05/07/2026
سلام بَر نَبِیِّ خدا، درود بَر نَبِیِّ رحمت، محمد ﷺ وَ آلِ محمد، وَ اَصحابِ محمد وَ اَزواجِ محمد ﷺ ۔۔۔
میرے معزز قارئین! آپ کی خدمت میں ایک نیا شاہکار آرٹیکل لیکر حاضر ہوا ہوں۔ یہ آرٹیکل اس لیے بھی منفرد مقام رکھتا ہے کہ اس میں ماڈرن میڈیکل سائنس اور ہومیوپیتھک سائنس ایک ہی تشخیص پر متفق ہیں۔ اور اس تشخیص کا تزکرہ آخر میں کیا جائے گا، (ع ب د فرضی نام) یہ مریض گجرانوالہ سے میرے ایک colleague ہومیوپیتھک ڈاکٹر نے ریفر کیا، یہ مریض شروع سے ہی ایلوپیتھک طریقہ علاج پر اس لیے اکتفاء نہیں کر سکا کہ اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے رشتہ داروں یا سوشل میڈیا پر کینسر زدہ مریضوں کو کیموتھراپی سے تکلیف دہ موت سے مرتے ہوئے دیکھا تھا، نوجوان نے خود اظہار کیا کہ اگر مریض کینسر سے نا بھی مرے مگر کیموتھراپی کے سائیڈافیکٹس سے لازمی مر جاتا ہے۔ دوستو بطور ہومیوپیتھک معالج میں اس بات سے مکمل آگہی رکھتا ہوں کہ بعض اوقات بیماری کی بڑھوتری یا ترقی اتنی جلد اور زیادہ ہو جاتی ہے کہ سرجری ناگزیر ہو جاتی ہے۔ البتہ ہائی گریڈ کینسر میں ہم Palliative treatment اور مینجمنٹ کر سکتے ہیں۔ جبکہ پری کینسر اور پہلی سٹیج تک ہومیوپیتھک علاج اور فلسفہ ہومیوپیتھی کےزریعے کینسر مکمل طور پر قابلِ علاج ہے۔ باقی اگر کوئی تیسری، چوتھی سٹیج پر بھی مریضوں کو شفاء کی لالچ دیکر اوپر پہنچا دے تو اس کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ بہرحال اس شفاء اور نئی زندگی کی فتح کا مکمل کریڈت میں اس نوجوان کینسر میں مُبتلا مریض کو دینا چاہوں گا، جس نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ مجھے کینسر ہو چکا ہے، ہسٹری اور مشاہدات کے مطابق یہ ایک محنتی، جفاکش، یاروں کا یار اور ہنس مُکھ انسان ثابت ہوا، کبھی والدین کو اپنے ساتھ کلینک نہیں لایا، البتہ والد میرے سے رابطہ میں رہا، جب بھی وِزٹ کرتا ہمیشہ کسی دوست اور کزن کو ساتھ لے آتا، میرے معزز قارئین ایسا تب ہوتا ہے جب آپ اپنے وفادار دوستوں اور کزنوں کا ایک وسیع حلقہ رکھتے ہوں، سب کو اپنا عادی اور مُحب بنا رکھا ہو، اور جلد نئے نئے دوست بنا لینے کے عادی ہوں۔ جلد اپنی اداؤں، انداز بیاں، طرزِ زندگی اور رویوں سے کسی بھی سامنے والے کو اپنی شخصیت کے سحر (جادُو) میں مبتلا کر لیتے ہوں۔ مریض سے پہلی بار لی گئی ہسٹری نے مجھے کافی کنفیوز کیا، ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ کینسر مریض کے تمام ایکسز ڈاؤن اور تبدیل کر کے رکھ دیتا ہے، بھوک، پیاس، نیند، چہرے کی رنگت رونق حتٰی کہ وزن تک اُڑھا کے رکھ دیتا ہے، Hb کم، جسم میں انفیکشن اور الرجک سیلز کو بڑھا دیتا ہے، اس لیے دن با دن بدلتی ہوئی مریض کی پیتھالوجیکل development اور زاتی feelings سے آگاہ رہنا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے۔ اور اگر ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر یہ نوٹ کر لے کہ دی گئی دوائی سے مریض کے ایکسز نارمل سطح پر آنا شروع ہو چکے ہیں تو میرے کلینکل تجربہ کے مطابق ایسا مریض اللہ کے حُکم سے خود کو شفاہ کی درُست سمت کی جانب تصور کر سکتا ہے، خواہ مرض معصوم ہو یا خبیث، ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس دوسری سائنسز سے اس لیے بھی الگ اور منفرد مقام رکھتی ہے کیونکہ اس میں حقیقی شفاء اور اندر سے مرض کے ختم ہونے کی نشانیاں قوانین کی صورت میں بتائی گئی ہیں۔ اور حقیقی ہومیوپیتھک معالج لمحہ بہ لمحہ قانونِ شفاء سے باخبر رہتے ہوئے اپنے مریض کو حقیقی شفاء سے ہمکنار کرواتا ہے۔ اگر کوئی ہومیوپیتھک ڈاکٹر اس قانون کی پیروی نہیں کرتا تو وہ مکمل طور پر فراڈ اور چکر باز ہے۔ جیسا کہ پاکستان کی ترقی اور بقاء اس کے قوانین Constitution کی پاسداری پر منحصر ہے، مگر یہ وطن ہچکولے کھاتا ہوا پھر بھی چل رہا ہے۔ کیونکہ ہومیوپیتھی کبھی بھی علاج بالضد نہیں کہلوا سکتی۔ مریض کا دوست (attendant) بتاتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب یہ کینسر کے باوجود ڈیوٹی پر جاتا ہے، روزانہ سفر کرتا ہے، ہمیں بھی اتنا ہی ٹائم دیتا ہے، دوستو یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ مریض کس قدر جفاکش اور یارانِ یار ہے، مریض نے میرا دیا گیا ڈائیٹ چارٹ اس سختی سے فالو کیا کہ جیسے اندر سے یہ سب کروانے کے لیے کوئی خوف موجود ہے، اور ظاہر سے ایسا خوش مزاج اور جی دار کہ چہرے پر کینسر کا تاثر محسوس ہی نا ہونے دے، internally fearful about disease but externally cheerful. یہ نوجوان اپنے خاندان کا اکیلا چشم و چراغ ہے، ممکن ہے یہ ادراک اور دباؤ کہیں نا کہیں کسک ڈالتا ہو، مریض مجھ سے بارہا اپنی ڈائیٹ کے بارے پوچھتا رہا ہے، اور خاص بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب میں فلاں جوس پی سکتا ہوں؟ فلاں پھل کا جوس کیسا رہے گا؟ آج کل یہ یہ پھل ہیں کونسا جوس بہتر رہے گا، کیا فالسہ، گنے کا رس اور لیموں پانی پی لیا کروں ؟ دوستو ہم نے دیکھا کہ مریض ٹھنڈے میٹھے مشروبات کے بغیر نہیں رہ سکتا،
پھر اس صورت میں کیس اور پیچیدہ ہو جاتا ہے جب مریض اُوپر سے بہادری اور اندر سے خوف محسوس کروا رہا ہو، دوستو یہ خوف آرسینک البم سے بالکل مختلف ہوتا ہے یعنی آرسینک اندر سے بھی پُرخوف اور عدم تحفظ، اور ظاہری تاثرات سے بھی پُرخوف دکھائی دیتا ہے، جبکہ یہاں بات مختلف تھی، مریض اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ محسوس کروا رہا ہے، اس کے لیے ریپرٹری میں ایک رُبرک موجود ہے Mind-Hypocrisy یعنی اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ مریض منافق ہوتا ہے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ مریض اپنی اصل suffering کو mask پہنا کر رکھتا ہے، دُکھ اور بیماری کو اپنے اوپر غالب آتا ہوا ظاہر نہیں کروا سکتا۔ خوشیوں، مسکراہٹوں اور قہقہوں کی دنیا جاری و ساری رکھنا چاہتا ہے، مجھے وہ لطیفہ یاد آ گیا کہ شادی سے ایک دن قبل مہندی والے دن جو شریکوں کی بُڑھیا فوت ہو کر شادی کا سارا مزہ پھیکا کر دیتی ہے اور شریک اس واقعہ پر اندر ہی اندر لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں، واوا ساڈی مائی نے سارے فنکشن پر پانی پھیر دیا ہے۔ (البتہ یہ کونسٹیٹیوشن ایسا ہرگز اور کبھی بھی نہیں چاہتا، اس کی سوچ اس فوت شدہ اماں کے گھر والوں اور شریکوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے یہ مثبت تضاد Hypocrisy شو کرتا ہے۔ یعنی اس کے اندر کا دُکھ باہر نا دِکھ سکے یا محسوس کیا جا سکے۔ جبکہ ہمارے اکثر ہومیوپیتھس اس رُبرک سے مراد منافقت لیتے ہیں۔ جبکہ اصل منافقوں کی پہچان کے لیے دیگر ادویات کی ڈرگ پکچر کی ایک ایک لائن گواہ ہے۔
مریض کی جسمانی appearance اور خدوخال واضح تھے، تنگ چھاتی، لمبی قدامت، البتہ جِم کی وجہ سے باڈی مینٹین تھی، بِلی آنکھیں اور ہلکے زرد بال Blonde، Brunette ٹائپ ، Inverted triangle نما چہرہ، مریض بتاتا ہے فیملی میں بھی آنکھوں اور بالوں کا یہی رنگ نمایاں ہے۔ مگر فیملی ہسٹری میں کینسر موجود نہیں ہے۔ میرے معزز دوستو اگر اسی صورتحال کے ساتھ مریض کی فیملی ہسٹری میں کینسر موجود ہوتا تو پھر شاید ہم کاسینوسن کا تصور زہن میں لے آتے، مگر یہاں معاملہ ڈرگ پکچر کا ہے جو کہ روشنی کی مانند واضح جھلک رہی ہے، دوستو ایونگ سارکوما ایک ایسا کینسر ہے جو کہ مختلف ٹشوز کو ایک ساتھ اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، یعنی ہڈی، گوشت، لمف نوڈز، جِلد، وریدوں اور شریانوں میں تیزی سے کینسر سیلز proliferate کر جاتے ہیں، اور خاص بات یہ کہ Ewing Sarcoma نامی یہ کینسر نوجوانوں کو پسند کرتا ہے، جس طرح ہر کینسر کسی نا کسی خاص age group کو پسند کرتا ہے۔ ممکن ہے ربِ زوالجلال کی کوئی حکمت پوشیدہ ہو۔ میرے معزز قارئین میرے پاس ریفر ہو کر آنے والا یہ نوجوان مایوس نہیں بلکہ پُرامید تھا، اور آج کل کینسر سے اموات کی سب سے بڑی وجہ اس کا خوف اور دھاک ہے، جو مریض اس کو اپنے زہن میں غالب لے آیا تو بس پھر وہ گیا، اور اگر کوئی مریض محنت علاج اور لگن کے ساتھ ساتھ اتنی ہی امید اور خوش دلی سے غالب رہا تو وہ جلد کینسر سے نِکل آتا ہے، البتہ اس میں طرزِ زندگی، غذا، اور ماحول مکمل طور پر آئیڈیل رکھنا ہو گا، اس مریض کو دائیں جانب والی ہڈی scapula کے مقام پر ٹیومر ظاہر ہوا، پہلے پہل تو درد تھی جس کے لیے پین کِلر چلتی رہی، پھر اسی درد کے مقام پر سوزش ظاہر ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک گومڑ سا بن گیا، جس کی درد کی لہریں Lumber region کے مہروں تک جاتی رہیں، مگر اللہ کے کرم سے یہ شک کہ کینسر Metastasized یعنی دیگر ٹشوز تک پھیل چکا ہو گا، ایک شک ہی ثابت ہوا، مریض کہتا ہے ڈاکٹر صاحب اس کے بعد سے میری رنگت بہت خراب ہو گئی ہے، وزن بہت گِر رہا ہے، ہاتھ پاؤں بہت سُن ہوتے ہیں، اور کندھوں پر کوئی زور نہیں ڈال سکتا، درد کی وجہ سے نیند نہیں آتی، ان چیزوں کو بھی ساتھ ساتھ دیکھیں، کیونکہ میرا کام کاج اور گھُومے بغیر گزارہ نہیں۔ دوستو آپ سبھی جانتے ہیں کہ کینسر ایک Deep destructive pathology , ڈی جنریشن، پھلنے پھیلنے اور پھُولنے کا نام ہے، اس کے خلیات تیزی سے پھیلتے ہیں، اور یہ ایک Malignant state کا نام ہے، جسے آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ اکثر لوگ کینسر جیسے مرض میں فقط ٹوٹکوں پر اکتفاء شروع کر دیتے ہیں، کوئی کہتا ہے فلانی بُوٹی کینسر کا شافی علاج ہے اور کوئی کہتا ہے دھماسہ بوٹی کینسر کا علاج ہے۔ بہرحال یہ سب غیریقینی اور غیرمجربی باتیں ہیں۔ حتٰی کہ ہومیوپیتھی سے بھی کینسر کے 5 فیصد کیسز میں ہی بہتر نتائج مِلتے ہیں۔ تمام کیسز کو ہومیوپیتھی شکست نہیں دے سکتی، البتہ سروائیول ریٹ اور مینجمنٹ دوسرے دیگر طریقہ علاج سے کہیں بہتر ہے۔ ہم نے دیکھا کہ ڈرگ پکچر اور Nature of patient مکمل طور پر contrast یعنی میچ کر گئی، اب دیکھتے ہیں nature of disease , نیچر آف ڈرگ سے کیسے مماثل تھی؟ میرے پیارے ہومیوپیتھس اگر ہم تمام مٹیریاز اور ریپرٹریز کو کھنگالیں تو وہاں یہ رُبرکس rubrics اور states واضح لکھی ہیں۔ اور خصوصاً فارماکوپیا اور انسائیکلوپیڈیا کے زریعے اس دوا کا فزیولوجیکل ایکشن واضح ہوتا ہے، جہاں درج ہے:
It irritates, inflames, degenerates, multiple tissues, like Spinal cord, serous membranes, mucous membranes, muscular structure, nerves, & destroys the bones.
دوستو جب یہ پروونگ کےالفاظ واضح مِل جائیں پھر کوئی ہچکچاہٹ باقی رہے گی جو نیچر آف ڈیزیز اور نیچر آف ڈرگ کو similar نا کر سکے؟ چونکہ ہم سارکوما کو ٹھیک کر رہے تھے، اور یہ ملٹی پل ٹشوز دونوں جگہوں، بیماری اور ڈرگ میں مِل گئے،
پھر لکھا، :Bone Caries
Bones Swelling: (Boger-Boenninghausen)
Generalities, Cancer, Malignant affections:
(Kent)
Bones Sarcoma
یعنی
Bone Marrow/ Sarcomatous tendencies
(روبن مرفی)
Extremeties, Pain, Long bones: کینٹ
Generalities, Emaciation, rapid کینٹ
یعنی Cachexia cancer constitution.
دوستو پھر میں نیچر آف پیشنٹ کو مِلانے کے بعد نیچر آف ڈیزیز کی تگ و دو میں اِن سب رُبرکس کے باوجود Phatak ریپرٹری سے تلاش کیا، جہاں مجھء مِلا:
Cancer, Sarcoma
پھر مِلا Cancer, Sarcoma, Osteo-Sarcoma
اگر آپ بورک ریپرٹری دیکھیں تو وہاں بھی schema میں واضح لکھا ہے،
Generalities, Cancer of bone:
Mind, fear, cancer of: (synthesis)
Mind, fear, suffering of: (kent)
مریض شدید تکلیف اور کیموتھراپی کے جان لیوا سائیڈ افیکٹس سے خوف زدہ ہو کر ہومیوپیھی کی طرف لوٹا۔
Mind, fear, pain of: (kent)
Mind, fear, operation of: (synthesis)
Mind, fear, Doctors:
Mind, anxiety, health about: زہن صحت کے بارے تشویش اور بے چینی کا شکار ہے خواہ اندر سے ہی ہو۔
دوستو جب کیس Oncology کا ہو تو پھر ان رُبرکس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
ہم نے اللہ کریم کے خاص کرم کی بدولت مریض کو کونسٹیٹیوشنل ریمڈی Phosphorus 200 تجویز کی۔ جدید میڈیکل سائنس جن بیماریوں کو مکمل Base بنا کر علاج کرتی ہے ہم نے ان پیتھالوجیکل رُبرکس اور ہومیوپیتھک ڈرگ کی پکچر یعنی دونوں حالتوں کی nature دوا سے مماثلت رکھنے پر تجویز کی، اور ساتھ بطورِ معاون Hydrastis Can، Hekla Lava اور Symphytum , ڈراپس اور گولیوں میں بنا کر دے دی۔ مریض کو اس کے لائف سٹائل، غذا اور پرہیز کے بارے مکمل رہنمائی دی۔ علاج شروع ہونے کے بعد ہر فالو اپ پر مریض نئی سے نئی بہتری بتاتا رہا، اور سب سے بڑھ کر میرے لیے باعثِ اطمینان چیز تھی مریض کا وزن بڑھنا، ایکسز اور نقاہت میں تبدیلی آنا۔ مریض کی رنگت بہتر ہوتی گئی، مریض کو معاون دوا میں سے Calcarea Phos اور کلکیریا فلور بھی لگوائی۔ سروائیکل ریجن کا کھچاؤ اور درد مزید کم ہوتی گئی، مریض کی CBC, Urine/E اور Lfts بھی کرواتا رہا، الحمداللہ دن با دن بہتری آتی گئی۔ بالآخر فاسفورس نے پوٹینسی میں وہی کام کیا جو وہ پروونگ میں بگاڑتی ہے، یعنی اپنی ہم شکل Malignant مرضیاتی حالت اور Nature کے ساتھ مِل کر affectionate کیا اور اپنے ساتھ ہی کھینچ لیا۔ چونکہ فاسفورس 200 تو ایک آرٹیفشل ڈیزیز تھی اور اس کا کام جسم میں موجود اصل بیماری کی ہم شکل بہن بن کر اس کو دھوکہ دینا تھا۔ لحاظہ فاسفورس اپنے ساتھیوں کے ساتھ مِل کر یہ سب کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بالآخر چند ماہ بعد مریض کی لیب رپورٹس نے ثابت کر دیا کہ مریض اب بالکل کینسر فری ہے۔ البتہ حفظِ ماتقدم کے طور پر ادویہ و اغذیہ اب بھی جاری ہیں، ہمیں ایک ہی شکوہ ہے کہ مریض آتے ہوئے اپنے شہر کی مشہور سلیمانی سویٹ لیکر نہیں آیا۔ 😊 خیر سب دعا کریں کہ اللہ کریم لاکھوں کروڑوں کینسر میں مبتلا مریضوں کے ساتھ رحم والا معاملہ فرمائیں۔ یہ مریض جوان تھا، ہر لحاظ سے ہمت دکھا گیا، جِگرا دکھا گیا، اگر کوئی ادھیڑ عمر ہوتا تو شائد عمر کا تقاضا آڑے آ جاتا۔ میرے معزز قارئین اس کیس کے حقائق اور لیب رپورٹس میں نے اپنی فیسبک وال (Nawab Ahmad Mirza) پر upload کردہ آرٹیکل کے کمینٹ سیکشن میں لگا دیے ہیں۔ آپ میری i.d کی سب سے Latest پوسٹ میں دیکھ لیجیے۔ اگر کوئی سوال ہو تو کمینٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں۔ کوئی تجویز ہو تو کمینٹ یا انباکس میں ارسال کر سکتے ہیں۔ اگر میرا حوصلہ بڑھانا چاہیں تو گروپ کی بجائے میری وال پر آ کر کمینٹ کر سکتے ہیں۔ اگر اس آرٹیکل کو مفید سمجھیں تو کینسر سے متاثرہ افراد اور ہومیوپیتھک ڈاکٹرز تک شئیر کرنے سے گریز مت کیجیے۔ ہو سکتا آپ کے ایک شئیر سے اللہ کتنے لوگوں کو درست سِمت دکھا دے۔ کیونکہ فی زمانہ حاضر میں سب سے بڑا مسئلہ درست رستے right path ، اور غلط معلومات Disinformation کا ہے۔ باقی اللہ مجھے بھی جزا دے اور آپ سب کو بھی جزا دے۔ مجھے کینسر کے مریض نہیں چاہییں، مگر کینسر والوں کو درست معلومات ضرور چاہیے۔ دعاؤں کا طلبگار ہوں۔ شکریہ
تحریر و تحقیق: ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور