10/07/2026
کچھ دن پہلے ایک مریض میرے پاس آیا۔
کئی دنوں سے مسلسل بخار تھا، مختلف ادویات استعمال کر چکا تھا، لیکن طبیعت سنبھلنے کے بجائے مزید کمزور ہوتی جا رہی تھی۔
اس کی علامات، معائنے اور بیماری کی پوری کہانی سننے کے بعد مجھے انٹرک فیور کا شبہ ہوا۔
میں نے اسے سمجھایا:
“ہم علاج ضرور شروع کریں گے، لیکن خون کا کلچر بھی کروائیں گے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اصل جراثیم کون سا ہے اور کون سی دوا اس پر مؤثر رہے گی۔”
مقامی اینٹی بایوٹک مزاحمت اور مریض کی کلینیکل حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے Azithromycin سے ابتدائی علاج شروع کیا گیا، جبکہ تصدیق کے لیے Blood Culture & Sensitivity کروائی گئی۔
ایک ہفتے بعد وہ دوبارہ آیا۔
الحمدللہ، بخار ختم ہو چکا تھا، کمزوری میں واضح کمی تھی اور مریض پہلے سے بہت بہتر محسوس کر رہا تھا۔
پھر اس نے رپورٹ میرے سامنے رکھی۔
خون کے کلچر میں Salmonella Paratyphi A نکلا۔
وہی جراثیم جس کا شبہ کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں جراثیم Azithromycin کے لیے حساس جبکہ عام طور پر استعمال ہونے والی بعض Fluoroquinolone ادویات کے لیے مزاحم تھا۔
یعنی جو علاج علامات اور طبی تجربے کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا، اسے لیبارٹری نے بھی درست ثابت کر دیا۔
لیکن اصل خوشی رپورٹ دیکھ کر نہیں ہوئی۔
مریض نے مسکراتے ہوئے کہا:
“ڈاکٹر صاحب، آج میں صرف اپنی رپورٹ لے کر نہیں آیا… اپنا پورا خاندان بھی ساتھ لایا ہوں۔ آج سے آپ ہی ہمارے فیملی ڈاکٹر ہیں۔”
یہ الفاظ میرے لیے کسی ایوارڈ، تعریف یا مالی فائدے سے کہیں زیادہ قیمتی تھے۔
ایک ڈاکٹر کے لیے سب سے بڑی کامیابی صرف بیماری کی درست تشخیص نہیں، بلکہ مریض کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔
اس دن مجھے ایک بار پھر احساس ہوا کہ طب صرف دوائی لکھنے کا نام نہیں۔
طب مریض کو غور سے سننے،
صحیح وقت پر درست فیصلہ کرنے،
غیر ضروری اینٹی بایوٹکس سے بچنے،
اور انسان کو امید دینے کا نام ہے۔
مریض علاج سے صحت یاب ہوا، لیکن اس کا اعتماد میرے لیے زندگی بھر کی ذمہ داری بن گیا۔
الحمدللہ، اللہ تعالیٰ ہمیں علم کے ساتھ عاجزی، فیصلوں میں حکمت اور اپنے مریضوں کی خدمت میں اخلاص عطا فرمائے۔ آمین۔
ڈاکٹر عمیر اسلام
میڈیکل اینڈ الائیڈ اسپیشلسٹ
اہم: پوسٹ کے ساتھ رپورٹس شیئر کرتے وقت مریض کا نام، لیب نمبر، پتہ اور دیگر شناختی معلومات لازماً چھپا دیں۔