Dr Abdul Mannan

Dr Abdul Mannan Writer | Teacher | Rehab Specialist
Health & Safety | Special Educationist
(1)

قطر میں میرے ایک پاکستانی سینئر جو کہ گزشتہ 27 سال سے قطر میں مقیم ہیں۔کل ہی بتا رہے تھے کہ ان 27 سالوں میں صرف دو مرتبہ...
14/08/2026

قطر میں میرے ایک پاکستانی سینئر جو کہ گزشتہ 27 سال سے قطر میں مقیم ہیں۔کل ہی بتا رہے تھے کہ ان 27 سالوں میں صرف دو مرتبہ قطری پولیس نے ان سے ID Card چیک کیا ہے۔
پاکستان میں رہتے ہوئے میرے لیے یہ بالکل معمول کی بات تھی کہ جب کبھی گھر سے نکلوں تو راستے میں کوئی نہ کوئی ادارہ ناکہ لگائے “چیکنگ” کا منتظر ہوتا ہے۔ سونے پر سہاگہ کہ میرے پاس 125 بائیک تھی جو ویسے ہی مشکوک مجھی جاتی ہے۔ لیٹ نائیٹ کسی سنسان راستے پر چوروں سے زیادہ پولیس والوں کو دیکھ کر دل خوفزدہ ہو جاتا ہے۔
جگہ جگہ ID کارڈ، گاڑی اور کپڑوں کہ تلاشی پاکستان میں اتنا عام عمل ہے کہ ہم اسے زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں، اس پر حیران بھی نہیں ہوتے۔نجانے ادارے گلیوں، چوڑاہوں اور شہروں میں ناکے لگا کر کیا تلاش کر رہے ہیں جو پچھلے 79 سال سے نہیں ڈھونڈ پائے۔
اپنے ملک میں روزانہ کی پولیس چیکنگ ہمیں معمول محسوس ہوتی ہے۔ جبکہ قطر میں ایک غیر ملکی شہری کی حیثیت سے بھی اتنے طویل عرصے میں محض دو مرتبہ شناخت پوچھا جانا۔
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے ملک سے زیادہ پردیس میں آزاد ہیں۔۔
خیر رسمِ دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے
حکومت عوام کو اور عوام باجے کو بجاتے جائیں اور جشنِ آزادی مناتے جائیں۔

Congratulations dr suresh Kumar Congratulations to the Entire Physiotherapy Community .A Significant Legal and Professio...
13/08/2026

Congratulations dr suresh Kumar

Congratulations to the Entire Physiotherapy Community .A Significant Legal and Professional Achievement

Alhamdulillah, heartfelt congratulations to the entire physiotherapy community, particularly the Sindh physiotherapy community and our young physiotherapists, on this important achievement before the Sindh High Court regarding paid house jobs for physiotherapy house officers and the principle of equivalence in stipend/remuneration with MBBS house officers.

This is a significant development for the professional recognition, career progression, and future of our young physiotherapists. I especially appreciate the courage and determination of the students and young professionals who pursued this matter through the appropriate legal forum.

I would also like to acknowledge Mr. Asif Gulzar for his strong and consistent support for these students throughout this matter. His efforts and commitment deserve appreciation.

I sincerely congratulate the Sindh Physiotherapy Community, the students, and their senior colleagues who stood with them during this struggle. This achievement demonstrates that legitimate professional rights can be pursued through lawful and constitutional means.

At the same time, this development raises an important professional question for the Allied Health Professionals Council and other relevant regulatory authorities:

Where does the Council stand on these fundamental professional issues?

Regulation and accreditation are certainly important functions of a professional regulatory body. However, the Council’s responsibilities should also include ensuring that the professional rights, clinical training, career pathways, house-job opportunities, and implementation of appropriate standards for physiotherapists are effectively addressed within the regulatory framework.

Establishing and accrediting educational institutions is only one part of professional regulation. The more important responsibility is to ensure that appropriate standards, SOPs, clinical training requirements, house-job structures, and professional pathways are actually implemented and monitored.

The issue of paid house jobs, appropriate stipend, and recognition/equivalence is particularly important because it directly affects the future of our graduates. The recent Sindh High Court development provides an important legal and professional reference point, and the relevant authorities should ensure that the implications of the judgment/order are properly understood and implemented in accordance with law.

Similarly, regulatory authorities should proactively engage with provincial healthcare regulators to ensure that physiotherapists are appropriately recognized within applicable healthcare laws, rules, and licensing frameworks, consistent with their lawful scope of practice.

Another area requiring attention is the provision of verification, good-standing certificates, and other professional documentation for physiotherapists seeking employment or registration abroad. Such services should be provided through transparent, efficient, legally defined procedures, particularly when delays in verification or licensing may adversely affect graduates pursuing international opportunities.

My sincere advice to the relevant Allied Health regulatory authorities is therefore:

Please prioritize the core professional and clinical needs of physiotherapists alongside institutional accreditation and regulatory functions.

Regulation should ultimately serve the profession, protect the public, maintain clinical standards, and facilitate the legitimate professional development of our graduates.

As Federal President, Pakistan Physiotherapy Association, I believe that our regulatory bodies and professional associations should work together rather than in isolation. We welcome constructive engagement with all relevant authorities for the betterment of physiotherapy and allied health professionals across Pakistan.

Once again, heartiest congratulations to the Sindh Physiotherapy Community and, most importantly, to the students and young physiotherapists who pursued this matter.

Pakistan Physiotherapy Association stands shoulder to shoulder with the physiotherapy community on every legitimate professional issue and will continue to support efforts aimed at strengthening the profession through lawful, constitutional, and evidence-based means.

Congratulations, Sindh Physiotherapy Community!
This is an important step forward for the future of physiotherapy in Pakistan.

JazakAllah Khair.

Dr. Muhammad Aamir Saeed
Federal President
Pakistan Physiotherapy Association (PPTA)

07/08/2026

Not an art gallery, just another public washroom in Qatar.

🇵🇰🥭قطر میں پاکستانی آموں کی دھوم🇶🇦کل Pakistan Mango Festival 2026 سوق واقف (Doha) جانے کا موقع ملا، جہاں پاکستان کے اعلی...
17/07/2026

🇵🇰🥭قطر میں پاکستانی آموں کی دھوم🇶🇦

کل Pakistan Mango Festival 2026 سوق واقف (Doha) جانے کا موقع ملا، جہاں پاکستان کے اعلیٰ معیار کے آموں کی خوشبو اور ذائقے نے ہر دنیا بھر کے شائقین کو اپنی طرف متوجہ کر رکھا تھا۔

صرف تازہ آم ہی نہیں، بلکہ مینگو سموسہ( جو میں نے پہلی بار ٹیسٹ کیا)، مینگو ڈیزرٹس، مینگو شیک، مینگو Pasta اور آم سے تیار کی گئی کئی منفرد ڈشز بھی دیکھنے اور چکھنے کو ملیں۔

سب سے خوبصورت منظر یہ تھا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگ پاکستانی آموں کا ذائقہ لے رہے تھے اور ان کی بھرپور تعریف کر رہے تھے۔ واقعی، پاکستانی آم اپنے ذائقے اور خوشبو کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔

اگر آپ دوحہ میں ہیں، تو یہ مینگو فیسٹیول ضرور وزٹ کریں۔ یہ صرف ایک فوڈ فیسٹیول نہیں، بلکہ پاکستان کے ذائقے، ثقافت اور مہمان نوازی کی خوبصورت جھلک بھی ہے۔ 🇵🇰❤️🥭

I accidentally captured this couple during sunset. I walked over and showed them the photos, and they just started admir...
12/07/2026

I accidentally captured this couple during sunset. I walked over and showed them the photos, and they just started admiring each other with the biggest smiles. Moments like these make photography so special. ❤️🌅

قطر میں آپ کو اکثر  پبلک /سیاحتی مقامات پرکھجوروں کے درخت نظر آئیں۔  مثلاً مساجد کے باہر، گرین بیلٹ پر، کسی پارک میں یا ...
08/07/2026

قطر میں آپ کو اکثر پبلک /سیاحتی مقامات پرکھجوروں کے درخت نظر آئیں۔ مثلاً مساجد کے باہر، گرین بیلٹ پر، کسی پارک میں یا کسی صحرا یا بیابان میں۔ اس موسم میں کھجوریں درختوں سے پک کر گرنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اور یہاں آپ ایسے درختوں سے کھجورویں کھا سکتے ہیں جو کسی کی ملکیت نہیں ہیں۔ قطر میں یہ غیرقانونی نہیں ہے۔
ان کھجوروں میں مٹھاس بھی مارکیٹ میں بکنے والی کھجوروں سے زیادہ ہے۔ شاید لمبے عرصے تک سٹور کرنے سے ذائقے میں کچھ فرق آتا ہوں۔علاقائی پھل اس موسم کے لحاظ سے بہترین غذائیت مہیا کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں عام تصور پایا جاتا ہے کہ کھجور کی “تاثیر گرم” ہوتی ہے، اس لیے اسے گرمیوں میں کم کھانا چاہیے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کھجور صدیوں سے عرب کے صحراؤں میں بنیادی غذا رہی ہے۔ یہ قدرتی شکر، فائبر، پوٹاشیم، میگنیشیم اور دیگر مفید غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہے، جو شدید گرمی میں جسم کو فوری توانائی فراہم کرتے ہیں۔ البتہ پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے کھجور کے ساتھ مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی سنت سے بھی کھجور کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تازہ کھجور (رُطَب) کو کھیرے کے ساتھ تناول فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ “ہم اس کی گرمی کو اس کی ٹھنڈک سے اور اس کی ٹھنڈک کو اس کی گرمی سے متوازن کرتے ہیں۔” (سنن ابی داؤد، حدیث: 3836)

اسی طرح حضرت عائشہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھجور کو پانی میں بھگو کر نبیذ تیار فرماتے اور ایک یا دو دن کے اندر اسے استعمال فرما لیتے تھے۔ (صحیح مسلم)

قدرت نے ہر علاقے میں وہاں کے موسم کے مطابق بہترین غذائیں پیدا کی ہیں، اور کھجور اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ اعتدال کے ساتھ استعمال کی جائے تو یہ نہ صرف مزیدار بلکہ انتہائی مفید غذا بھی ہے۔
کیا آپ نے کبھی کھجور کو پانی میں بھیگو کر یاکھیرے کے ساتھ تناول کیا ہے؟

08/07/2026

“مرد مرنے کو بھی تیار ہے”

قطر میں جس ادارے میں کام کرتا ہوں چند روز قبل کمپنی کے ایک حصے میں explosion ہوا۔ چند لوگ جانبحق ہوئے اور متعدد زخمی۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کے اثرات سے قریبی علاقے بھی متاثر ہوئے۔ یہ High risk فیلڈ ہے۔ غلطی کہاں ہوئی، ذمہ دار کون ہیں اور نقصان کاتخمینہ لگانے پر بہت وقت لگ جاتا ہے۔ ابھی تک investigation جاری ہے۔
فلفور تو حکومت کی طرف سے زخمیوں کیلئے علاج بمع پیسے اور جانبحق ہونے والے غیر ملکی شہریوں کے اہلِ خانہ کو کڑوروں روپے ادا کیے گئے۔
دھماکے کے بعد ایک دن میں نے دو ورکرز کو یہ کہتے سنا کہ
“ہمیں معلوم ہوتا کہ وہاں دھماکہ ہونا ہے تو ہم بھی وہاں ڈیوٹی کر لیتے۔ ہمارے مرنے کے بعد گھر والوں کو اتنی رقم تو مل جاتی کہ ان کی زندگی سہل ہو جاتی۔ اتنا پیسے تو ہم ساری زندگی محنت کر کے نہیں کما سکتے جتنی رقم مر کر ہمارے گھر والوں کو مل جاتی”۔
میں نے انہیں منع تو کیا کہ موت کی تمنا نہیں کرتے۔ لیکن ان کی باتیں میرے ذہن میں کھٹکتی رہیں۔
مرد اپنے گھر والوں کیلئے کس حد تک قربانی دینے کو تیار ہوتا ہے۔ لوگ سال ہا سال گھر والوں سے دور پردیس کاٹ رہے ہیں۔ اور پیاروں سے دور ، ربوٹ کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ گھر والوں کو بھی مرد گھر کا فرد کم ATM زیادہ لگنے لگتا ہے۔ اس لیے شاید مرد اپنی موت کا سودا کرنے کو بھی تیار ہیں۔ خواہش اتنی سی ہے کہ گھر والوں کی زندگی آسان ہو جائے۔

“مرد مرنے کو بھی تیار ہے”میں جس ادارے میں کام کرتا ہوں چند روز قبل کمپنی کے ایک حصے میں explosion ہوا۔ چند لوگ جانبحق ہو...
04/07/2026

“مرد مرنے کو بھی تیار ہے”
میں جس ادارے میں کام کرتا ہوں چند روز قبل کمپنی کے ایک حصے میں explosion ہوا۔ چند لوگ جانبحق ہوئے اور متعدد زخمی۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کے اثرات سے قریبی علاقے بھی متاثر ہوئے۔ یہ High risk فیلڈ ہے۔ غلطی کہاں ہوئی، ذمہ دار کون ہیں اور نقصان کاتخمینہ لگانے پر بہت وقت لگ جاتا ہے۔ ابھی تک investigation جاری ہے۔
فلفور تو حکومت کی طرف سے زخمیوں کیلئے علاج بمع پیسے اور جانبحق ہونے والے غیر ملکی شہریوں کے اہلِ خانہ کو کڑوروں روپے ادا کیے گئے۔
دھماکے کے بعد ایک دن میں نے دو ورکرز کو یہ کہتے سنا کہ
“ہمیں معلوم ہوتا کہ وہاں دھماکہ ہونا ہے تو ہم بھی وہاں ڈیوٹی کر لیتے۔ ہمارے مرنے کے بعد گھر والوں کو اتنی رقم تو مل جاتی کہ ان کی زندگی سہل ہو جاتی۔ اتنا پیسے تو ہم ساری زندگی محنت کر کے نہیں کما سکتے جتنی رقم مر کر ہمارے گھر والوں کو مل جاتی”۔
میں نے انہیں منع تو کیا کہ موت کی تمنا نہیں کرتے۔ لیکن ان کی باتیں میرے ذہن میں کھٹکتی رہیں۔
مرد اپنے گھر والوں کیلئے کس حد تک قربانی دینے کو تیار ہوتا ہے۔ لوگ سال ہا سال گھر والوں سے دور پردیس کاٹ رہے ہیں۔ اور پیاروں سے دور ، ربوٹ کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ گھر والوں کو بھی مرد گھر کا فرد کم ATM زیادہ لگنے لگتا ہے۔ اس لیے شاید مرد اپنی موت کا سودا کرنے کو بھی تیار ہیں۔ خواہش اتنی سی ہے کہ گھر والوں کی زندگی آسان ہو جائے۔

قطر میں اپریل سے اکتوبر تک موسم انتہائی گرم رہتا ہے، بلخصوص جون، جولائی اور اگست میں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چلتے پھرتے...
03/07/2026

قطر میں اپریل سے اکتوبر تک موسم انتہائی گرم رہتا ہے، بلخصوص جون، جولائی اور اگست میں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چلتے پھرتے انسان کا باربی کیو بن جائے۔ دن چڑھتے ہی Heat Index اکثر 50+ تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ دیگر بہت سے گرم ممالک کی نسبت یہاں Heat Stroke کے کیسز نسبتاً کم دیکھنے میں آتے ہیں۔
وجہ صرف موسم نہیں، بلکہ سخت حفاظتی نظام بھی ہے۔

ہماری ڈیوٹی آفس ورک کے ساتھ ساتھ آؤٹ ڈور بھی ہوتی ہے، جہاں Heat Index عموماً 44 سے 55 کے درمیان رہتا ہے۔ مگر ہر ملازم کے لیے کمپنی کے چند لازمی اصول ہیں:

• سر ڈھکا ہونا چاہیے۔
• پانی کی بوتل ہر وقت ساتھ ہونی چاہیے (کمپنی فراہم کرتی ہے)۔
• بلاوجہ دھوپ میں کھڑا رہنے کی اجازت نہیں۔
• ہر آدھے گھنٹے کے بعد کم از کم 10 منٹ کا آرام (AC یا کم از کم سائے میں) لازمی ہے۔
• ہر 15 منٹ بعد پانی پینے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
• واش رومز میں جگہ جگہ Urine Color Charts لگے ہوتے ہیں تاکہ ہر شخص اپنی Hydration خود بھی مانیٹر کر سکے۔

یہ اصول اختیاری نہیں ہیں۔ ان پر عمل نہ کرنا کمپنی کی Safety Violations میں شمار ہوتا ہے، اور جان بوجھ کر بار بار خلاف ورزی (Intentional Violations) کرنے پر terminate بھی کیا جا سکتا ہے۔

عرب لباس کا ایک اہم حصہ سر کا رومال، یعنی شیماگ (Shemagh) ہے۔ یہ صرف روایت نہیں بلکہ صحرا کی شدید گرمی، گرم ہواؤں اور ریت کے طوفانوں سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ سر، چہرہ اور گردن محفوظ رہتے ہیں جبکہ کھلا لباس جسم کو ہوا بھی پہنچاتا رہتا ہے۔ عرب لوگ آپ کو اپنے روایتی لباس میں ہی نظر آئیں گے۔

پنجاب میں بھی ہمارے بزرگ کھلے ڈھلے کپڑے پہنتے تھے اور سر پر پگڑی رکھتے تھے، جو ہمارے موسم کے لحاظ سے نہایت موزوں لباس تھا۔ مگر وقت کے ساتھ شاید ہم اپنے روایتی لباس سے دور ہوتے گئے۔ نجانے کیوں پنجابیوں کو اپنی روایات ، زبان، لباس اور پگڑی سے نفرت ہو گئی ہے۔ آج کی نئی نسل میں بہت سے نوجوان نہ اپنی مادری زبان روانی سے بول پاتے ہیں اور نہ ہی پگڑی یا دھوتی باندھنا یا دیگر روایتی لباس سے واقف ہیں۔

قصہ مختصر، Heat Stress سے بچنے کے لیے:

• علاقائی موسم کے مطابق لباس پہنیں، سر ضرور ڈھانپیں اور ڈھیلے کپڑے استعمال کریں۔
• لسی، سردائی، ستو، روو یا دیگر مشروبات استعمال کریں، یا کم از کم بار بار پانی پیتے رہیں۔ پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں۔
• غیر ضروری کام تیز دھوپ (Direct Sunlight) میں نہ کریں۔
• اگر چکر آئیں، زیادہ پسینہ آئے، نظر دھندلائے یا جسم میں کمزوری محسوس ہو تو فوراً سائے یا ٹھنڈی جگہ پر جا کر آرام کریں۔

گرم جوشی سے ملیں، مگر گرمی سے بچیں۔
اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں۔

عبدالمنان

Address

Allama Iqbal Town
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Abdul Mannan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Abdul Mannan:

Shortcuts

Share