11/07/2026
پاکستان کا عام شہری ذھنی امراض کے علاج کے لیے اگر اپنی سوچ اپنے عمل اور اپنے ہنر کو بہتر طریقے سے ادا کرے تو کافی بہتر نتائج حاصل ہو سکے ہیں ۔
۔
۔
۔ ریاست پاکستان معاشی طور پر بھی ابھر سکتی ہے
۔
۔انہی اصولوں پر جاپان اور چائنہ کی ریاستیں معیشت میں بہتر ہو گئی ہیں
۔
۔ پاکستان بھی معاشی طور پر ترقی کر سکتا ہے
۔
۔
۔اس کے لیے چند اصول وضع کرنے کی ضرورت ہے
۔
۔جیسا کہ
۔
۔
① مقصدِ زندگی اور خود انحصاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری
ذاتی سوچ کیا ہونی چاہیئے
۔
۔میں اپنی صلاحیتوں کو قوم کی بہتری کے لیے استعمال کروں گا۔
۔
۔۔ہماری
اجتماعی سوچ کیا ہونی چاہیے
۔
۔
۔
۔قومیں تب ترقی کرتی ہیں
جب وہ دوسروں پر انحصار کم اور اپنی پیداوار زیادہ کرتی ہیں۔
۔
۔ہمارا
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے ۔
۔
۔
۔ایک ہنر یا پیشہ سیکھوں اور اس میں مہارت پیدا کروں۔
۔
۔ہمارا
اجتماعی و معاشی عمل کیا ہونا چاہیے ۔
۔
۔مقامی صنعتوں، زرعی پیداوار اور چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کروں۔
۔
۔
② یقینِ محکم اور امید۔۔۔۔۔۔
ہماری
ذاتی سوچ کیا ہونی چاہیے ۔۔۔۔
۔
۔۔محنت اور اللہ پر بھروسے سے مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
۔
۔ہماری
اجتماعی سوچ کیا ہونی چاہیے ۔
۔کوئی قوم ہمیشہ پسماندہ نہیں رہتی اگر اس کے لوگ امید اور ہمت نہ چھوڑیں۔
۔
۔ہمارا
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے ۔۔۔۔
۔
۔۔مشکلات میں ہمت نہ ہاروں اور نئی راہیں تلاش کروں۔
۔
۔
۔ہماری
اجتماعی و معاشی عمل:
۔
۔۔ نوجوانوں کو کاروبار، صنعت اور ہنر کی طرف راغب کروں۔
۔
۔
۔
③ سچائی اور دیانت۔۔۔۔۔کی ترغیبات ۔
۔
۔ہماری
ذاتی سوچ کیا ہونی چاہیے
۔
۔
۔ایمانداری میرے کردار کی بنیاد ہے۔
۔۔
ہماری
اجتماعی سوچ کیا ہونی چاہیے
۔
۔دیانت دار قوموں کی معیشت مضبوط اور قابلِ اعتماد ہوتی ہے۔
۔
ہمارا
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے
۔
۔کاروبار اور ملازمت میں دھوکے سے بچوں۔
۔ہماری
اجتماعی و معاشی عمل کیسے ہونا چاہیے ۔
۔معیار، صحیح ناپ تول اور امانت داری کو فروغ دوں۔
۔
۔
④ علم سے محبت کی ترغیبات ۔
۔
۔ہماری ذاتی
ذاتی سوچ کیا ہونی چاہیے ۔۔۔
۔
۔علم میرے مستقبل اور عزت کی کنجی ہے۔
۔۔ہماری
اجتماعی سوچ کیا ہونی چاہیے
۔
۔
جدید علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی قوموں کو ترقی دیتی ہے۔
۔۔ہمارا
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے
۔
۔روزانہ مطالعہ اور نئی مہارت سیکھوں۔
۔
۔
۔ہمرا
اجتماعی و معاشی عمل: کیا ہونا چاہیے ۔
۔۔سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور فنی تعلیم کے اداروں کی حمایت کروں۔۔
۔
⑤ عملِ پیہم اور مسلسل محنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ہماری
ذاتی سوچ کیا ہونی چاہیے
۔
۔
۔کامیابی مسلسل کوشش سے ملتی ہے۔
ہماری
اجتماعی سوچ کیا ہونی چاہیے
۔
۔
۔ ترقی یافتہ قومیں روزانہ کی منظم محنت سے بنتی ہیں۔
۔
ہمارا
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے
۔
۔
۔ ہر روز اپنے مقصد کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کروں۔
۔
۔ہمارا
اجتماعی و معاشی عمل: کیا ہونا چاہیے
۔
۔
۔صنعت، زراعت اور پیداوار میں مستقل بہتری کے لیے کام کروں۔
⑥ وقت کی قدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذاتی سوچ:
۔
۔ وقت میرا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
اجتماعی سوچ:
۔
۔
۔وقت کی پابندی قومی ترقی کا راز ہے۔
ذاتی عمل:
۔
۔
۔ اپنے دن کی منصوبہ بندی کروں۔
اجتماعی و معاشی عمل: دفاتر، فیکٹریوں اور اداروں میں نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کو فروغ دوں۔
⑦ محبت اور خدمتِ خلق
۔
۔
۔۔
ذاتی سوچ:
۔
دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا میری ذمہ داری ہے۔
اجتماعی سوچ:
۔
۔مضبوط قومیں باہمی تعاون سے بنتی ہیں۔
ذاتی عمل:
۔
۔روزانہ کسی نہ کسی کی مدد کروں۔
اجتماعی و معاشی عمل: مقامی مصنوعات خریدوں اور چھوٹے کاروباروں کی مدد کروں۔
⑧ برداشت اور اتحاد۔۔۔۔۔۔
۔
ذاتی سوچ:
۔
۔ اختلاف کے باوجود احترام ضروری ہے۔
اجتماعی سوچ:
۔
۔انتشار ترقی کو روکتا اور اتحاد ترقی کو تیز کرتا ہے۔
ذاتی عمل: غصے اور نفرت پر قابو رکھوں۔
اجتماعی و معاشی عمل: ایسے ماحول کی حمایت کروں جہاں سرمایہ کاری، کاروبار اور صنعت امن سے فروغ پائیں۔
۔
۔
⑨ مثبت سوچ اور جدت۔۔۔۔۔۔۔
ذاتی سوچ: م
۔یں بھی نئی چیزیں سیکھ اور بنا سکتا ہوں۔
اجتماعی سوچ:
۔۔ہماری قوم بھی چین، جاپان اور کوریا کی طرح ترقی کر سکتی ہے۔
۔
۔ہمارا
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے
۔
نئی مہارتوں اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کی کوشش کروں۔
۔
۔۔ہمارا
اجتماعی و معاشی عمل کیا ہونا چاہیے ۔
۔
۔
نئی مصنوعات، ایجادات اور برآمدات کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کروں۔
۔
⑩ خود احتسابی اور قومی ذمہ داری
ذاتی سوچ:
۔
ہر دن خود کو بہتر بنانا میری ذمہ داری ہے۔
اجتماعی سوچ:
۔
۔ قوموں کو بھی مسلسل اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ وہ کیا پیدا کر رہی ہیں اور کیا صرف درآمد کر رہی ہیں۔
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے
۔
روزانہ اپنے کام اور عادات کا جائزہ لوں۔
۔
۔ہمارا
اجتماعی و معاشی عمل کیا ہونا چاہیے
۔
۔
۔فضول خرچی کم کرنے، مقامی صنعت بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے اپنا کردار ادا کروں۔
۔
۔
۔معلومات حصول بشکریہ سوشل میڈیا اے ائی پلیٹ فارم