Dr. Ayesha Majeed

Dr. Ayesha Majeed Consultant hematologist
Assistant Professor Haematology

20/06/2026

شکرگزاری کا زوال اور ایک خاموش معاشرتی المیہ
کبھی ایسا تھا کہ اگر کوئی آپ کو ایک گلاس پانی بھی پیش کر دیتا تو دل سے دعا نکلتی تھی۔ اگر کسی نے راستے میں مدد کر دی، ایک اچھا لفظ کہہ دیا یا مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہو گیا تو انسان برسوں اسے یاد رکھتا تھا۔ شکرگزاری صرف ایک لفظ نہیں تھی بلکہ ایک رویہ تھی، ایک تہذیب تھی، ایک خوبصورت انسانی صفت تھی جو دلوں کو جوڑتی تھی۔
آج ہم ایک عجیب دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ لوگ احسان کو احسان نہیں سمجھتے، محبت کو حق سمجھتے ہیں اور قربانی کو فرض۔ اگر کوئی کچھ اچھا کر دے تو اس کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے اکثر یہ سوچا جاتا ہے کہ اس نے اس سے بہتر کیا کیوں نہیں۔
یہ رویہ بظاہر معمولی محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔
شکرگزاری صرف دوسرے شخص کو خوش نہیں کرتی بلکہ یہ انسان کے اپنے دل کو بھی نرم بناتی ہے۔ جو شخص شکر گزار ہوتا ہے وہ زندگی کی نعمتوں کو محسوس کرتا ہے۔ اسے چھوٹی خوشیاں بھی بڑی لگتی ہیں۔ وہ لوگوں کی اچھائیوں کو دیکھتا ہے اور اس کا دل حسد، شکایت اور ناراضی سے نسبتاً محفوظ رہتا ہے۔
اس کے برعکس جب انسان ہر چیز کو اپنا حق سمجھنے لگے تو اس کی نگاہ دوسروں کی نیکیوں پر نہیں بلکہ ان کی کمیوں پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ وہ ہمیشہ یہ دیکھتا ہے کہ کیا نہیں ملا، کیا کم ملا اور کیا بہتر ہو سکتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کے پاس جتنی بھی نعمتیں ہوں، وہ کبھی مطمئن نہیں ہو پاتا۔
شکرگزاری کے ختم ہونے کا سب سے بڑا نقصان رشتوں کو پہنچتا ہے۔ جب کسی کی کوششوں کی قدر نہ کی جائے تو آہستہ آہستہ اس کا دل ٹوٹنے لگتا ہے۔ وہ محبت تو دیتا ہے لیکن بدلے میں بے قدری محسوس کرتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب لوگ دوسروں کے لیے کچھ کرنے سے پہلے سوچنے لگتے ہیں کہ آخر فائدہ کیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے لوگ جذباتی طور پر تھکے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ مدد کرنے سے نہیں تھکے، وہ بے قدری سے تھک گئے ہیں۔
معاشرے کی خوبصورتی بڑے کارناموں سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی مہربانیوں سے قائم رہتی ہے۔ کسی کا شکریہ ادا کرنا، کسی کی کوشش کو سراہنا، کسی کی نیت کی قدر کرنا، یہ وہ چیزیں ہیں جو دلوں میں محبت پیدا کرتی ہیں۔ جب یہ عادتیں ختم ہونے لگتی ہیں تو معاشرے میں سرد مہری بڑھنے لگتی ہے۔
شکرگزاری کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز کامل ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خامیوں کے باوجود خوبیوں کو دیکھنا سیکھیں۔ اگر کسی نے آپ کے لیے ایک قدم اٹھایا ہے تو پہلے اس قدم کی قدر کریں، پھر بہتری کی بات کریں۔ کیونکہ تعریف دل کھولتی ہے جبکہ مسلسل تنقید دل بند کر دیتی ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ ہر نعمت، ہر مہربانی اور ہر اچھے عمل کی قدر کی جائے۔ ایک معاشرہ صرف قوانین سے مضبوط نہیں بنتا، بلکہ ایسے دلوں سے بنتا ہے جو دوسروں کی نیکی کو پہچانتے اور اس کا اعتراف کرتے ہیں۔
شاید آج ہمیں پہلے سے زیادہ شکرگزاری کی ضرورت ہے۔ اس لیے نہیں کہ دنیا بدل جائے گی، بلکہ اس لیے کہ شکر گزار دل خود بھی سکون میں رہتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی سکون کا سبب بنتا ہے۔
آخر میں صرف اتنا یاد رکھیے کہ جب لوگ آپ کی نیکی کی قدر نہ کریں تو نیکی کرنا مت چھوڑیں۔ دنیا کو ابھی بھی اچھے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اور بعض اوقات ایک چھوٹا سا شکریہ کسی انسان کے دل میں انسانیت پر دوبارہ یقین پیدا کر سکتا ہے۔

عائشہ مجید میمن

19/05/2026

Ask chatgpt to pick any random. Number between 1 and 100 and it will choose 73!

میں نے آج پھر امی کو چپکے سے روتے دیکھا۔وہ کچن میں کھڑی تھیں، مگر ان کی آنکھیں کہیں اور تھیں۔بابا پہلے کی طرح مضبوط نظر ...
08/05/2026

میں نے آج پھر امی کو چپکے سے روتے دیکھا۔
وہ کچن میں کھڑی تھیں، مگر ان کی آنکھیں کہیں اور تھیں۔
بابا پہلے کی طرح مضبوط نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اب ان کی خاموشی بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔
کبھی کبھی لگتا ہے بیماری صرف جسم کو نہیں کھاتی، پورے گھر کی ہنسی آہستہ آہستہ اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔
میں بھی تو بس ایک عام سی زندگی چاہتا تھا۔
دوستوں کے ساتھ ہنسنا، مستقبل کے خواب بنانا، امی کے ہاتھ کا کھانا کھاتے ہوئے ضد کرنا، بابا کے ساتھ بازار جانا۔
مگر زندگی نے میرے حصے میں ہسپتال کی دیواریں، خون کی بوتلیں اور انتظار لکھ دیا۔
انتظار…
اگلی رپورٹ کا،
اگلی سانس کا،
اگلے ڈونر کا۔
لوگ کہتے ہیں “حوصلہ رکھو”
مگر کبھی کبھی حوصلہ بھی تھک جاتا ہے۔
تب انسان کو صرف ایک چیز زندہ رکھتی ہے…
کسی اجنبی کی انسانیت۔
شاید آپ کے چند منٹ،
آپ کے خون کا ایک عطیہ،
کسی ماں کی دعا بن جائے۔
کسی باپ کی بے بسی کم کر دے۔
کسی بچے کو چند اور عیدیں، چند اور صبحیں دے دے۔
تھیلیسیمیا صرف ایک بیماری نہیں،
یہ روز جینے کی جنگ ہے۔
آئیں آج عہد کریں کہ
ہم کسی کو خون کی کمی کی وجہ سے خاموشی سے مرتا ہوا نہیں دیکھیں گے۔
ہم انسانیت کو صرف لفظ نہیں، عمل بنائیں گے۔
کیونکہ کسی کے لیے
آپ کا ایک عطیہ…
پوری زندگی ہو سکتا ہے۔


02/05/2026

Modern psychology claims if someone wrongs you and cause you a harm, you should openly, honestly and with facts discuss about your feelings (anger/hurt/harm) with them and shouldn't make assumptions about the outcome, as it can actually ease the pain but here my question is, does this apply to people with mob mentality?

01/05/2026

جب آپ نے پہلی بار ملازمت کا آغاز کیا تھا تو آپ کی پہلی تنخواہ کتنی تھی؟

Address

Ali Medicare Hospital Adam Town Mirpurkhas
Mirpur Khas

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Ayesha Majeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Ayesha Majeed:

Shortcuts

Share

Category