں یہ stress یا emotional pressure کے دوران زیادہ شدید ہو

جب مسئلہ صرف توجہ کا نہ ہواکثر لوگ ADHD کو صرف “زیادہ شرارتی ہونا” یا “توجہ نہ دینا” سمجھت کو صرف “زیادہ شرارتی ہونا” یا...
20/06/2026

جب مسئلہ صرف توجہ کا نہ ہو

اکثر لوگ ADHD کو صرف “زیادہ شرارتی ہونا” یا “توجہ نہ دینا” سمجھت کو صرف “زیادہ شرارتی ہونا” یا “توجہ نہ دینا” سمجھتے ہیں۔
لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
فرض کریں ایک بچہ کلاس میں بیٹھا ہے۔ استاد پڑھا رہے ہیں، لیکن چند منٹ بعد اس کی توجہ کھڑکی، آواز یا کسی اور خیال کی طرف چلی جاتی ہے۔ گھر آ کر والدین کہتے ہیں:
“اتنا بھی نہیں ہو سکتا کہ 10 منٹ بیٹھ جاؤ؟”
لیکن بعض اوقات مسئلہ کوشش کی کمی نہیں ہوتا۔
ADHD (Attention Deficit Hyperactivity Disorder) ایک Neurodevelopmental Condition ہے، یعنی ایسی کیفیت جو دماغ کے نشوونما اور کام کرنے کے انداز سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ سیکھنے، توجہ، جذبات، روزمرہ تنظیم اور رویّوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
ADHD عام طور پر بچپن میں ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے، اور بہت سے لوگوں میں اس کے اثرات جوانی یا بالغ عمر تک جاری رہ سکتے ہیں۔
ADHD کی علامات عموماً تین حصوں میں دیکھی جاتی ہیں:
عدم توجہی (Inattention)
کام ادھورا چھوڑ دینا، بار بار چیزیں بھول جانا، توجہ برقرار رکھنے میں مشکل، ہدایات مکمل نہ کر پانا یا روزمرہ چیزیں گم کر دینا۔
ہائپر ایکٹیویٹی (Hyperactivity)
ایک جگہ بیٹھنے میں مشکل، مسلسل حرکت کرنا، بے چینی محسوس کرنا یا جسمانی سکون برقرار نہ رکھ پانا۔
امپلسویٹی (Impulsivity)
جلد جواب دینا، اپنی باری کا انتظار نہ کر پانا یا نتائج سوچے بغیر عمل کرنا۔
اہم بات یہ ہے کہ ہر بے چین یا بھولنے والا شخص ADHD نہیں رکھتا۔
تھکن، نیند کی کمی، ذہنی دباؤ یا زندگی کے کچھ مراحل میں ہر انسان ان مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔
فرق تب سامنے آتا ہے جب یہ مشکلات مسلسل رہیں اور پڑھائی، کام، تعلقات یا روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگیں۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ ADHD اکثر اکیلا نہیں ہوتا۔ بعض افراد میں اس کے ساتھ Anxiety، Learning Difficulties، Autism یا جذباتی مشکلات بھی موجود ہو سکتی ہیں۔

اور ایک اہم حقیقت لڑکیوں میں ADHD کئی بار دیر سے پہچانا جاتا ہے کیونکہ ان میں علامات ہمیشہ زیادہ نمایاں نہیں ہوتیں۔
ADHD کوئی کردار کی کمزوری، تربیت کی کمی یا سستی نہیں۔
صحیح Assessment، مناسب Support، ماحول میں تبدیلی اور بروقت رہنمائی سے ADHD والے افراد اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا سیکھ سکتے ہیں۔

Journaling plays an important role in both client growth and therapist development. For clients, writing creates a space...
18/06/2026

Journaling plays an important role in both client growth and therapist development. For clients, writing creates a space to slow down thoughts and emotions, recognize patterns, and become more aware of triggers, beliefs, behaviors, and changes over time. It helps clients remember important experiences between sessions and brings richer material into therapy discussions. Structured journaling can also strengthen therapeutic approaches by helping clients reflect on situations, emotions, thoughts, actions, and desired changes.

For therapists, reflective journal writing is a professional development tool rather than a record of clients’ private details. It supports deeper understanding of sessions, improves case conceptualization, increases awareness of personal reactions, and helps identify which interventions are effective. Through reflection, therapists become more intentional and thoughtful in their clinical work instead of relying only on habit or experience.

Developing mastery as a therapist requires more than accumulating years of practice. It involves deliberate learning and continuous self-evaluation. Therapists strengthen their skills by building strong foundations in therapeutic alliance, listening, ethics, and clinical formulation; reviewing sessions critically; seeking supervision and feedback; studying therapeutic models in depth; and focusing on client outcomes. Reflective journaling becomes part of this process by connecting experience with insight and improvement. Over time, the cycle of practice, reflection, feedback, and adjustment supports long-term professional growth and clinical mastery.

Register yourself: 0326-6459858

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 12:00 - 16:00
Tuesday 16:00 - 16:00
Wednesday 12:00 - 16:00
Friday 12:00 - 16:00
Saturday 12:00 - 16:00

Telephone

+923266459858

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nadia Malik Clinical Psychologist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share