Shama Homeo Clinic

Shama Homeo Clinic Shama Homeo Clinic is providing health care services to you since 1995. With over 30 years of experience, we treat you with passion, care and professionalism

30/07/2026

Hirsutism __ جسم پر غیر ضروری بال

29/07/2026
Learn the Role of Homeopathy in Emergency & First Aid – Join Our Free Clinical Lecture        #𝖲𝗄𝗂𝗅𝗅𝖣𝖾𝗏𝖾𝗅𝗈𝗉𝗆𝖾𝗇𝗍         ...
21/07/2026

Learn the Role of Homeopathy in Emergency & First Aid – Join Our Free Clinical Lecture
#𝖲𝗄𝗂𝗅𝗅𝖣𝖾𝗏𝖾𝗅𝗈𝗉𝗆𝖾𝗇𝗍

نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی ڈاکٹر رضوان ثاقب BHMS03037578803دسویں قسطگلوسائٹس Glossitis زبان کی سوزش یا سوجن یا ...
10/07/2026

نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
03037578803
دسویں قسط
گلوسائٹس Glossitis
زبان کی سوزش یا سوجن یا ورمِ زبان
اس بیماری میں زبان کا رنگ بدل جاتا ہے، اس پر موجود چھوٹے ابھار (Papillae) ختم ہو جاتے ہیں، اور زبان بالکل ہموار اور چمکدار دکھائی دینے لگتی ہے۔
علامات:
زبان پر سوجن اور درد ہونا۔ زبان کا رنگ گہرا سرخ یا ارغوانی (Purple) ہو جانا۔ چبانے، نگلنے اور بولنے میں تکلیف ہونا۔ زبان کا بالکل نرم، ہموار اور چمکدار ہو جانا (ابھار غائب ہو جانا)۔ مرچ مصالحے دار یا کھٹی چیزیں کھانے پر شدید جلن ہونا۔
وجوہات :
جسم میں وٹامن بی-12 ، فولک ایسڈ، اور آئرن کی کمی۔ منہ میں فنگس (جیسے تھرش)، بیکٹیریا، یا وائرس (جیسے ہربیز) کا حملہ۔
ٹوتھ پیسٹ، ماؤتھ واش، بعض ادویات، یا مصنوعی دانتوں (Dentures) سے الرجی۔
گرم چائے/کھانے سے زبان کا جل جانا، یا تیز دانت کا زبان سے رگڑ کھانا۔
تھوک کی کمی کی وجہ سے زبان میں سوزش۔
تشخیص :
ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ زبان کی سوجن، رنگت اور ابھاروں کا معائنہ کرتے ہیں۔
خون کا معائنہ وٹامنز بی 12، آئرن کی کمی یا کسی اندرونی بیماری کا پتہ لگانے کے لیے۔
سواب ٹیسٹ (Swab Test): اگر فنگل یا بیکٹیریل انفیکشن کا شک ہو تو زبان سے نمونہ لے کر لیب بھیجا جاتا ہے۔
علاج:
ہومیوپیتھی میں علاج علامات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ یہ ادویات علامات کے مطابق مفیدہوتی ہیں:
Merc Sol مرک سال:
زبان بڑی، موٹی، اور سوجی ہوئی ہو۔ زبان کے کنارے دانتوں کے نشانات پڑ جائیں۔ منہ سے شدید بدبو آئے اور تھوک بہت زیادہ بنے۔
Belladonna بیلاڈونا:
زبان اچانک سرخ، چمکدار اور گرم ہو جائے۔ چھونے سے درد ہو اور نگلنے میں شدید تکلیف ہو۔
Apis Mellifica ایپس میلیفیکا:
زبان پر شدید سوجن ہو، جیسے کسی شہد کی مکھی نے کاٹ لیا ہو۔ ڈنک لگنے جیسا درد ہو اور ٹھنڈی چیزوں سے آرام ملے۔
Nitric Acid نائٹرک ایسڈ:
زبان پر گہرے اور تکلیف دہ زخم (Ulcers) بن جائیں۔ چبھن دار درد ہو جیسے کانٹا چبھا ہوا ہو۔
Borax بوریکس:
منہ اور زبان پر سفید رنگ کے چھالے (Thrush) ہوں جو بہت حساس ہوں اور جن سے خون نکلنے کا اندیشہ ہو۔
Arsenicum Album آرسینک البم:
زبان پر شدید جلن ہو، پیاس تھوڑی تھوڑی دیر بعد لگے (صرف چند گھونٹ)، اور گرم چیز پینے سے جلن میں آرام آئے۔
Cantharis کینتھرس:
زبان ایسی محسوس ہو جیسے ابلتے ہوئے پانی سے جل گئی ہو۔ چھالے دار سوجن اور شدید ترین جلن ہو۔
Nux Vomica نکس وامیکا:
زیادہ مرچ مصالحے، اینٹی بائیوٹکس یا الکحل کے استعمال کی وجہ سے زبان سوج جائے اور ہاضمہ خراب ہو۔
Taraxacum ٹیرکسیکم:
زبان پر نقشے جیسے داغ بن جائیں (Geographic Tongue)، یعنی کہیں سے سفید اور کہیں سے سرخ پیچز ہوں۔
Lachesis لیکیسس:
زبان سوج کر اتنی بڑی ہو جائے کہ منہ سے باہر نکلنے لگے۔ زبان کا رنگ نیلا مائل یا گہرا سرخ ہو اور صبح کے وقت تکلیف میں اصافہ ہو
حفاظتی تدابیر :
دن میں دو بار نرم برسٹل والے برش سے دانت صاف کریں اور زبان کی صفائی کا خیال رکھیں۔
اپنی خوراک میں ہری سبزیاں، پھل، دودھ اور انڈے شامل کریں تاکہ وٹامنز کی کمی نہ ہو۔
تیز مرچ مصالحے، گرم، کھٹی اور تیزابی غذاؤں سے پرہیز کریں۔
سگریٹ، چھالیہ، اور گٹکا وغیرہ سے مکمل پرہیز کریں کیونکہ یہ زبان کی سوزش کو بڑھاتے ہیں۔
گھریلو ٹوٹکے :
زبان پر برف کا ٹکڑا رکھنے یا ٹھنڈا پانی پینے سے سوجن اور جلن میں فوری ریلیف ملتا ہے۔
ایک گلاس نیم گرم پانی میں آدھا چمچ نمک ملا کر دن میں ۲ سے ۳ بار کلیاں کریں۔ یہ قدرتی اینٹی سیپٹک کا کام کرتا ہے۔
ناریل کے تیل کے چند قطرے زبان پر لگانے یا اس سے "آئل پلنگ" (منہ میں گھمانا) کرنے سے سوزش کم ہوتی ہے۔
تازہ ایلوویرا کا گودا زبان پر لگانے سے جلن ٹھنڈی ہوتی ہے اور زخم جلدی ٹھیک ہوتے ہیں۔
دہی میں موجود پروبائیوٹکس منہ کے اچھے بیکٹیریا کو بڑھاتے ہیں اور فنگل انفیکشن کو کم کرتے ہیں۔
نوٹ:
علامات کی شدت اور مریض کی انفرادی حالت کے مطابق دوا کی صحیح پوٹینسی کےانتخاب کے لیے ہمیشہ ایک مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
یہ نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج کی
دسویں قسط ہے اور یہ مضمون ابھی جاری ہے، اگلی قسط انشاءاللہ جلد شیئر کر دی جائے گی،
میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، اس مضمون میں آپ جو کمی بیشی محسوس کریں مجھے ضرور آگاہ کریں اور اگر آپ کے تجربے میں کوئی ایسی میڈیسن ہے جو اس مرض میں بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے تو وہ بھی میرے نمبر 03037578803 پر ضرور شیئر کر دیں، میں آپ کا احسان مند ہوں گاـ
شکریہ




نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی ڈاکٹر رضوان ثاقب BHMS03037578803نویں قسطلیوکوپلیکیا Leukoplakiaمنہ کے سفید دھبے  منہ...
09/07/2026

نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
03037578803
نویں قسط
لیوکوپلیکیا
Leukoplakia
منہ کے سفید دھبے
منہ کے اندر ہونے والی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں زبان، مسوڑھوں یا گالوں کے اندرونی حصے پر سفید یا خاکستری رنگ کے دھبے بن جاتے ہیں۔
علامات:
منہ کے اندر ایسے دھبے بننا جنہیں رگڑنے یا کھرچنے سے بھی صاف نہ کیا جا سکے۔
یہ دھبے چھونے میں تھوڑے سخت، کھردری یا موٹی سطح کے محسوس ہو سکتے ہیں۔
بعض اوقات سفید دھبوں کے ساتھ چھوٹے سرخ نشانات بھی نظر آتے ہیں ان پر خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان میں کینسر کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔
تکلیف یا جلن:
عام طور پر ان میں درد نہیں ہوتا، لیکن گرم، نمکین یا مرچوں والی چیزیں کھانے سے جلن ہو سکتی ہے۔ وجوہات:
لیوکوپلیکیا کی سب سے بڑی وجہ منہ میں مسلسل ہونے والی سوزش یا رگڑ (Chronic Irritation) ہے۔
جس کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں
سگریٹ، سگار، پائپ پینا یا چھالیہ، گٹکا، نسوار اور پان کا کثرت سے استعمال۔
شراب کا باقاعدگی سے استعمال۔
تیز دھار والے ٹوٹے ہوئے دانت یا غلط فٹنگ والے مصنوعی دانت (Denture) جو مسلسل گال یا زبان سے رگڑ کھاتے رہیں۔
قوت مدافعت کی کمی یا بعض وائرل انفیکشنز (جیسے Epstein-Barr Virus جو Hairy Leukoplakia کا سبب بنتا ہے)۔
تشخیص :
معالج منہ کا معائنہ کر کے دھبوں کی رنگت اور سختی کو دیکھتا ہے۔
بائیوپسی (Biopsy): یہ سب سے اہم اور حتمی ٹیسٹ ہے۔ دھبے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لے کر لیبارٹری بھیجا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ کہیں کینسر (Malignancy) کی طرف تو نہیں جا رہا۔
علاج:
ہومیوپیتھی میں علاج ہمیشہ مریض کی مجموعی علامات اور مزاج (Constitutional Symptoms) کے مطابق کیا جاتا ہے۔ لیوکوپلیکیا کے لیے یہ ادویات بہت مؤثر ثابت ہوتی ہیں:
Merc Sol مرک سال:
منہ میں رطوبت اور تھوک کی زیادتی، زبان سوجی ہوئی اور دانتوں کے نشانات پائے جائیں۔ منہ سے شدید بدبو آتی ہو اور رات کے وقت علامات بڑھ جائیں۔
Nitric Acid نائٹرک ایسڈ:
دھبوں کے کنارے ناہموار ہوں اور ان میں چبھنے والا درد جیسے کانٹا چبھ رہا ہو۔ یہ دوا خاص طور پر ان جگہوں کے لیے مفید ہے جہاں منہ کی جلد اور جھلی آپس میں ملتے ہیں۔
Thuja Occidentalis تھوجا:
اگر دھبے سخت ہوں، مسام دار یا مسے (Warts) کی طرح ابھرے ہوئے محسوس ہوں۔ یہ جسم میں غیر طبعی ابھاروں اور اضافی بافتوں (Overgrowth) کو روکنے کی بہترین دوا ہے۔
Hydrastis Canadensis ہائیڈراسٹس:
زبان اور منہ کے اندرونی حصے پر لیس دار، زرد رنگ کی رطوبت جم جائے اور زبان پر موٹی تہہ ہو۔ کینسر کی ابتدائی علامات کو روکنے کے لیے بھی معاون سمجھی جاتی ہے۔
Arsenicum Album آرسینک البم:
منہ میں شدید جلن ہو جو گرم مشروبات سے بہتر محسوس ہو۔ مریض کو پیاس بار بار اور تھوڑی تھوڑی مقدار میں لگتی ہو اور شدید بے چینی ہو۔
Kalium Cyanatum کالی سائیانیٹم:
زبان پر پائے جانے والے شدید اور ضدی سفید دھبوں (لیوکوپلیکیا) کے لیے یہ ایک مخصوص اور گہری اثر رکھنے والی دوا ہے، جہاں زبان پر گہرے کٹاؤ کے نشانات بن رہے ہوں۔
Borax بوریکس:
منہ میں گرمی کا احساس، چھالے اور سفید دھبے جو بہت حساس ہوں اور جن سے معمولی رگڑ پر خون نکلنے کا خدشہ ہو۔ بچہ یا بڑا کوئی بھی گرم چیز کھانے سے کترائے۔
Lachesis لیکیسس:
منہ کے بائیں طرف علامات زیادہ ہوں، دھبوں کا رنگ گہرا یا جامنی مائل ہو، اور مریض گلے یا منہ کے پاس کسی بھی قسم کے دباؤ کو برداشت نہ کر سکے۔
Phytolacca Decandra فائٹولاکا:
منہ اور حلق خشک ہو، نگلتے وقت درد کانوں تک جائے، اور زبان کے کناروں پر جلن دار دھبے ہوں۔
Sulphur سلفر:
دائمی مریضوں کے لیے جہاں منہ میں مستقل جلن رہتی ہو، صبح کے وقت زبان پر سفید تہہ جمی ہو، اور مریض کو گرمی زیادہ لگتی ہو۔ یہ دوا قوت مدافعت کو بیدار کرنے کے لیے بھی دی جاتی ہے۔
حفاظتی تدابیر :
سگریٹ، پان، گٹکا، چھالیہ، نسوار اور الکوحل کو فوری اور مکمل طور پر ترک کر دیں۔
اگر کوئی دانت تیز دھار ہے یا مصنوعی دانت چبھتا ہے، تو فوراً ڈینٹسٹ سے اس کا علاج کروائیں۔
دن میں دو بار برش کریں اور ماؤتھ واش کا استعمال کریں (مگر بغیر الکوحل والا ماؤتھ واش استعمال کریں)۔
ایسی غذا لیں جو اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن A اور C سے بھرپور ہو (جیسے ہری مرچیں، گاجر، پالک، اور تازہ پھل)۔
گھریلو ٹوٹکے:
گھریلو ٹوٹکے اس مرض کو جڑ سے ختم نہیں کرتے، لیکن یہ سوزش اور جلن کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
ہلدی میں "کرکومین" (Curcumin) پایا جاتا ہے جو سوزش کو کم کرتا ہے۔ ہلدی کے پاؤڈر میں تھوڑا سا پانی ملا کر پیسٹ بنا لیں اور دھبے پر لگائیں، یا نیم گرم پانی میں ہلدی ملا کر کلیاں کریں۔
صبح نہار منہ ایک چمچ خالص ناریل کا تیل منہ میں ڈال کر 10 سے 15 منٹ تک گھمائیں (کلیاں کریں) اور پھر تھوک دیں۔ یہ منہ کے جراثیم اور زہریلے مادوں کو صاف کرتا ہے۔
تازہ ایلوویرا کا گودا (جیل) متاثرہ جگہ پر لگانے سے منہ کو ٹھنڈک ملتی ہے اور سوزش کم ہوتی ہے۔
نیم گرم پانی میں چٹکی بھر نمک ملا کر دن میں دو سے تین بار غرارے کرنے سے منہ کا ماحول صاف رہتا ہے۔
نوٹ:
علامات کی شدت اور مریض کی انفرادی حالت کے مطابق دوا کی صحیح پوٹینسی کےانتخاب کے لیے ہمیشہ ایک مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
یہ نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج کی
نویں قسط ہے اور یہ مضمون ابھی جاری ہے، اگلی قسط انشاءاللہ جلد شیئر کر دی جائے گی،
میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، اس مضمون میں آپ جو کمی بیشی محسوس کریں مجھے ضرور آگاہ کریں اور اگر آپ کے تجربے میں کوئی ایسی میڈیسن ہے جو اس مرض میں بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے تو وہ بھی میرے نمبر 03037578803 پر ضرور شیئر کر دیں، میں آپ کا احسان مند ہوں گاـ
شکریہ

نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی ڈاکٹر رضوان ثاقب BHMS03037578803آٹھویں قسطXerostomia (زیروسٹومیا) منہ کا سوکھنا یا خ...
08/07/2026

نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
03037578803
آٹھویں قسط
Xerostomia (زیروسٹومیا)
منہ کا سوکھنا یا خشکیِ دہن
یہ کوئی خود کار بیماری نہیں بلکہ عام طور پر کسی اور طبی مسئلے، دوا کے ضمنی اثر (Side effect)، یا جسم میں پانی کی کمی کی ایک علامت ہوتی ہے۔
علامات:
منہ خشک ہونے کی صورت میں مریض کو درج ذیل علامات کا سامنا ہو سکتا ہے:
منہ اور حلق میں ہر وقت خشکی یا چپچپا پن کا احساس۔
تھوک (Saliva) کا گاڑھا یا لیس دار ہو جانا۔
چبانے، نگلنے اور بولنے میں دشواری ہونا۔
زبان کا سرخ، خشک اور کھردرہ ہو جانا۔
منہ سے بدبو آنا (Halitosis)۔
ہونٹوں کا پھٹنا، خصوصاً منہ کے کونوں کا زخم ہونا۔ کھانے کا ذائقہ تبدیل ہو جانا یا محسوس نہ ہونا۔ مسوڑھوں کی بیماریاں اور دانتوں میں تیزی سے کیڑا (Caries) لگنا۔
وجوہات:
منہ کی خشکی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مثلاً:
بلڈ پریشر، ڈپریشن، الرجی (Antihistamines)، اور درد کش ادویات کا کثرت سے استعمال۔
بوڑھے افراد میں تھوک بنانے والے غدود (Salivary glands) کی کارکردگی کم ہو جانا۔
جسم میں پانی کی مقدار کم ہونا یا شدید پسینہ آنا، الٹی اور دست۔
شوگر (Diabetes)، جوگرن سنڈروم (Sjogren's Syndrome - ایک آٹو امیون بیماری جس میں آنکھیں اور منہ خشک ہوتے ہیں)، اور فالج۔
کینسر کے علاج کے دوران سر اور گردن کی ریڈی ایشن تھراپی (شعاعیں) یا کیموتھراپی۔
تمباکو نوشی، سگریٹ، چھالیہ کا استعمال یا رات کو منہ کھول کر سونا۔
تشخیص :
اس مسئلے کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر درج ذیل طریقے اپناتے ہیں:
میڈیکل ہسٹری:
مریض کی ادویات اور ماضی کی بیماریوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
معائنہ: منہ، زبان اور مسوڑھوں کی خشکی کا مائیکروسکوپک یا ظاہری معائنہ۔
Sialometry:
اس ٹیسٹ کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک مخصوص وقت میں تھوک کے غدود کتنا تھوک بنا رہے ہیں۔
خون کے ٹیسٹ: شوگر یا آٹو امیون بیماریوں (جیسے Sjogren's) کا پتہ لگانے کے لیے۔
بایپسی یا امیجنگ: اگر تھوک کے غدود میں بلاکیج کا شک ہو تو الٹراساؤنڈ یا غدود کا چھوٹا سا ٹکڑا (Biopsy) لے کر ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
علاج:
ہومیوپیتھی میں علامات کی بنیاد پر علاج کیا جاتا ہے۔ زیروسٹومیا کے لیے بہترین ادویات درج ذیل ہیں:

Bryonia Alba (برائیونیا)
منہ، زبان اور حلق میں شدید خشکی، جس کے ساتھ بہت زیادہ مقدار میں اور وقفے وقفے سے ٹھنڈا پانی پینے کی شدید پیاس ہوتی ہے۔ زبان پر سفید تہہ جمی ہوتی ہے۔
Nux Moschata (نکس ماسکوٹا)
منہ میں انتہائی شدید خشکی ہوتی ہے، یہاں تک کہ زبان تالو کے ساتھ چپک جاتی ہے، لیکن حیران کن طور پر پیاس بالکل نہیں ہوتی، مریض کو نیند کا غلبہ رہتا ہے۔
Pulsatilla (پلسٹیلا)
منہ بالکل خشک ہوتا ہے، خصوصاً صبح کے وقت۔ منہ کا ذائقہ تلخ یا خراب ہوتا ہے، لیکن پیاس بالکل غائب ہوتی ہے۔ مریض کھلی ہوا پسند کرتا ہے۔
Arsenicum Album (آرسینک البم)
منہ اور حلق میں شدید خشکی اور جلن کا احساس۔ مریض کو پیاس بہت لگتی ہے لیکن وہ ایک وقت میں صرف ایک ایک گھونٹ پانی پیتا ہے۔ ساتھ میں بے چینی اور خوف پایا جاتا ہے۔
Belladonna (بیلاڈونا)
منہ اور حلق سرخ، گرم اور خشک ہوتے ہیں۔ نگلنے میں شدید تکلیف ہوتی ہے (جیسے گلا بند ہو)۔ تھوک بالکل ختم ہو جاتا ہے اور پانی پینے کی شدید خواہش ہوتی ہے لیکن نگلنا مشکل ہوتا ہے۔
Alumina (ایلومینا)
جسم کی تمام بلغم جھلیوں (Mucous membranes) کی شدید خشکی۔ منہ اتنا خشک ہوتا ہے کہ صبح اٹھتے ہی حلق میں شدید جکڑن محسوس ہوتی ہے۔ پیاس ہو بھی سکتی ہے اور نہیں۔
Mercurius Solubilis (مرک سال)
یہ ایک منفرد دوا ہے۔ اس میں منہ میں تھوک بہت زیادہ بنتا ہے (رال ٹپکتی ہے) اور منہ سے شدید بدبو آتی ہے، لیکن اس کے باوجود مریض کو منہ خشک محسوس ہوتا ہے اور پیاس شدید لگتی ہے۔ زبان پر دانتوں کے نشانات بنے ہوتے ہیں۔
Sulphur (سلفر)
منہ میں خشکی کے ساتھ صبح کے وقت منہ کا ذائقہ بہت کڑوا ہوتا ہے۔ ہونٹ بہت سرخ اور خشک ہوتے ہیں۔ مریض کو ٹھنڈے پانی کی شدید پیاس لگتی ہے اور پاؤں کے تلوؤں میں جلن ہوتی ہے۔
Lycopodium (لائیکوپوڈیم)
منہ خشک ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ منہ سے بدبو اور تیزابیت (Gas/Bloating) کی شکایت رہتی ہے۔ مریض گرم مشروبات یا گرم پانی پینا پسند کرتا ہے۔ علامات شام 4 سے 8 بجے کے درمیان بڑھتی ہیں۔
Natrum Mur (نیٹرم میور)
منہ کی خشکی خصوصاً زبان پر جھاگ دار تھوک یا تھوک کا بالکل نہ ہونا۔ زبان پر "نقشہ" جیسا اثر (Mapped tongue)۔ مریض کو نمک یا نمکین چیزیں کھانے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔
حفاظتی تدابیر :
دن بھر میں کم از کم 8 سے 12 گلاس پانی چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے کر پئیں تاکہ منہ تر رہے۔
سگریٹ نوشی، تمباکو، چھالیہ اور الکحل سے مکمل پرہیز کریں کیونکہ یہ منہ کو مزید خشک کرتے ہیں۔ کافی، چائے اور سوڈا (Caffeine) کا استعمال کم سے کم کریں کیونکہ یہ پیشاب آور ہوتے ہیں اور جسم میں پانی کم کرتے ہیں۔ ہوا کو نم رکھنے کے لیے رات کو کمرے میں Humidifier (ہوا کو نم کرنے والا آلہ) استعمال کریں، خصوصاً اگر آپ منہ کھول کر سوتے ہیں۔
ایسے ماؤتھ واش (Mouthwash) استعمال نہ کریں جن میں الکحل شامل ہو۔
گھریلو ٹوٹکے :
سونف اور چھوٹی الائچی چبانے سے منہ میں تھوک بنانے والے غدود متحرک ہوتے ہیں اور منہ کی بدبو دور ہوتی ہے۔
ادرک کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوسنے یا ادرک کی چائے پینے سے تھوک کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔
روزانہ چوتھائی کپ ایلوویرا کا جوس پینا یا اس سے کلی کرنا منہ کی نمی برقرار رکھنے میں مددگار ہے۔
پانی میں چند قطرے لیموں نچوڑ کر پینے سے تھوک کے غدود متحرک ہوتے ہیں ۔
شوگر فری گم چبانے یا شوگر فری کینڈی چوسنے سے منہ میں مسلسل تھوک بنتا رہتا ہے جو خشکی کو روکتا ہے۔
نوٹ:
علامات کی شدت اور مریض کی انفرادی حالت کے مطابق دوا کی صحیح خوراک (Potency) اور انتخاب کے لیے ہمیشہ ایک مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
یہ نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج کی
آٹھویں قسط ہے اور یہ مضمون ابھی جاری ہے، اگلی قسط انشاءاللہ جلد شیئر کر دی جائے گی،
میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، اس مضمون میں آپ جو کمی بیشی محسوس کریں مجھے ضرور آگاہ کریں اور اگر آپ کے تجربے میں کوئی ایسی میڈیسن ہے جو اس مرض میں بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے تو وہ بھی میرے نمبر 03037578803 پر ضرور شیئر کر دیں، میں آپ کا احسان مند ہوں گاـ
شکریہ

#

08/07/2026

دل میں درد || Angina pain || By Dr. Rizwan Saqib

Homeopathy Skill Development | Learn the Art of Potency with DR. Rizwan Saqib Bhms
06/07/2026

Homeopathy Skill Development | Learn the Art of Potency with DR. Rizwan Saqib Bhms

نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی ڈاکٹر رضوان ثاقب BHMS03037578803ساتویں قسطSialolithiasisSalivary Gland Stones تھوک ک...
06/07/2026

نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
03037578803
ساتویں قسط
Sialolithiasis
Salivary Gland Stones
تھوک کے غدود کی پتھری
یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں منہ کے اندر تھوک بنانے والے غدود
یا ان کی نالیوں میں کیلشیم اور دیگر معدنیات کے جمع ہونے سے چھوٹی چھوٹی پتھریاں بن جاتی ہیں۔
علامات :
جب پتھری تھوک کے بہاؤ کو روکتی ہے، تو درج ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں:
سوجن اور درد:
خاص طور پر کھانا کھاتے وقت یا کھانے کے فوراً بعد جبڑے کے نیچے، گالوں پر یا زبان کے نیچے شدید درد اور سوجن ہوتی ہے۔
منہ کا خشک ہونا :
تھوک کا بہاؤ رکنے کی وجہ سے منہ خشک رہتا ہے۔
منہ کا ذائقہ خراب ہونا: بعض اوقات متاثرہ غدود سے بدبودار یا نمکین پانی (یا پیپ) نکلتا ہے جس سے منہ کا ذائقہ کڑوا یا خراب ہو جاتا ہے۔
نگلنے میں دشواری:
شدید سوجن کی صورت میں کھانا نگلنے یا منہ کھولنے میں تکلیف ہوتی ہے۔
انفیکشن:
اگر پتھری طویل عرصے تک رہے، تو وہاں بیکٹیریل انفیکشن ہو سکتا ہے جس سے بخار اور شدید درد ہو سکتا ہے۔
وجوہات :
تھوک میں موجود کیمیکلز کے گاڑھے ہونے اور جمنے کی اہم وجوہات یہ ہیں:
پانی کی کمی (Dehydration):
جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے تھوک گاڑھا ہو جاتا ہے، جو پتھری بننے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
ادویات کا استعمال:
بلڈ پریشر، الرجی (Antihistamines) یا نفسیاتی امراض کی بعض ادویات تھوک کی مقدار کو کم کرتی ہیں۔
غذائیت کی کمی:
مناسب خوراک نہ لینا یا منہ کی صفائی کا خیال نہ رکھنا۔
صدمہ یا چوٹ:
غدود کی نالی میں کسی قسم کی رگڑ یا چوٹ لگنا۔
طبی مسائل:
گردے کی پتھری کے مریضوں یا یورک ایسڈ کی زیادتی والے افراد میں اس کا رجحان زیادہ ہو سکتا ہے۔تشخیص:
اس مرض کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر درج ذیل طریقے اپناتے ہیں:
جسمانی معائنہ (Physical Exam):
معالج منہ کے اندر انگلی سے چھو کر (Palpation) پتھری کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایکس رے (X-ray / Sialogram):
غدود کی نالیوں میں پتھری کی موجودگی دیکھنے کے لیے۔
الٹراساؤنڈ (Ultrasound):
یہ ایک آسان اور بہترین طریقہ ہے جس سے پتھری کا سائز اور پوزیشن معلوم ہوتی ہے۔
سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی (CT Scan / MRI):
اگر پتھری بہت گہری یا چھوٹی ہو تو تفصیلی معائنے کے لیے یہ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
علاج:
ہومیوپیتھی میں علامات کی بنیاد پر علاج کیا جاتا ہے۔ یہ ادویات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں، مریض کی ہسٹری اور علامات کے مطابق پوٹینسی (Potency) اور خوراک کا تعین ایک مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے۔

Calcarea Carbonica:
پتھری بننے کے رجحان کو روکنے اور کیلشیم کے میٹابولزم کو درست کرنے کے لیے صفِ اول کی دوا ہے۔
Belladonna:
اگر غدود میں اچانک شدید درد، سرخی، سوجن اور گرمی کا احساس ہو (شدید سوزش کی حالت میں)۔
Mercurius Solubilis
اگر منہ سے بہت زیادہ تھوک نکل رہا ہو، منہ سے بدبو آ رہی ہو، زبان پر دانتوں کے نشان ہوں اور رات کو تکلیف بڑھتی ہو۔
Silicea:
یہ دوا پتھری کو خارج کرنے اور اگر غدود میں پیپ (Abscess) پڑ گئی ہو تو اسے سکھانے یا نکالنے میں مددگار ہے۔
Thuja Occidentalis:
غدود کی سخت سوجن، نالیوں کی بندش اور رطوبات کے غیر قدرتی جمع ہونے کو ٹھیک کرتی ہے۔
Conium Maculatum:
اگر تھوک کے غدود پتھر کی طرح سخت ہو چکے ہوں اور ان میں ہلکا ہلکا درد رہتا ہو۔
Phytolacca Decandra:
جب سوجن گالوں اور کان کے نیچے (Parotid Gland) تک پھیلی ہو اور درد نگلتے وقت کان کی طرف جائے background۔
Nitricum Acidum:
منہ میں شدید درد، تھوک کا ذائقہ خراب ہونا اور نالیوں کے اندر زخم یا کٹاؤ کا احساس ہونا۔
Heper Sulph:
اگر غدود انتہائی حساس ہو، چھونے سے درد ہو اور انفیکشن کے باعث پیپ بننے کا خطرہ ہو۔
Bromium:
خاص طور پر بائیں طرف کے غدود (Left-sided glands) کی سختی اور سوجن کے لیے بہترین اثر کرتی ہے۔
حفاظتی تدابیر اور پرہیز :
پانی کا کثرت سے استعمال:
دن میں کم از کم 8 سے 12 گلاس پانی پیئیں تاکہ تھوک پتلا رہے اور غدود صاف ہوتے رہیں۔
اورل ہائجین (Oral Hygiene):
دن میں دو بار برش کریں اور ماؤتھ واش کا استعمال کریں تاکہ منہ جراثیم سے پاک رہے۔
کھانے میں پرہیز:
زیادہ نمکین، مصالحے دار اور تلی ہوئی غذاؤں سے پرہیز کریں کیونکہ یہ منہ کو خشک کرتی ہیں۔
چائے، کافی اور کولا ڈرنکس کا استعمال کم سے کم کریں (یہ جسم سے پانی خارج کرتی ہیں)۔
اگر پتھری بار بار بنتی ہو تو کیلشیم سپلیمنٹس ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ لیں۔
گھریلو ٹوٹکے :
کھٹی چیزوں کا استعمال:
لیموں پانی، لیموں کا ٹکڑا چوسنا یا بغیر چینی کے کھٹے مالٹے/کینوں کھانا انتہائی مفید ہے۔ کھٹی چیزیں تھوک کی پیداوار (Saliva production) کو بڑھاتی ہیں، جس کے پریشر سے چھوٹی پتھریاں خود بخود نالی سے باہر نکل جاتی ہیں۔
غدود کا مساج:
متاثرہ حصے پر ہلکی انگلی سے باہر سے منہ کے اندر کی طرف (جس رخ پر تھوک بہتا ہے) نرمی سے مساج کریں تاکہ پتھری آگے سرک سکے۔
گرم ٹکور:
گال یا جبڑے کے نیچے گرم کپڑے یا ہاٹ واٹر بیگ سے ٹکور کرنے سے نالی پھیلتی ہے اور درد میں راحت ملتی ہے۔
شوگر فری چیوگم (Sugargree Chewing Gum):
چیوگم چبانے سے منہ میں مسلسل تھوک بنتا رہتا ہے جو نالیوں کی صفائی میں مدد کرتا ہے۔
نوٹ: علامات کی شدت اور مریض کی انفرادی حالت کے مطابق دوا کی صحیح خوراک (Potency) اور انتخاب کے لیے ہمیشہ ایک مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
یہ نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج کی
ساتویں قسط ہے اور یہ مضمون ابھی جاری ہے، اگلی قسط انشاءاللہ جلد شیئر کر دی جائے گی،
میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، اس مضمون میں آپ جو کمی بیشی محسوس کریں مجھے ضرور آگاہ کریں اور اگر آپ کے تجربے میں کوئی ایسی میڈیسن ہے جو اس مرض میں بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے تو وہ بھی میرے نمبر 03037578803 پر شیئر کر دیں، میں آپ کا احسان مند ہوں گاـ
شکریہ

نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی ڈاکٹر رضوان ثاقب BHMS03037578803چھٹی قسطSialadenitis سائلادینائٹستھوک بنانے والے غدو...
02/07/2026

نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھی
ڈاکٹر رضوان ثاقب
BHMS
03037578803
چھٹی قسط
Sialadenitis
سائلادینائٹس

تھوک بنانے والے غدود (Salivary Glands) کی سوزش یا انفیکشن کو کہا جاتا ہے۔ ہمارے منہ میں تین بڑے غدود ہوتے ہیں: پیروٹڈ (Parotid - کانوں کے نیچے)، سب مینڈیبولر (Submandibular - جبڑے کے نیچے)، اور سب لنگول (Sublingual - زبان کے نیچے)۔ جب ان غدود میں لعاب (Thook) کا بہاؤ رک جائے یا جراثیم داخل ہو جائیں تو یہ سوزش پیدا ہوتی ہے۔
علامات
کان کے نیچے یا جبڑے کے نیچے دردناک سوجن ہونا۔
کھانے کے وقت درد بڑھنا، جب کھانا دیکھ کر یا کھاتے وقت تھوک بنتا ہے تو غدود پر دباؤ پڑتا ہے اور درد تیز ہو جاتا ہے۔
منہ کا ذائقہ خراب ہونا، منہ میں بدبودار یا نمکین پانی (پیپ کا ذائقہ) آنا۔
منہ کا خشک ہونا (Dry Mouth)، تھوک کی پیداوار کم ہو جاتی ہے جس سے منہ میں خشکی ا جاتی ہے۔
بخار اور سردی لگنا، اگر انفیکشن بیکٹیریا کی وجہ سے ہو تو تیز بخار ہو سکتا ہے۔
منہ کھولنے میں دشواری، سوجن اور درد کی وجہ سے جبڑا پورا نہیں کھلتا۔
وجوہات:
بیکٹیریل یا وائرل انفیکشن:
سب سے عام وجہ
Staphylococcus aureus
بیکٹیریا یا ممس (Mumps/کن پیڑے) کا وائرس ہے۔
تھوک کی پتھری (Sialolithiasis):
غدود کی نالی (Duct) میں کیلشیم کی چھوٹی پتھری بن جانا جو تھوک کا راستہ روک دیتی ہے۔
پانی کی شدید کمی (Dehydration):
جسم میں پانی کم ہونے سے تھوک گاڑھا ہو جاتا ہے اور جراثیم آسانی سے حملہ کرتے ہیں۔
منہ کی خراب صحت (Poor Oral Hygiene): دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی نہ رکھنے سے جراثیم غدود تک پہنچ جاتے ہیں۔
دیرینہ بیماریاں:
جیسے Sjogren's syndrome (ایک آٹو امیون بیماری جس میں منہ اور آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں)۔
تشخیص :
جسمانی معائنہ (Clinical Examination): معالج غدود کو دبا کر سوجن، درد اور پیپ کے اخراج کا معائنہ کرتا ہے۔
الٹراساؤنڈ یا سی ٹی اسکین (Ultrasound / CT Scan): یہ دیکھنے کے لیے کہ کہیں نالی میں کوئی پتھری (Stone) یا رسولی تو نہیں ہے۔
کلچر ٹیسٹ (Culture Test): اگر منہ میں پیپ آ رہی ہو تو اس کا ٹیسٹ کر کے مخصوص بیکٹیریا کا پتہ لگایا جاتا ہے۔
علاج:
ہومیوپیتھی میں مریض کی مجموعی علامات (Simillimum) کے مطابق علاج کیا جاتا ہے۔ سائلادینائٹس کے لیے بہترین ادویات درج ذیل ہیں:
Merc Sol
یہ اس مرض کی سب سے پہلی اور بہترین دوا ہے۔ جب منہ سے بہت زیادہ بدبودار تھوک نکلے، زبان پر دانتوں کے نشان ہوں، اور رات کو درد بڑھے۔
Belladonna:
سوجن کے ابتدائی مرحلے میں جب غدود سرخ، گرم اور چمکدار ہوں، اور درد اچانک آئے اور دھڑکن جیسا (Throbbing) ہو۔
Phytolacca Decandra:
غدود لوہے کی طرح سخت ہو جائیں، درد کانوں تک جائے، اور نگلتے وقت شدید تکلیف ہو۔
Conium Maculatum:
اگر غدود کی سوجن پرانی (Chronic) ہو جائے اور وہ پتھر کی طرح سخت ہو جائیں، خصوصاً چوٹ لگنے کے بعد۔
Calcarea Fluorica: تھوک کی پتھری (Sialolithiasis)
کی وجہ سے غدود سخت ہو گئے ہوں تو یہ پتھری کو گھلانے میں مددگار ہے۔
Silicea:
اگر غدود میں پیپ (Abscess) پڑ جائے اور وہ خارج نہ ہو رہی ہو، تو یہ دوا پیپ کو نکال کر زخم بھرتی ہے۔
Hepar Sulph:
غدود میں شدید درد ہو جیسے سوئی چبھ رہی ہو (Splinter-like pain) اور مریض چھونے اور ٹھنڈی ہوا سے انتہائی حساس ہو۔
Rhus Toxicodendron:
جب سوزش کے ساتھ بائیں طرف کے غدود زیادہ متاثر ہوں اور گرم ٹکور سے آرام آئے۔
Pulsatilla:
منہ خشک ہو لیکن پیاس بالکل نہ لگے، اور مریض کھلی ہوا میں بہتر محسوس کرے۔
Lachesis:
اگر غدود کی سوزش بائیں طرف شروع ہو کر دائیں طرف جائے اور گلے کے گرد معمولی دباؤ بھی برداشت نہ ہو۔
پرہیز
کیا نہ کھائیں؟:
سخت اور خشک غذائیں: جیسے بسکٹ، چپس، یا سخت گوشت جنہیں چبانے اور نگلنے میں زیادہ طاقت لگے اور تھوک زیادہ بنانا پڑے۔
زیادہ میٹھی اور لیس دار چیزیں:
یہ منہ میں جراثیم کی تعداد بڑھاتی ہیں۔
گرم اور تیز مصالحے دار کھانے:
یہ سوجے ہوئے غدود اور گلے میں جلن پیدا کرتے ہیں۔
کیفین اور الکحل:
چائے اور کافی کا زیادہ استعمال جسم کو ڈی ہائیڈریٹ کرتا ہے۔
کیا کھائیں؟:
نرم اور نیم گرم غذائیں: دلیہ، کھچڑی، سوپ، اور ابلے ہوئے آلو۔
کھٹی چیزیں (محدود مقدار میں):لیموں پانی یا سنگترہ (اگر بہت زیادہ درد نہ ہو) کیونکہ کھٹاس تھوک کے بہاؤ کو تیز کرتی ہے، جس سے نالی کا بلاکیج کھل سکتا ہے۔
گھریلو ٹوٹکے:
دن میں 3 سے 4 بار نمک ملے نیم گرم پانی سے غرارے اور کلیاں کریں تاکہ منہ کے جراثیم ختم ہوں۔
متاثرہ غدود پر گرم کپڑے یا واٹر بیگ سے ہلکی ٹکور کریں۔ اس سے خون کی گردش بڑھے گی اور درد میں آرام آئے گا۔
جبڑے کے نیچے سے اوپر کی طرف یا کان سے نیچے کی طرف انگلیوں سے ہلکا دباؤ دیتے ہوئے مساج کریں تاکہ نالی میں پھنسا ہوا تھوک باہر نکل سکے۔
شوگر فری لیموں والی کینڈیز چوسنے سے تھوک زیادہ بنتا ہے جو غدود کی صفائی کرتا ہے۔اس لیے ایسی کینڈیز چوسنے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے
حفاظتی تدابیر :
دن میں کم از کم 10 سے 12 گلاس پانی پیئیں تاکہ لعاب دہن پتلا رہے اور جمنے نہ پائے۔
دن میں دو بار برش کریں اور ماؤتھ واش کا استعمال کریں۔
سگریٹ یا چھالیہ کا استعمال غدود کی نالیوں کو نقصان پہنچاتا ہے، اس لیے ان سے مکمل پرہیز کریں۔
نوٹ:
علامات کی شدت اور مریض کی انفرادی حالت کے مطابق دوا کی صحیح خوراک (Potency) اور انتخاب کے لیے ہمیشہ ایک مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
یہ نظام انہضام کے امراض اور ہومیوپیتھک علاج کی
چھٹی قسط ہے اور یہ مضمون ابھی جاری ہے، اگلی قسط انشاءاللہ جلد شیئر کر دی جائے گی،
میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، اس مضمون میں آپ جو کمی بیشی محسوس کریں مجھے ضرور آگاہ کریں اور اگر آپ کے تجربے میں کوئی ایسی میڈیسن ہے جو اس مرض میں بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے تو وہ بھی میرے نمبر 03037578803 پر شیئر کر دیں، میں آپ کا احسان مند ہوں گاـ
شکریہ
#پاکستانی

Address

Shama Homeo Clinic, Shama Plaza, Shama Metrobus Station, 72-Ferozpur Road
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 17:00 - 21:00
Tuesday 17:00 - 21:00
Thursday 17:00 - 21:00
Friday 17:00 - 21:00

Telephone

+923037578803

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shama Homeo Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Shama Homeo Clinic:

Shortcuts

Share