11/09/2026
"چبڑ ایک قدرتی پھل اور سبزی ہے یےقدرتی خوردرو بیل ہوتی ہے جو کھیتوں میں اگ جاتی ہے۔۔اسکو منی تربوز بھی کہا جاتا ہے ۔یے خربوزہ ،تربوز ،پھٹ کی فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔انگلش میں اسکو wild bitter cucumber کہتے ہیں۔ اسکو انڈیا میں کچری ۔ سندھ میں متیرا کہا جاتا ہے ۔انڈیا اور پاکستان ریگستان راجھستان میں باقاعدہ اس کی کاشت کی جاتی ہے ۔اسکی فصل کو پانی کی کم ضرورت ہوتی ہے. "
یے کماد ،کپاس اور مونگی کی فصل میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔کپاس اور مونگی کی فصل کے موسم میں یے پک جاتا ہے۔ لوگوں کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہوتی۔لیکن اسکے قدرت نے بہت فائدے رکھے ہیں اللہ کی ذات نے ہر شے میں فائدے رکھے ہوئے ہیں ۔یے معدے ،نظام انہضام آنتوں شوگر کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔*
کھانے میں کھٹا میٹھا سا تازہ ہو تو چٹنی کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور راجھستان ،چولستان اور ریگستان اور انڈیا پاکستان میں لوگ اس کا سالن، چٹنی اور اچار بھی بناتے ہیں۔*
اکثر لوگوں کی نظر میں فضول سی چیز ہے مگر اس کی اہمیت ہوٹلوں خاص طور پر باربی کیو والے بہت اچھے سے جانتے ہیں۔
یہ فضول سا نظر آنے والا پھل بہت منافع بخش کاروبار بن سکتا ہے۔ پکے چبڑ ویسے بھی کھائے جاتے، سالن سبز ی چٹنی اور اچار بنایا جاتا ۔جس میں آللہ نے انسان کے لیے بہت فائدے رکھے ۔
انڈیا میں کسان اسے کاشت کر کے منافع بھی کما رہے ہیں۔
تازہ چبڑکی خاص اہمیت تب ہوتی جب اسے خشک کر کے بیچا جائے تو یہی چبڑ زیرو سے ہیرو بن جاتا ہے۔*
اور مارکیٹ میں خشک چبڑ جسے کچری کے طور پر جانا جاتا ہے وہ آٹھ سو سے بارہ سو فی کلو گرام کے حساب سے فروخت ہوتا ہے۔*
گوشت کو گلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے باربی کیو کا خاص جُز مانا جاتا ہے۔*
ہمارے ہاں اس قسم کی چیزوں کو کسان اہمیت ہی نہیں دیتے۔* حالانکہ اس پر لاگت نا ہونے کے برابر اور منافع بہت زیادہ ہے۔*
نا اسے کھاد کی ضرورت ہوتی ہے نا ہی زیادہ دیکھ بھال کی اور نا ہی زیادہ زرخیز زمین کی۔*
ستر سے اسی دن میں فصل تیار ہو جاتی ہے بس اس کو خشک کرنے پر ذرا محنت لگتی ہے مگر منافع محنت سے کہیں زیادہ ہے۔*
سوشل میڈیا نے اسکی اہمیت کو لوگوں تک پہنچا دیا اب یے بعض جگہوں پر دکانوں پر بھی بکتے ہیں اور منڈیوں میں بھی آ رہے ہیں ۔میں نے کماد ۔کپاس مونگی مکئی کی فصلوں میں بھی خبر کی بیلیں دیکھی ہیں۔*
پنجابیوں بارے آپ نے سنا ہو گا کہ گاؤں میں کچھ لوگوں کو کہا جاتا ہے "چبڑ دے منہ آلہ " /" چبڑ ورگا منہ "۔