Dr.UMAR farooq sheikh-CHILD Specialist

Dr.UMAR farooq sheikh-CHILD Specialist its about child care , disease prevention, healthy diet and management

"آج ایک واقف خاتون بغیر کسی فی ٹوکن اور بغیر وائٹلز (علامات) چیک کروائے، اپنے بچے کے ساتھ اچانک میرے کمرے میں آ گئیں۔ می...
20/08/2026

"آج ایک واقف خاتون بغیر کسی فی ٹوکن اور بغیر وائٹلز (علامات) چیک کروائے، اپنے بچے کے ساتھ اچانک میرے کمرے میں آ گئیں۔ میں اس وقت مصروف تھا، لیکن انسانیت اور واقفیت ناطے میں نے ترجیح دیتے ہوئے خود بچی کو دیکھا، بخار اور وزن چیک کیا، تسلی سے نسخہ لکھا اور بیماری سے متعلق مکمل رہنمائی (کونسلنگ) کی۔
​خاتون عطائی (کواک) کی دی ہوئی پرانی ادویات ساتھ لائی تھیں اور انہی کو جاری رکھنے پرضد تھیں۔ میں نے انکار کیا اور صحیح علاج تجویز کیا۔ اس کے بعد میں نے اپنے اسسٹنٹ سے کہا کہ ان کا ہاف فی (آدھی فیس) کا پرچہ بنا دیا جائے—جیسا کہ میں عموماً اپنے واقف کاروں یا مستحق مریضوں کی رعایت کے لیے کرتا ہوں۔
​لیکن حد تو تب ہو گئی جب وہ خاتون فیس دیے بغیر ہی پرچی کاؤنٹر پر پھینک کر چلی گئیں۔
​یہی وہ تلخ رویے ہیں جن کی وجہ سے ڈاکٹرز مجبوراً پہلے فیس وصول کرتے ہیں۔ ایسی ناانصافی اور رویوں کی وجہ سے ان لوگوں کا اعتبار ٹوٹتا ہے جو واقعی ضرورت مند اور مستحق ہوتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے وقت، محنت اور رائے کا احترام کرنا چاہیے!"
​"علاج صرف دوا کا نہیں، احترام اور اعتماد کا بھی ہوتا ہے۔ جب کوئی آپ کے لیے اپنے اصول نرم کرتا ہے، تو اس کی نرمی کو اس کی مجبوری یا ناجداری نہ سمجھیں۔ ایک انسان کی بدتہذیبی اور ناانصافی کئی واقعی مستحق اور غریب لوگوں کا حق مار دیتی ہے۔"

16/08/2026

کیا اپ نے سوچا کہ
ہسپتالوں میں ویڈیو بنانے اور بڑھکیں مارتے والے اسسٹنٹ کمیشنر اور سیاستدان ، ڈاکٹرز کی خوب بے عزتی کر کے عوام کے دوست بننے کی ایکٹنگ کرتے ہیں ۔۔۔۔لیکن یہ لوگ کبھی ہسپتال کے مسائل پر ڈاکٹرز کے ساتھ اپنی میٹنگ کی ویڈیو نہیں دکھاتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وجہ یہ ہے کہ پھر ہسپتالوں کے مسائل کی اصل وجہ سامنے آئے جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔کہ پاکستانی ہسپتالوں کا بجٹ تقریبا دنیا میں سب سے کم ہے ۔۔۔۔مریضوں کی تعداد بستروں کی تعداد سے بہت زیادہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستانی ڈاکٹر جتنا کام کرتے ہیں دنیا کے کسی ہسپتال کے ڈاکٹر نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستانی ڈاکٹرز کی تنخواہ تقریبا دنیا میں سب سے کم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب باتیں گوگل سے کنفرم کی جا سکتی ہیں۔۔۔۔

14/08/2026
Happy independence day
13/08/2026

Happy independence day

اس چیز کو وہی سمجھ سکتا جو خود ڈاکٹر ہو یہ اس کا بیٹا یا بیٹی ڈاکٹر ہو
11/08/2026

اس چیز کو وہی سمجھ سکتا جو خود ڈاکٹر ہو یہ اس کا بیٹا یا بیٹی ڈاکٹر ہو

یہ نام نہاد وزیر، سیاست دان اور انتظامی افسران پڑھے لکھے طبقے کا صرف مذاق اڑاتے ہیں اور ان پر طنز کرتے ہیں، کیونکہ یہ خو...
11/08/2026

یہ نام نہاد وزیر، سیاست دان اور انتظامی افسران پڑھے لکھے طبقے کا صرف مذاق اڑاتے ہیں اور ان پر طنز کرتے ہیں، کیونکہ یہ خود عقل سے پیدل اور خالی ذہن ہیں۔ ان کا سارا کام صرف تصویریں بنوانا، رجسٹر چیک کرنے کا ڈرامہ کرنا، ویڈیوز بنانا اور ٹک ٹاک پر پبلسٹی کرنا ہے۔ قوم کو یہ دکھایا جاتا ہے کہ جیسے یہ کوئی بڑا انقلاب لا رہے ہیں اور دن رات محنت کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ سرار جھوٹ اور دکھاوا ہے۔ ان کا سارا زور صرف ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو برطرف کرنے اور ان کی نوکریوں پر دھمکیاں دینے تک محدود ہے۔
​افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہسپتالوں کے اپنے ایم ایس (MS) اور سی ای او (CEO) بھی اس جابرانہ اور کھوکھلے نظام کی جھوٹی برتری کے زیرِ اثر آ کر انہی کی نچلی سطح کی حرکتوں میں شامل ہو چکے ہیں اور اصل مسائل کو مکمل طور پر بھول چکے ہیں۔
​بالخصوص دور دراز اور دیہی علاقوں کے ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں زندگی بچانے والی بنیادی ادویات تک موجود نہیں۔ ڈوپا مین (Dopamine)، ڈوبیوٹیکس (Dobutamine)، ایڈری نالین (Adrenaline) اور یہاں تک کہ بیوریٹ سیٹ (Burette Set) جیسے بنیادی طبی الات کا نام و نشان نہیں۔ دل کے دورے (Heart Attack) میں استعمال ہونے والی ایمرجنسی ادویات غائب ہیں۔ معصوم بچوں کے علاج کے لیے نوائیدہ بچوں (Neonate) کے سائز کا لیرنگواسکوپ (Laryngoscope) تک میسر نہیں جو ان کی سانس کی نالی کھول کر ان کی جان بچا سکے۔
​ماہوار اور چھوٹے آپریشن تھیٹرز (Minor OT) میں آلات کو جراثیم سے پاک (Sterilization) کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں۔ اگر کسی مریض کے چہرے پر زخم آ جائے تو پرولین (Prolene) جیسے باریک اور مناسب دھاگے کی بجائے ریشم (Silk) کا موٹا دھاگہ لگا دیا جاتا ہے جو عمر بھر کے لیے ایک بدنما داغ چھوڑ جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ بہت سے ڈیوٹی پر موجود عملے کو تو بالغوں اور نوزائیدہ بچوں میں لیرنگواسکوپ ڈالنے کا بنیادی طریقہ بھی نہیں آتا۔
​یہ ہے ہمارا تباہ حال طبی نظام! بحیثیت قوم ہمیں اس پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، کیونکہ ایمرجنسی کی صورت میں کل کو ہمیں اور ہمارے پیاروں کو بھی اسی بھیانک نظام سے گزرنا ہے۔
​تصور کریں! اگر خدانخواستہ آپ کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر رہا ہو اور ہسپتال میں ڈرپ یا زندگی بچانے کا ایک انجیکشن بھی نہ ہو... اگر زخم پر ٹانکے جراثیم زدہ آلات اور غلط دھاگے سے لگائے جا رہے ہوں... اگر آپ کی سانس رک رہی ہو اور بغیر کسی ایمرجنسی طبی امداد کے آپ کو سیدھا دوسرے ہسپتال ریفر کر دیا جائے اور آپ کو اس لاپرواہی کا علم بھی نہ ہو... اور آخر میں یہی کہہ کر بات ختم کر دی جائے کہ "اللہ کو یہی منظور تھا، جتنا لکھا تھا اتنا ہی جیا!"
​اس تباہ شدہ نظام کی اصلاح اور احتساب صرف متعلقہ طبی ماہرین کو کرنا چاہیے، نہ کہ ان سیاست دانوں اور وزراء کو جو صرف اپنے اگلے الیکشن کے ووٹوں اور سستی شہرت کی خاطر پبلسٹی سٹنٹ کر رہے ہیں۔ ہمارے میڈیا کو بھی بیدار اور باکمال ہونا پڑے گا۔ صحافت صرف "چائے پانی"، سنی سنائی باتوں پر سنسنی پھیلانے اور کاپی پیسٹ کرنے کا نام نہیں۔ میڈیا کے لوگوں کو بھی میڈیکل اور بنیادی صحت کے مسائل کا شعور ہونا چاہیے تاکہ وہ قوم کے سامنے سچ لا سکیں۔

11/08/2026

سیاستدان اور بیوروکریٹس ہسپتالوں کے ایک آدھ دورے، چند ویڈیوز اور فوٹو سیشن سے عوام کے جھوٹے ہمدرد بننے کے بجائے ہسپتالوں میں اپنا ایک کمرہ بنائیں، روزانہ ایک دو گھنٹے بیٹھیں،براہ راست مریضوں کے مسائل سنیں اور ان کا حل کریں۔صرف چکر لگا کر ویڈیو بنوانا اور ہر مسئلے کا ذمہ دار ڈاکٹرز کو ٹھہرانا اصلاح نہیں، بلکہ عوام کو گمراہ کرنے اور اپنی نااہلی چھپانے کی چالاکی ہے۔

10/08/2026

اگر آپ بچوں کی فیڈنگ سے جڑے مسائل کیلئے Chatgpt پر بھروسہ کر رہے ہیں تو ایک بات یاد رکھیں وہ ایک ٹول ہے... مگر سپیشلسٹ نہیں!

وہ جنرل معلومات تو آپ تک پہنچا سکتا ہے مگر آپ کے مسائل کے مطابق Skilled سپورٹ فراہم نہیں کر سکتا۔ ایک روبوٹ یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹول احساسات، خاموش تکالیف، ذہنوں میں چھپے سوالوں اور ہر انسان کی ضرورت کے مطابق راہنمائی سے متعلق بے خبر ہوتا ہے۔ یہ انسان کی خاصیت ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ بروقت صحیح معلومات اور راہنمائی کیلئے Specialist سے رجوع کیا جائے روبوٹ سے نہیں۔
۔
۔
فاطمہ شاہ

چھوٹے بچوں کی پرورش کرنے والی ماں اپنے خاندان کی جذباتی بنیاد ہوتی ہے۔​اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ باپ کی کوئی اہمیت نہیں...
06/08/2026

چھوٹے بچوں کی پرورش کرنے والی ماں اپنے خاندان کی جذباتی بنیاد ہوتی ہے۔
​اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ باپ کی کوئی اہمیت نہیں—ان کی حیثیت خاندان کو ایک الگ انداز سے سنبھالنے والے ستون کی ہے۔
​ماں اکثر وہ جذبات سے بھری ہوئی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے جو پورے گھر کو تھامے رکھتی ہے۔ وہ ایک نرم پناہ گاہ، خوشیاں اور جادو بکھیرنے والی، اور پرورش کرنے والی ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کے ہر احساس اور کیفیت سے گہرا لگاؤ رکھتی ہے۔
​وہ باریک سے باریک تبدیلیوں کو بھی محسوس کر لیتی ہے—ایک پل کو بدلتا چہرہ، بات کرنے کے انداز میں فرق، یا وہ ہلکا سا احساس کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
​وہ اپنے بچوں کو اس طرح جانتی ہے جیسے دنیا میں کوئی دوسرا کبھی نہیں جان سکتا۔
​جب وہ خوش، سکون میں اور مطمئن ہوتی ہے، تو اس کے بچے بھی وہی سکون محسوس کرتے ہیں۔ اور جب وہ بے حال، پریشان، یا مسلسل دباؤ میں ہوتی ہے، تو بچے اس بے چینی کو بھی محسوس کر لیتے ہیں۔
​اسی لیے، چھوٹے بچوں کو پالنے والی ماں کے امن و سکون کی حفاظت کرنا بے حد ضروری ہے۔
​کیونکہ جب آپ اس پر حملہ کرتے ہیں یا اسے دکھ پہنچاتے ہیں، تو آپ صرف ایک فرد کو متاثر نہیں کرتے۔
​آپ اس پورے خاندان کی جذباتی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں جسے وہ بنا رہی ہوتی ہے۔

Address

Shifa Hospital Tulumba Road Near Gov Girls Degree College Mian Channu
Mian Channun

Opening Hours

Monday 10:00 - 21:00
Tuesday 10:00 - 21:00
Wednesday 10:00 - 21:00
Thursday 10:00 - 21:00
Friday 10:00 - 21:00
Saturday 10:00 - 21:00
Sunday 10:00 - 14:00

Telephone

+923330194466

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.UMAR farooq sheikh-CHILD Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.UMAR farooq sheikh-CHILD Specialist:

Shortcuts

Share

Category