Herbal Clinic -Trust

Herbal Clinic -Trust Hakeem Khalid khan Niazi. natural method of treatment

11/07/2026

پاکستان کا عام شہری ذھنی امراض کے علاج کے لیے اگر اپنی سوچ اپنے عمل اور اپنے ہنر کو بہتر طریقے سے ادا کرے تو کافی بہتر نتائج حاصل ہو سکے ہیں ۔
۔
۔
۔ ریاست پاکستان معاشی طور پر بھی ابھر سکتی ہے
۔
۔انہی اصولوں پر جاپان اور چائنہ کی ریاستیں معیشت میں بہتر ہو گئی ہیں
۔
۔ پاکستان بھی معاشی طور پر ترقی کر سکتا ہے
۔
۔
۔اس کے لیے چند اصول وضع کرنے کی ضرورت ہے
۔
۔جیسا کہ
۔
۔
① مقصدِ زندگی اور خود انحصاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری
ذاتی سوچ کیا ہونی چاہیئے
۔
۔میں اپنی صلاحیتوں کو قوم کی بہتری کے لیے استعمال کروں گا۔
۔
۔۔ہماری
اجتماعی سوچ کیا ہونی چاہیے
۔
۔
۔
۔قومیں تب ترقی کرتی ہیں
جب وہ دوسروں پر انحصار کم اور اپنی پیداوار زیادہ کرتی ہیں۔
۔
۔ہمارا
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے ۔
۔
۔
۔ایک ہنر یا پیشہ سیکھوں اور اس میں مہارت پیدا کروں۔
۔
۔ہمارا
اجتماعی و معاشی عمل کیا ہونا چاہیے ۔

۔
۔مقامی صنعتوں، زرعی پیداوار اور چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کروں۔
۔
۔
② یقینِ محکم اور امید۔۔۔۔۔۔
ہماری
ذاتی سوچ کیا ہونی چاہیے ۔۔۔۔
۔
۔۔محنت اور اللہ پر بھروسے سے مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
۔
۔ہماری
اجتماعی سوچ کیا ہونی چاہیے ۔
۔کوئی قوم ہمیشہ پسماندہ نہیں رہتی اگر اس کے لوگ امید اور ہمت نہ چھوڑیں۔
۔
۔ہمارا
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے ۔۔۔۔
۔
۔۔مشکلات میں ہمت نہ ہاروں اور نئی راہیں تلاش کروں۔
۔
۔
۔ہماری
اجتماعی و معاشی عمل:
۔
۔۔ نوجوانوں کو کاروبار، صنعت اور ہنر کی طرف راغب کروں۔
۔
۔
۔
③ سچائی اور دیانت۔۔۔۔۔کی ترغیبات ۔
۔
۔ہماری
ذاتی سوچ کیا ہونی چاہیے
۔
۔
۔ایمانداری میرے کردار کی بنیاد ہے۔
۔۔
ہماری
اجتماعی سوچ کیا ہونی چاہیے
۔
۔دیانت دار قوموں کی معیشت مضبوط اور قابلِ اعتماد ہوتی ہے۔

۔
ہمارا
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے
۔
۔کاروبار اور ملازمت میں دھوکے سے بچوں۔

۔ہماری
اجتماعی و معاشی عمل کیسے ہونا چاہیے ۔
۔معیار، صحیح ناپ تول اور امانت داری کو فروغ دوں۔
۔
۔
④ علم سے محبت کی ترغیبات ۔
۔
۔ہماری ذاتی
ذاتی سوچ کیا ہونی چاہیے ۔۔۔
۔

۔علم میرے مستقبل اور عزت کی کنجی ہے۔

۔۔ہماری
اجتماعی سوچ کیا ہونی چاہیے
۔
۔
جدید علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی قوموں کو ترقی دیتی ہے۔

۔۔ہمارا
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے
۔
۔روزانہ مطالعہ اور نئی مہارت سیکھوں۔
۔
۔
۔ہمرا
اجتماعی و معاشی عمل: کیا ہونا چاہیے ۔
۔۔سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور فنی تعلیم کے اداروں کی حمایت کروں۔۔
۔
⑤ عملِ پیہم اور مسلسل محنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ہماری
ذاتی سوچ کیا ہونی چاہیے
۔
۔
۔کامیابی مسلسل کوشش سے ملتی ہے۔

ہماری
اجتماعی سوچ کیا ہونی چاہیے
۔
۔
۔ ترقی یافتہ قومیں روزانہ کی منظم محنت سے بنتی ہیں۔
۔
ہمارا
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے
۔
۔
۔ ہر روز اپنے مقصد کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کروں۔
۔
۔ہمارا
اجتماعی و معاشی عمل: کیا ہونا چاہیے
۔
۔
۔صنعت، زراعت اور پیداوار میں مستقل بہتری کے لیے کام کروں۔
⑥ وقت کی قدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذاتی سوچ:
۔
۔ وقت میرا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
اجتماعی سوچ:
۔
۔
۔وقت کی پابندی قومی ترقی کا راز ہے۔
ذاتی عمل:
۔
۔
۔ اپنے دن کی منصوبہ بندی کروں۔
اجتماعی و معاشی عمل: دفاتر، فیکٹریوں اور اداروں میں نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کو فروغ دوں۔
⑦ محبت اور خدمتِ خلق
۔
۔
۔۔
ذاتی سوچ:
۔
دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا میری ذمہ داری ہے۔
اجتماعی سوچ:
۔
۔مضبوط قومیں باہمی تعاون سے بنتی ہیں۔
ذاتی عمل:
۔
۔روزانہ کسی نہ کسی کی مدد کروں۔
اجتماعی و معاشی عمل: مقامی مصنوعات خریدوں اور چھوٹے کاروباروں کی مدد کروں۔
⑧ برداشت اور اتحاد۔۔۔۔۔۔
۔
ذاتی سوچ:
۔
۔ اختلاف کے باوجود احترام ضروری ہے۔
اجتماعی سوچ:
۔
۔انتشار ترقی کو روکتا اور اتحاد ترقی کو تیز کرتا ہے۔
ذاتی عمل: غصے اور نفرت پر قابو رکھوں۔
اجتماعی و معاشی عمل: ایسے ماحول کی حمایت کروں جہاں سرمایہ کاری، کاروبار اور صنعت امن سے فروغ پائیں۔
۔
۔

⑨ مثبت سوچ اور جدت۔۔۔۔۔۔۔
ذاتی سوچ: م

۔یں بھی نئی چیزیں سیکھ اور بنا سکتا ہوں۔
اجتماعی سوچ:

۔۔ہماری قوم بھی چین، جاپان اور کوریا کی طرح ترقی کر سکتی ہے۔
۔
۔ہمارا
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے
۔
نئی مہارتوں اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کی کوشش کروں۔
۔
۔۔ہمارا
اجتماعی و معاشی عمل کیا ہونا چاہیے ۔
۔
۔
نئی مصنوعات، ایجادات اور برآمدات کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کروں۔
۔

⑩ خود احتسابی اور قومی ذمہ داری
ذاتی سوچ:
۔
ہر دن خود کو بہتر بنانا میری ذمہ داری ہے۔
اجتماعی سوچ:
۔
۔ قوموں کو بھی مسلسل اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ وہ کیا پیدا کر رہی ہیں اور کیا صرف درآمد کر رہی ہیں۔
ذاتی عمل کیا ہونا چاہیے
۔
روزانہ اپنے کام اور عادات کا جائزہ لوں۔
۔
۔ہمارا
اجتماعی و معاشی عمل کیا ہونا چاہیے
۔
۔
۔فضول خرچی کم کرنے، مقامی صنعت بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے اپنا کردار ادا کروں۔
۔

۔
۔معلومات حصول بشکریہ سوشل میڈیا اے ائی پلیٹ فارم

29/06/2026

اگر آج میری عمر 50 سال ہے، تو کیا مجھے یقین ہے کہ میں اگلے 30 سال بعد، یعنی 2056 میں زندہ ہوں گا؟

اور اگر کوئی 2056 تک بھی پہنچ جائے
۔
۔
۔تو 2126 میں ہم میں سے ایک بھی اس دنیا میں موجود نہیں ہوگا۔
۔

سن 1826 میں دنیا کے عظیم حکمران اپنے آپ کو ناقابلِ شکست سمجھتے تھے۔

برطانیہ کے جارج چہارم،
۔
۔روس کے زار نکولس اول،
۔
۔
۔چین کے داؤ گوانگ شہنشاہ،
۔
۔
۔ ایران کے فتح علی شاہ قاجار،
۔
۔
۔ مصر کے محمد علی پاشا

۔
۔اور
۔برصغیر کے اکبر شاہ دوم...
۔
۔ ان کے پاس سلطنتیں تھیں،
۔
۔ تاج تھے، تخت تھے، خزانے تھے، فوجیں تھیں، اقتدار تھا، غرور تھا،
۔
۔
۔لیکن آج ان میں سے ایک بھی اپنے تخت پر نہیں بیٹھا۔

ان کے محلات

اور خزانے دوسروں کے ہو گئے...

ان کے نام صرف تاریخ کی کتابوں میں رہ گئے...

اور وہ خود اپنے رب کے سامنے اپنے اعمال کا حساب دے رہے ہیں۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ۝ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ﴾

"زمین پر جو کچھ ہے سب فنا ہونے والا ہے، اور صرف آپ کے رب کی ذات باقی رہے گی۔"(سورۃ الرحمٰن: 26-27)۔
۔
۔

رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی،تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی۔
۔
۔
۔

آج 2026 میں...

اے حکمرانو!

یاد رکھو،
۔
۔رعایا تمہاری غلام نہیں،
۔
۔اللہ کی امانت ہے۔
۔
۔
۔ ان کی جان، مال، عزت، انصاف، تعلیم، علاج، روزگار، خوراک اور تحفظ تمہاری ذمہ داری ہے۔
۔
۔
۔اگر تمہارے دور میں کوئی بھوکا سو گیا،
۔
۔کسی مظلوم کو انصاف نہ ملا،
۔
۔
۔ کسی یتیم کا حق مارا گیا،
۔
۔
۔یا
۔
۔ظلم کو طاقت ملی،
۔
۔
۔تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عدالت میں تم سے سوال ہوگا۔

اے علماءِ کرام!

آپ انبیاء کے وارث ہیں۔
۔
۔امت کو جوڑنا، قرآن و سنت کی دعوت دینا، اخلاق کی اصلاح کرنا اور نفرتوں کو ختم کرنا آپ کی عظیم ذمہ داری ہے۔

آج مسلمان...

ایک کلمہ پڑھتے ہیں...

ایک قرآن اور

ایک رسول ﷺ کو مانتے ہیں...

ایک ہی کعبے کی طرف رخ کرتے ہیں...

تو پھر یہ نفرتیں، تعصب اور فرقہ واریت کہاں سے آئی ہے

اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾

"سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔"(سورۃ آل عمران: 103)

اور فرمایا:

﴿إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ﴾

"جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور گروہ گروہ بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔"(سورۃ الأنعام: 159)

اور
۔
۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اعلان فرمایا:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾

"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔"(سورۃ المائدہ: 3)

لیکن صرف حکمران، علماء یا مالدار ہی مخاطب نہیں...

ہم سب عام مسلمان بھی مخاطب ہیں۔

اے دکاندار!

ناپ تول درست رکھ۔

اے مزدور!

امانت داری سے کام کر۔

اے استاد!

اپنا فرض دیانت داری سے ادا کر۔

اے ڈاکٹر!

مریض کو تجارت نہیں، امانت سمجھ۔

اے وکیل!

جھوٹ کو سچ بنا کر نہ بیچ۔

اے سرکاری ملازم!

رشوت مت لے۔

اے تاجر!

ذخیرہ اندوزی نہ کر۔

اے پڑوسی!

اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔

اے سادہ مسلمان!

جھوٹ، غیبت، حسد، تکبر اور دھوکہ چھوڑ دے۔

ہم میں سے اکثر آج سوشل میڈیا پر دوسروں کی اصلاح میں لگے رہتے ہیں
۔
۔ مگر اپنے نفس کو بھول جاتے ہیں۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ﴾

"اے ایمان والو! اپنی اصلاح کی فکر کرو۔"(سورۃ المائدہ: 105)

اور فرمایا:

﴿أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ﴾

"کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟"(سورۃ البقرہ: 44)

لوگوں کو نصیحت کرنا آسان ہے...

اپنی اصلاح کرنا مشکل ہے...

لیکن
۔
۔ سب سے مؤثر دعوت زبان نہیں، کردار ہے۔

اگر ہمارے اخلاق، دیانت، سچائی، انصاف، حلال کمائی اور رحم دیکھ کر لوگ دین کی طرف آئیں، تو یہی بہترین تبلیغ اسلام ہے۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی،
۔
۔یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔

یاد رکھو...

قبر میں نہ حکومت ساتھ جائے گی...

نہ دولت...

نہ شہرت...

نہ فرقہ...

نہ منصب...

صرف اعمال ساتھ جائیں گے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾

"جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔"(سورۃ الزلزال: 7-8)

کل تخت نشیں تھے، آج مٹی کے مکیں ہیں
۔
۔وقت ہر غرور کو خاک میں ملا دیتا ہے۔۔
۔
کان کھولو۔آنکھیں کھولو۔دل کو صاف کرو اور یاد رکھو۔
۔
کہ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی...

اللہ کی رحمت کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔

﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾

"کہہ دیجیے: اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے، یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔"(سورۃ الزمر: 53)

آج ہی توبہ کر کے اپنے آپ کو بدل لو...

کل شاید مہلت نہ ہو...

اور یاد رکھو
۔
۔ دنیا کو بدلنے کی ابتدا ہمیشہ اپنے آپ کو بدلنے سے ہوتی ہے۔اپنا جائزہ لو۔حقیقی ایمان پہ یقین رکھتے ہوئے توبہ کریں
۔اور
۔
اپنی اپنی اصلاح کر لیں ۔
۔
۔
۔
۔اس
۔پیغام سچائی کو فارورڈ کر دیں

19/06/2026

میں نے طب کی پریکٹس کے 53 سالوں میں 4000 سے زیادہ لوگوں کو مرتے دیکھا۔
میں نے ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے۔ میں نے ان کے آخری لمحوں میں ان کا ہاتھ تھاما۔ میں نے ان کے خاندانوں کو خبر دی۔ اور اب میں آپ کو ایک ایسی بات بتانے جا رہا ہوں جو ان میں سے زیادہ تر لوگوں میں مشترک تھی۔ وہ جینیات کی وجہ سے نہیں مرے۔ نہ بدقسمتی کی وجہ سے۔ وہ انتخاب کی وجہ سے مرے۔ ایسے رویے، ایسے اندازِ زندگی—جن کے نمونے میں نے 1972 میں پہچان لیے تھے۔ میں نے دہائیوں تک اپنے مریضوں کو خبردار کیا۔ زیادہ تر نے بات نہیں مانی۔ اور اب وہ سب جا چکے ہیں۔

میں 102 سال کا ہوں۔ میں یہ بات نہ تو ہمدردی کے لیے بتا رہا ہوں، نہ حیران کرنے کے لیے۔ میں یہ اس لیے بتا رہا ہوں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ سمجھیں:

میں نے مرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ اتنا وقت گزارا ہے جتنا آج زمین پر کوئی زندہ انسان نہیں گزار سکا۔ اور میں بخوبی جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو 100 تک پہنچے، اور وہ جو 68 پر اچانک مر گئے—ان میں فرق کیا تھا۔ ممکن ہے آپ اس وقت، آج ہی، ان میں سے کم از کم دو کام کر رہے ہوں اور آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ وہ آپ کی زندگی کے سال کم کر رہے ہیں۔

پہلی چیز:

جو چیز سب سے تیزی سے انسان کو مارتی ہے—ہر چیز سے زیادہ—وہ ہے زیادہ دیر بیٹھنا۔ یہ مبالغہ نہیں ہے۔ میں نے یہ اپنی آنکھوں سے بار بار ہوتے دیکھا۔
1981 میں میں نے الگ نوٹس رکھنے شروع کیے: وہ مریض جو کام کے دوران بیٹھے رہتے تھے اور وہ جو دن بھر حرکت میں رہتے تھے۔ اکاؤنٹنٹ، سیکرٹریاں، ایگزیکٹو۔ وہ مختلف انداز میں بوڑھے ہوتے تھے۔ ان کے خون کے ٹیسٹ مختلف ہوتے تھے۔ ان کے دل جلدی فیل ہوتے تھے۔
1990 تک میرے پاس اتنا ڈیٹا تھا کہ میں یقین سے کہہ سکوں: جو شخص روزانہ 8–9 گھنٹے بیٹھتا ہے، وہ اندرونی طور پر اُس شخص سے 40٪ زیادہ تیزی سے بوڑھا ہوتا ہے جو دن میں حرکت کرتا رہتا ہے۔ بعد میں میڈیکل ریسرچ نے اس کی تصدیق کی۔ لیکن میں نے یہ سب اپنے مریضوں کے جسموں میں پہلے دیکھا۔
کیا ہوتا ہے؟
خون کی گردش سست ہو جاتی ہے۔ خون ٹانگوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ لمفی نظام—جو حرکت پر منحصر ہوتا ہے—جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں۔ 60 کے بعد، اگر استعمال کم ہو جائے، تو پٹھے چند دنوں میں کمزور ہونے لگتے ہیں
اور یہ عمل بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔
میرے پاس ایک ریٹائرڈ جج مریض تھا۔ وہ ہر صبح 45 منٹ ورزش کرتا تھا—باقاعدگی سے۔ اسے لگتا تھا وہ محفوظ ہے۔ لیکن ورزش کے بعد وہ 10–11 گھنٹے بیٹھ کر پڑھتا یا ٹی وی دیکھتا تھا۔ 71 سال کی عمر میں وہ فالج سے مر گیا۔
صبح کی ورزش نے اسے دوپہر کی بے حرکتی سے نہیں بچایا۔
حل مشکل نہیں: ہر گھنٹے حرکت کریں۔ کھڑے ہوں۔ کسی دوسرے کمرے تک چلیں۔ ایسا کچھ کریں جس میں ٹانگیں استعمال ہوں۔ میں 1974 سے ایسا کر رہا ہوں۔ ٹائمر لگائیں۔ میں 102 سال کا ہوں—اور آج بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔

دوسری چیز: نیند

صرف زیادہ نیند نہیں بلکہ صحیح قسم کی نیند۔
کتنے ہی مریض فخر سے کہتے تھے: “مجھے صرف 5 یا 6 گھنٹے کی نیند کافی ہے۔”
یہ طاقت کی علامت نہیں تھی۔ یہ خود فریبی تھی۔
دماغ کو 7 سے 8 گھنٹے درکار ہوتے ہیں تاکہ وہ گہری نیند میں اپنی مرمت مکمل کر سکے۔ اسی دوران دماغ کا صفائی نظام وہ فاضل مادے خارج کرتا ہے جو یادداشت کی خرابی سے جڑے ہوتے ہیں۔
جب آپ مسلسل نیند کم کرتے ہیں، تو یہ زہریلے مادے ہر رات جمع ہوتے جاتے ہیں۔
میں نے دیکھا: جو لوگ اچھی نیند نہیں لیتے تھے وہ 10 سال پہلے یادداشت کے مسائل کا شکار ہو جاتے تھے۔ اتنا مضبوط تعلق تھا کہ میں 60 کی عمر میں ہی اندازہ لگا لیتا تھا کہ کون کب زوال کا شکار ہوگا—صرف نیند کی بنیاد پر۔
اور ایک بات: ٹکڑوں میں نیند۔ کم نیند سے بھی بدتر ہے۔ رات میں بار بار جاگنا۔ گہری نیند تک پہنچنے ہی نہیں دیتا۔ بہت سے مریضوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ رات میں جاگ رہے ہیں ان کے شریکِ حیات جانتے تھے، وہ نہیں۔ اگر آپ 8 گھنٹے بستر پر گزار کر بھی تھکے ہوئے اٹھتے ہیں، تو کچھ غلط ہے۔

تیسری چیز: تنہائی

یہ نرم بات لگتی ہے۔ لیکن ہے نہیں۔
تنہائی جسم میں مسلسل دباؤ پیدا کرتی ہے۔ اسٹریس ہارمون بڑھ جاتے ہیں۔ مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔سوزش بڑھتی ہے۔
میں نے ایسے مریض دیکھے جو بظاہر صحت مند تھے لیکن اکیلے رہتے تھے کوئی قریبی تعلق نہیں۔ وہ ان لوگوں سے زیادہ تیزی سے بگڑے جنہیں شدید بیماریاں تھیں مگر مضبوط سماجی تعلقات تھے۔
60 کے بعد جب شریکِ حیات یا دوست بچھڑنے لگتے ہیں۔ تو تنہائی کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔آپ کو اس کے خلاف لڑنا ہوگا:کسی گروپ میں شامل ہوں۔کسی کو فون کریں۔ہفتوں تک بغیر بات چیت کے نہ رہیں۔

چوتھی چیز: خوراک

اور یہ مجھے غصہ دلاتی ہےکیونکہ ہماری میڈیکل برادری نے40 سال تک غلط مشورے دیے۔
ہم نے کہا: کم چکنائی کھائیں۔
ہم نے کہا: سارا اناج صحت مند ہے۔
ہم نے کہا: اورنج جوس اچھا ہے۔
اور ہم نے ایک ایسی نسل پیدا کی جو بڑھاپے میں ٹوست، جام اور سیریلز کھا رہی تھیاور حیران تھی کہ شوگر کیوں بڑھ رہی ہے۔60 کے بعد میٹابولزم بدل جاتا ہے۔انسولین کی حساسیت کم ہو جاتی ہے۔کاربوہائیڈریٹس ہضم کرنے کی صلاحیت گھٹ جاتی ہے۔جو 40 پر ٹھیک تھاوہ 70 پر سوزش پیدا کرتا ہے۔
میں نے 65 پر اپنی خوراک بدلی۔پروسیسڈ کاربوہائیڈریٹس کم کیے۔صحت مند چکنائی بڑھائی۔ سبزیاں اور پروٹین پر توجہ دی۔ تین ماہ میں میری سوزش کے ٹیسٹ بہتر ہو گئے۔میں نے یہی مریضوں کو کہا۔ جنہوں نے مانا، فائدہ ہوا۔زیادہ تر نے نہیں مانا۔وہ اب نہیں رہے۔

پانچویں چیز: مستقل فکر

یہ خطرناک ہے کیونکہ۔ یہ بیماری نہیں لگتی یہ عادت لگتی ہے۔مگر مسلسل پریشانی اسٹریس ہارمونز کو بلند رکھتی ہے جو پورے جسم کو نقصان پہنچاتی ہے۔میں نے ایسے ریٹائرڈ مریض دیکھےجو مالی طور پر محفوظ تھےخاندان کے درمیان تھےپھر بھی دن بھر بے قابو فکروں میں مبتلا رہتے تھے۔ان کا جسم تیزی سے بوڑھا ہوا۔نیند خراب ہوئی۔مدافعتی نظام کمزور ہوا۔جو چیز آپ کے قابو میں نہیں اسے چھوڑنا
صرف ذہنی سکون نہیں زندہ رہنے کا ذریعہ ہے۔

میں آپ کو اپنی بیوی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔وہ آٹھ سال پہلے فوت ہو گئیں۔ہماری شادی کو 61 سال ہو چکے تھے۔انہوں نے میری کسی بات پر عمل نہیں کیا۔گھٹنوں کے درد کی وجہ سے وہ بیٹھتی رہیں۔نیند خراب تھی، مگر علاج سے انکار کیا۔خوراک وہی پرانی—روٹی، مٹھائیاں، کم چکنائی۔اور وہ ہر دن بچوں اور پوتوں کی فکر کرتی رہیں۔وہ 94 سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔94 ایک اچھی عمر لگتی ہے—لیکن میں نے ان کے آخری 15 سالآہستہ آہستہ ختم ہوتے دیکھے۔وہ حرکت، ذہانت اور خودمختاری کھو بیٹھی تھیں۔وہ سال نعمت نہیں تھے—وہ مسلسل کمی تھے۔وہ بہتر زندگی کے مزید 10 سال پا سکتی تھیں۔انہوں نے بدلنے کا انتخاب نہیں کیا۔

میں 102 سال کا ہوں۔میں اکیلا رہتا ہوں۔خود کھانا پکاتا ہوں۔ہر دن چلتا ہوں۔
پڑھتا ہوں۔اپنے پوتوں کو فون کرتا ہوں۔ہر رات 7½ گھنٹے سوتا ہوں۔میں خاص نہیں ہوں۔میں خوش قسمت نہیں ہوں۔میں انتخاب کرتا ہوں۔اور آپ بھی
اسی لمحےانتخاب کر رہے ہیں۔آپ کو سب کچھ بدلنے کی ضرورت نہیں۔
صرف ایک چیز چنیں:
نیند،
تنہائی،
خوراک،
یا فکر۔
ایک ٹھیک کریں باقی خود آسان ہو جائیں گی۔

میں نے اپنے تین میں سے دو بچے دفن کیے۔میں نے اپنی بیوی دفن کی۔میں نے 4000 مریض دفن کیے۔میں اب بھی یہاں ہوں۔اور میں آپ کو بتا رہا ہوں۔ جن میں سے زیادہ تر کو میں نے دفن کیا—انہیں اس وقت نہیں جانا چاہیے تھا۔آپ ابھی یہاں ہیں۔اب سوال یہ ہے:

آپ اس کے بارے میں کیا کرنے والے ہیں؟

06/06/2026
06/06/2026
@
05/06/2026

@

05/06/2026

چھوٹے طالب علموں ۔۔۔ کو گرمی کی چھٹیوں میں مصروف رہنے کا پیغام ۔۔۔۔۔۔
۔

پیارے بچو۔
۔
۔
گرمیوں کی چھٹیاں صرف آرام اور کھیل کود کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ یہ سیکھنے، اپنی تعلیمی صلاحیتیں بڑھانے اور اگلے اسباق کی تیاری کرنے کا بہترین موقع بھی ہوتی ہیں۔
۔
۔
۔ سمر ٹاسک کا مقصد صرف کاپیوں میں کام مکمل کرنا نہیں بلکہ آپ کی پڑھائی کو مضبوط بنانا اور آپ کو ایک بہتر طالب علم بنانا ہے۔
۔
۔

ہم میں سے اکثر دیہاتوں میں رہتے ہیں۔ دیہات کی زندگی ہمیں محنت، تعاون اور ذمہ داری سکھاتی ہے۔
۔
۔ اس لیے چھٹیوں میں اپنے والدین کی مدد کریں، گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں ہاتھ بٹائیں، اپنے بزرگوں کا احترام کریں، اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھیں۔
۔۔ اور گھر کے ماحول کو خوشگوار بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔۔
۔
۔
ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ گھر کے کاموں کے ساتھ اپنی پڑھائی کو نظر انداز نہ کریں۔۔
۔
۔
۔۔ ایک اچھا بچہ وہ ہے جو اپنے والدین کی خدمت بھی کرے اور اپنی تعلیم کا بھی خیال رکھے۔
پیارے بچو! اگر ممکن ہو تو اپنی کلاس کے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک تعلیمی واٹس ایپ گروپ بنائیں اور اپنے متعلقہ اساتذہ کو بھی اس میں شامل کریں۔۔
۔
۔
۔ اس گروپ کا مقصد صرف پڑھائی، سمر ٹاسک، سوالات، جوابات اور نئی تعلیمی معلومات کا تبادلہ ہونا چاہیے۔ اس طرح آپ ایک دوسرے سے سیکھ سکیں گے، اپنی مشکلات حل کر سکیں گے اور اپنی تعلیمی قابلیت کو مزید بہتر بنا سکیں گے۔
۔
۔
۔
گروپ میں صرف تعلیمی سوالات، سبق، سمر ٹاسک اور مفید معلومات شیئر کریں۔ غیر ضروری پیغامات، فضول ویڈیوز، غیر متعلقہ تصاویر اور بے مقصد گفتگو سے پرہیز کریں تاکہ سب بچوں کو سیکھنے کا موقع ملے۔
۔
۔
۔
۔
آج کل موبائل فون اور سوشل میڈیا ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ ایک سمجھدار طالب علم موبائل کو صرف تفریح کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ علم حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔
۔
۔
۔
۔ کوشش کریں کہ واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعے نئی تعلیمی معلومات حاصل کریں، اپنے اساتذہ سے سوالات پوچھیں اور اپنے کلاس فیلوز کی مدد کریں۔
۔
۔
اگر آپ کو کسی بھی مضمون یا سمر ٹاسک میں مشکل پیش آئے تو اپنے متعلقہ استاد یا استانی سے ضرور سوال پوچھیں۔ سوال پوچھنے سے علم بڑھتا ہے اور مشکل آسان ہو جاتی ہے۔
۔
۔
۔
آپ اپنے اساتذہ سے ایسے سوالات بھی پوچھ سکتے ہیں۔
۔
۔

آج مجھے کون سا سبق دہرانا چاہیے؟۔
۔
۔
اس سوال کو حل کرنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟
۔
۔
۔
اس سبق کا آسان مطلب کیا ہے؟
میری لکھائی اور کام کو بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
۔
۔

اگلی جماعت کی تیاری کے لیے مجھے کیا پڑھنا چاہیے؟
۔
۔
۔
ریاضی میں بہتر ہونے کے لیے روزانہ کیا مشق کروں؟
۔
۔
انگریزی کے نئے الفاظ یاد کرنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟
۔
۔
سائنس کے اس سوال کو آسانی سے کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟
روزانہ کتنی دیر پڑھائی کرنا کافی ہے؟
۔
۔
۔
ایک اچھا اور کامیاب طالب علم بننے کے لیے مجھے کون سی عادتیں اپنانی چاہئیں؟
۔
۔
۔۔
پیارے بچو۔
۔
۔
۔

اگر آپ روزانہ صبح یا شام دو چار گھنٹے دل لگا کر پڑھیں،
۔
۔ اپنا سمر ٹاسک مکمل کریں، والدین کی مدد کریں، اساتذہ سے سوال پوچھیں اور روز ایک نئی بات سیکھیں تو یہ چھٹیاں آپ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوں گی۔
۔
۔
یاد رکھیں۔۔۔۔۔
۔
تعلیم کا وقت بہت قیمتی ہوتا ہے۔
۔
۔ غیر ضروری ویڈیوز،ل۔ویڈیو گیمز ۔ فضول پوسٹوں اور بے مقصد باتوں سے گریز کریں۔
۔
۔
جو بچہ آج علم حاصل کرتا ہے، وہی کل اپنے والدین، اپنے اساتذہ، اپنے گاؤں اور اپنے ملک کا نام روشن کرتا ہے۔
۔
۔
آئیں۔
۔
۔ہم سب اس سمر سیزن میں اچھی عادتیں اپنائیں، ہر روز کچھ نیا سیکھیں، کچھ اچھا پڑھیں اور کوئی نہ کوئی اچھا کام ضرور کریں۔
۔
۔اپنے موبائل اور سوشل میڈیا کو علم حاصل کرنے کا ذریعہ بنائیں۔
۔
کیونکہ آج کی چھوٹی سی محنت کل کی بڑی کامیابی بن سکتی ہے۔۔۔
۔۔۔
۔
۔
۔
۔
۔شکریہ
۔
۔دعا گو
حکیم خالد خان نیازی

29/05/2026

پروسٹیٹ کی آن لائن دوائی۔۔۔ پرولان۔۔ کے نام پر ۔۔ دھوکہ دہی اور دیگر ضروری معلومات کے لیئے مطالعہ کریں۔۔۔۔
۔
۔۔۔کراچی سے
آن لائن پروگرام کے نام پر اشتہار بازی کر کے دھوکہ دیا جا رہا ہے۔
۔
۔۔منگوانے پر 10 گولیوں کی جعلی دوا کی بوتل دس ہزار روپے میں بھیجی جا رہی ہے۔

اگر آپ نے ان کی ویب سائٹ پر ایک بوتل کی بکنگ کی ہے
جس کی مالیت 10 ہزار روپے ہے
اور انہوں نے اشتہار میں رعایتی قیمت پانچ ہزار روپے لکھی ہے

اور پروموشن کے نام پر ہر روز یہ اشتہار چلایا جاتا ہے کہ یہ رعایت صرف آج کے دن کی ہے اس کے بعد اپ کو وہاں سے ایک ٹیلی فون اتا ہے

اور آپ کو ایک بندہ بہت زیادہ طبی ماہر ہونے کا تعارف کراتا ہے اور وہ اپ سے پوری ہسٹری لیتا ہے۔
۔ اس کے بعد وہ آپ کو پانچ بوتل کا ارڈر دینے پر مجبور کرتا ہے
۔
۔
اور قائل کرتا ہے اس طرح وہ آپ کو پانچ بوتل 25 ہزار روپے کی آفر دیتا ہے

اور اگر اس سے کم لیں گے تو وہ اپ کو فی بوتل 10 ہزار کہتا ہے۔

اس طرح اس بندے کے بار بار اصرار کرنے پر اور اشتہارباری کی باتیں کرنے پر قائل کرنے میں جلدی کرتا ہے تو فورا دوسری باتیں شروع کر دیتا ہے
جیسا کہ ہم اپ کو ڈلیوری دیں گے

یہ گولیاں آپ کو اتنا فائدہ دیں گی

کہ آپ کا پراسٹیٹ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔
۔ اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں کر کے وہ اپ کو پانچ بوتل خریدنے پر اصرار کرتے کرتے مجبور کر دیتا ہے

اس کے بعد اگر آپ نے اس کو یہ کہہ دیا۔۔
۔ کہ اپ نے تو اشتہار میں پانچ ہزار کی بوتل لکھی ھی ہے
تو وہ کہتا ہے کہ یہ پانچ بوتلوں کی آفر ہے اگر اس سے کہا جائے کہ بھائی یہ اشتہار میں تو نہیں لکھا ہوا تو وہ خاموش ہو جاتا ہے
اس کے بعد اگر اس سے کہا جائے کہ تین بوتل بھیجیں وہ 21 ہزار روپے مانگتا ہے

اور ایک بوتل میں 10 گولیاں ہوتی ہیں

یعنی 30 گولیوں کی قیمت 21 ہزار روپے حصول کرنے کی بات کرتا ہے

یہ لوگ کئی بڑے ناموں کا استعمال کر رہے ہیں

جس میں بڑے بڑے مولوی حضرات کی مصنوعی ذہانت کی بنی ویڈیوز لگاتے ہیں اور ان میں جو کمنٹس سیکشن ہے
وہ انہوں نے بند کیا ہوا ہے
فرضی ویب سائٹ پر لوگوں کی دوائی کے بارے میں مثبت رائے لکھی گئی ہے۔
جس پر اپ کمنٹس نہیں دے سکتے
وہ سب کچھ پرنٹڈ ہے لہذا اگر آپ اس کو آرڈر بک کراتے ہیں تو وہ ۔۔پرولان۔دوا کی بجائے بازار کی کوئی دوسری جعلی تین سو روپے کی دس گولیاں تین بوتل بیج کر 15 ہزار روپے وصول کر لیتا ہے

نہ تو وہ ۔۔پرولان۔۔ بھیجتے ہیں
اور نہ ہی کوئی رعایت کرتے ہیں۔

اس قسم کے اشتہارات سے دھوکا نہ کھا ئیں
۔
۔اور ۔۔پرولان۔۔ کے نام پر بڑے بڑے دعوے کیئے جاتے ہیں

اور بڑے بڑے لوگوں کے فرضی ۔۔۔مصنوعی ذہانت سے بنے ہوئے ۔انٹرویوز دیئے جا رہے ہیں۔

لیکن اصل میں کسٹمر کے ساتھ آن لائن دھوکہ دہی چل رہی ہے ہے ۔
۔
۔جس سے محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔۔
۔ایک سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کا حوالہ دیکھی ۔
۔۔
۔میں کرنل (ریٹائرڈ) حق نواز، عمر 73 سال۔ مجھے پچھلے کئی سالوں سے پروسٹیٹ کا مسئلہ تھا۔

1. میں نے تقریباً ایک سال تک ایک ہومیوپیتھ کا علاج کروایا لیکن صرف معمولی بہتری ہوئی۔

2. پھر AFIU، CMH کے مشورے پر میں نے تقریباً ڈیڑھ سال تک Maxflow G / Tamsol D استعمال کی، لیکن سائز میں صرف معمولی کمی ہوئی۔

3. اس کے بعد میں نے تقریباً 14 *دن تک ہمدرد دواخانہ کی گُل موندین استعمال کی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرے پروسٹیٹ کا سائز 69 سے کم ہو کر 46 ہو گیا۔ میرے ڈاکٹر بریگیڈیئر یورولوجسٹ نے مشورہ دیا ہے کہ اس کی استعمال مکمل طور پر بند نہ کریں، بلکہ روزانہ ایک بار یا ایک دن چھوڑ کر ایک بار استعمال جاری رکھیں۔

یہ ایک حیرت انگیز ہربل علاج ہے۔ متاثرہ بھائی اس ہربل دوا سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جس کی قیمت صرف 100 روپے ہے اور غالباً اس کے کوئی مضر اثرات بھی نہیں ہیں۔*
Copied and pasted for general benefit of public.اس تحریر کی اصلیت پر ھمدرد دواخانہ کے تاثرات کا انتظار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔اس کے علاوہ ھومیو پیتھی کی۔۔ بی ایم 126 ۔۔۔۔۔بی ایم 45... اور بی ایم 122۔۔بھی بہت مؤثر ثابت ہوتی ہیں جو تینوں کو پندرہ پندرہ قطرے ایک گلاس پانی میں ڈال کر دن میں تین بار استعمال کیئے جاتے ہیں ۔۔۔۔قدرتی خوراک سے بھی کافی مدد ملتی ہے۔لال ٹماٹر کا چھلکا اور بیج نکال کر ہر خوراک کے ساتھ دو ٹماٹر کا استعمال ایک مہینے کے بعد بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے ۔ھلدی اور کالا زیرہ پسا ہوا سالن کے ساتھ نصف نصف چمچہ ملا کر کھانا سوزش کا خاتمہ کرتا ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔پرھیز میں لال مرچ کالی مرچ سبز مرچ تیز مصالحے دار سالن۔آلو چاول چنے کے استعمال کو روکنا بہتر رہتا ہر۔۔۔عام پریوں میں کھڑے ہو چھوٹا پیشاب کیا جائے تو مثانہ مکمل خالی کرنے سے پراسٹیٹ کو آرام ملتا ہے اور بار بار پیشاب کی حاجت نہیں رہتی ۔۔اس مرض میں مبتلا مریضوں کو پانی زیادہ پینا چاہیے اور پیشاب کو فوری حاجت میں ہی خارج کرنا مرض کی کمی کا باعث بنتا ہے۔ ایلوپیتھی علاج میں ڈاکٹر میکسیکو ڈی۔جرمنی۔ دو تین ماہ کے استعمال سے پیشاب کی روکاوٹ کا خاتمہ ۔۔۔اور پراسٹیٹ کا سائز کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔۔
۔
اور اگر سوزش بھی محسوس ہو تو نوواڈیٹ پانچ سو ایم جی صبح شام ایک ھفتہ استعمال کراتے ہیں۔
۔
اگر درد محسوس ہو تو کفلام کی گولی استعمال کراتے ہیں۔۔اس کا آخری حل بھی موجود ہے جو سرجیکل طریقہ ہے اور محفوظ اور بغیر کسی تکلیف کے لیزر سے نصف گھنٹہ یا کچھ زیادہ دورانیہ میں مکمل ہو سکتا ہے ۔اس کے علاوہ امریکن سسٹم میں پانی کی بھاپ سے بغیر زخم کیئے بھی چند ہی منٹوں میں علاج موجود ہے مگر مہنگا ہے۔

Address

Mianwali
7500

Telephone

+923005534477

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Herbal Clinic -Trust posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category