Dr M Jumshaid-Paediatric Surgeon

Dr M Jumshaid-Paediatric Surgeon Dedicated and state of the art Pediatric Surgery Facility available at Qadir Ali Hospital near Ghora Chowk, katchehri road Layyah for Neonates and Children

23/02/2026

پاکستان میں ایک خاموش تبدیلی آ چکی ہے، مگر شاید ہم نے اسے محسوس نہیں کیا۔
آج بہت سے ڈاکٹر مریض کے علاج سے زیادہ ایک اور چیز کے بارے میں سوچتے ہیں — خود کو بچانا۔
اسے دنیا میں Defensive Medicine کہا جاتا ہے۔

یعنی ایسا علاج جو صرف مریض کی ضرورت کے مطابق نہیں بلکہ ممکنہ شکایات، مقدمات، سوشل میڈیا ٹرائل یا انتظامی دباؤ سے بچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

ظاہر ہے سننے میں یہ عجیب لگتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب کسی نظام میں اعتماد کمزور ہو جائے تو فیصلے طبّی اصولوں کے بجائے خوف کے تحت ہونے لگتے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں اسپتالوں پر حملے، ڈاکٹرز کے خلاف تشدد، سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق الزامات، اور فوری سزا کے مطالبات نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ڈاکٹر ہر فیصلہ کرتے وقت یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اگر نتیجہ توقع کے مطابق نہ نکلا تو کیا ہوگا۔

نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

غیر ضروری ٹیسٹ بڑھ جاتے ہیں کیونکہ “کچھ رہ نہ جائے”۔
مریض کو جلدی ریفر کر دیا جاتا ہے کیونکہ “خطرہ نہ لیا جائے”۔
مشکل کیس لینے سے گریز کیا جاتا ہے کیونکہ “رسک زیادہ ہے”۔

بظاہر یہ احتیاط لگتی ہے، مگر اصل میں اس کا نقصان مریض اور نظام دونوں کو ہوتا ہے۔

عالمی تحقیق بتاتی ہے کہ defensive medicine صحت کے اخراجات کو نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔ غیر ضروری ٹیسٹ، اضافی داخلے، اور بار بار ریفرل نہ صرف مریض کی جیب پر بوجھ بنتے ہیں بلکہ اسپتالوں کی صلاحیت بھی کم کر دیتے ہیں۔ ایمرجنسی وارڈ بھرے رہتے ہیں، انتظار کا وقت بڑھتا ہے، اور اصل ضرورت مند مریض پیچھے رہ جاتے ہیں۔

سب سے خطرناک اثر اعتماد کا ٹوٹنا ہے۔

جب ڈاکٹر خوف میں فیصلہ کرتا ہے اور مریض شک میں علاج لیتا ہے تو علاج ایک انسانی تعلق نہیں رہتا بلکہ ایک قانونی لین دین بن جاتا ہے۔ طب جو کبھی ہمدردی اور اعتماد پر کھڑی تھی، آہستہ آہستہ دفاعی رویوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

دنیا کے کامیاب صحت نظاموں نے اس مسئلے کو صرف قوانین سے نہیں بلکہ توازن سے حل کیا۔ واضح میڈیکل پروٹوکول، آزاد میڈیکل ریویو بورڈز، ڈاکٹرز کے لیے قانونی تحفظ، اور مریضوں کے لیے شفاف شکایتی نظام تاکہ انصاف بھی ہو اور خوف بھی نہ ہو۔

پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ احتساب نہیں ہونا چاہیے۔ احتساب ضروری ہے۔ مگر جب احتساب نظام کے ذریعے نہیں بلکہ ہجوم، دباؤ یا جذبات کے ذریعے ہونے لگے تو بہترین ڈاکٹر بھی خطرہ لینے سے ہچکچانے لگتے ہیں۔

اور طب میں بعض اوقات زندگی بچانے کے لیے خطرہ لینا پڑتا ہے۔

اگر ہم واقعی بہتر صحت نظام چاہتے ہیں تو ہمیں ایک بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا:

کیا ہم ایسا ماحول بنا رہے ہیں جہاں ڈاکٹر بہترین طبی فیصلہ کر سکے؟
یا ایسا ماحول جہاں وہ صرف محفوظ فیصلہ کرے؟

کیونکہ محفوظ فیصلہ ہمیشہ بہترین علاج نہیں ہوتا۔

جب ڈاکٹر خوف میں کام کرے گا تو نظام مہنگا بھی ہوگا اور کمزور بھی۔
اور جب اعتماد واپس آئے گا تو علاج بھی بہتر ہوگا اور انسانیت بھی۔

Copied

07/01/2026

6 اور 7 جنوری 2026 کو کیئر پوائنٹ کلینک نزد کمھاراں
والا پھاٹک میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔

شام 4 سے 8 بجے تک ڈاکٹر محمد جمشید نے مریضوں کا مفت معائنہ کیا اور 200 کے قریب مریضوں کو مفت ادویات مہیا کی گئیں۔

بچوں اور بڑوں کے معائنہ اور علاج کیلئے کیئر پوائنٹ کلینک تشریف لائیں





_*2روزہ فری میڈیکل کیمپ*_ ڈاکٹر محمد جمشید انصاریفری میڈیکل کیمپ 6 اور 7 جنوری بروز منگل اور بدھ۔مفت معائنہ، مفت ادویات ...
04/01/2026

_*2روزہ فری میڈیکل کیمپ*_

ڈاکٹر محمد جمشید انصاری

فری میڈیکل کیمپ 6 اور 7 جنوری بروز منگل اور بدھ۔

مفت معائنہ، مفت ادویات

*کیئر پوائنٹ کلینک نزد کمھاراں والا پھاٹک لیہ*

Address

Qadir Ali Hospital Near Ghora Chowk Layyah, , Doctors Hospital, In Front Of Post Graduate College Layyah
Leiah
31200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr M Jumshaid-Paediatric Surgeon posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category