CP Children’s Care & Support Centre

CP Children’s Care & Support Centre Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from CP Children’s Care & Support Centre, Doctor, 7 SIRA CHOCK M. B. DIN, Mandi Bahauddin.
(4)

ہر بچہ منفرد ہے، اور ہر بچہ ہماری پوری توجہ، محبت اور بہترین مواقع کا حق دار ہے یاد رکھیں!
آج اٹھایا گیا ایک درست قدم، کل آپ کے بچے کی کامیابی، خود اعتمادی اور خوشحال زندگی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

💙 خصوصی بچوں کے لیے خصوصی توجہہر بچہ اپنی جگہ خاص ہے…کچھ بچے ہماری توجہ کے ساتھ ساتھ اضافی محبت، صبر اور خصوصی نگہداشت ک...
12/08/2026

💙 خصوصی بچوں کے لیے خصوصی توجہ

ہر بچہ اپنی جگہ خاص ہے…
کچھ بچے ہماری توجہ کے ساتھ ساتھ اضافی محبت، صبر اور خصوصی نگہداشت کے بھی مستحق ہوتے ہیں۔

آٹزم، سی پی، ADHD، ذہنی و نشوونما کی تاخیر یا دیگر خصوصی ضروریات رکھنے والا بچہ بوجھ نہیں—وہ ایک ذمہ داری، ایک امانت اور بے شمار صلاحیتوں کا مالک ہے۔ ❤️

انہیں ترس نہیں،
سمجھنے والا ہاتھ چاہیے۔
انہیں تنقید نہیں،
حوصلہ دینے والی آواز چاہیے۔
انہیں نظر انداز نہیں،
بروقت تھراپی، تعلیم، تربیت اور محبت چاہیے۔

یاد رکھیں، ہر بچے کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔
کسی بچے کا آج کا ایک چھوٹا قدم، کل کی ایک بڑی کامیابی بن سکتا ہے۔ 🌱

آئیے خصوصی بچوں کو صرف زندہ رہنے نہیں، بلکہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع دیں۔

طاہر ہولسٹک ہیلنگ
‏Special Care for Special Children
💙 محبت • توجہ • تھراپی • تربیت • امید
0345-6940692/0332-8033140

الحجامہ علاج بھی سنت بھی ہر قسم کے پرانے ، پیچیدہ ذہنی ،جسمانی اور روحانی امراض کا علاج نوٹ:تشریف لانے سے پہلے فون پر ٹا...
11/08/2026

الحجامہ علاج بھی سنت بھی
ہر قسم کے پرانے ، پیچیدہ
ذہنی ،جسمانی اور روحانی امراض کا علاج
نوٹ:
تشریف لانے سے پہلے فون پر ٹائم لے لیں
بغیر اپاؤنٹمنٹ الحجامہ تھراپی نہیں کی جاتی

‎صحت کے نظام کا مستقبل — صرف علاج نہیں بلکہ بچاؤ ہے‎ایک دن ہسپتال کا بستر کسی کی جان بچا سکتا ہے۔‎لیکن اگر ہم اس شخص کو ...
10/08/2026

‎صحت کے نظام کا مستقبل — صرف علاج نہیں بلکہ بچاؤ ہے

‎ایک دن ہسپتال کا بستر کسی کی جان بچا سکتا ہے۔

‎لیکن اگر ہم اس شخص کو اس بستر کی ضرورت پڑنے سے پہلے ہی بیمار ہونے سے روک سکیں تو کیا ہوگا؟

‎اگر ہم خاندان کو صحت مند غذائیت کے بارے میں آگاہ کر دیں اور ایک بچہ ذیابیطس کے بغیر صحت مند زندگی گزار سکے تو کیا ہوگا؟
‎اگر کسی نوجوان کو اس کے بلڈ پریشر، وزن اور طرزِ زندگی کے بارے میں بروقت سمجھا دیا جائے اور وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہونے سے بچ جائے تو کیا ہوگا؟
‎اگر کسی بزرگ والدین کی بیماری ناقابلِ واپسی ہونے سے پہلے ہی تشخیص کر لی جائے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ مزید صحت مند سال گزار سکیں تو کیا ہوگا؟

‎صحت کی دیکھ بھال اس وقت شروع نہیں ہونی چاہیے جب انسان شدید بیمار ہو جائے۔

‎صحت کی دیکھ بھال اس سے بہت پہلے شروع ہونی چاہیے۔

‎آج دل کی بیماریاں، ذیابیطس، موٹاپا، کینسر اور دیگر غیر متعدی بیماریاں خاندانوں اور صحت کے نظام پر ایک بہت بڑا بوجھ ڈال رہی ہیں۔ ہم پیچیدگیوں کے علاج پر اربوں خرچ کرتے ہیں، حالانکہ بچاؤ اکثر سادہ مگر مؤثر اقدامات سے شروع کیا جا سکتا ہے:

‎• 🥗 بہتر غذائیت اور صحت مند غذائی ماحول
‎• 🚶 باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی
‎• 🚭 تمباکو اور نشہ آور اشیا کے استعمال سے بچاؤ
‎• 🩺 بروقت اسکریننگ اور بیماری کے خطرے کا جائزہ
‎• 🧠 ذہنی اور سماجی بہبود
‎• 🏫 اسکولوں اور کمیونٹی میں صحت کی تعلیم
‎• 🏥 مضبوط اور قابلِ رسائی بنیادی صحت کی سہولیات
‎• 📊 شواہد پر مبنی اور اعداد و شمار سے رہنمائی حاصل کرنے والی عوامی صحت کی پالیسیاں

‎ٹیکنالوجی ہسپتالوں کو مسلسل تبدیل کرتی رہے گی۔ مصنوعی ذہانت، جدید سرجری، نئی ادویات اور جدید تشخیصی طریقے بے شمار جانیں بچائیں گے۔

‎لیکن صحت کے شعبے کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ نہ ہو کہ آخری لمحے میں کسی مریض کی جان بچا لی جائے۔

‎بلکہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس مریض کو پہلی جگہ بیمار ہونے سے ہی روک دیا جائے۔

‎کیونکہ ہر بیماری کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے۔

‎ایک ماں۔
‎ایک باپ۔
‎ایک بچہ۔
‎ایک شریکِ حیات۔
‎ایک دوست۔

‎اور ہر قابلِ تدارک بیماری کے پیچھے ایک ایسا خاندان ہوتا ہے جسے برسوں کی تکلیف، مالی بوجھ اور نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

‎لہٰذا صحت کے نظام کا مستقبل ردِعمل سے بچاؤ کی طرف، بیماری مرکوز علاج سے انسان مرکوز نگہداشت کی طرف، اور بیماری کے علاج سے صحت کے تحفظ کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔

‎طب کا حتمی مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ انسان زیادہ عرصہ زندہ رہے۔

‎بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ انسان زیادہ طویل، زیادہ صحت مند اور زیادہ بامقصد زندگی گزارے۔

‎بچاؤ صحت کے نظام کا صرف مستقبل نہیں ہے۔

‎بچاؤ ہی وہ صحت کا نظام ہے جسے ہمیں آج تشکیل دینا چاہیے۔

Tahir Holistic Healing & Research Institute
0345-6940692
0332-8033140

‎صحت کے نظام کا مستقبل — صرف علاج نہیں بلکہ بچاؤ ہے‎ایک دن ہسپتال کا بستر کسی کی جان بچا سکتا ہے۔‎لیکن اگر ہم اس شخص کو ...
09/08/2026

‎صحت کے نظام کا مستقبل — صرف علاج نہیں بلکہ بچاؤ ہے

‎ایک دن ہسپتال کا بستر کسی کی جان بچا سکتا ہے۔

‎لیکن اگر ہم اس شخص کو اس بستر کی ضرورت پڑنے سے پہلے ہی بیمار ہونے سے روک سکیں تو کیا ہوگا؟

‎اگر ہم خاندان کو صحت مند غذائیت کے بارے میں آگاہ کر دیں اور ایک بچہ ذیابیطس کے بغیر صحت مند زندگی گزار سکے تو کیا ہوگا؟
‎اگر کسی نوجوان کو اس کے بلڈ پریشر، وزن اور طرزِ زندگی کے بارے میں بروقت سمجھا دیا جائے اور وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہونے سے بچ جائے تو کیا ہوگا؟
‎اگر کسی بزرگ والدین کی بیماری ناقابلِ واپسی ہونے سے پہلے ہی تشخیص کر لی جائے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ مزید صحت مند سال گزار سکیں تو کیا ہوگا؟

‎صحت کی دیکھ بھال اس وقت شروع نہیں ہونی چاہیے جب انسان شدید بیمار ہو جائے۔

‎صحت کی دیکھ بھال اس سے بہت پہلے شروع ہونی چاہیے۔

‎آج دل کی بیماریاں، ذیابیطس، موٹاپا، کینسر اور دیگر غیر متعدی بیماریاں خاندانوں اور صحت کے نظام پر ایک بہت بڑا بوجھ ڈال رہی ہیں۔ ہم پیچیدگیوں کے علاج پر اربوں خرچ کرتے ہیں، حالانکہ بچاؤ اکثر سادہ مگر مؤثر اقدامات سے شروع کیا جا سکتا ہے:

‎• 🥗 بہتر غذائیت اور صحت مند غذائی ماحول
‎• 🚶 باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی
‎• 🚭 تمباکو اور نشہ آور اشیا کے استعمال سے بچاؤ
‎• 🩺 بروقت اسکریننگ اور بیماری کے خطرے کا جائزہ
‎• 🧠 ذہنی اور سماجی بہبود
‎• 🏫 اسکولوں اور کمیونٹی میں صحت کی تعلیم
‎• 🏥 مضبوط اور قابلِ رسائی بنیادی صحت کی سہولیات
‎• 📊 شواہد پر مبنی اور اعداد و شمار سے رہنمائی حاصل کرنے والی عوامی صحت کی پالیسیاں

‎ٹیکنالوجی ہسپتالوں کو مسلسل تبدیل کرتی رہے گی۔ مصنوعی ذہانت، جدید سرجری، نئی ادویات اور جدید تشخیصی طریقے بے شمار جانیں بچائیں گے۔

‎لیکن صحت کے شعبے کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ نہ ہو کہ آخری لمحے میں کسی مریض کی جان بچا لی جائے۔

‎بلکہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس مریض کو پہلی جگہ بیمار ہونے سے ہی روک دیا جائے۔

‎کیونکہ ہر بیماری کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے۔

‎ایک ماں۔
‎ایک باپ۔
‎ایک بچہ۔
‎ایک شریکِ حیات۔
‎ایک دوست۔

‎اور ہر قابلِ تدارک بیماری کے پیچھے ایک ایسا خاندان ہوتا ہے جسے برسوں کی تکلیف، مالی بوجھ اور نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

‎لہٰذا صحت کے نظام کا مستقبل ردِعمل سے بچاؤ کی طرف، بیماری مرکوز علاج سے انسان مرکوز نگہداشت کی طرف، اور بیماری کے علاج سے صحت کے تحفظ کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔

‎طب کا حتمی مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ انسان زیادہ عرصہ زندہ رہے۔

‎بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ انسان زیادہ طویل، زیادہ صحت مند اور زیادہ بامقصد زندگی گزارے۔

‎بچاؤ صحت کے نظام کا صرف مستقبل نہیں ہے۔

‎بچاؤ ہی وہ صحت کا نظام ہے جسے ہمیں آج تشکیل دینا چاہیے۔

Tahir Holistic Healing & Research Institute
0345-6940692
0332-8033140

کبھی کسی ماں نے رات کی تنہائی میں خود سے یہ سوال ضرور کیا ہوگا…“آخر مجھ سے ایسی کیا کمی رہ گئی کہ میرا بچہ آٹسٹک ہے؟”اگر...
07/08/2026

کبھی کسی ماں نے رات کی تنہائی میں خود سے یہ سوال ضرور کیا ہوگا…

“آخر مجھ سے ایسی کیا کمی رہ گئی کہ میرا بچہ آٹسٹک ہے؟”

اگر یہ سوال کبھی آپ کے دل میں آیا ہے، تو آج خود کو معاف کر دیجیے۔

آٹزم کسی ماں کی غلطی نہیں۔
یہ نہ کسی گناہ کی سزا ہے، نہ لاپرواہی کا نتیجہ، اور نہ ہی ناقص تربیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ موجودہ سائنسی شواہد کے مطابق آٹزم ایک نیوروڈیولپمنٹل حالت ہے، جس کی تشکیل میں جینیاتی عوامل کے ساتھ دیگر حیاتیاتی عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ہم اکثر صرف اتنا دیکھتے ہیں کہ بچہ بولتا کم ہے، آنکھوں میں کم دیکھتا ہے، یا مختلف رویے اختیار کرتا ہے…
لیکن ہم یہ نہیں دیکھ پاتے کہ وہ اپنے جسم کے اندر کتنی خاموش جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔

بہت سے آٹسٹک بچوں میں دماغ اور جسم کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا انداز مختلف ہوتا ہے، جس کی وجہ سے:

💙 بعض بچوں کو قبض، اسہال، گیس یا معدے کی دیگر مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

💙 جب انہیں درد ہوتا ہے تو وہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے، اس لیے کبھی چیختے ہیں، کبھی خود کو مارتے ہیں، کبھی شدید بے چینی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ضد نہیں، بلکہ تکلیف کی زبان ہو سکتی ہے۔

💙 کچھ بچوں میں درد یا چھونے کے احساس کی شدت عام بچوں سے مختلف ہوتی ہے۔ کسی کو شدید چوٹ بھی کم محسوس ہوتی ہے، جبکہ کسی کو ہلکا سا لمس بھی ناقابلِ برداشت لگ سکتا ہے۔

💙 بعض بچوں میں بھوک، پیٹ بھرنے یا جسمانی ضروریات کے احساسات بھی مختلف انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔

💙 نیند کے مسائل بھی بہت عام ہیں، جس کی وجہ سے صرف بچہ ہی نہیں بلکہ پوری فیملی، خاص طور پر ماں، شدید جسمانی اور ذہنی تھکن سے گزرتی ہے۔

💙 کچھ بچوں کو توازن برقرار رکھنے، جسمانی حرکات کو منظم کرنے یا اپنے جسم کے احساس کو سمجھنے میں بھی دشواری پیش آتی ہے۔

اس لیے جب آپ کسی آٹسٹک بچے کو دیکھیں تو صرف اس کا رویہ نہ دیکھیں…
یہ بھی سوچیں کہ شاید وہ ایسی مشکلات سے لڑ رہا ہے جنہیں وہ خود بیان بھی نہیں کر سکتا۔

اور اگر آپ ایک آٹسٹک بچے کی ماں یا والد ہیں، تو یاد رکھیے:

آپ ناکام نہیں ہیں۔
آپ ہر دن ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جسے دنیا اکثر دیکھ ہی نہیں پاتی۔

اپنے بچے کو محبت دیجیے، قبولیت دیجیے، وقت دیجیے، اور اس کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر خوش ہونا سیکھ لیجیے۔

آٹسٹک بچوں کو ترس نہیں…
سمجھ، احترام، صبر اور غیر مشروط محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔

آئیے، ہم سب مل کر ایسا معاشرہ بنائیں جہاں آٹسٹک بچے خود کو مختلف نہیں بلکہ قابلِ قبول محسوس کریں، اور جہاں ہر ماں خود کو قصوروار نہیں بلکہ باوقار اور مضبوط سمجھے۔

— طاہر ہولسٹک ہیلنگ اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ

اپنے بچے کی توجہ زیادہ دیر تک برقرار رکھنے کے لیے 3 آسان طریقےکیا آپ کو بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا بچہ 5 منٹ سے زیا...
06/08/2026

اپنے بچے کی توجہ زیادہ دیر تک برقرار رکھنے کے لیے 3 آسان طریقے

کیا آپ کو بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا بچہ 5 منٹ سے زیادہ کسی ایک سرگرمی پر توجہ برقرار نہیں رکھ پاتا؟ یہ ایک عام مسئلہ ہے، لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ آپ اس میں اس کی مدد کر سکتے ہیں۔ توجہ اور ارتکاز بڑھانے کے لیے یہ تین آسان طریقے آزمائیں:

1. توجہ بٹانے والی چیزیں کم کریں: ایک پرسکون اور مخصوص جگہ منتخب کریں جہاں بچہ سرگرمی انجام دے۔ ٹی وی بند کر دیں اور وہ کھلونے ہٹا دیں جن کی اس کام کے دوران ضرورت نہیں۔
2. کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں: ابتدا صرف 5 یا 10 منٹ کے مختصر دورانیے سے کریں، پھر بچے کی عمر اور توجہ کی صلاحیت کے مطابق آہستہ آہستہ وقت بڑھائیں۔
3. مخصوص انداز میں تعریف کریں: صرف “شاباش” کہنے کے بجائے کہیں، “مجھے بہت اچھا لگا کہ تم نے پوری توجہ سے یہ پزل مکمل کیا!” اس طرح کی تعریف بچے کو مزید توجہ سے کام کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

آج ہی یہ طریقے گھر پر آزمائیں اور ہمیں بتائیں کہ ان سے کیا فرق پڑا۔ آپ کے خیال میں آپ کے بچے کی توجہ بڑھانے میں کون سی چیز سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہے؟ اپنے تجربات نیچے شیئر کریں! 👇

💙 کیا آپ جانتے ہیں؟ہر سال ہزاروں بچے سیریبرل پالسی (Cerebral Palsy - CP) کے ساتھ زندگی کا سفر شروع کرتے ہیں، مگر افسوس ک...
02/08/2026

💙 کیا آپ جانتے ہیں؟

ہر سال ہزاروں بچے سیریبرل پالسی (Cerebral Palsy - CP) کے ساتھ زندگی کا سفر شروع کرتے ہیں، مگر افسوس کہ ان میں سے بہت سے بچے بیماری سے زیادہ معاشرے کی لاعلمی کا شکار ہوتے ہیں۔

کچھ لوگ انہیں “کمزور”، “ناقابلِ علاج” یا “ہمیشہ دوسروں کے محتاج” سمجھ لیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ درست وقت پر تشخیص، مناسب تھراپی، والدین کی تربیت اور مسلسل بحالی (Rehabilitation) سے یہی بچے اپنی زندگی میں حیرت انگیز ترقی کر سکتے ہیں۔

💙 ہر بچہ ایک موقع کا مستحق ہے… صرف ہمدردی کا نہیں، بلکہ صحیح رہنمائی کا بھی۔

اگر ایک بچہ چل نہیں سکتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سیکھ نہیں سکتا۔
اگر ایک بچہ بول نہیں سکتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے احساسات نہیں ہیں۔
اگر ایک بچہ دوسروں سے مختلف ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے خواب بھی مختلف ہیں۔

🌱 آئیے، ہم سب مل کر ایسے معاشرے کی تعمیر کریں جہاں خصوصی بچوں کو ترس نہیں بلکہ عزت، محبت، تعلیم، علاج اور برابر کے مواقع ملیں۔

📢 Cerebral Palsy Awareness Program

اس آگاہی پروگرام میں آپ جان سکیں گے:

✅ سیریبرل پالسی کیا ہے؟
✅ اس کی ابتدائی علامات کیا ہیں؟
✅ بروقت تشخیص کیوں ضروری ہے؟
✅ فزیوتھراپی، اسپیچ تھراپی اور آکوپیشنل تھراپی کا کردار
✅ والدین گھر پر اپنے بچے کی بہتر دیکھ بھال کیسے کر سکتے ہیں؟
✅ غذائیت، نفسیاتی معاونت اور بحالی کے مؤثر طریقے
✅ خصوصی بچوں کے حقوق اور معاشرے کی ذمہ داریاں

💙 آئیں، علم بانٹیں… امید جگائیں… اور ہر خصوصی بچے کے روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

Tahir Holistic Healing & Research Institute
Empowering Special Children… Supporting Families… Building Hope.

بہت سی جسمانی بیماریاں ایسی ہیں جن میں ذہنی دباؤ (Stress)، بے چینی (Anxiety)، ڈپریشن (Depression)، صدمہ (Trauma) یا طویل...
29/07/2026

بہت سی جسمانی بیماریاں ایسی ہیں جن میں ذہنی دباؤ (Stress)، بے چینی (Anxiety)، ڈپریشن (Depression)، صدمہ (Trauma) یا طویل نفسیاتی تناؤ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بیماریاں “صرف ذہن کی پیداوار” ہیں، بلکہ ذہنی عوامل ان کے آغاز، شدت یا علامات کو بڑھا سکتے ہیں۔

1. اعصابی (Neurological) مسائل

* ٹینشن ہیڈیک (Tension Headache)
* مائیگرین
* چکر آنا
* جسم کے مختلف حصوں میں سن ہونا یا جھنجھناہٹ (جب دیگر جسمانی وجوہات خارج ہو جائیں)

2. دل اور دورانِ خون

* ہائی بلڈ پریشر
* دل کی دھڑکن تیز ہونا (Palpitations)
* سینے میں درد (بعض اوقات Anxiety کی وجہ سے)
* دل کی بیماریوں کا خطرہ مسلسل ذہنی دباؤ سے بڑھ سکتا ہے۔

3. نظامِ ہاضمہ

* معدے کی تیزابیت (Acidity)
* گیس اور اپھارہ
* چڑچڑا آنتوں کا مرض (Irritable Bowel Syndrome - IBS)
* متلی
* بھوک میں کمی یا زیادتی

4. عضلات اور ہڈیاں

* گردن، کندھوں اور کمر کا درد
* پٹھوں کا کھچاؤ
* جبڑے کا درد یا دانت پیسنا (Bruxism)
* بعض افراد میں فائبرومائیلجیا (Fibromyalgia) کی علامات زیادہ شدید ہو سکتی ہیں۔

5. جلد کی بیماریاں

* ایگزیما
* چنبل (Psoriasis)
* مہاسے (Acne)
* خارش یا الرجی کی شدت میں اضافہ

6. سانس کے مسائل

* دمہ (Asthma) کے دوروں میں اضافہ
* سانس پھولنے کا احساس (خاص طور پر Panic Attack میں)

7. ہارمونل اور تولیدی مسائل

* خواتین میں ماہواری کی بے قاعدگی
* جنسی خواہش میں کمی
* مردوں میں Erectile Dysfunction
* بانجھ پن کے علاج کے دوران ذہنی دباؤ نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔

8. نیند کے مسائل

* بے خوابی
* بار بار نیند ٹوٹنا
* ڈراؤنے خواب
* دن بھر تھکن

9. قوتِ مدافعت

* بار بار انفیکشن ہونا
* زخموں کا دیر سے بھرنا
* بعض خودکار مدافعتی (Autoimmune) بیماریوں کی علامات کا بڑھ جانا

10. نفسیاتی دباؤ سے وابستہ جسمانی علامات (Psychosomatic Symptoms)

ایسے افراد میں تمام ٹیسٹ نارمل ہونے کے باوجود درج ذیل علامات موجود ہو سکتی ہیں:

* پورے جسم میں درد
* شدید تھکن
* گلے میں کچھ پھنسنے کا احساس
* ہاتھ پاؤں کانپنا
* سانس کی گھٹن
* سینے میں جکڑن
* معدے کی تکلیف

اہم بات

اگر کسی شخص کو جسمانی علامات مسلسل رہیں، شدید ہوں، یا نئی شروع ہوئی ہوں تو پہلے طبی معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کروانا ضروری ہے تاکہ کسی حقیقی جسمانی بیماری کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اگر معائنے کے بعد ذہنی دباؤ یا اضطراب اہم وجہ ثابت ہو، تو نفسیاتی علاج (جیسے CBT)، اسٹریس مینجمنٹ، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش، اور ضرورت پڑنے پر ادویات سے اکثر نمایاں بہتری آتی ہے۔

جسم اور ذہن ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں؛ ذہنی صحت بہتر ہونے سے بہت سی جسمانی علامات بھی کم ہو سکتی ہیں، جبکہ جسمانی بیماری خود بھی ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ تعلق دو طرفہ ہے۔

تصور کریں کہ دماغ کے ٹیومر کا علاج بغیر کسی آپریشن اور چیر پھاڑ کے ممکن ہو جائے۔ڈاکٹرز اس وقت فوکسڈ الٹراساؤنڈ (Focused ...
25/07/2026

تصور کریں کہ دماغ کے ٹیومر کا علاج بغیر کسی آپریشن اور چیر پھاڑ کے ممکن ہو جائے۔

ڈاکٹرز اس وقت فوکسڈ الٹراساؤنڈ (Focused Ultrasound) نامی جدید ٹیکنالوجی پر تحقیق کر رہے ہیں، جس میں انتہائی درست آوازی لہروں (Sound Waves) کے ذریعے دماغ کے ٹیومر کو نشانہ بنا کر تباہ کیا جاتا ہے، بغیر جلد یا کھوپڑی کو کاٹے۔

یہ طاقتور لہریں کھوپڑی سے گزر کر دماغ کے گہرے حصوں تک پہنچتی ہیں اور ٹیومر کو ہدف بناتی ہیں، جبکہ اردگرد کے صحت مند دماغی ٹشوز کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسن اور فوکسڈ الٹراساؤنڈ فاؤنڈیشن کے محققین کے مطابق، ابتدائی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طریقہ مخصوص دماغی ٹیومرز کو محفوظ اور مؤثر انداز میں ہدف بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دماغی کینسر سے متاثرہ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے، ایسا علاج جس میں نہ بڑا آپریشن ہو اور نہ ہی طویل بحالی کا مرحلہ، امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم، یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ فوکسڈ الٹراساؤنڈ ابھی تحقیق اور کلینیکل آزمائشوں کے مرحلے میں ہے اور یہ علاج ابھی دنیا کے تمام اسپتالوں میں دستیاب نہیں۔

اس کے باوجود، یہ پیش رفت اس مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں دماغ کا علاج بغیر کھوپڑی کھولے بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ سائنس خاموشی سے دماغی بیماریوں کے علاج کا انداز بدل رہی ہے۔

ماخذ:
• University of Maryland School of Medicine
• Focused Ultrasound Foundation

Address

7 SIRA CHOCK M. B. DIN
Mandi Bahauddin
50400

Opening Hours

Wednesday 10:00 - 20:00
Thursday 10:00 - 20:00

Telephone

03456940692

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when CP Children’s Care & Support Centre posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to CP Children’s Care & Support Centre:

Shortcuts

Share

Category