Dear Future Wives

Directions

Dear Future Wives You are future wife of someone. Be a True Muslim wife. Break Stereotypes.

اس پیج کے قیام کا مقصد
ایک دن یونہی بیٹھے خیال آیا کہ اپنے اصلاحی اسٹیٹسز کو نئے ڈھنگ سے پیش کیا جائے....ڈیئر فیوچر وائف کے ھیشٹیگ کے ساتھ تین اسٹیٹس شیئر کیے...انتہائی لائٹ اور ڈفرنٹ انداز میں ھونے کی وجہ سے ان اسٹیٹسز کو کافی پذیرائی ملی .اس دوران برادر عمر فاروق نے پیج بنانے کی سجیشن دے ڈالی..
آئیڈیا فٹ لگا اور ذین میں سارا فارمولا طے کر کے پیج بنا ڈالا..
اس پیج کے قیام کا سب سے بڑا مقصد "پڑھے لکھے" لوگوں کو بے حیائی سے متنبہ کرنا ھے..ساتھ ہی ساتھ انہیں غلیظ اور غیر شرعی رشتوں کی محبت سے نکال کر اس محبت کی طرف لانا ھے جسے کرنے سے گناہ کی بجائے ثواب بھی ملتا ھے..
ضمنی طور پر شادی کے متعلق پاکستان میں رائج غلط تصورات کی نشاندہی بھی ھمارا مقصد ھے تاکہ نکاح آسان اور زنا مشکل ھو جائے...
ماحول کو لائٹ اور رفریش رکھنے کے لیئے ھم وقتاً فوقتاً (حلال دائرے میں رھتے ھوئے ) تھوڑی بہت رومانٹک شاعری وغیرہ بھی پوسٹتے رھتے

“ایک کچوری دو سموسہ ان مردوں کا کیا بھروسہ”(فیمنسٹ افراد پوسٹ نہ پڑھیں۔ وہ بس آخری لائن پڑھ لیں) بھروسہ تو ہے بھائی۔ دنی...
04/10/2026

“ایک کچوری دو سموسہ ان مردوں کا کیا بھروسہ”
(فیمنسٹ افراد پوسٹ نہ پڑھیں۔ وہ بس آخری لائن پڑھ لیں)

بھروسہ تو ہے بھائی۔ دنیا کے اکثر مرد چشم بند گھوڑے کی طرح ہوتے ہیں۔ جن کی آنکھوں پر بلائنڈر لگا ہوتا ہے اور وہ سیدھی لائن میں بھاگتے ہیں، ان کی لگام جس کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہی انہیں کنٹرول کرتا ہے۔ چشم بند گھوڑا بھاگتے بھاگتے منزل پر بھی پہنچ سکتا ہے، کسی کو اپنے سُموں کے نیچے کچل بھی سکتا ہے، وقت پڑنے پر پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہو کے کرتب بھی دکھا سکتا ہے۔۔۔اصل سوال یہ ہے کہ اس کی لگام ہوتی کس کے ہاتھ میں ہے؟

انسان کی زندگی میں اوسط ایک تہائی وقت گھر سے باہر اور دو تہائی گھر کے اندر گزرتا ہے۔ جو گھر کے باہر گزرتا ہے وہ بھی گھر کے لیے ہی گزر رہا ہوتا ہے کیونکہ روزگار سے ہی گھر چلتا ہے۔ لہذا نناوے فیصد مردوں کی لگام ایک تہائی وقت ان کے آقا، باس، آجر، افسر، یا سُپروائزر کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

یہی لگام پہننے اور پہنانے والے دونوں جب گھر پہنچتے ہیں تو ان کی لگام اس باقی دو تہائی زندگی (جو گھر میں گزرتی ہے) میں خواتین کے ہاتھ ہوتی ہے۔

“بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے!
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے!”

شادی سے پہلے تک ماں اس چشم بند گھوڑے پر سوار رہتی ہے۔ اگر وہ چاہے تو بچے کو باپ سے نفرت سکھائے (وہی باپ جو اپنے آپ کو ڈیفینڈ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ باہر کسی تانگے میں جُتا سرپٹ دوڑ رہا ہوتا ہے تاکہ نفرت سیکھنے اور سکھانے والے کا پیٹ پال سکے)، اور چاہے تو گھر کے ماحول کو خوشگوار بنا لے۔

پھر شادی کا مرحلہ آتا ہے۔ نوے فیصد سے زیادہ دیسی گھرانوں میں شادی بیاہ کے فیصلوں پر آج بھی خواتین کی مونوپلی (اختیار کل) قائم ہے۔ یاد رہے ہمارے سماج میں جہاں ریاست کی ذمہ داریاں محدود اور دیگر ادارے بھی کمزور ہیں، وہاں خاندان ایسا ادارہ ہے جو بنیادی اکائی ہے۔ معیشت سے لے کر سیاست تک ہر شعبہ، ہر کام، ہر عمل اسی ادارے کے تحت انجام پاتا ہے۔ یعنی تمام کاروبار زندگی خاندان کے جوڑ توڑ پر منحصر ہے۔ اور ان کلیدی فیصلوں میں مرد کا عمل دخل عورتوں کی نسبت نہ ہونے کے برابر ہے۔

شادی کے بعد لگام بیوی کے ہاتھ میں آجاتی ہے۔ بیوی اور ماں کے درمیان گھمسان کا رن پڑتا ہے کہ لگام کون سنبھالے رہے گا۔ اس میں گھوڑا کبھی بھاگتا ہے، کبھی رکتا ہے، کبھی پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہوتا ہے، کبھی ہنہناتا ہے، کبھی ہانپتا ہے، کبھی کانپتا ہے۔۔۔ بالآخر بیوی جب ماں بن جاتی ہے تو پاور اپنا فطری دائرہ مکمل کرتی ہے اور سائیکل دوبارہ سے چل پڑتا ہے۔

تو بھائی ہم کہہ رہے تھے کہ ان مردوں کا بھروسہ ہے۔ بالکل ہے۔ ان کا behaviour باقاعدہ predict کیا جا سکتا ہے۔ یہ جتنے بھی مذہبی ہوں، مال دار ہوں، عیاش ہوں، بے ایمان ہوں، “تیری سرکار” میں پہنچتے ہیں تو سبھی ایک ہوتے ہیں۔ دودھ کا قرض، غیرت کا تصور، دوسری شادی سے نفرت، ان سب باتوں سے آگے مردوں کے اپنی بہنوں بیویوں کو کنٹرول کرنے تک میں پیچھے پس پردہ آپ کو کوئی دھاگے ہلاتا (لگام ہلاتا) عورت کا ہاتھ مل جائے گا۔ عورت دوسری عورت اور کبھی کبھار پورے سماج پر اپنی رِٹ بھی ہمیشہ مرد کے ذریعے ہی قائم کرتی ہے۔

بظاہر گھوڑا طاقت ور ہوتا ہے۔ وہ کسی کو روند سکتا ہے۔ منوں وزن اٹھا کے دوڑ سکتا ہے۔ لیکن دنیا میں نوے فیصد کام “ہارڈ پاور” سے نہیں ہوتے۔ یہ “سافٹ پاور” سے ہوتے ہیں۔ جذباتی، نفسیاتی اور گھریلو دائروں میں اثر و نفوذ جس کا قائم ہے یہ سافٹ پاور اسی کی ہے!

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا!

لاؤ فیمنسٹو ایک کچوری اور دو سموسے گرم کر کے لاو۔ تمہاری ماں کا بھروسہ۔ 🙂

-Dr. Uzair Saroya

03/10/2026

روزانہ یہاں ایسے کئی مرد آتے ہیں جو فرمائش کرتے ہیں:
"دوسری شادی کسی جاب ہولڈر یا کمانے والی سے کروا دیں، جو اپنے اخراجات خود اٹھا سکے، مجھے تو صرف بیوی چاہیے۔"

ایسی باتیں سن کر ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی۔

یاد رکھیں! دوسری شادی کی اجازت صرف اس مرد کو ہے جو انصاف کر سکے، ذمہ داری اٹھا سکے اور حقیقی شوہر بن سکے۔

اگر بس سہارا لینے کے لیے شادی کرنی ہے تو بہتر ہے خاموش رہیں۔
مرد بن کر جئیں، کیونکہ دوسروں پر بوجھ بننے والے کو شوہر نہیں کہا جاتا۔

متفق ؟
02/10/2026

متفق ؟

چلو سنو !ذرا قریب قریب ھوجائیں ۔۔۔وائے سی والے بھی 😉کوئی شخص نماز نہیں پڑھتا اور زکوہ دینا چاھے تو کیا حکم ھے ؟ کسی عالم...
01/10/2026

چلو سنو !
ذرا قریب قریب ھوجائیں ۔۔۔وائے سی والے بھی 😉
کوئی شخص نماز نہیں پڑھتا اور زکوہ دینا چاھے تو کیا حکم ھے ؟
کسی عالم سے پوچھ لیں یا فقہ کی کتاب سے دیکھ لیجیئے گا ۔۔۔۔قاعدہ یہی ھے
"ایک فرض کے تارک کو دوسرے فرض کی ادائیگی سے نہیں روکا جائے گا"
کچھ پلے پڑا ؟ نہیں !!
اچھا آگے چلتے ھیں ۔۔۔۔۔۔
زرا بتاو تو مردہ سنت کو زندہ کرنے کا کیا ثواب ھے ؟
چلو یہ بھی چھوڑو ۔۔۔
یہ بتاو عصر کی چار سنتوں کو غیر موکئدہ کیوں کہتے ھیں ؟
ڈاکٹر ادریس زبیر سے سنا تھا ہر سنت کو اس کے مقام پر رکھا کرو۔۔۔عصر کی سنتوں کو غیر موکئدہ کہنے کا مطلب ہی یہی ھے کہ کبھی پڑھ لی کبھی چھوڑ دی۔۔۔تسلسل سے باقاعدگی سے موکئدہ سنتون کو پڑھتے ھیں جیسا کہ ظہر سے پہلے کی سنتیں ۔۔۔۔
نہین ائی سمجھ بات ؟ ایک اور بات سنو
کبھی کسی کو دائیں ھاتھ سے کھانے سے یہ کہہ کر روکا ھے کہ تم نے داڑھی نہیں رکھی ؟
نہیں ؟
چلو موج کرو 😉

01/10/2026

اسلام میں چار شادیوں کی اجازت کا براہ راست تو کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا کہ امت کاتواتر، احادیث صحیحہ اتنی واضح ہیں کہ انکا انکار کفر ہے ۔البتہ ہمارے پاکستانی کچھ یوں انکار کرتے ہیں :

اعتراض نمبر 1:
آپکو پتہ ہے کہ چار شادیوں کی اجازت کن حالات میں تھی ،تب کیا صورتحال تھی ؟
جواب:نہیں مجھے نہیں پتہ ،میرا دماغ خراب ہے ۔
اعتراض نمبر 2 :
مردوں کو چار شادیاں تو یاد ہیں ،حج روزہ اور عصر کی سنتیں یاد نہیں ۔
جواب : جی سب یاد ہے ۔
اعتراض نمبر 3:
مزہ تو تب ائے جب گھر والوں کو بھی اسکی ترغیب دو ایڈمن ۔
جواب : جی تبلیغ کا آغاز ھوتا ہی گھر سے ہے ۔آپ پریشان مت ہوں ۔اپنی فکر کریں ۔
اور کوئی خدمت ساڈے لائق ؟

قانون بنا کر ایک مسلمان لڑکی کو 18 سال تک کنوارہ رہنے کا پابند بنایا گیا.اب نیا قانون بنا کر 13 سال کی مسیحی لڑکی کیلئے ...
01/10/2026

قانون بنا کر ایک مسلمان لڑکی کو 18 سال تک کنوارہ رہنے کا پابند بنایا گیا.
اب نیا قانون بنا کر 13 سال کی مسیحی لڑکی کیلئے شادی کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ٹیکنولوجیا

30/09/2026

بچوں کی شادی میں والدین کی کوتاہی کا نتیجہ
------------------------------------------------
یہ نیچے ڈاکٹر عدنان خان نیازی صاحب کی تحریر ہے۔ ان کی تحریر کا ایک ایک لفظ سچ ہے۔ بہت سے والدین اپنے بچوں پر اعتماد کر کے بیٹھے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے بچے بغیر شادی کے شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں۔ اور اس سب کچھ کا وبال والدین کے اوپر ہے کہ مناسب رشتہ ہونے کے باوجود مین میخ نکال کر شادیاں نہیں کرتے اور بچوں کو گناہ کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ پڑھائی کے نام پر پندرہ بیس لاکھ لگا دیں گے لیکن اس کو بدکاری سے بچانے کے لیے ان کے پاس شادی کرنے کے پیسے نہیں ہیں۔ ایسی حرام کی زندگی سے تو بہتر ہے کہ اس کا صرف نکاح ہی کر دیں۔
چند سال پہلے کی بات ہے کہ اپنی فیملی کے ساتھ شمالی علاقہ جات میں تھا۔ صبح کے وقت جب تیار ہو کر سامان گاڑ ی میں رکھنے کے لیےہوٹل کے کمرے سے نکلا تو سامنے والے کمرے سے میرے دو اسٹوڈنٹس (لڑکی لڑکا) نکل رہے تھے۔ انھیں اس جگہ اس حالت میں دیکھ کر میں بھی حیران رہ گیا اور وہ بھی ششدر رہ گئے۔ ندامت اور شرمندگی سے دونوں کی آنکھیں جھک گئیں اور سلام تک کرنا بھول گئے۔ ایسے موقع پر کچھ بھی کہنا فضول ہوتا ہے اس لیے میں وہاں سے ہٹ گیا اور وہ وہاں سے چلے گئے۔ کچھ دن کے بعد ٹور سے واپس آکر دفتر گیا تو وہ دونوں خود ہی میرے پاس آگئے اور خاموش بیٹھے رہے۔
کچھ دیر کے بعد میں نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا، آپ دونوں ماشاءاللہ اچھے گھرانوں سے ہیں، لائق ہیں سمجھدار ہیں، ایسے گھومنے پھرنے کی بجائے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ کہنے لگے سر اسی لیے آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں کہ اصل صورت حال آپ کو بتا سکیں شاید آپ کچھ مدد کر دیں۔ کہنے لگے ہم دونوں نے اپنے اپنے گھر بات کی ہے مگر نکاح اور شادی کے لیے گھر والے ہماری بات سننے کو ہی تیار نہیں ہیں۔ آپ بات کریں شاید مان جائیں۔
کچھ دن کے بعد میں نے ایک کولیگ کو ساتھ لیا اور باری باری ان دونوں کے گھر چلے گئے۔ دونوں کے والدین کی طرف سے تقریباً ایک جیسا ہی جواب ملا۔ دونوں کی والدہ کا یہی کہنا تھا کہ اتنے چھوٹے بچے/ بچی کی شادی کیسے کر دوں؟ اور دونوں کے والد صاحبان کا کہنا تھا کہ ان کی برادری اور ہے ہماری اور۔ ہم اپنی ذات سے باہر شادی نہیں کرتے۔ لڑکی والوں کا مزید اعتراض یہ تھا کہ لڑکا ابھی کماتا نہیں ہے۔ اور ساتھ یہ بھی کہ ابھی اس سے بڑی دو بہنیں بیٹھی ہیں پہلے ان کی شادی ہو گی پھر اس کا سوچیں گے۔ لڑکے کے والدین کا کہنا تھا کہ اس سے بڑی بہن ہے جو ابھی کنواری ہے۔ اس سے پہلے اسکی کیسے کر دیں۔ اور مزید یہ کہ ابھی تو اپنی تعلیم کے لیے بھی ہم سے خرچہ لیتا ہے تو شادی کے بعد کیا کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان سب باتوں پر جو کچھ میں نے ان کے والدین سے عرض کیا وہ یہ تھا
1) سب سے پہلی بات تو یہ کہ ذات برادری صرف پہچان کے لیے ہے ورنہ مسلمانوں میں کسی سے بھی شادی ہو سکتی ہے اور یہ ذات برادریاں کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں۔ سب مسلمان برابر ہیں۔
2)بلوغت کے بعد لڑکی لڑکا چھوٹے نہیں رہتے بلکہ جنسی خواہش پورا کرنا انکی بنیادی ضروریات میں سے ایک چیز ہے بلکہ نوجوانی میں یہ خواہش شدید تر ہوتی ہے۔
3) ضروری نہیں ہوتا کہ ترتیب سے ہی بچوں کے رشتے کیے جائیں بلکہ اگر کسی کا رشتہ پہلے آگیا ہے تو اسکی شادی پہلے کر دینی چاہیے چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑکا۔
4) آپ لوگ اچھے کھاتے پیتے گھرانوں سے ہیں اور دولت کی ریل پیل ہے۔ جہاں ابھی ایک کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں وہاں دو کے کرنا بھی کوئی مشکل نہیں ہے آپ کے لیے ۔ یہ مشکل ہو تو پھر جیسے ابھی اپنے بیٹے یا بیٹی کے اخراجات برداشت کر رہے ویسے اپنے اپنے بیٹے یا بیٹی کے اخراجات برداشت کرتے رہیں جب تک کہ وہ کمانے والے نہ ہو جائیں۔
5) اگر یہ مشکل ہو تو جو اخراجات آپ نے انکی شادی پر کرنے کا سوچا ہے وہ الگ کر کے کسی اکاؤنٹ میں رکھ دیں اور اسی میں سے انکو ماہانہ خرچہ دیتے رہیں اور انکی شادی بالکل سادگی سے کر دیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پیسہ ختم ہونے سے بہت پہلے یہ دونوں کمانے والے ہو جائیں گے۔
6) اگر یہ سب ناممکن ہے تو کم سے کم ان کا نکاح کر دیں تاکہ یہ گناہ سے بچے رہیں۔ جب جاب شروع کریں تورخصتی کر دیجیے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت بار دونوں طرف سے ملاقاتیں ہوئیں۔دونوں خاندانوں کی آپس میں بھی بات چیت اور ملاقاتیں کروائیں مگر سوئی دونوں طرف سے وہیں اٹکی رہی۔ اتنا عرصہ گزر گیا مگر دونوں طرف سے والدین نہیں مانے۔
۔۔۔۔۔۔
پچھلے دنوں سریناہوٹل فیصل آباد میں ایک غیر ملکی دوست سے ملنے گیا جو وہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ جب اس کے کمرے سے نکلا تو ساتھ والے کمرے سے وہی دونوں سٹوڈنٹس ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نکل رہے تھے۔ اب کی بار ان کے چہرے پر نہ کوئی ندامت تھی نہ شرمندگی۔ سکون سے سلام کیا مجھے، حال احوال پوچھا، اور پھر چلے گئے۔ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ ان کو اس حال میں ان کے والدین نے ہی پہنچایا ہے کہ گناہ پر ندامت بھی ختم ہو گئی ہے۔بلکہ یہ ان کو گناہ ہی نہیں لگتا۔ پتہ نہیں آخرت میں ایسے والدین کیا جواب دیں گے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرعدنان نیازی
#نیازیات

30/09/2026

ہولی ووڈ سے بولی ووڈ اور اب ہمارے ایکٹرز میں مقبول۔ہونے والا نیا ٹرینڈ ہے دوران حمل اپنا بڑھا پیٹ "دکھانا" ۔

"دکھانا" میں نے کوٹس میں اس لیے لکھا ہے کہ یہ دکھانا وہ نہیں جو دوران حمل مڈ وائف یا گائنی ڈاکٹر کو پیٹ دکھانا ہوتا ہے۔ ۔ جس کے لیے محاورے بنے ہوئے ہیں کہ دایہ سے پیٹ نہیں چھپاتے۔

اب دایہ تو کیا ساراجگ دیکھے گا۔ کیونکہ کتابوں کی یہ آخری صدی ہے مگر عورت کا اندر باہر ایکسپوز کرنے کی یہ پہلی صدی ہے۔ گویا ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔

کرینہ کپور، دیپک اپدوکون وغیرہ سے لے کر عام بھارتی ایکٹرسس نے تو اپنا پیٹ دکھا دیا ۔ ۔ ۔ اب میڈیا دایہ کے ہاتھ پاکستانی ایکٹریس ہبا بخاری آئی ہے۔ اس کے فینز کو ابھی ایک سوشل میڈیا پیج پر روتے کرلاتے دیکھا، "ہئے ۔ ۔ ہبا بخاری سے یہ امہد نہیں تھی ۔ ۔ ۔ " ۔ ۔ ۔

بھئی ! کیوں امید نہیں تھی؟ ہم کسی سے کم تھوڑی۔نا ہیں۔؟ ہم کو بھی بہوت جور کی ماڈرنزم آئی وئی ہے۔ ۔ ہم بھی اسکن ٹائن لباس میں پریگننسی کے نویں مہینے میں اسٹیج پر چڑھ جاویں گے۔ ۔ ۔ کیونکہ؟ ؟ ؟

او بولو تے سئی؟

کیونکہ یہ عورت کے جسم کے ایکسپوژر کی صدی ہے۔

محمود فیاض

30/09/2026

جب آپ کسی سے کہیں کہ بھائی نماز کا پابندی سے اہتمام کیا کرو اور وہ کہے کہ چلو چلو، خود کی داڑھی اتنی چھوٹی ہے مجھے نہ سکھاؤ۔ ۔ کیا وہ صحیح کہہ رہا ہے؟
جب کسی کو سمجھائیں کہ بیٹا چوری کرنا ٹھیک عمل نہیں ہے اور وہ الزامی جواب دے کہ پہلے جاکر پوری دنیا کو سدھارو، فلاں شرابی ہے ہے فلاں شبابی۔ معاشرے میں اتنی برائیاں ہیں اور تمہیں صرف میری چوری نظر آتی ہے۔ ۔؟ کیا اس کا جواب دلیل کے میدان میں قابلِ قبول ہوگا؟
فرض کیجیے کسی زنا بالجبر کے مجرم کو عدالت میں پیش کیا جائے اور قاضی اس سے پوچھے کہ بتا تو نے ایسا کیوں کیا؟ تو کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ: سنو یار جج بھائی کن فضول چکروں میں پڑے ہو، وہ دیکھو معاشرے میں کیا ہو رہا ہے؟ کتنے لوگ مر رہے ہیں، اور تم ہو کے میرے چھوٹے سے زنا کے پیچھے خوار ہو رہے ہو۔ ۔ ایسے جواب پر اگر جج سزا سنائے تو کیا وہ حق رکھتا ہے کہ یہ کہہ سکے کہ پہلے جا کر دنیا کے تمام برے کاموں میں ملوث لوگوں کو سزا دو، سدھارو پھر مجھے آکر چھیڑنا؟
یا پھر وہ عورت جو مسلمان کہلاتی تھی مگر بے حیا تھی، مرنے کے بعد، روزِ آخر میدانِ حشر میں رب کی بارگاہ میں کھڑی ہوگی، اس سے سوال ہوگا کہ تو نے کیوں اپنی پاکدامنی اور شرمگاہ کی حفاظت نہیں کی؟ کیوں مائل کرنے والیوں میں شامل ہوگئی؟ کیا اسے یہ کہنے کا حق ہوگا کہ میں تو کچھ بھی نہیں دنیا میں تو مجھ سے بڑی بڑی بے حیا عورتیں موجود ہیں۔ ۔ مجھے جنت بھیجیں اور ان کو جہنم بھیج دیجیے۔ نہیں ناں؟
اسی طرح جب نکاحِ ثانی کے نظریے پر بات کی جاتی ہے تب بھی تمام عدل کی شرائط، حقوق و فرائض کو مدِ نظر رکھ کر ہی صرف اہل افراد کو کہا جاتا ہے۔ ۔ لیکن وہاں یہ کسی کو اس کا ذاتی مسئلہ نہیں محسوس ہوتا، سب آجاتے ہیں لبرل اصطلاحات و تعبیرات لے کر جج کرنے اور بھاشن دینے کہ کیا یہی ایک موضوع ہے؟ ہاں جی یہی وہ موضوع ہے جو آپ کے نفس پر وار کرتا ہے اور جسے دبانا آپ کے لیے مجاہدہ ہوگا۔ ورنہ تو موضوع بہت ہیں پر ہر موضوع دُکھتی رگ پر نہیں ہوتا تو آپ کو نہ نظر آتا ہے نہ نکلیف ہوتی ہے۔ ۔
کیا کسی ایک کی غلطی دوسرے کی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی دلیل بن سکتی ہے؟ کیا معاشرے کا بگاڑ سدھارنے کی کوئی لسٹ ہے کہ جب تک مسئلہ نمبر 1 حل نہ ہو جائے تب تک مسئلہ نمبر دو پر بات نہیں کی جا سکتی؟ بھائی اپنی اپنی استطاعت اور ایمان کے مطابق سنت کے راستے میں کوئی چھوٹا عمل بھی صحیح سے کرلو تو وہ جہالت کے راستے میں میدان فتح کرنے سے افضل کے۔ ۔ صحیح اور غلط کا معیار مغرب، نفس، مادہ پرستی، ذاتی عقل، شیطانیت، سیکولر ازم، باطلانہ نظریات ہیں یا اسلامی شریعت؟ تو براہِ کرم دلائل بھی شرعی فراہم کریں۔ ۔
مشرکین مکہ کی یہ عادات تھیں کہ جب انہیں کہا جاتا اسلام میں داخل ہو جاؤ تو وہ فرمائشیں کرتے کہ اچھا پہلے یہ شرط مان لو یا یہ معاہدہ کرلو، ان چیزوں پر گنجائش دو اور انہیں چھوڑ دو، ایسے قوانین ہم ہر لاگو نہ کرو نیز ہم مسلم ہو جائیں گے پر ہمارے بتوں کو ہم سے دور نہ کیجیو۔ ۔
ارے صاحبہ! بوفے نہیں لگا ہوا یہاں۔ نہ ہی نکاح کسی کا ذاتی مسئلہ ہے۔ ۔ یہ معاشرتی مسئلہ ہے۔ ۔ کامل ضابطہِ حیات کے عطا کردہ ستونوں میں سے اہم ستون ہے۔ فرض نہ پہلے کسی نے کہا تھا نہ اب کہا ہے۔ ۔ لیکن نکاح پسندیدہ عمل ہے۔ ۔ خصوصاً اس پر فتن دور میں جہاں زنا اس قدر عام ہو چکا ہے۔ اور پاکستان جیسے ملک میں جہاں مرد کی کفالت و حفاظت اس وقت لازم کی سی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، صرف جسمانی تقاضے کے طور پر نہیں، نفسیاتی، معاشی، مالی، روحانی، جانی اور ایمانی نقصانات سے بچنے کے لیے۔
اس پر ستم یہ گھسی پٹی لائن " صرف اسی بات پر اسلام یاد آتا ہے" تو سنیں! اسلام یاد کیا آئے گا، اسلام تو کسی بات پر بھی بھلایا نہیں جاتا، ہمارا ہر موضوع ہی اسلام پر ہوتا ہے،ہاں کچھ لوگوں کو کھٹکتے صرف وہ اسلامی موضوع ہیں جنہیں انہوں نے اپنی آزمائیش کے لیے چن لیا ہے۔ ۔
جو محض ایک عام سی تحریر تھی اس پر کچھ شخصیات نے کہا کہ "ایسے میں کچھ غیر ملکی آسودہ حال افراد دوسری شادی کی کیمپین چلا رہے ہیں؟ " اچھا ؟ جیسے یہ جملا اور اوصاف لکھ دینے سے بات میں کو قطعی دلیل پیدا ہوگئی ہو۔ خیر، میں یہاں وضاحت کیے دیتا ہوں کہ اس کیمپین کی افتتاح کا سہرا آپ ہی کے سر جاتا ہے، اب چوں کہ کیمپین شروع ہو ہی گئی ہے تو ادھورا تو چھوڑا نہیں جا سکتا۔ ۔ اسے ان شاء اللہ مکمل کریں گے۔ ۔ پر ایک تصیح کرنا چاہیں گے۔ ۔ یہ کیمپین 'دوسری شادی' پر نہیں، "چار شادیوں کی جائز وجوہات، ضروریات اور مقاصد پر ہوگی"۔ نیز موجودہ زمینی حقائق پر بھی روشنی ڈالیں گے۔
ان شاء اللہ ہماری بھرپور کوشش ہوگی کہ کوئی بات خلافِ دین، خلافِ انصاف نہ ہو، نیز اگر ایسا امر واقع ہو جائے تو مدلل طریقے سے نشاندہی اور رہنمائی کیجیے، ہم اللہ کے فضل سے اعلانیہ رجوع کریں گے۔ ۔ ہاں ہماری کوئی بات کسی کی انا پر ضرب مارے تو ہم نہیں! سامنے والے کا نفس اور ظرف قصوروار ہے۔
اللہ ہم سب کے ایمان سلامت رکھے، نفس کے ہاتھوں بہکنے سے بچائے، اور حق بات کہنے، سننے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ۔
انعام الحق آزاد قیدی۔ ۔

28/09/2026

محبت...
(18 پلس)......

انگریز بے حیا ہے، زانی ہے، شرابی ہے، پر منافق نہیں... اسے پتہ ہے کہ سیکس کے بغیر محبت کا کوئی تصور نہیں. لہٰذا جب وہ محبت کرتا ہے تو "آخر تک" کرتا ہے...
اسے (مین میڈ) مذہب سے چھٹکارے کی ضرورت کیوں پڑی؟ کیوں کہ مذہب نے اسکو مجبور کر رکھا تھا کہ بس ایک شادی کرو اور ساری زندگی اسی کے ساتھ گزارو. طلاق کا بھی کوئی تصور نہیں. تو بیچارہ بغاوت نہ کرتا تو کیا کرتا...

اب ہمارے ہاں دیکھیے. انسانی جبلت تو ہماری بھی وہی ہے. محبت ہو گی تو "گیم" کو "اینڈ" کئیے بنا چین کہاں آئے گا...
سو ہمارے لیے ہماری فطرت کے خالق نے فطری تقاضوں کی آبیاری کیلئے کئی راستے رکھے. ایک سے لے کر چار تک نکاح، بمعہ طلاق کی سہولت... اور لونڈیاں اس پر مستزاد... بس سیکس کی طرف سے بے فکر ہو جاؤ اور تعمیری سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو...

ہم نے کیا کِیا؟

چار تو دور کی بات، ایک نکاح کو بھی محال بنا دیا. کم عمری کی شادی کو جرم. زیادہ شادیوں کو باعث عار...
اور جہاد سے فراغت ہوئی تو لونڈیوں کی آپشن بھی ختم...

اب اسلام کو تو چھوڑ نہیں سکتے اور محبت تو فطری تقاضہ ہے لیکن اب اس موئے سیکس کا کیا کریں؟

تو جناب، آپ سب کیلئے یہ پیکجز حاضر ہیں، دیدہ زیب پیکنگ میں:

"پاکیزہ محبت"

"روحانی محبت"

"عشق حقیقی تک لے جانے والا عشق مجازی"

لہٰذا اردو ادب میں کیا ملتا ہے؟

نا آسودہ عاشق جو لور لور پھرتا ہے... ساری جوانی پاکیزہ محبت میں گزار کر، محض "روحانی تعلق" کو سینچتا... بلکہ کھینچتا رہتا ہے... آخر میں جب اصل گول یعنی سیکس یعنی نکاح کی باری آتی ہے تو لڑکی کا باپ غربت کی وجہ سے "ٹھڈ کرا دیتا ہے" اور یہ محبوبہ کے بچوں کا ماموں بن کر سردیوں کی شاموں میں اداس شاعری کرتا اور رقیب "رسیاہ" کو کوستا رہتا ہے...

لیکن آج کے بچے ان پھسپھسے ڈھکوسلوں میں نہیں آتے... آپ نے بھی دینِ الہی کو مین میڈ مذہب بنا کر رکھ دیا ہے. اور بچے اس سے بغاوت پر اتر آئے ہیں... اب وہ محبت کریں یا نہ کریں.... "آخر تک" ضرور جاتے ہیں.... اور آپ بیٹھے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں....

خدارا دین کو اسکے فطری مزاج کے ساتھ اپنے گھروں میں نافذ کریں، معاشرے میں خود بخود ہو جائے گا... ورنہ فیمن ازم، ہم جنس پرستی، لبرل ازم وغیرہ جیسے عفریت آپکی نسل کو تقریباً نگل چکے ہیں...!!!

(ڈاکٹر رضوان اسد خان)

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dear Future Wives posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share