Dr Muhammad Nadeem

Directions

Dr Muhammad Nadeem تحقیق کے رسیا ہیں

ایک ضروری تنبیہ ایک طبقہ تو وہ ہے جسے اوراد و وظائف اور مشائخ کرام کی مجالس و تربیت کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوتی ۔ یہ پوس...
16/08/2026

ایک ضروری تنبیہ

ایک طبقہ تو وہ ہے جسے اوراد و وظائف اور مشائخ کرام کی مجالس و تربیت کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوتی ۔ یہ پوسٹ ان کے لئے نہیں ہے کہ وہ دلیل لیں کہ دیکھو اوراد و وظائف کی کوئی اہمیت ہی نہیں

یہ پوسٹ ان لوگوں کے لئے ہے جو اوراد و وظائف کو ان کے جائز درجے سے بڑھا لیتے ہیں اور ان کو ہی حاصل تصوف سمجھتے ہیں ۔

محمد ندیم

اوراد و وظائف کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ کیا اوراد وظائف ہی اصل تصوف ہے یا مقصود کوئی اور چیز ہے ؟بعض لوگوں اوراد وظائف کی ب...
16/08/2026

اوراد و وظائف کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ کیا اوراد وظائف ہی اصل تصوف ہے یا مقصود کوئی اور چیز ہے ؟

بعض لوگوں اوراد وظائف کی بڑی پاپندی کرتے ہیں ۔
شیخ صاحب کے بتلائے ہوئے وظائف میں کوتاہی نہیں کرتے ۔ اوراد وظائف و مجاہدات وغیرہ میں ناغہ ہونے پر بڑے بے چین ہو جاتے ہیں ۔

بہت اچھی بات ہے ۔ ان معمولات کی پاپندی ہونی بھی چاہئے ۔ ان کی پابندی کے بغیر پوری کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اسے صوفیاء کرام اہتمام معمولات سے یاد کرتے ہیں۔ معمولات میں اہتمام سے ہی ان کا ثمر چکھا کا سکتا ہے ۔

لیکن ایک بات بڑی پریشان کن ہے ۔ ایک بڑی تعداد اس کی طرف سے غفلت میں پڑی ہوئی ہے حالانکہ حضرات صوفیاء کرام اس بات پر کافی زور بھی دیتے ہیں لیکن اس کی طرف سے مسلسل غفلت بڑھتی جا رہی ہے ۔

وہ بات یہ ہے کہ مشائخ کرام کے بتلائے ہوئے اوراد وظائف کا شرعی حکم کیا ہے ؟ آیا یہ اپنی ذات میں مقصود ہیں ؟ یا کسی اور مقصد کا ذریعہ ہیں ؟

اوراد و وظائف شرعی حکم کے حوالے سے خود حضرات صوفیاء کرام بار بار عرض کر چکے ہیں کہ ان کا حکم ایسا ہی جیسے جسمانی علاج معالجے میں ادویات کا ہے ۔ اپنی ذات میں یہ مستحب کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ان کی اصل قرآن و حدیث میں جا بجا موجود ہے جس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں

اوراد و وظائف صوفیاء کرام کے سالہا سال کے تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں ۔ ان سے سلوک و احسان کے باب میں کافی مدد ملتی ہے ۔

حضرت ڈاکٹر صاحب دامت برکاتہم سے تو یہاں تک بار بار سنا ہے کہ مجاہدہ چوں کہ معالجہ ہے اس لئے اس کا مسنون و ماثور ہونا بھی ضروری نہیں بلکہ اس باب میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئی ایسا ورد ، وظیفہ یا مجاہدہ نہ ہو جسے شریعت نے ناجائز قرار دے دیا ہو ۔

ایک بار ایک مستند دار الافتاء کے ایک مفتی صاحب سے عملیات کے ایک عمل کے بارے میں پوچھا کہ مختلف راستوں کا کوڑا جمع کر کے بچے کو علاج کے سلسلے میں دھونی دی جاتی ہے کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ تو انہوں ایک اصول بیان کر دیا کہ علاج کے سلسلے میں
ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ یہ سنت ہے یا نہیں ؟ یا یہ عمل حدیث سے ثابت ہے یا نہیں ؟ بلکہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس عمل میں کوئی خلاف شرع بات نہ ہو ۔ اسے ایک تدبیر اور علاج سمجھ کر کیا جائے ، دین سمجھ کر نہیں تو اس میں کیا برائی ہے ؟؟

اکثر حضرت ڈاکٹر صاحب دامت برکاتہم فرمایا کرتے ہیں کہ پیناڈول سر درد کی دوا ہے ۔ مولوی صاحب سے لے کر عام آدمی تک سارے بے دھڑک استعمال کر رہے ہیں لیکن آج تک یہ سوال کیوں نہیں پیدا ہوا کہ یہ مسنون و ماثور ہے کہ نہیں ؟ آیا یہ احادیث مبارکہ کے اتنے بڑے ذخیرے سے ثابت ہے بھی یا نہیں ؟

چوں کہ پیناڈول کا استعمال ایک دوا کے طور پر ہوتا ہے اس لئے ان کے بارے میں اس طرح کا ثبوت مانگنا یا دینا کسی صورت بھی درست طرز عمل نہیں ہے بلکہ کھلی حماقت ہے ۔

ہمارے ہاں خانقاہوں سے تعلق رکھنے والی ایک کثیر تعداد اس غلط روش کا شکار ہو چکی ہے کہ مشائخ کرام کے بتلائے ہوئے اوراد وظائف اپنی ذات میں مقصود کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اگرچہ کچھ سالکین زبانی کلامی تو اتنا کہہ دیتے ہیں کہ یہ اوراد و وظائف تو علاج کے سلسلے کی ادویات ہیں اس لئے اپنی ذات میں مقصود نہیں لیکن عملی چال چلن کے لحاظ سے بہرحال وہ بھی اس غلط روش کا شکار ہو چکے ہیں ۔ ان کا رویہ ان اوراد وظائف کے ساتھ مقصود کے درجے کا ہی ہے۔اکثریت اوراد وظائف کو ہی تصوف کا حاصل سمجھتی ہے ۔

ہمارے ڈاکٹر صاحب دامت برکاتہم اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ اناڑی مشائخ اپنے مریدین کو شیخ الوظائف بنا دیتے ہیں ۔
کیا ہم نے معاشرے کو تربیت یافتہ افراد مہیا کرنے ہیں یا ذکر و طائف کی انتھک مشینیں

تربیت کے ان جملوں سے ان کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ نیا آنے والا یہ سمجھ لے کہ یہ اوراد اپنی ذات میں مقصود نہیں بلکہ مقصود کا ذریعہ ہیں ۔

ایک شخص نے حضرت جی کے بتلائے ہوئے ذکر میں ذیادتی کی درخواست کی تو آپ نے برجستہ جواب دیا کہ
تھوڑا ذکر بھی کافی ہے اگر مقصود میں معاونت دے رہا ہو اور وہ زیادہ بھی کافی نہیں ہے جو مقصود کے حصول میں معاونت نہ دے رہا ہو

کیا ہی خوبصورت بات ارشاد فرمائی کہ اگر آپ کی پاس پتلی سے چھڑی ہو لیکن اسے دشمن کے خلاف استعمال میں لایا جائے تو وہ پتلی چھڑی اس موٹے ڈنڈے سے کہیں بہتر ہے جسے دشمن کے خلاف استعمال نہ کیا جائے

میرے ایک سوال میں جب میں نے مراقبہ ذات کے وقت میں ذیادتی کی درخواست کی تو فرمانے لگے کہ

بھائی یہ چیزیں تو مقصود کے زرائع ہیں خود مقصود نہیں ۔ اتنی مقدار میں بھی کافی ہیں کہ مقصود حاصل ہو جائے ۔

پورا پورا دن لمبے چوڑے مراقبے کرنا اور بقیہ دینی و دنیوی فرائض و حقوق سے چشم پوشی کرنا کون سی شریعت کی تعلیم ہے ؟؟؟

فرمانے لگے کہ

گاڑی میں پٹرول تو پٹرول پمپ سے ڈالنا ہے لیکن بہرحال گاڑی نے چلنا تو روڈ پر ہی ہے ۔

ذکر و اوراد و وظائف و مجاہدات کے پٹرول کی ذیادتی کا کیا فائدہ جب شریعت مطہرہ کی سڑک پر دوڑ لگانے کی توفیق نہ ملے ؟؟؟

حضرات فرماتے ہیں کہ ذریعہ کو مقصود سمجھ لینا بدعت ہے

جو شخص وظائف و اوراد کو ہی مقصود بنا لے وہ بدعت کا شکار ہو جاتا ہے

اسی طرح دعوت و تبلیغ کے عنوان سے جو محنت ہو رہی ہے اس میں سہ روزہ ، عشرہ و چلہ اور چار ماہ کو ہی مقصود بنا لینا بھی کسی صورت درست نہیں ۔ یہ خود مقصود نہیں بلکہ مقصود کا ذریعہ ہیں

شریعت نجات و فلاح کا راستہ ہے اور طریقت اس پر اعتدال کے ساتھ چلنے کی قوت پیدا کرتی ہے ۔ اس قوت کے پیدا کرنے کے سلسلے میں حضرات مشائخ عظام اپنے اور اپنے بزرگوں کے تجربات کی روشنی میں کچھ اوراد ، وظائف و مجاہدات بتلاتے ہیں ۔ اب کتنی کج فہمی ہے کہ بندےہ اصل مقصود یعنی شریعت کے رستے پر اعتدال کے ساتھ چلنے کی قوت کے بجائے خود اس قوت کے حصول کے طریقوں یعنی اوراد و وظائف و مجاہدات کو ہی اصل مقصود سمجھ کر طریق کے مقصود قوت راہ روی سے کوسوں دور جا پڑے ۔

طریقت کے پورے نظام کا اصلی مقصود تو

1۔ شریعت پر چلنے کی قوت پیدا کرنی ہے تاکہ سستی اور ترک اعمال سے بچا جا سکے ۔

2۔ نیتوں میں اخلاص و للہیت پیدا کرنی ہے تاکہ اعمال ضائع ہونے سے بچ سکیں

3۔ فکروں میں اللہ تعالیٰ شانہ کا دھیان پیدا کرنا ہے تاکہ حیا پیدا ہو اور معصیت ترک ہو

4۔ خدمت خلق کے ذریعے سے خالق و مالک کو راضی کیا جا سکے

5۔ اپنے اخلاق کی درستگی کرنی ہے ۔ فضائل اپنانے ہیں اور رسائل ترک کرنے ہیں

6۔ اپنے اپنے شعبے کا دین زندگی کیا جاسکے ۔ جج عدل پر آجائے ۔ دکان دار کم ناپ تول سے بچے ۔ ملازم وقت اور صلاحیت پوری دے ، وعلی ہذا القیاس

جج اوراد تو کرے پر عدل نہ کرے تو کیا یہی طریقت ہے ؟؟

دکان دار کے ایک ہاتھ میں تسبیح ہو اور دوسرے سے کم ناپ تول تو کیا یہی تصوف ہے ؟؟

ملازم وقت و صلاحیت پوری نہ دے لیکن پورا دن تسبیح پر تباہی مچا دے تو کیا اسے کسی طرح بھی سلوک کہا جا سکتا ہے ؟

ہمیں مشائخ کرام کے نظام تربیت کے تحت وظائف و مجاہدات کی اہمیت و افادیت سے کلیتاً انکار نہیں لیکن انہیں تصوف کا مقصود بنا لینا بھی کسی درجے میں مشائخ عظام کے مزاج کے مطابق نہیں ہے ۔

وظائف و اوراد و مجاہدات = ذریعہ

شریعت پر اعتدال سے چلنا ، اخلاص واحسان=مقصود

وظائف و اوراد و مجاہدات کو مقصود بنانا = بدعت

ذرا سی بات تھی اندیشئہ عجم نے اسے

بڑھا دیا ہے فقط زیب داستاں کے لئے

محمد ندیم

14/08/2026
انسان میں نیکی اور برائی دونوں ہیں ۔ یہ بات تو مشاہدے اور تجربے کی ہے کہ انسان نیکی اور برائی کےتناظر میں دو سمتی ہے جبک...
14/08/2026

انسان میں نیکی اور برائی دونوں ہیں ۔

یہ بات تو مشاہدے اور تجربے کی ہے کہ انسان نیکی اور برائی کےتناظر میں دو سمتی ہے جبکہ فرشتہ یک سمتی ہے

فرشتہ صرف نیکی کی سمت اختیار کرتا ہے ۔ انسان دو سمتی ہونے کی وجہ سے کبھی دائیں سمت اختیار کر لیتا ہے اور کبھی بائیں سمت اختیار کر لیتا ہے ۔

آیت مبارکہ :

إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا

[سورۃ دھر : 3]

ترجمہ:

"بے شک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب چاہے وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا"

فرشتہ بائیں سمت میں جانے کی سوچ سے ہی عاری ہے ۔ انسان اس طرح فرشتے سے مختلف ہو جاتا ہے ۔ کیوں نہ مختلف ہو کہ فرشتے کے ہوتے ہوئے انسان کو پیدا کرنااور وہ بھی عین فرشتے کی طرح ، یہ توتحصیل حاصل ہے اور حکیم و علیم ذات سے اس کا گمان کیسے ہو سکتا ہے ۔

انگریزی زبان میں فرشتے کو one dimensional کہہ سکتے ہیں جبکہ انسان کو two۔dimensional کہہ سکتے ہیں

انسان درج ذیل قوتوں کی وجہ سے فرشتے سے مختلف ہے ۔

1۔ روح
2۔ فرشتہ
3۔ عقل
4۔ نفس
5۔ شیطان

اللہ پاک نے روح کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے ۔ بڑی مقدس چیز ہے ۔ مادے سے بالکل خالی ہے اپنی ذات میں بڑی ہی نیک چیز ہے ۔

فرشتہ ایک ایسی قوت ہے جس میں خیر ہی خیر ہے ۔ شر کی گنجائش ہی نہیں ۔ فرشتہ روح کو نیک القاء کرتا ہے اور نیکی کی ترغیب دیتا ہے

چوں کہ فرشتہ میں برائی کا تصور نہیں اس لئے وہ برائی کا القاء کر ہی نہیں سکتا اور دوسری طرح روح بھی تو نیک چیز ہے ۔ وہ برائی کے القاء کو قبول بھی نہیں کر سکتی

جہاں تک عقل کی قوت کا تعلق ہے یہ تمیز کرنے والی قوت ہے ۔ یہ بتا دیتی ہے کیا ٹھیک ہے کیا غلط ۔ سچ ہے یا جھوٹ ۔ مضر یا مفید ۔

عقل اپنے نظریات، معلومات اور سوچ کی روشنی میں صحیح اور غلط کا مشورہ دے دیتی ہے

شیطان میں خیر نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ۔ شیطان سراپا شر ہے ۔ وسوسہ اس کا ہتھیار ہے نفس کو برائی کے وسوسے ڈالتا رہتا ہے ۔

آیت:

الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ

[سورۃ الناس: 5]

ترجمہ:

"جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے"

نفس اپنی حالت کے حساب سے شیطانی وساوس کو یا قبول کرتا ہے یا رد کر دیتا ہے۔
نفس چوں کہ قابل اصلاح ہے اس لئے اس پر محنت سے قابو ہو
تو برائی کو رد کر دیتا ہےاور اگر نفس پر محنت سے قابو نہ ہو تو
برائی رد کرنا اس لئے مشکل ہو جاتا ہے ۔

محمد ندیم

"فرشتے وسوسہ پروف ہوتے ہیں" کی دلیل سورت الناس کی آیت نمبر 5 پر غور کیجیے `الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِترجمہ:...
12/08/2026

"فرشتے وسوسہ پروف ہوتے ہیں" کی دلیل

سورت الناس کی آیت نمبر 5 پر غور کیجیے

`الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ

ترجمہ:

"جو انسانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے

یہاں فرمایا گیا کہ

فی صدور الناس

نہ کہ

فی صدور الملائکہ

یہ اس پر کھلی دلیل ہے کہ

شیطان صرف انسان کے دل میں وسوسہ ڈال سکتا ہے

فرشتہ کا سینہ وسوسے پروف بنایا گیا ہے

اس میں وسوسے کے قبول کی گنجائش ہی نہیں ہے

شیطان اس میں وسوسہ نہیں ڈال سکتا

یہاں سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ

شیطان فقط انسان کے دل میں وسوسہ ڈال سکتا ہے

انسان کے اختیار میں ہے کہ وہ اس وسوسے کو قبول کرے

یا اسے مضر خیال کر کے رد کردے

اس خیال کی اس درج ذیل آیت مبارکہ سے تائید ہوتی ہے

`وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

[سورۃ ابراہیم: 22]

ترجمہ:

"اور جب فیصلہ ہو چکا ہوگا تو شیطان کہے گا: بے شک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تو میں نے خلاف ورزی کی۔ اور میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی تو تم نے میری بات مان لی۔ پس تم مجھے ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہارا فریاد رس ہوں اور نہ تم میرے فریاد رس ہو۔ بے شک میں اس سے پہلے ہی انکار کر چکا ہوں کہ تم نے مجھے شریک بنایا تھا۔ بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے"

اس سے معلوم ہوا کہ

شیطان بس ترغیب دیتا ہے لیکن کسی کو اس کے اختیار کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا

محمد ندیم

نفس (1)اللہ تعالیٰ شانہ کے انتہائی اونچے دربار سے حکم ملتا ہے فرشتوں لپک کر اسے لے لیتے ہیں حکم ماننے میں نہ کوئی مزاحمت...
12/08/2026

نفس (1)

اللہ تعالیٰ شانہ کے انتہائی اونچے دربار سے حکم ملتا ہے

فرشتوں لپک کر اسے لے لیتے ہیں

حکم ماننے میں نہ کوئی مزاحمت ہوتی ہے

نہ کوئی رکاوٹ ہوتی ہے

خوشی خوشی حکم بجا لاتے ہیں

وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں

اس لئے کہ

بنانے والے نے انہیں بنایا ہی ایسے ہے

کہ ان میں حکم کے مقابلے میں انکار کی گنجائش نہیں رکھی

لیت و لعل کی گنجائش نہیں رکھی

حکم عدولی ان کی فطرت کے خلاف ہے

گویا فرشتے نیکی کے لئے پیدا ہوئے ہیں

برائی ان سے کوسوں دور ہے بلکہ ان میں برائی کا شائبہ تک نہیں

ان میں برائی کی طرف مائل ہونے کی قوت ہی نہیں

وہ چاہ کر بھی اللہ پاک کے پاک فرمان کو ٹال نہیں سکتے

بلکہ

وہ ایسا چاہ ہی نہیں سکتے

وہ ہمیشہ "جی حضور" کے موڈ پر رہتے ہیں

یہی ان کی فطرت ہے

یہی ان کی نیچر ہے

اب تھوڑا آگے چلتے ہیں

اس کی وجہ تلاش کرتے ہیں کہ

ایسا کیوں ہے ؟؟؟

برائی کی طرف مائل کرنے کی دو قوتیں ہیں

1۔ شیطان
2۔ نفس

شیطان برائی پر ابھارنے کی اور نیکی سے روکنے کی ایک زبردست بیرونی قوت ہے

وسوسہ اس کا ہتھیار ہے

اسی سے وار کرتا ہے

دوسرے نمبر پر نفس ہے

یہ اندرونی قوت ہے

برائی پر اکساتی رہتی ہے ۔ نیکی سے روکتی رہتی ہے

اللہ پاک نے فرشتوں کو برائی کی اندرونی قوت دی ہی نہیں

دوسرے لفظوں میں فرشتوں میں نفس نہیں ہوتا

اس لئے

برائی پر مائل کرنے کی ایک قوت تو ان میں سرے سے موجود ہی نہیں

اس لئے ایک جہت سے تو وہ محفوظ ہو گئے

رہی برائی پر مائل کرنے کی دوسری قوت

شیطان

وہ بے چارہ وسوسے سے کام لیتا ہے

اور وسوسے کو نفس قبول کرتا ہے

فرشتوں میں نفس ہی نہیں ہوتا

اس لئے فرشتے وسوسے کا اثر قبول نہیں کر سکتے

چلو بھائی !

بات آسان ہوگئی

فرشتے معصوم ہو گئے

گناہوں سے پاک ہو گئے

اب تو اللہ پاک کے اس ارشاد مبارک کا مطلب سمجھ آگیا ہو گا

`لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ

ترجمہ:

"وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے"

[سورۃ التحریم : 6]

اب نیکی اور برائی کے تناظر میں حضرت انسان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

محمد ندیم

چھوٹے لوگوں کو بڑے القاب دینا جو نہیں صاحب انہیں صاحب نہ کہنا چاہئے جو ہوا سو ہو گیا پر اب نہ کہنا چاہئے ہم تو ان کی آدم...
11/08/2026

چھوٹے لوگوں کو بڑے القاب دینا

جو نہیں صاحب انہیں صاحب نہ کہنا چاہئے

جو ہوا سو ہو گیا پر اب نہ کہنا چاہئے

ہم تو ان کی آدمیت کے بھی منکر ہیں جنہیں

آپ کہتے ہیں کہ اب صاحب نہ کہنا چاہئے

کہنا چاہیں آپ ان کو صاحب مسند کہیں

کچھ بھی کہہ دیں صاحب منصب نہ کہنا چاہئے


ایک دم سے خاک سے پہنچیں گے چوتھے آسماں

عام سے شاعر کو تو غالب نہ کہنا چاہئے

ایک غلطی ہم سے ہو جاتی ہے اکثر اس طرح

ہاں نکل جاتی ہے ہم سے جب
" نہ" کہنا چاہئے

ہو جہاں پڑھنا پڑھانا ثانوی درجہ اسے

مدرسہ ، سکول یا مکتب نہ کہنا چاہئے

محمد ندیم

دکان داری کرنا بھی دین داری ہے لیکن کیسے ؟؟؟اگر آپ بازار میں دکانداری کر رہے ہیں دن بھر گاہک ڈیل کرتے رہتے ہیں کافی مغز ...
10/08/2026

دکان داری کرنا بھی دین داری ہے لیکن کیسے ؟؟؟

اگر آپ بازار میں دکانداری کر رہے ہیں

دن بھر گاہک ڈیل کرتے رہتے ہیں

کافی مغز ماری کررہے ہوتے ہیں

اذان ہوتی ہے

مسجد چلے جاتے ہیں

جتنی نمازیں دوران کاروبار آتی ہیں

ساری مسجد میں جا کر ادا کر لیتے ہیں

گاہک کو دو نمبر چیز نہیں بیچتے

ایک دکھا کر دوسری نہیں دیتے

نہ ناپنے میں کمی کرتے ہیں

نہ تولنے میں کمی کرتے ہیں

چیز خوشی خوشی واپس لے لیتے ہیں

گاہک کو پیسے تک واپس کر دیتے ہیں

قسمیں کھا کر مال نہیں بیچتے

مال کی زکوٰۃ دینے میں کوتاہی نہیں کرتے

بیوی بچوں پر فراخی رکھتے ہیں

تو

اے دکاندار بھائیو !

آپ یقین کرو کہ

اگر درج بالا شرائط کے ساتھ

آپ کاروبار کر رہے ہیں

دکانداری کر رہے ہیں

تو یہ کوئی بے دینی نہیں

بلکہ

عین دین داری ہے

تجارت کے اسلامی اصول سیکھو

ان اصولوں کی روشنی میں تجارت کرو

کیوں کہ

حدیث کے مطابق

سچے تاجر کا حشر قیامت والے دن انبیاء ، صادقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا

اس لئے

ڈٹ کر کماؤ مزے لے کر کھاؤ

محمد ندیم

موسیٰ علیہ السلام سانپ سے کیوں ڈر گئے ؟؟؟(قرآن پاک کے حوالے آخر میں دیے گئے ہیں )موسیٰ علیہ السلام کے دائیں ہاتھ میں لاٹ...
09/08/2026

موسیٰ علیہ السلام سانپ سے کیوں ڈر گئے ؟؟؟

(قرآن پاک کے حوالے آخر میں دیے گئے ہیں )

موسیٰ علیہ السلام کے دائیں ہاتھ میں لاٹھی ہے

اس سے پتے جھاڑتے ہیں

اس کا سہارا لیتے ہیں

اور بھی کئی فائدے ہیں

لاٹھی ہاتھ میں تھامی ہوئی ہے

لاٹھی سے بالکل نہیں ڈرتے

اسے پھینک کر بھاگتے بھی نہیں

لگتا یہی ہے کہ یہ لاٹھی سالوں ان کے پاس رہی ہے

شعیب علیہ السلام کی بکریاں اسی سے چرائی ہیں

لیکن پھر ایک وقت آتا ہے

اللہ پاک حکم دیتے ہیں

اے موسیٰ !

لاٹھی زمین پر پھینک دے

لاٹھی پھینکی جاتی ہے

لاٹھی سانپ بن جاتی ہے

اب موسیٰ علیہ السلام کا رویہ بدل جاتا ہے

کیوں ؟؟؟

کیوں کہ لاٹھی بھی تو سانپ میں بدل گئی ہے

موسیٰ علیہ السلام کا رویہ کیوں نہ بدلے

موسیٰ علیہ السلام سانپ کو چھوڑ کر دوڑ لگاتے ہیں

ایسے دوڑتے ہیں کہ پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھتے

کیوں ؟؟؟

لاٹھی سے تو نہیں ڈرے سانپ سے کیوں ڈر گئے ؟؟؟

اس لئے کہ

لاٹھی سے ڈرنا بے وقوفی ہے

اور سانپ سے ڈرنا عقل مندی ہے

لاٹھی سے ڈرنا بے عقلی ہے تو سانپ سے نہ ڈرنا بے عقلی ہے

پیغمبر تو کامل العقل ہوتے ہیں

اس لئے موسیٰ علیہ السلام نے وہی کیا

جو ایک عقل مند اس موقع پر کرتا

بات مکمل نہیں ہوئی

آگے چلتے ہیں

اللہ پاک نے یہ نہیں کہا کہ

اے موسیٰ !

تو میرا پیغمبر ہو کر ڈر گیا

کیوں نہیں کہا ؟؟؟

کیوں کہ

اللہ پاک جانتے ہیں کہ

میں نے انسان کو ایسے ڈھانچے میں بنایا ہے

کہ

ہر ڈرنے والی چیز سے ڈرنا

انسان کا عیب نہیں

بلکہ

انسان کا کمال ہے

جو اللہ پاک نے خود رکھا ہے

تا کہ

ضرر والی چیز سے بچا جا سکے

اس سے معلوم ہوا کہ

خوف بھی ایک نعمت ہے

جو خطرے کی گھنٹی بجتے ہی انسان میں پیدا ہوتا ہے

اور

بچاؤ کا سامان کرتا ہے

وَ اَنۡ اَلۡقِ عَصَاکَ ؕ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہۡتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدۡبِرًا وَّ لَمۡ یُعَقِّبۡ ؕ یٰمُوۡسٰۤی اَقۡبِلۡ وَ لَا تَخَفۡ ۟ اِنَّکَ مِنَ الۡاٰمِنِیۡنَ

سورۃ قصص:31

ترجمہ

اور یہ کہ : اپنی لاٹھی نیچے ڈال دو ۔ پھر ہوا یہ کہ جب انہوں نے اس لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اس طرح حرکت کر رہی ہے جیسے وہ سانپ ہو ، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے ، اور مڑ کر بھی نہ دیکھا ۔ ( ان سے کہا گیا : ) موسیٰ ! سامنے آؤ ، اور ڈرو نہیں ، تم بالکل محفوظ ہو ۔

محمد ندیم

Address

Mansehra

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muhammad Nadeem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share