Homeopathic Dr. Sohail Ahmed

Homeopathic Dr. Sohail Ahmed Passionate & renowned Classical Homeopath. Top rated on Google with patient video testimonials.

Expert Treating all Allergies
(skin,food,nasal, dust)
Psychiatric disorders
Gynaecological, Autoimmune, Hormonal, Digestive, liver, Urinary, Cardiac & others

سلام بَر نَبِیِّ خدا، درود بَر نَبِیِّ رحمت، محمد ﷺ وَ آلِ محمد، وَ اَصحابِ محمد وَ اَزواجِ محمد ﷺ ۔۔۔ میرے معزز قارئین!...
05/07/2026

سلام بَر نَبِیِّ خدا، درود بَر نَبِیِّ رحمت، محمد ﷺ وَ آلِ محمد، وَ اَصحابِ محمد وَ اَزواجِ محمد ﷺ ۔۔۔
میرے معزز قارئین! آپ کی خدمت میں ایک نیا شاہکار آرٹیکل لیکر حاضر ہوا ہوں۔ یہ آرٹیکل اس لیے بھی منفرد مقام رکھتا ہے کہ اس میں ماڈرن میڈیکل سائنس اور ہومیوپیتھک سائنس ایک ہی تشخیص پر متفق ہیں۔ اور اس تشخیص کا تزکرہ آخر میں کیا جائے گا، (ع ب د فرضی نام) یہ مریض گجرانوالہ سے میرے ایک colleague ہومیوپیتھک ڈاکٹر نے ریفر کیا، یہ مریض شروع سے ہی ایلوپیتھک طریقہ علاج پر اس لیے اکتفاء نہیں کر سکا کہ اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے رشتہ داروں یا سوشل میڈیا پر کینسر زدہ مریضوں کو کیموتھراپی سے تکلیف دہ موت سے مرتے ہوئے دیکھا تھا، نوجوان نے خود اظہار کیا کہ اگر مریض کینسر سے نا بھی مرے مگر کیموتھراپی کے سائیڈافیکٹس سے لازمی مر جاتا ہے۔ دوستو بطور ہومیوپیتھک معالج میں اس بات سے مکمل آگہی رکھتا ہوں کہ بعض اوقات بیماری کی بڑھوتری یا ترقی اتنی جلد اور زیادہ ہو جاتی ہے کہ سرجری ناگزیر ہو جاتی ہے۔ البتہ ہائی گریڈ کینسر میں ہم Palliative treatment اور مینجمنٹ کر سکتے ہیں۔ جبکہ پری کینسر اور پہلی سٹیج تک ہومیوپیتھک علاج اور فلسفہ ہومیوپیتھی کےزریعے کینسر مکمل طور پر قابلِ علاج ہے۔ باقی اگر کوئی تیسری، چوتھی سٹیج پر بھی مریضوں کو شفاء کی لالچ دیکر اوپر پہنچا دے تو اس کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ بہرحال اس شفاء اور نئی زندگی کی فتح کا مکمل کریڈت میں اس نوجوان کینسر میں مُبتلا مریض کو دینا چاہوں گا، جس نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ مجھے کینسر ہو چکا ہے، ہسٹری اور مشاہدات کے مطابق یہ ایک محنتی، جفاکش، یاروں کا یار اور ہنس مُکھ انسان ثابت ہوا، کبھی والدین کو اپنے ساتھ کلینک نہیں لایا، البتہ والد میرے سے رابطہ میں رہا، جب بھی وِزٹ کرتا ہمیشہ کسی دوست اور کزن کو ساتھ لے آتا، میرے معزز قارئین ایسا تب ہوتا ہے جب آپ اپنے وفادار دوستوں اور کزنوں کا ایک وسیع حلقہ رکھتے ہوں، سب کو اپنا عادی اور مُحب بنا رکھا ہو، اور جلد نئے نئے دوست بنا لینے کے عادی ہوں۔ جلد اپنی اداؤں، انداز بیاں، طرزِ زندگی اور رویوں سے کسی بھی سامنے والے کو اپنی شخصیت کے سحر (جادُو) میں مبتلا کر لیتے ہوں۔ مریض سے پہلی بار لی گئی ہسٹری نے مجھے کافی کنفیوز کیا، ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ کینسر مریض کے تمام ایکسز ڈاؤن اور تبدیل کر کے رکھ دیتا ہے، بھوک، پیاس، نیند، چہرے کی رنگت رونق حتٰی کہ وزن تک اُڑھا کے رکھ دیتا ہے، Hb کم، جسم میں انفیکشن اور الرجک سیلز کو بڑھا دیتا ہے، اس لیے دن با دن بدلتی ہوئی مریض کی پیتھالوجیکل development اور زاتی feelings سے آگاہ رہنا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے۔ اور اگر ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر یہ نوٹ کر لے کہ دی گئی دوائی سے مریض کے ایکسز نارمل سطح پر آنا شروع ہو چکے ہیں تو میرے کلینکل تجربہ کے مطابق ایسا مریض اللہ کے حُکم سے خود کو شفاہ کی درُست سمت کی جانب تصور کر سکتا ہے، خواہ مرض معصوم ہو یا خبیث، ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس دوسری سائنسز سے اس لیے بھی الگ اور منفرد مقام رکھتی ہے کیونکہ اس میں حقیقی شفاء اور اندر سے مرض کے ختم ہونے کی نشانیاں قوانین کی صورت میں بتائی گئی ہیں۔ اور حقیقی ہومیوپیتھک معالج لمحہ بہ لمحہ قانونِ شفاء سے باخبر رہتے ہوئے اپنے مریض کو حقیقی شفاء سے ہمکنار کرواتا ہے۔ اگر کوئی ہومیوپیتھک ڈاکٹر اس قانون کی پیروی نہیں کرتا تو وہ مکمل طور پر فراڈ اور چکر باز ہے۔ جیسا کہ پاکستان کی ترقی اور بقاء اس کے قوانین Constitution کی پاسداری پر منحصر ہے، مگر یہ وطن ہچکولے کھاتا ہوا پھر بھی چل رہا ہے۔ کیونکہ ہومیوپیتھی کبھی بھی علاج بالضد نہیں کہلوا سکتی۔ مریض کا دوست (attendant) بتاتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب یہ کینسر کے باوجود ڈیوٹی پر جاتا ہے، روزانہ سفر کرتا ہے، ہمیں بھی اتنا ہی ٹائم دیتا ہے، دوستو یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ مریض کس قدر جفاکش اور یارانِ یار ہے، مریض نے میرا دیا گیا ڈائیٹ چارٹ اس سختی سے فالو کیا کہ جیسے اندر سے یہ سب کروانے کے لیے کوئی خوف موجود ہے، اور ظاہر سے ایسا خوش مزاج اور جی دار کہ چہرے پر کینسر کا تاثر محسوس ہی نا ہونے دے، internally fearful about disease but externally cheerful. یہ نوجوان اپنے خاندان کا اکیلا چشم و چراغ ہے، ممکن ہے یہ ادراک اور دباؤ کہیں نا کہیں کسک ڈالتا ہو، مریض مجھ سے بارہا اپنی ڈائیٹ کے بارے پوچھتا رہا ہے، اور خاص بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب میں فلاں جوس پی سکتا ہوں؟ فلاں پھل کا جوس کیسا رہے گا؟ آج کل یہ یہ پھل ہیں کونسا جوس بہتر رہے گا، کیا فالسہ، گنے کا رس اور لیموں پانی پی لیا کروں ؟ دوستو ہم نے دیکھا کہ مریض ٹھنڈے میٹھے مشروبات کے بغیر نہیں رہ سکتا،
پھر اس صورت میں کیس اور پیچیدہ ہو جاتا ہے جب مریض اُوپر سے بہادری اور اندر سے خوف محسوس کروا رہا ہو، دوستو یہ خوف آرسینک البم سے بالکل مختلف ہوتا ہے یعنی آرسینک اندر سے بھی پُرخوف اور عدم تحفظ، اور ظاہری تاثرات سے بھی پُرخوف دکھائی دیتا ہے، جبکہ یہاں بات مختلف تھی، مریض اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ محسوس کروا رہا ہے، اس کے لیے ریپرٹری میں ایک رُبرک موجود ہے Mind-Hypocrisy یعنی اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ مریض منافق ہوتا ہے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ مریض اپنی اصل suffering کو mask پہنا کر رکھتا ہے، دُکھ اور بیماری کو اپنے اوپر غالب آتا ہوا ظاہر نہیں کروا سکتا۔ خوشیوں، مسکراہٹوں اور قہقہوں کی دنیا جاری و ساری رکھنا چاہتا ہے، مجھے وہ لطیفہ یاد آ گیا کہ شادی سے ایک دن قبل مہندی والے دن جو شریکوں کی بُڑھیا فوت ہو کر شادی کا سارا مزہ پھیکا کر دیتی ہے اور شریک اس واقعہ پر اندر ہی اندر لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں، واوا ساڈی مائی نے سارے فنکشن پر پانی پھیر دیا ہے۔ (البتہ یہ کونسٹیٹیوشن ایسا ہرگز اور کبھی بھی نہیں چاہتا، اس کی سوچ اس فوت شدہ اماں کے گھر والوں اور شریکوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے یہ مثبت تضاد Hypocrisy شو کرتا ہے۔ یعنی اس کے اندر کا دُکھ باہر نا دِکھ سکے یا محسوس کیا جا سکے۔ جبکہ ہمارے اکثر ہومیوپیتھس اس رُبرک سے مراد منافقت لیتے ہیں۔ جبکہ اصل منافقوں کی پہچان کے لیے دیگر ادویات کی ڈرگ پکچر کی ایک ایک لائن گواہ ہے۔
مریض کی جسمانی appearance اور خدوخال واضح تھے، تنگ چھاتی، لمبی قدامت، البتہ جِم کی وجہ سے باڈی مینٹین تھی، بِلی آنکھیں اور ہلکے زرد بال Blonde، Brunette ٹائپ ، Inverted triangle نما چہرہ، مریض بتاتا ہے فیملی میں بھی آنکھوں اور بالوں کا یہی رنگ نمایاں ہے۔ مگر فیملی ہسٹری میں کینسر موجود نہیں ہے۔ میرے معزز دوستو اگر اسی صورتحال کے ساتھ مریض کی فیملی ہسٹری میں کینسر موجود ہوتا تو پھر شاید ہم کاسینوسن کا تصور زہن میں لے آتے، مگر یہاں معاملہ ڈرگ پکچر کا ہے جو کہ روشنی کی مانند واضح جھلک رہی ہے، دوستو ایونگ سارکوما ایک ایسا کینسر ہے جو کہ مختلف ٹشوز کو ایک ساتھ اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، یعنی ہڈی، گوشت، لمف نوڈز، جِلد، وریدوں اور شریانوں میں تیزی سے کینسر سیلز proliferate کر جاتے ہیں، اور خاص بات یہ کہ Ewing Sarcoma نامی یہ کینسر نوجوانوں کو پسند کرتا ہے، جس طرح ہر کینسر کسی نا کسی خاص age group کو پسند کرتا ہے۔ ممکن ہے ربِ زوالجلال کی کوئی حکمت پوشیدہ ہو۔ میرے معزز قارئین میرے پاس ریفر ہو کر آنے والا یہ نوجوان مایوس نہیں بلکہ پُرامید تھا، اور آج کل کینسر سے اموات کی سب سے بڑی وجہ اس کا خوف اور دھاک ہے، جو مریض اس کو اپنے زہن میں غالب لے آیا تو بس پھر وہ گیا، اور اگر کوئی مریض محنت علاج اور لگن کے ساتھ ساتھ اتنی ہی امید اور خوش دلی سے غالب رہا تو وہ جلد کینسر سے نِکل آتا ہے، البتہ اس میں طرزِ زندگی، غذا، اور ماحول مکمل طور پر آئیڈیل رکھنا ہو گا، اس مریض کو دائیں جانب والی ہڈی scapula کے مقام پر ٹیومر ظاہر ہوا، پہلے پہل تو درد تھی جس کے لیے پین کِلر چلتی رہی، پھر اسی درد کے مقام پر سوزش ظاہر ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک گومڑ سا بن گیا، جس کی درد کی لہریں Lumber region کے مہروں تک جاتی رہیں، مگر اللہ کے کرم سے یہ شک کہ کینسر Metastasized یعنی دیگر ٹشوز تک پھیل چکا ہو گا، ایک شک ہی ثابت ہوا، مریض کہتا ہے ڈاکٹر صاحب اس کے بعد سے میری رنگت بہت خراب ہو گئی ہے، وزن بہت گِر رہا ہے، ہاتھ پاؤں بہت سُن ہوتے ہیں، اور کندھوں پر کوئی زور نہیں ڈال سکتا، درد کی وجہ سے نیند نہیں آتی، ان چیزوں کو بھی ساتھ ساتھ دیکھیں، کیونکہ میرا کام کاج اور گھُومے بغیر گزارہ نہیں۔ دوستو آپ سبھی جانتے ہیں کہ کینسر ایک Deep destructive pathology , ڈی جنریشن، پھلنے پھیلنے اور پھُولنے کا نام ہے، اس کے خلیات تیزی سے پھیلتے ہیں، اور یہ ایک Malignant state کا نام ہے، جسے آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ اکثر لوگ کینسر جیسے مرض میں فقط ٹوٹکوں پر اکتفاء شروع کر دیتے ہیں، کوئی کہتا ہے فلانی بُوٹی کینسر کا شافی علاج ہے اور کوئی کہتا ہے دھماسہ بوٹی کینسر کا علاج ہے۔ بہرحال یہ سب غیریقینی اور غیرمجربی باتیں ہیں۔ حتٰی کہ ہومیوپیتھی سے بھی کینسر کے 5 فیصد کیسز میں ہی بہتر نتائج مِلتے ہیں۔ تمام کیسز کو ہومیوپیتھی شکست نہیں دے سکتی، البتہ سروائیول ریٹ اور مینجمنٹ دوسرے دیگر طریقہ علاج سے کہیں بہتر ہے۔ ہم نے دیکھا کہ ڈرگ پکچر اور Nature of patient مکمل طور پر contrast یعنی میچ کر گئی، اب دیکھتے ہیں nature of disease , نیچر آف ڈرگ سے کیسے مماثل تھی؟ میرے پیارے ہومیوپیتھس اگر ہم تمام مٹیریاز اور ریپرٹریز کو کھنگالیں تو وہاں یہ رُبرکس rubrics اور states واضح لکھی ہیں۔ اور خصوصاً فارماکوپیا اور انسائیکلوپیڈیا کے زریعے اس دوا کا فزیولوجیکل ایکشن واضح ہوتا ہے، جہاں درج ہے:
It irritates, inflames, degenerates, multiple tissues, like Spinal cord, serous membranes, mucous membranes, muscular structure, nerves, & destroys the bones.
دوستو جب یہ پروونگ کےالفاظ واضح مِل جائیں پھر کوئی ہچکچاہٹ باقی رہے گی جو نیچر آف ڈیزیز اور نیچر آف ڈرگ کو similar نا کر سکے؟ چونکہ ہم سارکوما کو ٹھیک کر رہے تھے، اور یہ ملٹی پل ٹشوز دونوں جگہوں، بیماری اور ڈرگ میں مِل گئے،
پھر لکھا، :Bone Caries
Bones Swelling: (Boger-Boenninghausen)
Generalities, Cancer, Malignant affections:
(Kent)
Bones Sarcoma
یعنی
Bone Marrow/ Sarcomatous tendencies
(روبن مرفی)
Extremeties, Pain, Long bones: کینٹ
Generalities, Emaciation, rapid کینٹ
یعنی Cachexia cancer constitution.
دوستو پھر میں نیچر آف پیشنٹ کو مِلانے کے بعد نیچر آف ڈیزیز کی تگ و دو میں اِن سب رُبرکس کے باوجود Phatak ریپرٹری سے تلاش کیا، جہاں مجھء مِلا:
Cancer, Sarcoma
پھر مِلا Cancer, Sarcoma, Osteo-Sarcoma
اگر آپ بورک ریپرٹری دیکھیں تو وہاں بھی schema میں واضح لکھا ہے،
Generalities, Cancer of bone:

Mind, fear, cancer of: (synthesis)

Mind, fear, suffering of: (kent)
مریض شدید تکلیف اور کیموتھراپی کے جان لیوا سائیڈ افیکٹس سے خوف زدہ ہو کر ہومیوپیھی کی طرف لوٹا۔
Mind, fear, pain of: (kent)
Mind, fear, operation of: (synthesis)
Mind, fear, Doctors:
Mind, anxiety, health about: زہن صحت کے بارے تشویش اور بے چینی کا شکار ہے خواہ اندر سے ہی ہو۔
دوستو جب کیس Oncology کا ہو تو پھر ان رُبرکس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

ہم نے اللہ کریم کے خاص کرم کی بدولت مریض کو کونسٹیٹیوشنل ریمڈی Phosphorus 200 تجویز کی۔ جدید میڈیکل سائنس جن بیماریوں کو مکمل Base بنا کر علاج کرتی ہے ہم نے ان پیتھالوجیکل رُبرکس اور ہومیوپیتھک ڈرگ کی پکچر یعنی دونوں حالتوں کی nature دوا سے مماثلت رکھنے پر تجویز کی، اور ساتھ بطورِ معاون Hydrastis Can، Hekla Lava اور Symphytum , ڈراپس اور گولیوں میں بنا کر دے دی۔ مریض کو اس کے لائف سٹائل، غذا اور پرہیز کے بارے مکمل رہنمائی دی۔ علاج شروع ہونے کے بعد ہر فالو اپ پر مریض نئی سے نئی بہتری بتاتا رہا، اور سب سے بڑھ کر میرے لیے باعثِ اطمینان چیز تھی مریض کا وزن بڑھنا، ایکسز اور نقاہت میں تبدیلی آنا۔ مریض کی رنگت بہتر ہوتی گئی، مریض کو معاون دوا میں سے Calcarea Phos اور کلکیریا فلور بھی لگوائی۔ سروائیکل ریجن کا کھچاؤ اور درد مزید کم ہوتی گئی، مریض کی CBC, Urine/E اور Lfts بھی کرواتا رہا، الحمداللہ دن با دن بہتری آتی گئی۔ بالآخر فاسفورس نے پوٹینسی میں وہی کام کیا جو وہ پروونگ میں بگاڑتی ہے، یعنی اپنی ہم شکل Malignant مرضیاتی حالت اور Nature کے ساتھ مِل کر affectionate کیا اور اپنے ساتھ ہی کھینچ لیا۔ چونکہ فاسفورس 200 تو ایک آرٹیفشل ڈیزیز تھی اور اس کا کام جسم میں موجود اصل بیماری کی ہم شکل بہن بن کر اس کو دھوکہ دینا تھا۔ لحاظہ فاسفورس اپنے ساتھیوں کے ساتھ مِل کر یہ سب کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بالآخر چند ماہ بعد مریض کی لیب رپورٹس نے ثابت کر دیا کہ مریض اب بالکل کینسر فری ہے۔ البتہ حفظِ ماتقدم کے طور پر ادویہ و اغذیہ اب بھی جاری ہیں، ہمیں ایک ہی شکوہ ہے کہ مریض آتے ہوئے اپنے شہر کی مشہور سلیمانی سویٹ لیکر نہیں آیا۔ 😊 خیر سب دعا کریں کہ اللہ کریم لاکھوں کروڑوں کینسر میں مبتلا مریضوں کے ساتھ رحم والا معاملہ فرمائیں۔ یہ مریض جوان تھا، ہر لحاظ سے ہمت دکھا گیا، جِگرا دکھا گیا، اگر کوئی ادھیڑ عمر ہوتا تو شائد عمر کا تقاضا آڑے آ جاتا۔ میرے معزز قارئین اس کیس کے حقائق اور لیب رپورٹس میں نے اپنی فیسبک وال (Nawab Ahmad Mirza) پر upload کردہ آرٹیکل کے کمینٹ سیکشن میں لگا دیے ہیں۔ آپ میری i.d کی سب سے Latest پوسٹ میں دیکھ لیجیے۔ اگر کوئی سوال ہو تو کمینٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں۔ کوئی تجویز ہو تو کمینٹ یا انباکس میں ارسال کر سکتے ہیں۔ اگر میرا حوصلہ بڑھانا چاہیں تو گروپ کی بجائے میری وال پر آ کر کمینٹ کر سکتے ہیں۔ اگر اس آرٹیکل کو مفید سمجھیں تو کینسر سے متاثرہ افراد اور ہومیوپیتھک ڈاکٹرز تک شئیر کرنے سے گریز مت کیجیے۔ ہو سکتا آپ کے ایک شئیر سے اللہ کتنے لوگوں کو درست سِمت دکھا دے۔ کیونکہ فی زمانہ حاضر میں سب سے بڑا مسئلہ درست رستے right path ، اور غلط معلومات Disinformation کا ہے۔ باقی اللہ مجھے بھی جزا دے اور آپ سب کو بھی جزا دے۔ مجھے کینسر کے مریض نہیں چاہییں، مگر کینسر والوں کو درست معلومات ضرور چاہیے۔ دعاؤں کا طلبگار ہوں۔ شکریہ

تحریر و تحقیق: ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور

نا جانے اس دنیا میں کتنے ہی معالج ایسے ہونگے جو اپنے بعض مریضوں کی خاطر اشکوں کے ساتھ رو پڑے ہونگے، یقیناً بعض مریض صرف ...
05/07/2026

نا جانے اس دنیا میں کتنے ہی معالج ایسے ہونگے جو اپنے بعض مریضوں کی خاطر اشکوں کے ساتھ رو پڑے ہونگے، یقیناً بعض مریض صرف مریض نہیں ہوتے، وہ انسان کے اندر چھپی ہوئی کمزوریاں، غرور، خوف، چاہت شفقت اور ٹوٹ پھوٹ سب کچھ سامنے لے آتے ہیں۔ آج بھی جب میں اس کیس کو یاد کرتا ہوں تو دل کے اندر ایک خاموش بوجھ سا اتر آتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم یہ میری clinical ناکامی تھی یا میری زندگی کا وہ آغاز جس نے مجھے اندر سے بدل کر رکھ دیا۔
یہ ایک بریسٹ ٹیومر لمف نوڈ کینسر Left Breast Carcinoma کی مریضہ تھیں۔ میں اس آرٹیکل میں ان کا فرضی نام جنت رکھ رہا ہوں۔ صرف اس لیے کہ میں اپنے کلینک میں آنے والی مختلف خواتین کو مختلف مزاجوں اور رویوں سے پرکھتا ہوں اور اسی ثبات پزیر سائنس کے زریعے میں ان کا احوال، ماضی، مستقبل، خوبیوں اور برائیوں کا اپنے زہن میں زائچہ بنا لیتا ہوں۔ جو کبھی کبھار تو 98 فیصد تک درست ہو سکتا ہے۔ اسی زائچے اور Constitution کے باعث میں فرضی نام "جنت" مخاطب کرونگا۔ جس سے یقیناً مجھے راحت مِلے گی۔
دو سال پہلے جنت کو رائٹ بریسٹ کینسر ہوا تھا۔ سرجری ہوئی، رائٹ بریسٹ excise کر دیا گیا، کیموتھراپی ہوئی، اور کیمو نے ان کے جسم کو اس حد تک توڑ دیا تھا کہ وہ خود کہا کرتی تھیں کہ میں مر کر واپس آئی ہوں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ مرض مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا، جیسے اکثر کینسر کے کیسز میں دیکھا جاتا ہے کہ بیماری کچھ عرصے کے لیے خاموش ہو جاتی ہے، inactive ہو جاتی ہے، مگر اندر کہیں نہ کہیں اپنی جڑ باقی رکھتی ہے۔ پھر کچھ وقت بعد دوبارہ ابھر آتی ہے، کبھی وہی جگہ تو کبھی تھوڑی تبدیل شدہ جگہ پر۔
پرانے زمانوں میں حِکمت اور قدیم طب کے بعض وید اور طبیب اس کیفیت کو انتقالِ مرض کہا کرتے تھے، یعنی مرض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو گیا، لیکن اپنی اصل ماہیت میں باقی رہا۔ اور آج بھی جدید دور میں ہومیوپیتھک فلسفہ یہی کہتا ہے کہ مرض کو اگر جسم سے باہر نکال کر ختم نا کیا جائے تو وہ جسم کے اندر رہ کر اپنی شناخت یا جگہ بدل لیتا ہے، جسے بیماری کے دبنے یعنی Suppression of disease کا نام دیا جاتا ہے۔
جنت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ دو سال بعد دوبارہ کینسر ابھرا، مگر اس بار لیفٹ سائیڈ پر۔ یہ مجھ سے اپنے علاج سے پہلے اپنی پھول نما بیٹیوں کا علاج اور دیگر بہت سارے مریضوں کو ریفر کر چکی تھیں۔
جب جنت پہلی بار میرے پاس علاج کے لیے آئیں تو انہوں نے بیٹھتے ہی مجھ سے کہا کہ سہیل بھائی، آپ کو اندازہ نہیں کیمو کی کتنی خوفناک اور دردناک کیفیت ہوتی ہے۔ میں دوبارہ اس راستے پر نہیں جا سکتی۔ میں مرنا پسند کر لوں گی لیکن دوبارہ کیمو نہیں کرواؤں گی۔ وہ علاج کروانے کے باوجود دو سال بعد پھر مجھے وہی کینسر ہو گیا ہے۔ مجھے آپ پر دل و جاں سے یقین ہے، مجھے خواب میں اشارہ مِلا کہ میں آپ کے پاس آؤں، اس لیے میں آپ کے پاس آئی ہوں۔ اب اگر مرنا بھی ہوا تو میں آپ کے علاج پر مرنا پسند کروں گی، لیکن دوبارہ اس دردناک موت کی طرف نہیں جاؤں گی۔ میرے معزز قارئین اس بات کی تصدیق جنت آپی کی بڑی سِسٹر نے بھی کی۔ اور مجھے بتایا کہ جنت آپ کے بارے خواب کا مجھے اور باقی بہنوں کو بتا رہی تھی۔ ان کی یہ بات میرے دل میں کہیں گہرائی میں اتر گئی تھی۔ جب وہ میرے پاس آئیں تو اس سے پہلے مختلف ہومیوپیتھک لیڈی ڈاکٹرز سے دوائیں لیتی رہی تھیں۔ مجھے مکمل تفصیل کبھی معلوم نہ ہو سکی کہ کون سی ادویات استعمال ہوئیں اور کن طریقوں سے کیس کو handle کیا گیا، مگر میں نے کیس نئے سرے سے لینا شروع کیا۔
وقت گزرتا گیا اور پھر ڈاکٹر اور مریض کا تعلق صرف prescription تک محدود نہ رہا۔ وہ مجھے سہیل بھائی کہتی تھیں اور میں انہیں جنت آپی۔ یہ بندھن عجیب حد تک خالص ہو چکا تھا۔
جنت آپی میرے لیے بلاناغہ گھر سے کھانے بنا کر بھیجتیں، تحفے تحائف بھی بھیجتی رہتیں۔ آپی کی کام والی باورچن (Cook) بتاتی تھی کہ جنت آپی کہتی ہیں پہلے سہیل بھائی کے لیے کھانا نکالا کرو۔ ان کی دو بیٹیاں تھیں۔ جنت آپی انتہائی نرم دل، صاف دل، مہربان خاتون تھیں۔ کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ اور میرے کلینک کے چاروں اطراف ان کی یہی صفت مشہور تھی۔
انہوں نے اپنے تقریباً تمام رشتہ دار میرے پاس بھیج دیے۔ میرے علاج کے ابتدائی مہینوں میں ایسی بہتری آئی کہ آس پاس کی خواتین پوچھنے لگیں کہ تم آج کل کیا کر رہی ہو، پہلے سے زیادہ صحت مند لگ رہی ہو، چہرہ اتنا fresh اور روشن کیسے ہو گیا؟
آپی خود خوش ہو کر بتاتی تھیں کہ میرے ہارمونز بھی بہتر ہو رہے ہیں۔ جو کہ کیمو کے بعد عدم توازن کا شکار ہو گئے تھے۔ میرے معزز قارئین کیا ہم اسی کو "سر سے پاؤں تک' holistic approach کہتے ہیں نا؟
میں راتوں کو جاگ جاگ کر follow-ups تیار کرتا، ہر symptom note کرتا، ہر تبدیلی observe کرتا۔ اس کے سو مطلب نکالتا۔
صرف ایک بات سے میں انہیں بار بار منع کرتا تھا کہ اپنی طبیعت میں بہتری کا زیادہ چرچا نہ کیا کریں۔
مگر جنت آپی بہت صاف دل تھیں، نظرِ بد، حسد، لوگوں کی نیت، ان چیزوں سے بے خوف رہتی تھیں۔ مجھے بھی لگتا کہ آپی ہر لمحہ زکر و ازکار کرتی رہتی ہیں لحاظہ ایسی فِکر نہیں کرنی چاہیے۔
بعد میں مجھے محسوس ہوا کہ شاید انہوں نے ابتدائی بہتر آنے والی رپورٹس اُس لیڈی ڈاکٹر کو بھی بتا دی تھیں جن سے وہ پہلے علاج لیتی رہی تھیں۔ ممکن ہے وہ ڈاکٹر یہ قبول نہ کر پا رہی ہو کہ اس کے اکثر مریض اب میری طرف آ چکے ہیں، اور شاید یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بہتر ہوتی رپورٹس کا credit خود لینا چاہتی ہو۔ میں کسی پر الزام نہیں لگانا چاہتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعد میں معلوم ہوا وہ مسلسل جنت آپی کو کالز کر کے مشورے دیتی رہتی تھیں کہ یہ دوا کھاؤ، یہ بند کر دو۔
حالانکہ اصول یہ ہوتا ہے کہ مریض اگر ڈاکٹر تبدیل کرے تو پھر ایک واضح direction میں علاج چلے، مگر یہاں چیزیں خاموشی سے بکھرنا شروع ہو چکی تھیں۔
پھر اچانک مجھے معلوم ہوا کہ جنت آپی نے کچھ دوائیں خود ہی بند کر دی تھیں اور مجھے ڈیڑھ ماہ تک اس کا علم ہی نہ ہو سکا۔ صرف اس لیے کہ ان کو محسوس ہوا کہ میرا وزن جو کہ کینسر کی تشخیص کے وقت تین کلو گِر چکا تھا اب نا صرف وہ reverse دوبارہ بڑھ گیا ہے بلکہ دو کلو مزید وزن بڑھ گیا ہے اور میں یہاں پر آئیڈیل Look ہوں. کینسر اب کنٹرول میں ہے اور ایسا نا ہو کہ میں موٹی ہو جاؤں۔ اس بات پر میں نے اور آپی کے شوہر نے ان کی سرزنش بھی کی۔
پھر معمول کے مطابق کچھ ماہ بعد وہ سپیشل ریڈیالوجی رپورٹ سامنے آئیں۔
گلٹی کا سائز بڑھ چکا تھا۔ Lymph nodes بھی enlarge ہو چکی تھیں۔
اس دن میرے کلینک کا سب سے بوجھل اور بھاری دن تھا۔ مگر میں نے کسی پر الزام نہیں لگایا۔ اور خود کو قصوروار سمجھنا شروع کر دیا۔
میں سوچتا تھا کہ شروع میں تو سب control میں تھا، پھر کہاں غلطی ہو گئی؟
اور شاید یہیں میں نے اپنی سب سے بڑی غلطی کی کہ
confusions میں آ گیا۔ میں نے potency بڑھانی شروع کر دی۔
حالانکہ ہومیوپیتھی کی philosophy صاف کہتی ہے کہ جتنی disease destructive اور advanced ہو، approach اتنی محتاط اور Low potency ہونی چاہیے۔
مگر اس وقت میرا ذہن خوف میں تھا، اور آپ جانتے ہیں کہ خوف انسان کی clinical wisdom پر پردہ ڈال دیتا ہے۔
میں نے remedy بدل کر دیکھنی شروع کیں۔ مختلف زاویوں سے کیس کو پکڑنے کی کوشش کی۔ رد و بدل، repetition، تبدیلیاں، اور شاید یہی وہ مقام تھا جہاں کیس آہستہ آہستہ میری گرفت سے نکلتا گیا۔
لیکن عجیب بات یہ تھی کہ جنت آپی پھر بھی مسکرا رہی تھیں۔ وہ ویسے شور مچانے والی cancer patient نہیں تھیں۔ نہ واویلا، نہ شکوے، نہ ہر وقت موت کا ذکر۔ اور نا ہی کینسر کسی دوسرے آرگن تک پھیل سکا۔ پھر شدید سردیوں کے دن آئے۔ میں تین دن کے لیے کسی سرکاری کام کے سلسلے میں گجرات ٹھہرا، مجھے معلوم ہوا کہ انہیں سانس کا مسئلہ ہو گیا ہے، مزید کنفرم ہوا کہ آپی کو نمونیا ہو گیا ہے۔
دو دن بعد خبر ملی کہ انہیں ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے protein injections لگائے ہیں جس کے بعد وہ حوش کھو چکی ہیں اور جسم میں پانی بھرنا شروع ہو گیا۔ یہاں تک کہ سارا جسم سُوج کر Edema کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ تیسری رات مجھے اچانک ایک ٹاؤن کی لڑکی کا سٹیٹس نظر آیا😢😭 جس کے بعد میرا اپنا وجود ساقط ہو گیا۔
اور پھر وہ کال آئی کہ جنت آپی وفات پا چکی تھیں۔
اس خبر کے بعد میرے اندر ایک عجیب خلا پیدا ہو گیا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے رشتہ داروں کی وفات دیکھی تھی، مگر شاید کبھی آنسو نہیں نکلے،
لیکن جنت آپی کی وفات کا سُن کر پتھر نما جسم میں آنسوؤں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔ جب خود میرے اوپر اگنیشیائی لہر پُھوٹی تو مجھے معلوم ہوا کہ گہرا اور اچانک صدمہ کیا ہوتا ہے۔ میں کئی دن تک اپنے آنسوؤں کو دلاسہ نا دے سکا۔ جیسے میرا کوئی اپنا نہیں بلکہ میں خود ختم ہو چکا ہوں۔ کبھی clinic میں، کبھی بند ہونے کے بعد، کبھی سفر میں، کبھی رات کے آخری پہر۔ مجھے آج بھی سمجھ نہیں آتی کہ ایک مریض انسان کے دل میں اتنی گہرائی سے کیسے اتر جاتا ہے۔ آج بھی جب کسی کینسر کے case پر ہاتھ رکھتا ہوں تو جنت آپی یاد آتی ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب میں ہر مریض کو صرف بیماری نہیں سمجھتا، کیونکہ بعض اوقات ایک مریض ڈاکٹر کو دوبارہ جنم دے جاتا ہے۔ مگر حوصلہ ٹوٹنے کے بعد میں اب اکثر ایڈوانس گریڈ کینسر کے مریض نہیں پکڑتا۔ گزشتہ آرٹیکل کے بعد مجھے لاتعداد کینسر میں مبتلا مریضوں کے میسجز اور رپورٹس شئیر ہوئیں۔ جن میں کئی کیسز اوورسیز، اسٹریلیا، امریکہ اور انگلینڈ سے تھے۔ مگر میں فی الحال یہ حوصلہ نہیں رکھتا۔ میرے لیے اور میری آپی کی مغفرت کے لیے ضرور دعا کر دیجیے۔ شکریہ

از اقتباس: کیس نمبر 2

میرے معزز قارئین یہ واقعہ ممکن ہے کتنے لوگوں یا ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کو ان کے چارج کیے گئے معاوضے کے بارے حقیقی شعور دے جائے۔ میرے کلینک کے ابتدائی دن تھے۔ نیا نیا setup تھا۔ دل میں عجیب سا جوش بھی تھا، جذبات بھی تھے اور خوشی بھی کہ شاید اب زندگی کسی بڑے راستے کی طرف جا رہی ہے۔ اللہ کے خاص کرم کی بدولت مجھے کلینک کے حوالے سے کبھی بھی مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، کلینک کے افتتاح پر پہلے دن میرے پاس 9 مریض آئے جن میں سے 7 مریض کرونک مرض کے باعث تشریف لائے، ان سے کیا فیس چارج کی گئی بہرحال یہ ایک تاریخ کا حصہ ہی رہے تو بہتر ہو گا۔ البتہ میرے اللہ نے مجھے کرونک کیسز کے عِوض ہی شہرت سے نوازا ہے۔ انہی دنوں میرے پاس ایک مریض آیا جو امریکہ سے لاہور Dha آیا ہوا تھا۔ اس کا کیس میرے علاج سے کافی بہتر ہوا تو ایک دن اس نے مجھ سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب، میں آپ کو اپنے ایک دوست کے گھر لے کر جاؤں گا، آپ کو ان کی رہائش گاہ جانا پڑے گا کیونکہ وہ ایک منسٹر ہے، ان کے گھر والے بھی حکومت میں ہیں، اور وہ ملک کے بڑے سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ میں نے اپنی بیماری کا ذکر ان سے کیا ہے۔ اب وہ اور ان کی فیملی والے بھی آپ سے علاج کروانا چاہ رہے ہیں۔
دوستو میرے لیے یہ سب نئی دنیا تھی۔ میرا نیا نیا کلینک تھا۔ سنڈے میری چھٹی کا دن ہوتا تھا، لیکن میں نے فوراً ہاں کر دی، اندر کہیں خوشی بھی تھی کہ شاید میری محنت اب بڑے لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔
پھر وہ دن آیا۔ مجھے ان کے شیڈول کے مطابق دن سے آگاہ کیا گیا، گاڑی آئی اور مجھے گھر سے لے گئے۔ جیسے جیسے گاڑی رائیونڈ کی طرف بڑھ رہی تھی، میرے اندر عجیب کیفیت پیدا ہو رہی تھی۔ ممکن ہے یہ سب اعتماد میں فقدان کے سبب ہو رہا ہو، یا شاید انسان جب پہلی بار کچھ بڑا face کرے تو ایسا ہی ہوتا ہو۔ جیسا کہ دو دن قبل ٹرمپ کا کانفیڈنس اور باڈی لینگوئج شی جن پنگ کے سامنے تھی۔ ایلون مسک جیسے لوگ وہاں سیلفیاں لے رہے تھے۔ بہرحال
جب میں وہاں پہنچا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی شہر میں داخل ہو گیا ہوں، لیکن وہ پورا شہر دراصل ان کا گھر تھا، لمبے لمبے محل، شیشوں سے بنی ہوئی یک منزلہ عمارتیں، وسیع لان، ہارس رائیڈنگ، سوئمنگ پُولز، باڑے، پارکیں، سپورٹس گراؤنڈ، خاموش سڑکیں، اور ایک ایسا ماحول جسے تب سے پہلے شاید میں نے فلموں میں ہی دیکھا تھا۔ اور یہ سب کچھ اسی ایک رہائش گاہ کے اندر تھا۔ جو ایک سلطنت کی طرح ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اس لمحے کو سوچ کر آج کل مجھے عجیب طور پر ڈاکٹر پیٹر فشر یاد آ رہے ہیں، جو ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے ہومیوپیتھک معالج تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ شاید وہ بھی جب شاہی محلوں میں داخل ہوتے ہوں گے تو انسان کے اندر ایک عجیب احساس پیدا ہوتا ہوگا، ایک طرف فخر، دوسری طرف دباؤ، اور تیسری طرف یہ احساس کہ تم ایک مختلف دنیا میں آ گئے ہو۔ میں نے آؤ بھگت کے بعد کیس لینا شروع کیا، مجھ سے ایک مریض نہیں، بلکہ تین مریض check کروائے گئے۔ میں نے پوری توجہ سے history لی۔ ہر detail لکھی۔ پوری محنت اور sincerity کے ساتھ وقت دیا۔
میں اس وقت صرف علاج نہیں کر رہا تھا، بلکہ شاید اپنے خوابوں کو بھی ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پھر آخر میں مجھ سے فیس پوچھی گئی۔ وہ لمحہ آج بھی مجھے یاد ہے۔ میں نے اپنی وہی نارمل فیس بتائی جو میں اپنے عام کلینک کے مریضوں سے لیتا تھا۔ اندر ایک عجیب جھجک تھی، مجھے لگا اگر میں زیادہ فیس مانگوں گا تو شاید ایسا محسوس ہو کہ میں ان کی دولت اور status دیکھ کر rate بڑھا رہا ہوں۔ لیکن جیسے ہی میں نے اپنی نارمل فیس بتائی، مجھے محسوس ہوا کہ پاس کھڑے ایک دو لوگوں کے چہروں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، جیسے انہیں یہ رقم بہت معمولی لگی ہو۔ اس وقت میں خاموش رہا، مگر اندر کہیں عجیب سی بے چینی لگی۔
پھر میں نے کہا کہ میں ایک دو دن میں proper medicines شروع کرواؤں گا۔
میں انھی کے پروٹوکول سے واپس اپنے گھر آیا، اگلے دن کلینک پہنچ کر پوری محنت سے prescriptions تیار کیں۔ ایک دوائی کینیڈا چلی گئی لیکن کچھ دن بعد میرے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ انہوں نے دوائی شروع ہی نہیں کی۔
میں نے اپنے امریکا والے مریض سے وجہ جاننے کی کوشش کی، مگر وہ مریض بھی واضح وجہ نہ بتا سکا جو مجھے وہاں لے کر گیا تھا۔ اس واقعے نے مجھے بہت مایوس کیا۔
پہلی بار مجھے شدت سے احساس ہوا کہ دنیا صرف sincerity پر نہیں چلتی۔ انسان اگر حد سے زیادہ سادہ، نرم، معصوم یا جھجھک والا ہو تو بعض اوقات لوگ اس کی value سمجھ ہی نہیں پاتے۔
شاید انہیں لگا ہوگا کہ یہ ڈاکٹر ابھی نیا ہے۔ شاید انہیں میرے confidence میں کمی محسوس ہوئی ہو۔ شاید انہیں لگا ہو کہ جس شخص کی فیس اتنی کم ہے، اس کی اپنی value بھی کم ہوگی۔
اس دن کے بعد میں نے اپنے clinic کے کچھ اصول طے کیے۔ میں آج بھی لاتعداد غریب مریضوں سے فیس نہیں لیتا۔ بہت سے deserving لوگوں کو دوائیوں کے پیسے تک معاف کر دیتا ہوں۔ لیکن میں نے یہ ضرور سیکھ لیا کہ اپنے profession کی dignity کو protect کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
آج بھی بہت سے مریض کہتے ہیں کہ فیس پانچ ہزار کر دیں، دس ہزار کر دیں، مگر میں اپنی طے شدہ فیس سے زیادہ نہیں لیتا۔ کیونکہ اب میں جان چکا ہوں کہ اصل عزت انسان اپنی consistency، اصول، اور self-respect سے بناتا ہے، نہ ضرورت سے زیادہ جھکنے سے، نہ ضرورت سے زیادہ impress ہونے سے۔
وہ واقعہ بظاہر ایک ناکام consultation تھا، لیکن حقیقت میں وہ میرے professional شعور کی تربیت تھی۔ بعض اوقات انسان کو بڑے محلوں سے فیض نہیں ملتا، بلکہ سبق ملتا ہے۔ اور الحمداللہ آج میرے پاس مُلک کے مایہ ناز لوگ چل کر کلینک آتے ہیں، وہ میری عزت برقرار رکھتے ہیں اور میں ان کی عزت برقرار رکھتا ہوں۔ مگر میرا اولین مشن یہی ہوتا ہے کہ مریض کی صحت کو فوری، بغیر کسی مضراثرات، اور مستقل طور پر بحال کر سکوں۔ (آرگینن آف میڈیسن ایفورزم نمبر 2)۔

از اقتباس: کیس نمبر 3

میرے معزز قارئین بعض اوقات انسان سمجھتا ہے کہ خوشیاں بڑے گھروں، بڑی ڈگریوں، بڑے خاندانوں اور بڑے ناموں میں رہتی ہیں۔ لیکن clinic میں بیٹھ کر انسان آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی، اور ہر خوبصورت نظر آنے والی زندگی حقیقت میں خوبصورت نہیں ہوتی۔
میرے پاس ایک مریضہ ریفر کی گئیں، جو کہ MBBS dermatologist تھیں۔ اور ایستھیٹک کے شعبہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ ایک پڑھی لکھی، کامیاب، financially strong خاتون، بظاہر وہ ان خواتین میں سے لگتی تھیں جنہیں دیکھ کر عام لوگ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں اب کیا کمی ہوگی۔ لیکن جب انہوں نے history دینی شروع کی تو مجھے محسوس ہوا کہ بعض انسان اپنے چہرے پر مسکراہٹ نہیں، صرف ایک پردہ پہن کر چل رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے شوہر بھی ڈاکٹر ہیں اور بچوں کے سپیشلسٹ ہیں، مگر وہ انہیں دن میں کئی کئی بار emotionally blackmail کرتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ میں دوسری شادی کر لوں گا، کبھی کہتے ہیں مجھے بہت ساری آفریں ہیں۔ کبھی کہتے ہیں تم اس گھر میں شامل اپنی کمائی ابھی لے لو، کل لے لو، مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ وہ مزید کہتی تھیں کہ میں mentally اتنی tortured ہوں کہ بعض اوقات مجھے سمجھ نہیں آتی میں زندہ کیوں ہوں۔ ان کے دو بیٹے تھے، مگر اس کے باوجود ان کی زندگی میں سکون نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔
ان کی بیماریوں کی history بھی عجیب حد تک chronic اور suppressed تھی۔ اور ان سب کی cause وہی جسے ہم Psychosomatic کہتے ہیں۔ شادی کے بعد سے ان کے lymph nodes ہمیشہ swollen اور infective رہتے ہیں۔ chronic thyroid ، pancreatitis کے مسائل تھے، جسمانی کمزوری الگ، anxiety الگ، depression الگ، اور ایک عجیب قسم کی shyness اور اندرونی guilt ان کی personality پر حاوی تھا۔ وہ ہمارے پاس آنے سے پہلے اس قدر emotionally exhausted تھیں کہ history کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ جیسے رو پڑی ہیں۔ پھر میں نے ان کا treatment شروع کیا، صرف بیماری کا نہیں، بلکہ بیمار کا علاج۔ الحمدللہ، ان کا thyroid issue مکمل طور پر settle ہوا اور بعد کی رپورٹس میں دوبارہ وہ مسئلہ ابھی تک واپس نہیں آیا۔ ان کی anxiety بہتر ہوئی، depression بہتر ہوا، confidence واپس آنا شروع ہوا، اور سب سے بڑی بات یہ کہ ان کے اندر سٹینڈ لینے اور زیادہ کام کرنے کی خواہش واپس آنے لگی۔ اور اس کا اظہار وہ مجھ سے برملا کرتی رہتی ہیں۔ اور ایسے ایسے مریض بھیج چکی ہیں کہ ایک ایلوپیتھ تو دور ایک ہومیوپیتھ بھی یقین نہیں کرے گا کہ ایسے کیس بھی ہمارے پاس آ سکتے ہیں۔
ایک دن انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے شوہر بچوں کو معمولی بخار یا گلے کی خرابی پر ہفتے میں کئی کئی بار antibiotics دیتے ہیں، بچوں کی قوت مدافعت بالکل ختم کر دی ہے۔ جبکہ انہیں اب میری ہومیوپیتھک دوائیوں پر حیرت ہوتی ہے۔ وہ طنزاً پوچھتے ہیں کہ یہ دوائیاں کہاں سے اٹھا لاتی ہو، کہاں سے منگواتی ہو۔ وہ اب بچوں کو ہفتے میں دو تین بار آئسکریم تو کھلا لاتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ جو بچے ہلکی ہوا کے جھونکے سے ہفتوں انفیکشن کا شکار رہتے تھے وہ اب آئسکریم جیسے ملبے سے خراش تک محسوس نہیں کرتے۔ وہ اب دبا کر کھاتے ہیں اور فوراً گیسٹرو کا شکار نہیں ہوتے۔ میرے معزز قارئین ڈاکٹر صاحبہ اب جان چکی ہیں کہ شفا صرف طاقتور دوائی میں نہیں، صحیح direction اور قدرتی طریقوں میں ہوتی ہے۔ انسان کو صرف جسمانی medicine نہیں چاہیے ہوتی، اکثر اوقات اسے emotional سٹیبلٹی بھی چاہیے ہوتی ہے۔ دوستو اس کیس نے مجھے ایک بہت بڑا سبق دیا۔ اور میں ان کے شوہر کی زہنیت پر مایوس اور افسردہ بھی ہوا۔
ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ یہ خواب دیکھتے ہیں کہ ان کے بیٹے یا بیٹی کی شادی کسی doctor family میں ہو، کسی بڑے گھرانے میں ہو، کسی financially strong انسان سے ہو، جیسے یہی کامیاب زندگی کی آخری منزل ہو۔ لیکن clinic میں بیٹھ کر میں دیکھتا ہوں کہ بڑے گھر، بڑی گاڑیاں، بڑی ڈگریاں، بڑے نام، یہ سب مل کر بھی ذہنی سکون نہیں خرید سکتے ،خوشیوں کا تعلق ہمیشہ محلوں سے نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہنے والا انسان زیادہ سکون میں سوتا ہے، کیونکہ وہاں عزتِ نفس زندہ ہوتی ہے، محبت موجود ہوتی ہے، اور انسان ہر وقت emotional blackmailing کے خوف میں نہیں جیتا۔
اور کبھی کبھی بڑے بڑے محلوں میں رہنے والے لوگ اندر سے اس قدر خالی ہوتے ہیں کہ ان کی خاموشی چیخ رہی ہوتی ہے۔ کلینک نے مجھے یہ سکھایا کہ انسان کی اصل دولت اس کا ذہنی سکون ہے۔ اگر سکون نصیب میں نہیں، تو دنیا کی کوئی ڈگری، کوئی status، کوئی خاندان، کوئی دولت انسان کو خوش نہیں رکھ سکتی۔
میرے معزز و محترم قارئین اگر میرے ان کیسز کے بعد آپ کو کوئی سبق، حکمت یا گہری بات نظر آئے تو اس کا معاوضہ اس آرٹیکل کو شئیر کر کے دے سکتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔ میرا اجر اللہ کے ہاں سٹور ہو چکا ہے۔
کوئی سوال یا نصیحت ہو تو میری فیسبک وال پر موجود اسی آرٹیکل کے کمینٹ سیکشن میں اظہار کر سکتے ہیں۔
دعاؤں کا طلبگار ہوں۔ جزاک اللہ

تحریر و تحقیق: ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور

عیدالاضحٰی کا دن تھا۔ دوپہر تقریباً تین بجے میرے ایک دوست نما مریض، جو لندن میں مقیم ہیں، نے اپروچ کیا۔ کہنے لگے: یار ای...
05/07/2026

عیدالاضحٰی کا دن تھا۔ دوپہر تقریباً تین بجے میرے ایک دوست نما مریض، جو لندن میں مقیم ہیں، نے اپروچ کیا۔ کہنے لگے: یار ایک کلاس فیلو آسٹریلیا میں ہے، ان کی وائف سخت بیمار ہے۔ کچھ ماہ پہلے بھی تمہارا ذکر کیا تھا مگر آج انہوں نے خاص طور پر کہا ہے کہ اُسی ڈاکٹر صاحب کی اپوائنٹمنٹ کے لیے پلیز کوئی ایڈجسٹمنٹ کرو۔ خواہ عید ہے مگر ہماری مجبوری کو سمجھیں، وہ چوٹی کا بزنس مین ہے، تم جتنا مرضی پیسہ لے لینا۔ میں نے کہا، شاہد بھائی، میں نے نا تو پہلے کبھی آپ کو انکار کیا ہے اور نا ہی اب کروں گا۔ بس مجھے تین چار گھنٹے سو لینے دیں، پھر آپ گروپ کال ارینج کروا لیں۔

یوں رات سوا نو بجے پاکستانی وقت کے مطابق کال طے ہو گئی۔ خاندان والوں نے گوشت تقسیم کرنے کی ذمہ داری بھی میرے سر ڈال رکھی تھی۔ میں نے احتیاطاً ایک ڈائری اور ایک عدد پین اپنے بیگ میں رکھ لیا۔ جب آخر میں ماموں کے گھر پہنچا تو گھڑی کی سوئیاں سوا نو کو پار کر چکی تھیں، میں نے ماموں کے گھر ساری صورتحال بیان کی تو اس سلسلے میں ساری فیملی کی ہمدردی بھی مجھے حاصل ہو گئی خاصا پروٹوکول ملا ، ایک الگ بند کمرہ اور تیز انٹرنیٹ مِل گیا۔

جب بات شروع ہوئی تو پہلے آسٹریلیا سے شوہر نے تعارف کروایا پھر مریضہ نے۔ دوستو ہم ہمیشہ کی طرح فرضی نام "اُمید" 💔 رکھ لیتے ہیں۔ اُمید محسوس کروائے بغیر صحت مندوں والی آواز اور پُر رونق لہجہ سے کہنے لگیں "میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہوں اور پاکستان میں پریکٹس کرتی تھی۔ سات سال پہلے شادی کر کے آسٹریلیا آ گئی۔ اب ہاؤس وائف ہوں اور اپنے دو بچوں اور شوہر کے ساتھ بہت خوش زندگی گزار رہی ہوں۔ میرے معزز قارئین! میں نے ان کی بیماری کی مکمل داستان سنی، رپورٹس سے بھری ہوئی پی ڈی ایف کا بغور مطالعہ کیا اور حسبِ عادت سوالات شروع کر دیے۔ مگر ایک چیز مجھے حیران کر رہی تھی۔ اتنی بڑی بیماری، اتنی خراب حالت اور اس کے باوجود لہجے میں ایسی زندہ دلی؟ میں نے پوچھ لیا آپی، کیا آپ کو ڈر نہیں لگ رہا اس حالت میں؟ وہ بِنا سوچے کہنے لگیں"میں نے اپنی زندگی کو بہت حسین طریقے سے گزارا ہے، بہت لطف اٹھایا ہے، میں ڈرتی نہیں بہادر ہوں۔

دوستو کبھی کبھی زندہ دل انسان کا کانفیڈنس اس کے آنسوؤں کو تو چھُپا سکتا ہے مگر اس کے لفظوں میں چُھپی یاسیت اور اُداسی کو پرکھنا بہت آسان ہوتا ہے۔

معزز قارئین! میری یہ مریضہ Interstitial Lung Disease (ILD) میں مبتلا تھیں۔ ایک آٹو امیون بیماری نے صرف ایک سال کے اندر اندر ان کے پھیپھڑوں پر ایسا حملہ کیا کہ تقریباً ستر فیصد پھیپھڑے Lungs ناکارہ کر دیے۔ انہوں نے مجھے اپنی ایک تصویر بھی بھیجی جس میں آکسیجن لگی ہوئی تھی مگر چہرہ ہشاش بشاس، سُرخ اور مسکراہٹ دے رہا تھا۔ میں نے اُمید آپی کے پوچھنے پر انہیں سمجھایا کہ ہومیوپیتھی کس طرح کام کرتی ہے اور اس کیس میں کیا معاونت کر سکتی ہے، کن پہلوؤں پر نظر رکھنی ہوگی اور کیا چیزیں میرے مشاہدے میں ضرور آنی چاہئیں۔ بات ختم ہونے لگی تو انہوں نے یکایک پوچھا ڈاکٹر صاحب! کیا میری یہ حالت ریورس ہو جائے گی؟ اِدھر اسٹریلیا میں تو ان کے پاس کوئی علاج نہیں ہے۔ میں سال بھر سے اسی دوائیوں اور مصنوعی آکسیجن کے رحم و کرم پر ہوں، پچھلے ایک سال سے ڈاکٹروں کو یہ تک معلوم نہیں ہو سکا کہ اصل بیماری سارکوئیڈوسس Sarcodoisis ہے یا SLE، جس نے اس تیزی سے میرے لنگز پر حملہ کر دیا۔ وہ بار بار یقین دلا رہی تھیں کہ "میں آپ کو مکمل فالو کروں گی۔" بس میں ٹھیک ہو جاؤں۔ قارئین! سوچیے، ایک ڈاکٹر کی بے بسی اللہ کے ہاں کیا آزمائش اور کیا درجہ رکھتی ہوگی؟ جو کبھی دوسروں کو حوصلہ دیتی ہو گی، آج خود امید ڈھونڈ رہی ہے_ میں نے عادتاً انہیں "آپی" کہہ کر مخاطب کیا اور باقی کیس ہسٹری دو دن بعد مکمل کرنے کی استدعا کی جسے انہوں نے فوراً قبول کر لیا۔ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ دو دن کبھی نہیں آئیں گے۔

جیسے ہی ماموں کے گھر سے نکلا، راستے میں میرا موبائل کھو گیا۔ میں ایک شاپنگ مال میں رکا تھا، سبزی والے کے پاس بھی گیا تھا، ناجانے کس نے چرا لیا یا کہاں گر گیا۔ دو سو سے زیادہ کالز ملائیں۔ فون بجتا رہا مگر کسی نے اٹھایا نہیں، رات کے دو بج گئے۔ میں بار بار انہی راستوں پر جاتا، پھر واپس آتا، پھر دوبارہ نکل جاتا۔ شاید کہیں پڑا مل جائے، شاید کسی نیک انسان نے اٹھایا ہو، شاید ۔۔۔ آخرکار تھک ہار کر ایف آئی آر درج کروائی اور گھر لوٹ آیا۔ واللہ! کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ کھانا ترک کیا، دو دن مسلسل کالز کرتا رہا، جب فون بند ہو گیا تب جا کر میری بے چینی خاموشی میں بدل گئی۔ مجھے اصل فکر موبائل کی ہر گز نہیں تھی، میں دو دن تک ٹریکنگ کا منتظر رہا، آخرکار دو نئے موبائل خریدے، ڈپلیکیٹ سمز نکلوائیں، واٹس ایپ بحال کیا اور سب سے پہلا میسج اپنی اسی مریضہ کو بھیجا۔ جواب آ گیا، میں نے سوچا رات کو وقت کنفرم کر لیتا ہوں۔ ایک وائس میسج بھیجا۔ ڈبل ٹک آ گیا مگر نیلا نہیں ہوا، میں انتظار کرتا رہا۔ رات گزر گئی، صبح گزر گئی، دوپہر بھی گزر گئی۔ پھر دل میں عجیب سی کیفیت محسوس ہونے لگی ۔ میں نے ان کے شوہر کو میسج کیا۔ چند لمحوں بعد جواب آیا۔ صرف پانچ لفظ۔
My wife has passed away.

بس وہیں میرا چہرہ مرجھا سا گیا۔ فون ہاتھ میں تھا میں بار بار اسی پانچ لفظوں والے فقرے کو بار بار دیکھتا رہا۔ اور تخیلات میں اسٹریلیا گھومنے لگا، آنکھیں سکرین پر ہی جمی رہیں، مگر قفس اداس ہو گیا۔ کیونکہ کسی نے کہہ دیا:

My wife has passed away.

یعنی آپ کی مریضہ موت کی وادیوں میں جا چکی ہے۔

بخدا! عید کے بعد کلینک میں میرا پہلا دن تھا اور یہ پانچ لفظ میرے ذہن کے کینوس پر ایسے ثبت ہو گئے کہ میں نے اپنی تمام باقی اپوائنٹمنٹس کینسل کر دیں، پارسل منسوخ کر دیے اور جلدی سے گھر آ گیا۔ میں جانتا ہوں یہ ایک پروفیشنل معالج کا وطیرہ نہیں ہو سکتا مگر کیا کریں، کبھی کبھی انسان فرشتہ نہیں بلکہ انسان بن جائے تو کتنا رُوح پرور نظارا ہوتا۔

ابھی اس آرٹیکل لکھنے پر مجبور کرنے والا فقرہ تو یہی ہے

My wife has passed away.

ابھی شب بھر یہی فقرہ کانوں میں گُونج رہا ہے۔ وہ عورت جو چند دن پہلے کہہ رہی تھی: "میں بہادر ہوں۔" وہ عورت جو اپنے دو چھوٹے بچوں کو سینے سے لگا کر جینا چاہتی ہو گی, وہ عورت جس نے شاید اپنے بچوں کے سکول فنکشن دیکھنے تھے، ان کی شادیاں دیکھنی تھیں، ان کے لیے دعائیں کرنی تھیں اور پھر خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو گئی۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں، اس رات جب وہ دنیا سے جا رہی ہوگی تو کیا اس کے بچے سو رہے ہوں گے؟ کیا انہوں نے ماں کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی ہوگی؟ کیا اس نے جاتے جاتے اپنے بچوں کو دیکھا ہوگا؟ اس کا شوہر اس کے بارے کیا سوچ رہا ہو گا؟ ان سوالوں نے میرے زہن کے دریچے ہِلا کر رکھ دیے ہیں۔

مگر ایک بات ضرور جانتا ہوں۔ دنیا میں سب سے بھاری موت بوڑھے جسم کی نہیں ہوتی، جوان خوابوں کی ہوتی ہے۔ بہرحال اپنا تو اپنا ہی ہوتا ہے جب بھی رُخصت ہو جائے۔

اے کاش میرا رب مجھ سے ایک خواہش پوچھے تو میں رزق نہیں مانگوں، شہرت نہیں مانگوں، بلکہ میں سب کی لمبی عمر مانگوں ۔ میں صرف اتنا عرض کرتا ، یا اللہ! جوانی کی موت پر پابندی لگا دے😊۔ کیونکہ کچھ مائیں جانے کے لیے نہیں ہوتیں، کچھ آپیاں جانے کے لیے نہیں ہوتیں، اور کچھ بچے اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انہیں ابھی "الوداع" کا مطلب بھی نہیں آتا۔ جب اُن کا باپ کہہ دے :

My wife has passed away.

فقط پانچ لفظ، مگر ایک پوری دنیا اُجڑ جانے کا اعلان۔ 💔

قلم کار: ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور

Address

49, C Block, Guldasht Town
Lahore

Opening Hours

Monday 13:00 - 21:00
Tuesday 13:00 - 21:00
Wednesday 13:00 - 21:00
Thursday 13:00 - 21:00
Friday 15:00 - 21:00
Saturday 13:00 - 21:00

Telephone

+923253100003

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Homeopathic Dr. Sohail Ahmed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Homeopathic Dr. Sohail Ahmed:

Shortcuts

Share