05/06/2026
میرا نام ڈاکٹر مجتبی ہے اور میاں چنوں والے کیس میں ڈاکٹر صاحب کو بے گناہ قرار دے دیا گیا اور ثابت ہو گیا کہ محض الزامات، افواہیں اور سوشل میڈیا کا شور کسی کو مجرم نہیں بنا سکتا۔
پر آج ایک اور افسوسناک واقعہ زیرِ بحث ہے۔ ایک باپ اپنے اکلوتے بیٹے کے انتقال پر غمزدہ ہے، اور اس کے دکھ کا احترام ہم سب پر لازم ہے۔ لیکن جب خود یہ تسلیم کیا جا رہا ہو کہ بچہ خون کے کینسر کا مریض تھا اور مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج رہا، تو بغیر ثبوت کسی ڈاکٹر پر جان بوجھ کر قتل کا الزام لگا دینا انصاف نہیں بلکہ جذباتی فیصلہ ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں برسوں سے جعلی حکیموں، نام نہاد نیچروپیتھس اور خود ساختہ "قدرتی علاج" کے دعویداروں نے جدید میڈیکل سائنس کے خلاف ایک منظم بیانیہ کھڑا کیا ہوا ہے۔ یہی لوگ عوام کو بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر صرف ٹیسٹ کرواتے ہیں، ڈاکٹر یہ ہی علاج جانتے ہیں نہ ہی دوائیں خود بنانا ، انگریزی دوائیں زہر ہیں، اور ہر بیماری کا علاج صرف ان کے پاس ہے۔
ان کا سب سے مشہور نعرہ "Back to Nature" ہے، لیکن حقیقت میں ان کا مقصد لوگوں کو فطرت کی طرف نہیں بلکہ جہالت کی طرف واپس لے جانا ہے۔ یہ جدید سائنس، تحقیق اور میڈیکل کو بدنام کرتے ہیں، مگر خود عینک، موبائل، گاڑی، انٹرنیٹ اور جدید اسپتالوں کی سہولتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہی لوگ ہر نئی ایجاد کو سازش قرار دیتے ہیں، ہر سائنسی پیش رفت پر شکوک پھیلاتے ہیں، اور عوام کے ذہنوں میں ڈاکٹروں کے خلاف نفرت اور بداعتمادی پیدا کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب کوئی پیچیدہ بیماری یا موت واقع ہوتی ہے تو تحقیق اور ثبوت کے بجائے فوراً ڈاکٹر کو قصوروار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔
تنقید ہر شعبے پر ہونی چاہیے، میڈیکل پر بھی۔ لیکن تنقید حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ ان لوگوں کے پروپیگنڈے پر جو مریضوں کے خوف، مذہبی جذبات اور لاعلمی کو اپنا کاروبار بنا چکے ہیں۔
عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سائنس غلطیوں سے سیکھتی ہے، خود کو بہتر بناتی ہے اور ثبوت مانگتی ہے۔ جبکہ جعلی معالج صرف دعوے کرتے ہیں، جذبات بھڑکاتے ہیں اور جوابدہی سے بچتے ہیں۔ یہی رویہ معاشرے کو آگے نہیں بلکہ پیچھے لے جاتا ہے۔