17/07/2025
**جعلی دوا بنانے اور بیچنے والوں سے ایک سوال – کتنے بچوں کے تم قاتل ہو؟**
کبھی تمہاری آنکھوں نے وہ منظر دیکھا ہے جب ایک بچہ، دوا کی امید لیے اسپتال میں تڑپتا ہے اور دوا کھانے کے بعد… زندگی اسے چھوڑ جاتی ہے؟
پھر ماں کو اپنے لختِ جگر کی لاش سے لپٹ کر روتے دیکھا ہے؟
تو سنو!
*وہ دوا جعلی تھی…*
اور وہ دوا **تم نے** بنائی تھی!
تم سمجھتے ہو تم نے صرف ایک دوائی بنائی ہے؟ نہیں! تم نے کسی ماں کی **مسکراہٹ چھینی ہے**،
کسی باپ کی **امید توڑی ہے**،
کسی بچے کا **مستقبل دفن کیا ہے**،
اور کسی ماں کو **زندگی بھر کا دکھ دے دیا ہے**۔
-----
# # # اے جعلی دوا بنانے اور بیچنے والے!
کس دل سے تم دوا کی بوتل میں پانی، چاک، یا نقلی کیمیکل ڈالتے ہو؟
کس ضمیر سے تم اس پر اصل کمپنی کا لیبل لگاتے ہو؟
کیا تم نے کبھی سوچا کہ اگر یہی دوا *تمہارے بچے** کو دی جائے؟
یا تمہیں یہ گوارا ہے کہ تمہارے والدین جعلی دوا کھا کر جان دے دے؟
*تو پھر دوسروں کے باپ، بیٹے، بیٹیاں، مائیں کیا تمہیں انسان نہیں لگتے؟*
-----
# # # اللہ کا فرمان ہے:
"وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًۭا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَـٰلِدًۭا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمًۭا"
*"اور جو کوئی کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اللہ کا غضب اس پر ہوگا، اور اللہ نے اس پر لعنت کی ہے اور اس کے لیے بڑا دردناک عذاب تیار کیا ہے۔"*
(سورۃ النساء، آیت 93)
**تمہارے لیے دائمی جہنم، اللہ کا غضب، لعنت، اور شدید عذاب ہے۔**
یاد رکھو! تمہاری جعلی دوا کے سبب سے ہونے والی ہر موت **تمہارے اعمال نامے میں لکھی جا چکی ہے**۔
تم بچ بھی گئے قانون سے، لیکن **رب کی عدالت سے کبھی نہیں بچ سکتے!**
> **"إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ"**
> *(الفجر: 14)*
> *"یقیناً تمہارا رب گھات میں ہے!"**
-----
# # # ❖ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> **"من غشّ فليس منا"**
> *(صحیح مسلم)*
> **"جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے!"**
تم کس کے امتی ہو؟ رسولِ رحمت ﷺ کے یا تم شیطان کے دوست ہو؟
کیونکہ رسول ﷺ تو فرماتے ہیں "دھوکہ دینے والا ہم میں سے نہیں"،
اور تم روزانہ سینکڑوں کو دھوکہ دیتے ہو،
تو تم کس صف میں ہو؟
-----
# # # تمہارا انجام کیا ہوگا؟
*کیا تم نے کبھی قبر کا اندھیرا دیکھا؟*
کیا تم نے سنا ہے کہ مظلوم کی آہ عرش ہلا دیتی ہے؟
*تمہاری دی ہوئی دوا سے جو جان گئی، اس کا درد آسمان تک جاتا ہے…*
کل قیامت کے دن، وہی مریض تمہیں پہچانے گا،۔وہ بچہ، وہ ماں، وہ باپ… سب تمہارا گریبان پکڑیں گے،
اور کہیں گے:
*"یا اللہ! یہ وہی ظالم ہے کہ جب مجھے دوا کی ضرورت تھی تو اس نے مجھے ذہر پلا دیا تھا۔ یہ وہی ظالم ہے"*
تب تم کیا کرو گے؟
-----
# # # تمہارے لئے اب بھی وقت ہے — توبہ کرو:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ"
(الزمر: 53)
ترجمہ: کہہ دو: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو، یقیناً اللہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔
اگر تم سچے دل سے توبہ کر لو، موت کا تجارت چھوڑ دو، اور لوگوں کی بھلائی شروع کر دو — تو اللہ تمہیں معاف کر دے گا۔
حرام کا نوالہ اپنے بچوں کے منہ میں مت ڈالو، مت بیچو وہ زہر جو دوا کے نام پر موت بانٹے،
*اللہ سے ڈرو…*
اپنی آخرت بچا لو…
ورنہ اللہ کا قہر ایسے آتا ہے کہ نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
-----
# # # آخری سوال:
*کیا تم اللہ کو اپنا رب مانتے ہو؟*
اگر ہاں…
تو پھر اس کے بندوں کے ساتھ ظلم کیوں؟
اس کے حکم کو ٹھکرا دیا، دنیا کے تھوڑے سے پیسے کے لیے،
کیا اپنی **ہمیشہ کی زندگی** برباد کر دو گے؟
-----
**خدارا! جعلی دوا بند کرو!
اللہ کے غضب سے پہلے،
لوگوں کی بددعاؤں سے پہلے،
*اپنے رب سے معافی مانگ لو…*
*یہ کاروبار نہیں، یہ ظلم ہے!*
یہ منافع نہیں، یہ قتل ہے!
**اور یہ زندگی نہیں… یہ بربادی ہے!**
اور *تمہارے لیے دائمی جہنم، اللہ کا غضب، لعنت، اور شدید عذاب ہے۔**
اسچے دل سے اللہ کے سامنے توبہ کر لو۔