22/12/2025
ایسا لگتا ہے جیسے یہ سب کل ہی کی بات ہو۔ جیسے ابھی کل ہی پہلی بار چانڈکا میں قدم رکھا تھا۔ نئے چہرے تھے، اجنبی راستے تھے اور دل میں عجیب سا ڈر بھی تھا۔ لیکن وقت کو کس نے روکا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پانچ سال گزر
گئے اور ہمیں خبر ہی نہ ہوئی آج جب بیچ 54 کے لڑکے لڑکیوں کو داخلوں کے انٹرویو دیتے دیکھا تو اپنا پہلا دن آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ وہی گھبراہٹ، وہی امیدیں، وہی خواب۔ دل کو عجیب سا احساس ہوا کہ جیسے ہم کل ہی آئے تھے اور آج اپنا سب کچھ یہیں چھوڑ کر آگے جا رہے ہیں
چانڈکا صرف ایک یونیورسٹی نہیں، ایک گھر جیسی جگہ ہے۔ یہاں آ کر اجنبی لوگ آہستہ آہستہ اپنے بن گئے۔ کسی کے ساتھ ہنسی بانٹی، کسی کے ساتھ دکھ۔ یہاں دوست بھی ملے اور کچھ ایسے لوگ بھی ملے جن کی حقیقت وقت کے ساتھ سامنے آئی۔ مگر یہی زندگی ہے، ہر جگہ ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں چانڈکا نے ہمیں صرف کتابیں نہیں پڑھائیں بلکہ زندگی سمجھائی۔ برداشت کرنا، بات کرنا، مختلف لوگوں کے ساتھ چلنا سب یہیں سیکھا۔ یہاں ہمیں ہر مزاج کا انسان ملا، کوئی بہت سادہ، کوئی مطلبی، کوئی دل کا صاف اور کوئی خود غرض۔ اور سچ تو یہی ہے کہ انہی سب لوگوں کے بیچ رہ کر انسان بڑا ہوتا ہے یہ پانچ سال کبھی بہت خوبصورت لگے اور کبھی بہت مشکل۔ کبھی قہقہوں سے بھرے ہوئے اور کبھی آنکھیں نم کر دینے والے۔ مگر ان سب کے بغیر یہ سفر ادھورا تھا۔ یہاں سے ہم صرف ڈگری نہیں بلکہ یادوں کا ایک پورا جہاں ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔
یونیورسٹی کی زندگی واقعی عجیب ہوتی ہے۔ وقت کا پتا ہی نہیں چلتا۔ تھکے ہوتے ہیں مگر ہنسی رکتی نہیں۔ کلاس کے بعد ایک کپ چائے ہی سب سے بڑی خوشی بن جاتی ہے۔
ہاسٹل کی وہ شامیں کون بھول سکتا ہے جب کمروں میں لڈو کے میچ ہوتے تھے، شور بھی، ہنسی بھی اور جیت ہار پر بحث بھی۔ کبھی ایک ڈائس پوری رات دوستی کا فیصلہ کرتی رہتی تھی اور وہ دن جب بغیر کسی پلان کے سب نکل پڑتے تھے۔ کبھی سڑکوں پر گھومنا، کبھی کسی چھوٹی سی چائے کی دکان پر رک جانا، کبھی بس یونہی چلتے رہنا۔ انہی لمحوں میں زندگی سب سے زیادہ اپنی لگتی تھی۔
پھر زندگی نے امتحان بھی لیا۔ حالات خراب ہوئے تو چہرے خود ہی سامنے آتے گئے۔ تب سمجھ آیا کہ اصل دوست کون ہوتا ہے۔ جو مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہو، زیادہ بات نہ کرے مگر بوجھ بانٹ لے، وہی اصل اپنا ہوتا ہے۔ ایسے رشتے وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے سچے دوستوں کے ساتھ وقت کا احساس ہی نہیں رہتا جیب خالی ہو مگر دل بھرا ہو تو چار لوگوں میں بانٹی گئی ایک چائے بھی کافی لگتی ہے بغیر کہے سب ایک دوسرے کو سمجھ لیتے ہیں اس سفر میں کچھ خواب ادھورے بھی رہ گئے۔ کچھ خواہشیں پوری نہ ہو سکیں۔ کچھ راستے ہم نے خود چھوڑ دیے اور کچھ ہمیں چھوڑ گئے۔ مگر شاید یہی ادھوراپن انسان کو مضبوط بناتا ہے اور یہی یادیں ہمیں ہمارے ماضی سے جوڑے رکھتی ہیں آخر میں بس یہی کہنا ہے کہ یہی زندگی ہے۔ چانڈکا سے الوداع کہنا ہی تھا اور آگے بڑھنا ہی تھا وقت کسی کے لیے نہیں رکتا آج ایک باب ختم ہو رہا ہے مگر کہانی ابھی باقی ہے۔ آگے بہت سا سفر ہے، نئی آزمائشیں ہیں اور نئی کہانیاں ہمارا انتظار کر رہی ہیں۔ چانڈکا پیچھے رہ جائے گا مگر اس کی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی آخر میں میرے لئے دعا کریں کہ آنے والا سفر آسان ہو آمین۔