04/08/2026
دوا تو بہرحال دوا ہی ہوتی ہے، اگر خالص اور صحت بخش غذا بھی انسانی مزاج کے خلاف ہو یا ضرورت و مقدار سے تجاوز کر جائے، تو وہ فائدہ پہنچانے کے بجائے جسم میں غیر فطرتی کیمیائی تبدیلیوں کا باعث بن کر روگ بن جاتی ہے۔ غذا کا ہر لقمہ جسم کے کسی نہ کسی مفرد عضو اور مزاج پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے، اسی لیے غیر مزاجی غذا کا مسلسل استعمال بھی دوا کی طرح اپنے سائیڈ ایفیکٹس اور اثرات چھوڑتا ہے۔
علاج اور صحت کا اصل حسن و کمال یہ ہے کہ دوا اور غذا کا تعین محض علامات کی بنیاد پر نہ ہو، بلکہ مریض کے مخصوص مزاج، جاری موسم، اس کی عمر، جنس اور خوراک کی دقیق مقدار کو قانونِ مفرد اعضا کے کڑے اصولوں پر پرکھ کر کیا جائے۔
جب تک انسانی جسم کی فطرت، اعضا کی تحریک، تسکین اور تحلیل کے اصولوں کو پیشِ نظر نہ رکھا جائے، مکمل شفایابی ممکن نہیں۔ مشینوں اور مصنوعی تدبیروں پر انحصار کے بجائے اگر انسان کے اپنے فطرتی مزاج اور اعضا کے باہمی توازن کو سمجھ لیا جائے، تو معمولی غذائی تبدیلیوں اور فطرتی دواؤں سے ہی جسم کا دفاعی نظام خود کو بحال کر لیتا ہے۔ فطرت سے ہم آہنگی اور مزاج کی درست تشخیص ہی حقیقی شفایابی کی ضامن ہے۔
حکیم امان اللہ خان