دارالخدمت طبی و روحانی مرکز

دارالخدمت طبی و روحانی مرکز دارالخدمت طبی و روحانی مرکز عرصہ پچاس سال سے انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہے الحمدللہ

دوا تو بہرحال دوا ہی ہوتی ہے،  اگر خالص اور صحت بخش غذا بھی انسانی مزاج کے خلاف ہو یا ضرورت و مقدار سے تجاوز کر جائے، تو...
04/08/2026

دوا تو بہرحال دوا ہی ہوتی ہے، اگر خالص اور صحت بخش غذا بھی انسانی مزاج کے خلاف ہو یا ضرورت و مقدار سے تجاوز کر جائے، تو وہ فائدہ پہنچانے کے بجائے جسم میں غیر فطرتی کیمیائی تبدیلیوں کا باعث بن کر روگ بن جاتی ہے۔ غذا کا ہر لقمہ جسم کے کسی نہ کسی مفرد عضو اور مزاج پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے، اسی لیے غیر مزاجی غذا کا مسلسل استعمال بھی دوا کی طرح اپنے سائیڈ ایفیکٹس اور اثرات چھوڑتا ہے۔
​علاج اور صحت کا اصل حسن و کمال یہ ہے کہ دوا اور غذا کا تعین محض علامات کی بنیاد پر نہ ہو، بلکہ مریض کے مخصوص مزاج، جاری موسم، اس کی عمر، جنس اور خوراک کی دقیق مقدار کو قانونِ مفرد اعضا کے کڑے اصولوں پر پرکھ کر کیا جائے۔
​جب تک انسانی جسم کی فطرت، اعضا کی تحریک، تسکین اور تحلیل کے اصولوں کو پیشِ نظر نہ رکھا جائے، مکمل شفایابی ممکن نہیں۔ مشینوں اور مصنوعی تدبیروں پر انحصار کے بجائے اگر انسان کے اپنے فطرتی مزاج اور اعضا کے باہمی توازن کو سمجھ لیا جائے، تو معمولی غذائی تبدیلیوں اور فطرتی دواؤں سے ہی جسم کا دفاعی نظام خود کو بحال کر لیتا ہے۔ فطرت سے ہم آہنگی اور مزاج کی درست تشخیص ہی حقیقی شفایابی کی ضامن ہے۔​

حکیم امان اللہ خان

ایلوپیتھک نظامِ طب میں جسے ویریکوسیل" (Varicocele) کا نام دیا گیا ہے، وہ دراصل خصیوں کی تھیلی میں موجود رگوں کا غیر طبعی...
03/08/2026

ایلوپیتھک نظامِ طب میں جسے ویریکوسیل" (Varicocele) کا نام دیا گیا ہے، وہ دراصل خصیوں کی تھیلی میں موجود رگوں کا غیر طبعی طور پر پھول جانا یا ان کا گچھا بن جانا ہے۔ جب ان رگوں کے والوز کمزور پڑ جاتے ہیں، تو استعمال شدہ فاسد خون واپس اوپر جانے کے بجائے کششِ ثقل کے باعث نیچے ہی جمع ہونے لگتا ہے، جس کے مسلسل دباؤ سے رگیں سوج کر موٹی ہو جاتی ہیں اور اس مقام کا درجہ حرارت بڑھنے سے دورانِ خون بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ہماری طبِ روایتی اور قانون مفرد اعضاء کی زبان میں اس علامت کو "دوالیِ خصیہ" کہا جاتا ہے۔ اس کے بنیادی اسباب میں مسلسل دائمی قبض کا رہنا، بھاری وزن اٹھانا یا سخت مشقت کرنا، اور بادی، ترش یا خشک تاثیر والی غذاؤں کا کثرت سے استعمال شامل ہے۔ یہ کیفیت زیادہ تر عضلاتی اعصابی (خشک سرد) یا عضلاتی غدی (خشک گرم) تحریک کے باعث پیدا ہوتی ہے، جہاں جسم میں سوداوی (خشک) مادوں کی زیادتی سے خون گاڑھا ہو کر رگوں میں محبوس ہونے لگتا ہے اور رگوں کی قدرتی لچک ختم ہو جاتی ہے۔ علاج کے حوالے سے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ یہ مرض ہرگز اتنا مشکل یا لا علاج نہیں جتنا اسے بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مروجہ ایلوپیتھک نظام کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس ایسی ہر کیفیت کا فوری اور حتمی حل صرف "سرجری" (آپریشن) کی صورت میں نکالا جاتا ہے، مگر ہر مسئلے کے لیے جسم کی کاٹ چھانٹ شروع کر دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ یہ سوچنا کہ اس مرض کے بعد نوجوان کبھی باپ نہیں بن سکتا، محض ایک پھیلائی گئی مایوسی اور خوف کا نتیجہ ہے۔ دارالخدمت پر ہمارے روزمرہ کے مطب کا یہ تجربہ ہے کہ خالص جڑی بوٹیوں اور طبِ روایتی میں اس کا نہایت شاندار اور فطری علاج موجود ہے۔ جونہی نبض کی درست تشخیص کے بعد مزاج کی تعدیل کی جاتی ہے اور خون کے قوام کو درست کر کے حرارت غریزی بحال کی جاتی ہے، تو رگوں کی لچک خود بخود واپس آ جاتی ہے اور دورانِ خون ٹھیک ہونے سے یہ مسئلہ جڑ سے ختم ہو جاتا ہے۔ بلاوجہ سرجری کی پیچیدگیوں، خوف اور ذہنی اذیت میں پڑنے کے بجائے فطری طریقہ علاج پر بھروسہ کریں، مایوسی گناہ ہے اور شفا دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔
​حکیم ڈاکٹر امان اللہ خان





پیٹ میں 'غنڈہ راج' ڈس بائیوسس (Dysbiosis) کا آسان ترین ترجمہبالکل عام فہم اور سیدھے سادے لفظوں میں سمجھیے ہمارے پیٹ میں ...
02/08/2026

پیٹ میں 'غنڈہ راج' ڈس بائیوسس (Dysbiosis) کا آسان ترین ترجمہ
بالکل عام فہم اور سیدھے سادے لفظوں میں سمجھیے ہمارے پیٹ میں ایک پوری بستی آباد ہے، جس میں کچھ انتہائی 'شریف اور خاندانی' (مفید) بیکٹیریا رہتے ہیں اور کچھ 'اوباش اور بدمعاش' (نقصان دہ)۔ قدرت نے ان کا ایک زبردست امن معاہدہ کروا رکھا ہے۔
لیکن جب یہ توازن بگڑ جائے اور پیٹ کی سوسائٹی میں شریفوں کی جگہ غنڈوں کا راج قائم ہو جائے... تو میڈیکل کی زبان میں اس 'غنڈہ راج' کو ڈس بائیوسس (Dysbiosis) کہتے ہیں
یہ غنڈہ راج آخر قائم کیسے ہوتا ہے؟
یہ انقلاب کوئی باہر سے نہیں لاتا، ہم خود اپنے ہاتھوں اپنے پیٹ میں 'ڈرون حملے' کرواتے ہیں:
اینٹی بائیوٹک کا ایٹم بم: ذرا سی چھینک آئی یا گلے میں خراش ہوئی، ہم نے دھڑلے سے ہیوی ڈوز اینٹی بائیوٹک کھا لی! اب یہ دوائی اندر جا کر یہ نہیں دیکھتی کہ کون اپنا ہے کون پرایا۔ یہ بدمعاشوں کے ساتھ ساتھ پیٹ کے سارے شریف شہریوں کا بھی صفایا کر دیتی ہے۔
پراسیسڈ فوڈ کی وی آئی پی دعوت: رہی سہی کسر پیکٹوں میں بند کیمیکل زدہ برگر، شوارمے اور کولڈ ڈرنکس پوری کر دیتے ہیں۔ یہ دراصل اندر بیٹھے غنڈوں کی من پسند خوراک ہے جس سے وہ مزید موٹے اور طاقتور ہو جاتے ہیں۔
اسی المناک صورتحال پر تو شاعر نے خون کے آنسو روتے ہوئے، اپنے معدے کے حالات پر کیا خوب تبصرہ کیا ہے
میری دنیا خراب کر ڈالی
اس نے الفت کی جو نظر ڈالی
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی، بری نظر ڈالی
یہ رنگ برنگی گولیاں اور چٹخارے دار فاسٹ فوڈ بظاہر تو بڑی "اچھی صورت" لگتے ہیں، لیکن پیٹ کے اندر جا کر یہ جو "بری نظر" ڈالتے ہیں، اس سے ہاضمے کی پوری دنیا ہی تہس نہس ہو جاتی ہے۔

اپنے پیٹ کو کچرا کنڈی یا کیمیکلز کی تجربہ گاہ نہ بنائیں۔ مصنوعی چیزوں کو چھوڑیں اور خالص فطرت کی طرف لوٹ آئیں، ورنہ اندر کی یہ 'ورلڈ وار تھری' چلتی رہے گی اور ہم باہر سے بس چورن پھانکتے رہ جائیں گے

ڈاکٹر امان اللہ خان

02/08/2026

درد کی پہچان۔۔ یہ پٹھوں کا مسئلہ ہے یا نسوں کا؟
​اکثر لوگ سالوں تک محض درد کی ادویات (Painkillers) کے سہارے زندگی گزارتے ہیں، جبکہ درد کی اصل جڑ کہیں اور پوشیدہ ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نسوں (Nerves) کے درد کا علاج الگ ہوتا ہے، اور پٹھوں (Muscles) کے کھنچاؤ کا طریقہِ علاج بالکل مختلف۔
​جب مرض کی وجہ ہی غلط سمجھی جائے، تو علاج سے شفا کیسے مل سکتی ہے؟
​تو آخر گھر بیٹھے یہ اندازہ کیسے لگایا جائے کہ آپ کے جسم میں اٹھنے والا درد پٹھوں کی وجہ سے ہے یا نسوں کی؟ آئیے اسے نہایت آسان اور واضح الفاظ میں سمجھتے ہیں

1. پٹھوں کا درد (Muscle Pain) کیسے پہچانیں؟
اگر آپ کا درد پٹھوں کی وجہ سے ہے، تو اس میں درج ذیل علامات پائی جائیں گی:
درد کا احساس: یہ درد بھاری پن، دباؤ، یا پٹھوں کے دکھنے جیسا محسوس ہوتا ہے۔
مقام: یہ عام طور پر جسم کے کسی ایک خاص حصے (جیسے کندھے، گردن یا کمر کے ایک حصے) تک محدود رہتا ہے۔
حرکت کا اثر: اس حصے کو ہلانے، وزن اٹھانے، یا اس پر دباؤ ڈالنے سے درد میں اضافہ ہوتا ہے، ساتھ ہی متاثرہ حصے میں اکڑن محسوس ہوتی ہے۔
کب سکون ملتا ہے؟: مساج کرنے، گرم ٹکور کرنے، یا لیٹ کر آرام کرنے سے اس درد میں نمایاں کمی اور سکون محسوس ہوتا ہے۔
2. نسوں کا درد (Nerve Pain) کیسے پہچانیں؟
نسوں کے درد کی نوعیت پٹھوں کے درد سے بالکل مختلف اور ذرا پیچیدہ ہوتی ہے:
درد کا احساس: اس میں تیز چبھن، جلن، اور بعض اوقات بجلی کے جھٹکے لگنے جیسا محسوس ہوتا ہے۔
درد کا پھیلاؤ: یہ درد کسی ایک جگہ نہیں رکتا، بلکہ سفر کرتا ہے۔ (مثلاً گردن سے شروع ہو کر بازوؤں اور انگلیوں تک، یا کمر سے نکل کر ٹانگوں اور ایڑیوں تک جانا)۔
دیگر علامات: متاثرہ حصے کا سن ہو جانا، بے حسی محسوس ہونا، یا ایسا لگنا جیسے سوئیاں چبھ رہی ہیں یا چیونٹیاں رینگ رہی ہیں۔
کب سکون ملتا ہے؟: اس درد میں عام مالش، ٹکور یا پین کلرز سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا، اور یہ اکثر آرام کے وقت یا رات کے پچھلے پہر زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔
اہم بات۔۔۔ علاج بھی دونوں کا مختلف ہے

01/08/2026

بلڈ پریشر جسکو ہم نے آج تک مرض نہیں کہا بلکہ یہ ایک علامت ہے متعدد اسباب کی ، مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ اس علامت کی ادویات تاحیات کھلائی جاتی ہیں، حالانکہ اسکے اسباب کا علاج کیا جائے تو یہ چند دنوں میں ختم ہوجاتا ہے ، مگر بلڈ پریشر کے نام پر لاکھوں ادویات مارکیٹ میں بکتی ہیں اس تجارت کا کیا ہوگا،

حکیــــم ڈاکٹــــر امـــان اللـــہ خــــان

24/07/2026

روحانی علاج قرآن سے ہوگا تو ہی کارگر اور مستقل ہوگا
روحانی علاج میں اس چیز کو ملحوظ رکھیے کہ جس سے علاج کروانے جا رہے ہیں وہ مشرک تو نہیں، اگر ایسا ہے تو اس سے بچیے علاج ہو یا نہ ہو ایمان بچ جائے گا

شوگر اور انسولین۔۔ تالے اور چابی کی سادہ سی کہانی​عام طور پر ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ شوگر کی بیماری جسم میں انسولین کی ...
23/07/2026

شوگر اور انسولین۔۔ تالے اور چابی کی سادہ سی کہانی
​عام طور پر ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ شوگر کی بیماری جسم میں انسولین کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ سائنس اسے ایسے سمجھاتی ہے کہ انسولین ایک "چابی" ہے جو ہمارے جسم کے خلیوں (Cells) کا دروازہ کھولتی ہے، تاکہ شوگر اندر جا سکے اور ہمیں طاقت ملے۔ اگر چابی نہیں ہوگی تو شوگر خون میں ہی رہے گی اور بیماری بن جائے گی۔
​یہ بات سچ تو ہے، لیکن پوری سچائی نہیں ہے۔
​پورا سچ کیا ہے؟ (انسولین رزسٹنس)
​اس بیماری کو سمجھنے کے لیے ایک اور بات جاننا بہت ضروری ہے، جسے میڈیکل میں "انسولین رزسٹنس" کہتے ہیں۔
​اسے ایک سادہ سی مثال سے سمجھیں: آپ کا لبلبہ (Pancreas) بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے اور انسولین (چابیاں) بھی بنا رہا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے خلیوں کے دروازوں کے تالے خراب ہو چکے ہیں۔ اب چابی تو موجود ہے، خون میں شوگر بھی ہے اور انسولین بھی، لیکن خلیہ اپنا دروازہ کھولنے کو تیار نہیں۔ جب شوگر اندر نہیں جا پاتی تو وہ خون میں جمع ہونے لگتی ہے اور ٹیسٹ کروانے پر شوگر کا لیول زیادہ آتا ہے۔
​ایک بہت بڑی اور خطرناک غلطی
​یہیں سے وہ غلطی شروع ہوتی ہے جو مریض کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
​بہت سے علاج کرنے والے صرف لیبارٹری کی رپورٹ دیکھتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ شوگر بڑھی ہوئی ہے، تو وہ مریض کو مزید ایسی دوائیاں دینا شروع کر دیتے ہیں جو جسم میں زیادہ انسولین بنائیں، یا پھر باہر سے انسولین کے ٹیکے لگا دیتے ہیں۔
​ذرا خود سوچیں! جب مسئلہ چابی کا نہیں بلکہ خراب تالے کا ہے، تو زبردستی مزید چابیاں ٹھونسنے کا کیا فائدہ؟ کیا اس سے تالا کھل جائے گا؟
​دوائیوں کا زہر
​یہی وجہ ہے کہ ٹائپ 2 شوگر کے مریض سالوں تک اندھا دھند دوائیاں کھاتے رہتے ہیں اور انسولین لگواتے رہتے ہیں۔ جسم میں ضرورت سے زیادہ پیدا ہونے والی یہ انسولین ایک زہر بن جاتی ہے۔ یہی وہ زہر ہے جو آگے چل کر مریض کے دل اور گردوں کو فیل کر دیتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مریض شوگر کی بیماری سے اتنا نہیں مرتا جتنا ان غلط دوائیوں کے سائیڈ ایفیکٹس سے مرتا ہے۔ آدھا سچ جان کر صرف رپورٹوں کی بنیاد پر علاج کرنا بہت خطرناک ہے۔
​آپ کے لیے ایک مشورہ
​اپنی صحت کے معاملے میں خود بھی سمجھدار بنیں۔ جب بھی اپنے معالج کے پاس جائیں، تو ان سے ایک سیدھا سا سوال ضرور پوچھیں: ​ڈاکٹر صاحب۔۔ مجھے شوگر کس وجہ سے ہے؟ کیا واقعی میرے جسم میں انسولین نہیں بن رہی، یا پھر میرے خلیوں کا تالا خراب ہے (یعنی مجھے انسولین رزسٹنس ہے)؟"
​یاد رکھیں، جب تک بیماری کی اصل جڑ کا پتہ نہیں چلے گا، تب تک صحیح علاج ممکن نہیں۔



#شوگر

05/07/2026

قوتِ باہ اور جسمانی طاقت کا اصل سچ ایک مخلصانہ طبی مشورہ۔۔۔۔
ہمارے پاس اکثر لوگ آتے ہیں جو جسمانی کمزوری، اعصاب کی تھکن یا ازدواجی ملاپ میں کمی کا گلہ کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اسے ایک ہی بیماری سمجھتے ہیں اور بازاری ٹوٹکوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، حالانکہ ہماری یونانی طب اور قانونِ مفرد اعضاء میں اسے "قوتِ باہ" کہا گیا ہے۔ اور قوتِ باہ کا مطلب صرف عارضی ابھار یا وقتی جوش نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل مطلب ہے:
جسمانی طاقت + اعصابی برداشت + فوری ریکوری + اعضاء کا سکون۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں (جو سب سے اہم ہے):
ہر انسان کا مزاج الگ ہوتا ہے۔ کسی کی کمزوری کا سبب گرمی ہوتی ہے، کسی کا سردی اور کسی کا خشکی۔ جب ایک ہی علامت کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں، تو علاج بھی ہر ایک کا الگ ہوگا۔ جب تک ہم معالجین مرض کی جڑ اور اس کے اصل سبب کو دیکھ کر علاج نہیں کریں گے، تب تک وہ "علاجِ کلی" یعنی مکمل شفاء نہیں بن سکتا۔ صرف نام سن کر دوائیں کھانے سے پرہیز کیا کریں۔
کمزوری کے 4 بڑے اسباب جو میں اکثر دیکھتا ہوں:
خون کی کمی (فقر الدم): جب جسم میں صالح خون ہی نہیں بنے گا تو عضلات کو طاقت کہاں سے ملے گی؟
اعصابی کمزوری (ضعفِ اعصاب): پٹھے کمزور ہوں تو انسان چند منٹوں میں تھک کر چور ہو جاتا ہے۔
جگر اور ہاضمے کی خرابی: جب کھایا پیا جسم کو لگے ہی نہ اور معدہ خراب رہے۔
سودا کی زیادتی: ہر وقت کی ذہنی ٹینشن، تفکرات اور نیند کی شدید کمی۔
اگر آپ اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو مستقل بنیادوں پر بحال کرنا چاہتے ہیں، تو میں آپ کے سامنے ایک بہترین 40 روزہ ترتیب اور اپنے آزمودہ نسخے رکھ رہا ہوں، جنہیں آپ باآسانی سمجھ اور استعمال کر سکتے ہیں۔
40 روزہ خصوصی یونانی طاقت کورس:
صبح نہار منہ (فوری انرجی کے لیے):
معجون مقوی باہ: 5 گرام (آدھا چمچ)۔
ساتھ میں ایک گلاس نیم گرم دودھ، جس میں 3 عدد کھجوریں، 1 چمچ خالص شہد اور ایک چٹکی دارچینی شامل ہو۔
(فائدہ: یہ نیا اور صالح خون بناتا ہے اور چہرے کی رنگت نکھارتا ہے)۔
دوپہر کھانے کے بعد (جگر کی تقویت کے لیے):
کشتہ فولاد 250 ملی گرام + کشتہ قلعی 250 ملی گرام (کسی اچھے دواخانے کا لے لیں)۔ انہیں ایک چمچ شہد میں ملا کر چاٹ لیں۔
ساتھ میں "قرص جواہر" کی 1 گولی۔
(فائدہ: جگر کو مضبوط کرتا ہے اور کھائی پیئی غذا کو جزوِ بدن بناتا ہے)۔
رات سونے سے پہلے (اعصابی ریکوری کے لیے):
لبوب کبیر: 5 سے 10 گرام۔
ساتھ میں ایک گلاس نیم گرم دودھ، جس میں 5 عدد بادام، 2 عدد انجیر اور آدھا چمچ اسگندھ (اشوگندھا) کا سفوف مکس ہو۔
(فائدہ: یہ اعصاب کو سکون دیتا ہے، پٹھوں کو لوہا بناتا ہے اور گہری نیند لاتا ہے)۔
دو بہترین گھریلو نسخے (جو آپ خود بنا سکتے ہیں):

اب لیجئے ان ادویات کے نسخہ جات

نسخہ نمبر 1: سفوفِ مقویِ باہ
موصلی سفید 50 گرام، موصلی سیاہ 50 گرام، تالمکھانہ 50 گرام، تخمِ پیاز 50 گرام، اسگندھ ناگوری 50 گرام، مصری 200 گرام۔
ترکیب: تمام چیزیں پنسار سے صاف ستھری لے کر باریک پیس لیں اور مکس کر لیں۔
طریقہ استعمال: 1 چمچ صبح اور 1 چمچ شام، نیم گرم دودھ کے ساتھ۔ (40 دن استعمال کریں)۔
فائدہ: جسمانی سستی دور کرتا ہے اور برداشت میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے۔
نسخہ نمبر 2: معجونِ آرد خرما (شاہی معجون)
بھنے ہوئے چنے کا آٹا (آرد بریاں)، نرم کھجوریں، بادام، پستہ، موصلی، خالص شہد اور دیسی گھی۔
ترکیب: مغزیات کو باریک کوٹ لیں اور کھجور اور شہد کی مدد سے معجون کی طرح بنا لیں۔
طریقہ استعمال: 1 چمچ صبح دودھ کے ساتھ۔
فائدہ: کمزور جسم کا وزن پورا کرتا ہے، طاقت اور خون بڑھاتا ہے۔
طاقت والی خوراک جو روز مرہ کا حصہ ہونی چاہیے:
دودھ، دیسی گھی اور شہد: یہ جسم کی بنیادی حرارت اور طاقت کے لیے اکسیر ہیں۔
بادام، اخروٹ، پستہ اور چلغوزہ: دماغ اور اعصاب کو مضبوط کرتے ہیں۔
دیسی انڈے، گوشت اور دالیں: مسلز (عضلات) کو طاقت دیتے ہیں۔
کھجور، انجیر اور منقہ: جسم کو فوری گلوکوز اور توانائی فراہم کرتے ہیں۔
پیاز اور لہسن: جسم میں خون کی روانی کو بہترین رکھتے ہیں۔
صحت کے 4 سنہری اصول (جن کے بغیر دوا اثر نہیں کرتی):
روزانہ 20 منٹ ورزش: چاہے ہلکی واک ہو یا پش اپس۔ متحرک جسم کے بغیر دوا پوری طرح جزوِ بدن نہیں بنتی۔
8 گھنٹے کی گہری نیند: رات 11 سے صبح 5 بجے تک ہمارا جسم خود کو ریکور کرتا ہے اور ہارمونز بناتا ہے۔ دیر تک جاگنے سے پرہیز کریں۔
ذہنی سکون: ٹینشن سے دور رہیں۔ یاد رکھیں، آدھی طاقت آپ کے دماغی سکون میں ہے۔
قبض نہ ہونے دیں: قبض تمام امراض کی جڑ ہے۔ رات کو دو چمچ گلقند یا اسپغول کا چھلکا دودھ میں لے لیا کریں۔
پرہیز (جو بہت ضروری ہے):
چائے کی کثرت، سگریٹ نوشی، کولڈ ڈرنکس، بازاری فاسٹ فوڈ اور بہت زیادہ تیز مرچ مصالحوں سے مکمل پرہیز کریں، یہ جگر اور اعصاب کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
نتائج کب تک ملیں گے؟
پہلے 10 دن میں آپ کی تھکن ختم ہوگی اور جسم میں چستی آئے گی۔
20 دن میں اعصابی برداشت بہتر ہوگی۔
40 دن میں انشاء اللہ مکمل اور دیرپا رزلٹ سامنے آئے گا۔
ایک ضروری اور مخلصانہ ہدایت:
جو لوگ شوگر، ہائی بلڈ پریشر یا دل کے مریض ہیں، وہ کشتہ جات والے نسخے کسی بھی مستند حکیم یا معالج کے مشورے کے بغیر ہرگز استعمال نہ کریں۔ اسی طرح گرم مزاج والے لوگ گرمیوں میں گرم چیزوں کی مقدار کم رکھیں۔ اعتدال ہی میں اصل صحت چھپی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ کامل صحت صرف ایک گولی کا نام نہیں، بلکہ یہ معجونِ مقوی، لبوبِ کبیر، اچھے کشتہ جات، مقوی غذا، ورزش اور بہترین نیند کے حسین امتزاج کا نام ہے۔
اللہ پاک آپ سب کو کامل صحت و تندرستی عطا فرمائے۔ آمین۔
(اگر بات اچھی لگی ہو تو اسے آگے شیئر ضرور کیجیے گا تاکہ استفادہ عام ہو )

حکیم ڈاکٹر امان اللہ خان

03/07/2026

خفقانِ قلب (دل کی دھڑکن کا تیز ہونا - Palpitation)
​عام حالات میں ایک صحت مند انسان کے دل کی دھڑکن 70 سے 80 مرتبہ فی منٹ ہوتی ہے، جو کہ بالکل نارمل ہے۔ لیکن بعض اوقات یہ دھڑکن اچانک بہت تیز ہو جاتی ہے، جسے طبی اصطلاح میں خفقانِ القلب یا Palpitation کہا جاتا ہے۔
​🔍 دل کی دھڑکن تیز ہونے کی اہم وجوہات:
​دل کی دھڑکن بڑھنے کے پیچھے بے شمار جسمانی اور نفسیاتی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
​نفسیاتی مسائل: اینگزائٹی (Anxiety)، ڈپریشن، شدید رنج و غم، فکر، پریشانی، غصہ یا اچانک کسی حادثے کا صدمہ۔
​جسمانی و اعصابی کمزوری: اعصاب کا کمزور ہونا، بہت زیادہ ذہنی یا جسمانی مشقت کرنا۔
​معدے کی خرابیاں: شدید بدہضمی، گیس (نفخِ شکم)، اور کثرتِ ریح۔
​طرزِ زندگی کی خرابیاں: کثرتِ تمباکو نوشی (Smoking)، چائے کا بے تحاشا استعمال، اور کثرتِ ج**ع یا جلق (مشت زنی) وغیرہ۔
​دیگر بیماریاں: مالیخولیا (Melancholia) اور خواتین میں اختناقِ رحم (Hysteria)۔
​🩺 اصولِ علاج اور نسخہ جات
​طبی اصولوں کے مطابق علاج ہمیشہ مرض کی اصل وجہ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
​1️⃣ عارضی و فوری علاج (معدے کی گیس اور بدہضمی کی صورت میں):
​اگر دل کی دھڑکن بڑھنے کی وجہ معدے کی گیس، ریح یا بدہضمی ہو، تو درج ذیل عرق کا مرکب فوری فائدہ دیتا ہے:
​ترکیب: عرق سونف، عرق پودینہ، عرق الائچی، عرق اجوائن، اور عرق دارچینی۔
​طریقہ استعمال: ان تمام عرقوں کو برابر مقدار میں ملا کر رکھ لیں۔ ضرورت کے وقت دو دو چمچ پلائیں۔ فوری بہتری آئے گی۔ مستقل فائدے کے لیے یہ علاج ایک ہفتہ جاری رکھیں۔
​2️⃣ اصل مرض (خفقان) کا مستقل علاج:
​دل کو طاقت دینے اور دھڑکن کو متوازن کرنے کے لیے روزانہ صبح ناشتے میں مربہ آملہ، مربہ سیب اور مربہ بہی کا استعمال لازمی کریں۔
​اعلیٰ طبی مرکب:
​دواء المسک المعتدل جواہردار
​خمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا
​طریقہ استعمال: ان دونوں کو آپس میں اچھی طرح مکس (یکجان) کر لیں۔ ایک ایک چمچ صبح اور رات کو پانی کے ساتھ استعمال کریں۔
​🍯 خفقان اور تقویتِ دل کے لیے "شاہی خمیرہ" (خاص نسخہ)
​یہ دل کو مضبوط کرنے اور خفقانِ قلب کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ایک بے حد کمال اور مجرب نسخہ ہے:
​اجزاء:
​گلِ گاؤزبان: 6 تولہ
​ابریشم: 6 تولہ
​کشنیز (دھنیا خشک): 5 تولہ
​الائچی خورد (چھوٹی الائچی): 2 تولہ
​گلِ سرخ (گلاب کے پھول): 5 تولہ
​صندل سفید: 6 تولہ
​چینی (قوام کے لیے): ڈیڑھ کلو (1.5 Kg)
​طریقہ تیاری و استعمال:
عام روایتی طریقے کے مطابق ان جڑی بوٹیوں کا جوشاندہ بنا کر چینی کے قوام میں بہترین "خمیرہ" تیار کر لیں۔
​مقدارِ خوراک: 5 سے 7 گرام خمیرہ، دن میں دو بار عرقِ گلاب کے ساتھ استعمال کریں۔ ان شاء اللہ دل کو بے پناہ طاقت ملے گی اور دھڑکن کا مسئلہ مستقل حل ہو جائے گا۔
​🤲 دعا: اللہ تبارک و تعالیٰ تمام بیماروں کو کامل اور عاجل شفایابی عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
​🏥 منجانب:
​دارالخدمت روحانی و طبی مرکز
​ #حکمت #دارالخدمت

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923454117773

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دارالخدمت طبی و روحانی مرکز posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to دارالخدمت طبی و روحانی مرکز:

Shortcuts

Share

Category