04/10/2026
“ایک کچوری دو سموسہ ان مردوں کا کیا بھروسہ”
(فیمنسٹ افراد پوسٹ نہ پڑھیں۔ وہ بس آخری لائن پڑھ لیں)
بھروسہ تو ہے بھائی۔ دنیا کے اکثر مرد چشم بند گھوڑے کی طرح ہوتے ہیں۔ جن کی آنکھوں پر بلائنڈر لگا ہوتا ہے اور وہ سیدھی لائن میں بھاگتے ہیں، ان کی لگام جس کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہی انہیں کنٹرول کرتا ہے۔ چشم بند گھوڑا بھاگتے بھاگتے منزل پر بھی پہنچ سکتا ہے، کسی کو اپنے سُموں کے نیچے کچل بھی سکتا ہے، وقت پڑنے پر پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہو کے کرتب بھی دکھا سکتا ہے۔۔۔اصل سوال یہ ہے کہ اس کی لگام ہوتی کس کے ہاتھ میں ہے؟
انسان کی زندگی میں اوسط ایک تہائی وقت گھر سے باہر اور دو تہائی گھر کے اندر گزرتا ہے۔ جو گھر کے باہر گزرتا ہے وہ بھی گھر کے لیے ہی گزر رہا ہوتا ہے کیونکہ روزگار سے ہی گھر چلتا ہے۔ لہذا نناوے فیصد مردوں کی لگام ایک تہائی وقت ان کے آقا، باس، آجر، افسر، یا سُپروائزر کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
یہی لگام پہننے اور پہنانے والے دونوں جب گھر پہنچتے ہیں تو ان کی لگام اس باقی دو تہائی زندگی (جو گھر میں گزرتی ہے) میں خواتین کے ہاتھ ہوتی ہے۔
“بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے!
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے!”
شادی سے پہلے تک ماں اس چشم بند گھوڑے پر سوار رہتی ہے۔ اگر وہ چاہے تو بچے کو باپ سے نفرت سکھائے (وہی باپ جو اپنے آپ کو ڈیفینڈ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ باہر کسی تانگے میں جُتا سرپٹ دوڑ رہا ہوتا ہے تاکہ نفرت سیکھنے اور سکھانے والے کا پیٹ پال سکے)، اور چاہے تو گھر کے ماحول کو خوشگوار بنا لے۔
پھر شادی کا مرحلہ آتا ہے۔ نوے فیصد سے زیادہ دیسی گھرانوں میں شادی بیاہ کے فیصلوں پر آج بھی خواتین کی مونوپلی (اختیار کل) قائم ہے۔ یاد رہے ہمارے سماج میں جہاں ریاست کی ذمہ داریاں محدود اور دیگر ادارے بھی کمزور ہیں، وہاں خاندان ایسا ادارہ ہے جو بنیادی اکائی ہے۔ معیشت سے لے کر سیاست تک ہر شعبہ، ہر کام، ہر عمل اسی ادارے کے تحت انجام پاتا ہے۔ یعنی تمام کاروبار زندگی خاندان کے جوڑ توڑ پر منحصر ہے۔ اور ان کلیدی فیصلوں میں مرد کا عمل دخل عورتوں کی نسبت نہ ہونے کے برابر ہے۔
شادی کے بعد لگام بیوی کے ہاتھ میں آجاتی ہے۔ بیوی اور ماں کے درمیان گھمسان کا رن پڑتا ہے کہ لگام کون سنبھالے رہے گا۔ اس میں گھوڑا کبھی بھاگتا ہے، کبھی رکتا ہے، کبھی پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہوتا ہے، کبھی ہنہناتا ہے، کبھی ہانپتا ہے، کبھی کانپتا ہے۔۔۔ بالآخر بیوی جب ماں بن جاتی ہے تو پاور اپنا فطری دائرہ مکمل کرتی ہے اور سائیکل دوبارہ سے چل پڑتا ہے۔
تو بھائی ہم کہہ رہے تھے کہ ان مردوں کا بھروسہ ہے۔ بالکل ہے۔ ان کا behaviour باقاعدہ predict کیا جا سکتا ہے۔ یہ جتنے بھی مذہبی ہوں، مال دار ہوں، عیاش ہوں، بے ایمان ہوں، “تیری سرکار” میں پہنچتے ہیں تو سبھی ایک ہوتے ہیں۔ دودھ کا قرض، غیرت کا تصور، دوسری شادی سے نفرت، ان سب باتوں سے آگے مردوں کے اپنی بہنوں بیویوں کو کنٹرول کرنے تک میں پیچھے پس پردہ آپ کو کوئی دھاگے ہلاتا (لگام ہلاتا) عورت کا ہاتھ مل جائے گا۔ عورت دوسری عورت اور کبھی کبھار پورے سماج پر اپنی رِٹ بھی ہمیشہ مرد کے ذریعے ہی قائم کرتی ہے۔
بظاہر گھوڑا طاقت ور ہوتا ہے۔ وہ کسی کو روند سکتا ہے۔ منوں وزن اٹھا کے دوڑ سکتا ہے۔ لیکن دنیا میں نوے فیصد کام “ہارڈ پاور” سے نہیں ہوتے۔ یہ “سافٹ پاور” سے ہوتے ہیں۔ جذباتی، نفسیاتی اور گھریلو دائروں میں اثر و نفوذ جس کا قائم ہے یہ سافٹ پاور اسی کی ہے!
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا!
لاؤ فیمنسٹو ایک کچوری اور دو سموسے گرم کر کے لاو۔ تمہاری ماں کا بھروسہ۔ 🙂
-Dr. Uzair Saroya