Dr. Ayesha Majeed

Directions Contact the practice

Dr. Ayesha Majeed Consultant hematologist
Assistant Professor Haematology

15/09/2026

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم نے بچوں کی تعلیم کو صرف نمبروں تک محدود کر دیا ہے۔
بچہ امتحان دے کر گھر آتا ہے تو ہم یہ نہیں پوچھتے کہ
"بیٹا! پیپر کیسا ہوا؟ کیا نیا سیکھا؟"
ہم فوراً پوچھتے ہیں:
"کتنے نمبر آئیں گے؟"
رزلٹ آتا ہے تو بچے کا چہرہ نہیں دیکھتے،
سب سے پہلے نمبر دیکھتے ہیں۔
اور پھر موازنہ شروع...
"دیکھو، فلاں کے بیٹے کے 95 فیصد آئے ہیں۔"
"تمہارے کزن نے تو کلاس میں ٹاپ کیا ہے۔"
"تم سے تو ہمیں بہت امیدیں تھیں۔"
"اتنی فیس لگائی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟"
ہمیں شاید اندازہ ہی نہیں کہ یہ چند جملے بچے کے دل میں کتنی گہری دراڑ ڈال سکتے ہیں۔
وہ بچہ جو پہلے ہی اپنے نتیجے سے پریشان ہوتا ہے،
ہم اس کے لیے گھر کو بھی امتحان گاہ بنا دیتے ہیں۔
اسے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ
"اگر میرے نمبر اچھے نہیں آئے تو شاید میں اچھا بچہ بھی نہیں ہوں۔"
اور یہی سوچ خطرناک ہے۔
یاد رکھیے، بچے کا رزلٹ اس کی قابلیت کا مکمل تعارف نہیں ہوتا۔
کسی بچے کو ریاضی پسند ہے، کسی کو کہانیاں لکھنا۔
کوئی سائنس میں کمال کر سکتا ہے، کوئی آرٹ میں۔
کوئی کتابوں میں بہترین ہے، کوئی لوگوں کو سمجھنے میں۔
کسی کا ذہن نمبروں کے لیے بنا ہے اور کسی کا تخلیق کے لیے۔
ہم ہر بچے کو ایک ہی پیمانے سے ناپ کر اس کی انفرادیت کیوں ختم کر دیتے ہیں؟
والدین ہونے کے ناتے ہماری ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ بچہ اچھے نمبر لے۔
ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اچھا انسان بنے، سوال کرنا سیکھے، ناکامی برداشت کرنا سیکھے، اپنے فیصلے کرنا سیکھے اور اپنی صلاحیت کو پہچانے۔
اگر رزلٹ خراب آئے تو بچے کے پاس بیٹھیں۔
اسے کہیں:
"کوئی بات نہیں، ہم دیکھتے ہیں کہاں مشکل ہوئی۔ اگلی بار بہتر کوشش کریں گے۔"
اسے یہ مت کہیں:
"تم نے ہمارا سر جھکا دیا۔"
کیونکہ آپ کے لیے وہ صرف ایک جملہ ہے،
لیکن بچے کے لیے شاید وہ اس کی پوری شخصیت پر فیصلہ بن جائے۔
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں:
کم نمبر آنے سے زندگی ختم نہیں ہوتی،
لیکن خود کو ناکام سمجھ لینے سے زندگی بہت مشکل ضرور ہو جاتی ہے۔
آپ کا بچہ آپ کی ٹرافی نہیں ہے۔
وہ آپ کی ذمہ داری ہے۔
اسے دنیا کے سامنے ثابت کرنے کے لیے نہیں،
دنیا کا سامنا کرنے کے قابل بنانے کے لیے پالیں۔
رزلٹ والے دن بچے کے ہاتھ میں صرف تحفہ نہ دیں،
اس کے کندھے پر ہاتھ بھی رکھیں۔
اسے بتائیں:
"تمہارے نمبر جیسے بھی ہوں، ہمارے لیے تمہاری قدر کم نہیں ہوئی۔"
شاید یہی وہ جملہ ہو جس کی اسے پوری زندگی سب سے زیادہ ضرورت رہے۔

عائشہ مجید میمن

زندگی میں ایک دلچسپ بات میں نے یہ سیکھی ہے کہ انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ اپنے بارے میں کیا سوچتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ...
29/07/2026

زندگی میں ایک دلچسپ بات میں نے یہ سیکھی ہے کہ انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ اپنے بارے میں کیا سوچتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے کیسا احساس چھوڑ جاتا ہے۔
ہم سب اپنی اپنی کہانی کے ہیرو ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنی محنت بھی نظر آتی ہے، اپنی جدوجہد بھی، اپنے زخم بھی اور اپنی کامیابیاں بھی۔ لیکن دوسروں کو ہماری کہانی نہیں، ہمارا رویہ یاد رہتا ہے۔
مجھے ہمیشہ ایسے لوگ متاثر کرتے ہیں جنہیں اپنی قابلیت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جو جتنا جانتے ہیں، اتنا ہی خاموشی سے سیکھتے بھی رہتے ہیں۔ جن کے جملوں میں "میں" کم اور "ہم" زیادہ ہوتا ہے۔ جو اختلاف کو اپنی توہین نہیں سمجھتے اور نہ ہی اتفاق کو اپنی فتح۔
علم ایک عجیب نعمت ہے۔ جتنا بڑھتا ہے، اتنا ہی انسان کو اپنی لاعلمی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے بڑے اساتذہ اکثر بڑے دعوے نہیں کرتے۔ وہ رائے دیتے ہیں، فیصلہ نہیں سناتے۔ وہ سوال پیدا کرتے ہیں، آخری جواب ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے۔
ہم اکثر لوگوں کو سمجھنے کی بہت کوشش کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ، رویوں اور فیصلوں کے پیچھے وجہ تلاش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک کھلی کتاب نہیں ہوتا۔ کبھی ہم درست سمجھ لیتے ہیں، کبھی ہماری بہترین رائے بھی غلط ثابت ہو جاتی ہے۔ اس لیے کسی کی نیت جاننے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اس کے ظاہر ہونے والے رویے کے ساتھ انصاف کریں۔
زندگی نے ایک اور سبق بھی دیا ہے کہ ہر چیز میں بہترین ہونا ضروری نہیں۔ نہ بہترین لکھاری، نہ بہترین مقرر، نہ بہترین کاروباری، نہ بہترین والدین۔ کافی ہونا بھی ایک خوبصورت مقام ہے۔ کامل ہونے کی دوڑ اکثر سکون چھین لیتی ہے، جبکہ متوازن زندگی انسان کو اپنے قریب لے آتی ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ اسے ذہین کہیں، بلکہ یہ ہے کہ لوگ اس کے پاس بیٹھ کر خود کو محفوظ محسوس کریں۔ ایسے لوگ کم بولتے ہیں کہ وہ کتنے اچھے ہیں، مگر ان کے ساتھ چند لمحے گزار کر دل خود گواہی دے دیتا ہے۔
شاید یہی وہ دولت ہے جو نہ کسی ڈگری سے ملتی ہے، نہ کسی برانڈ سے، نہ کسی تعریف سے۔
یہ صرف کردار سے حاصل ہوتی ہے۔

عائشہ مجید میمن

آپ ایک زندہ معجزہ ہیں:کل کلاس میں مجھے اپنے طلبہ کو Ischemic Colitis، Enterocolitis اور Hemorrhoids پڑھانا تھا۔ یہ موضوع...
28/07/2026

آپ ایک زندہ معجزہ ہیں:
کل کلاس میں مجھے اپنے طلبہ کو Ischemic Colitis، Enterocolitis اور Hemorrhoids پڑھانا تھا۔ یہ موضوعات نہ کوئی خوبصورت کہانی ہیں، نہ کوئی رومانوی سبق، یہ درد، سوزش اور جسم کی اندرونی جدوجہد کی داستان ہیں۔ لیکن جیسے جیسے میں یہ میکینزم سمجھاتی گئی، ایک خیال میرے دل میں بار بار ابھرتا رہا، اور آخر میں نے وہ خیال اپنے طلبہ کے ساتھ بانٹ دیا۔
میں نے ان سے کہا، "یہاں بیٹھا ہر طالب علم دراصل ایک زندہ معجزہ ہے۔"
ہم سب نے وجود میں آنے سے پہلے ہی ایک جنگ لڑی ہے، ایک ایسی جنگ جس کا ہمیں کبھی احساس ہی نہیں ہوا۔ لاکھوں امکانات میں سے، ہم وہ منتخب زندگی ہیں جو باقی رہ گئی۔ اور اب ہم یہاں بیٹھے ہیں، یہ سیکھ رہے ہیں کہ ہمارا اپنا جسم کیسے کام کرتا ہے، سوزش کیسے جنم لیتی ہے، بیماری کیسے پیدا ہوتی ہے، تاکہ ہم نہ صرف خود کو بلکہ دوسرے انسانوں کو بھی سنبھال سکیں۔
کمرہ جماعت میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ طلبہ کی آنکھوں میں کچھ مختلف نظر آیا، شاید انہوں نے پہلی بار خود کو صرف "طالب علم" کے بجائے کچھ اور دیکھا ہو۔ کچھ دیر کے لیے، وہ سب اپنی کتابوں سے نظر ہٹا کر بس اپنے وجود کو محسوس کر رہے تھے۔
میں نے انہیں کہا، اپنے وجود پر خوش ہو جاؤ۔ اس پر خوش ہو جاؤ کہ تم کون ہو۔ تمہارا ہونا تمہارے والدین کو خوش کرتا ہے، تمہارے دوستوں کو خوش کرتا ہے، اور ایک دن تمہاری اپنی اولاد کو بھی خوش کرے گا۔ اللہ کا شکر ادا کرو کہ اُس نے تمہیں چنا، ان گنت دوسروں میں سے، جو تمہاری جگہ ہو سکتے تھے۔
میں اپنے طلبہ سے اپنی پریزنٹیشنز کبھی نہیں چھپاتی۔ یہ نوٹس، یہ سلائیڈز، کتابوں سے ہی اخذ کی گئی ہیں۔ اگر میں یہ علم روک لوں تو نہ Ischemic Colitis بدلے گی، نہ Enterocolitis کا سبب تبدیل ہوگا، نہ سوزش کا عمل رکے گا۔ علم چھپانے سے حقیقت نہیں بدلتی، صرف اس تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔ اس لیے میں بانٹنے پر یقین رکھتی ہوں، علم بھی، اور یہ احساس بھی۔
تو یہی بات میں آج آپ سب سے بھی کہنا چاہتی ہوں، میرے پیارے دوستو، میرے فالوورز، میرے قارئین۔
آپ بھی چنے گئے ہیں۔
آپ بھی زندہ بچ جانے والے ہیں۔
آپ بھی، اپنی اپنی جگہ، ایک چیمپئن ہیں۔
زندگی میں جو بھی مشکل، بیماری یا آزمائش آئی ہو، آپ آج یہاں موجود ہیں، اور یہ اپنے آپ میں ایک نعمت ہے۔ کبھی صبح اٹھ کر آئینے میں خود کو دیکھیں اور سوچیں کہ کتنے لوگ آپ کی جگہ ہونا چاہتے ہوں گے، اور پھر اپنے آپ سے محبت کریں، اپنے وجود کا شکر ادا کریں۔ یاد رکھیں کہ آپ کا ہونا کسی نہ کسی کے لیے خوشی کی وجہ ہے، کسی کی مسکراہٹ کی وجہ ہے، کسی کے سکون کی وجہ ہے۔
الحمدللہ، ہم زندہ ہیں۔ الحمدللہ، ہم موجود ہیں۔

عائشہ مجید میمن

IT'S NOT JUST PAKISTAN.We love to post about "developing countries" like suffering only lives there. Like poverty is a g...
15/07/2026

IT'S NOT JUST PAKISTAN.
We love to post about "developing countries" like suffering only lives there. Like poverty is a geography problem instead of a system problem.
But let's talk about the so-called developed world for a second.
Every year, ordinary people in rich countries pay taxes and a share of that money funds wars, arms deals, and governments that oppress and kill people thousands of miles away. Most of those taxpayers will never see the damage. No child stands outside their restaurant. No one begs at their traffic light. The suffering is exported, outsourced, made invisible and invisibility is its own kind of violence. At least visible poverty forces you to feel something. Funded, distant harm lets you feel nothing at all.
And it's not even just "over there." Look inward:
Homelessness in some of the richest cities on earth, people sleep on sidewalks a block away from empty luxury apartments held as investments.
Debt an entire generation graduates owing tens of thousands of dollars just for trying to get an education, then spends decades paying interest to institutions that never once had to sacrifice anything.
Corporate "modern slavery" people working two or three jobs, no benefits, no security, no ownership of their time, so a handful of shareholders can post record profits. Call it what it is.
None of this is natural. None of it is inevitable. It's designed, maintained, and normalized the same way it's normalized to walk past a beggar without seeing them.
The question was never "why is Pakistan like this." The question is why anywhere is like this and why some suffering gets a viral post, and some gets a tax deduction.
We don't have less compassion in the "developing world." We just don't have the luxury of not seeing it.


Ayesha Majeed Memon

موبائل کی سکرین روشن ہوتی ہے، انگوٹھا خودبخود اوپر نیچے چلنے لگتا ہے، اور چند لمحوں میں ہی دل پر ایک انجانا بوجھ سا آ بی...
14/07/2026

موبائل کی سکرین روشن ہوتی ہے، انگوٹھا خودبخود اوپر نیچے چلنے لگتا ہے، اور چند لمحوں میں ہی دل پر ایک انجانا بوجھ سا آ بیٹھتا ہے۔ کسی کی نئی گاڑی، کسی کا بیرونِ ملک سفر، کسی کا "گھر بیٹھے لاکھوں کمانے" کا دعویٰ، اور بس، ایک سادہ سی مطمئن زندگی گزارنے والی عورت خود کو اچانک دنیا کی سب سے کم نصیب مخلوق سمجھنے لگتی ہے۔ یہ کوئی اکیلی کہانی نہیں، یہ ہر دوسرے گھر کی، ہر تیسری عورت کی، اور نہ جانے کتنے نوجوان بیٹے بیٹیوں کی اندرونی کہانی بن چکی ہے۔
سوشل میڈیا کھولیں تو ہر طرف ایک ہی شور ہے، "میں نے صرف تین مہینوں میں یہ کمایا"، "آپ بھی گھر بیٹھے امیر بن سکتے ہیں"، "بس ایک کلک کی دیر ہے"۔ یہ باتیں سننے میں کتنی دلکش لگتی ہیں، مگر ان کے پیچھے چھپا نقصان کسی کو نظر نہیں آتا۔ سولہ سترہ برس کے وہ بچے جنہیں کتاب اور قلم تھامے ہونا چاہیے تھا، اب رات گئے تک موبائل پر "کیسے امیر بنیں" کی ویڈیوز دیکھتے رہتے ہیں۔ پڑھائی، جو کبھی مستقبل سنوارنے کا واحد راستہ سمجھی جاتی تھی، اب "بورنگ" اور "پرانے زمانے کی بات" لگنے لگی ہے۔ ان کے ذہنوں میں بس ایک ہی خواہش پرورش پا رہی ہے، راتوں رات دولت مند بن جانا۔ اور جب یہ خواب پورا نہیں ہوتا، جو کہ اکثر نہیں ہوتا، تو مایوسی، ڈپریشن اور خود سے نفرت جنم لیتی ہے۔
سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ وہ گھریلو خواتین جن کے شوہر باعزت طریقے سے روزی کما رہے ہیں، جن کے بچے صحت مند اور خوش ہیں، وہ بھی اب اسی دوڑ کا حصہ بننا چاہتی ہیں۔ بچوں کی تربیت، ان کی تعلیم، ان کے ساتھ گزارا وقت، یہ سب اب "غیر ضروری" محسوس ہونے لگا ہے، اور "آن لائن کمائی" ایک جنون کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ مگر کیا کسی نے سوچا کہ ایک ماں جو خود ذہنی دباؤ کا شکار ہو، وہ اپنی اولاد کو کیا دے پائے گی؟ ایک بے چین، غیر مطمئن ماں کبھی مطمئن اولاد پروان نہیں چڑھا سکتی۔ افسردہ مائیں افسردہ نسلیں جنم دیتی ہیں، یہ کوئی نعرہ نہیں، ایک تلخ حقیقت ہے۔
ہماری دادیوں نانیوں کے پاس دو جوڑے کپڑوں کے ہوتے تھے، مگر ان کے چہروں پر جو سکون تھا، وہ آج کی نسل کے لیے ایک خواب بن چکا ہے۔ گاڑی نہ ہونا زندگی کا رک جانا نہیں، بڑا گھر نہ ہونا کامیابی کی کمی نہیں۔ یہ باتیں پرانی نہیں بلکہ ابدی ہیں، بس ہم نے انہیں بھلا دیا ہے۔ قناعت کوئی کمزوری نہیں، ایک طاقت ہے، اور یہ طاقت اسی وقت جنم لیتی ہے جب ہم دوسروں کی دکھائی ہوئی زندگی سے اپنا موازنہ کرنا چھوڑ دیں، کیونکہ جو کچھ سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے، وہ اکثر حقیقت نہیں، بس ایک قابلِ فروخت تصویر ہوتی ہے۔
جب میں کچھ دن کے لیے سوشل میڈیا سے دور ہو جاتی ہوں تو ایک عجیب سکون محسوس ہوتا ہے۔ الحمد للہ، احساس ہوتا ہے کہ میں کسی سے کم نہیں۔ اچھی صحت، عزت دار شوہر، پیارے بچے، اور سادہ مگر باوقار مڈل کلاس زندگی، یہ سب اتنی بڑی نعمتیں ہیں جن کا شکر ادا کرنا بھی مشکل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و اولاد کو محض ایک عارضی زینت قرار دیا ہے، جبکہ باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی اصل میں بہتر اور امید کے لائق ہیں، سورۃ الکہف میں یہی سبق دیا گیا ہے، اور یہی وہ سبق ہے جو ہمیں دوبارہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ تحریر کسی کی محنت یا جائز کمائی کی مخالفت نہیں۔ محنت، ہنر اور جدوجہد ہمیشہ قابلِ قدر رہے ہیں۔ مگر جب "راتوں رات امیر بننے" کا جنون ہمارے ایمان، ہماری تربیت اور ہمارے سکون کو نگل جائے تو رکنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ٹھہریے، سانس لیجیے، اپنی نعمتوں کو گنیے۔ اپنی اولاد کو کتاب کی طرف لوٹائیے، اور خود کو اس چکاچوند سے آزاد کیجیے جو حقیقت میں کچھ نہیں، بس ایک فریب ہے۔ سچی دولت بینک بیلنس میں نہیں، مطمئن دل میں ہوتی ہے۔

عائشہ مجید میمن

12/07/2026

چھوٹے شہروں اور قصبوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر اکثر خاموشی سے وہ کام کرتے ہیں جس کی کوئی داد نہیں ملتی، کوئی شہرت نہیں ملتی، مگر جس کی قیمت ان گنت زندگیوں میں چھپی ہوتی ہے۔
بڑے شہروں میں سہولتیں ہوتی ہیں، جدید مشینیں ہوتی ہیں، ماہرین کی پوری ٹیمیں ہوتی ہیں۔ مگر چھوٹے شہر کا ڈاکٹر اکثر اکیلا کھڑا ہوتا ہے۔ نہ وہ لیبارٹری قریب ہوتی ہے، نہ وہ مہنگی دوا دستیاب ہوتی ہے، نہ وہ ماہر جس کی رائے ایک فون کال پر مل جائے۔ وہاں صرف ایک ہی سہارا ہوتا ہے، اور وہ ہے خود اس ڈاکٹر کا علم، اس کا صبر اور اس کا دل۔
ایسے ڈاکٹر ہر مریض کو صرف ایک کیس کی طرح نہیں دیکھتے۔ وہ اس کے پیچھے چھپے پورے گھر کو دیکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر یہ باپ بیمار رہا تو گھر کیسے چلے گا، اگر یہ ماں صحت مند نہ ہوئی تو بچے کس کے سہارے پلیں گے۔ یہاں علاج صرف نسخہ لکھنا نہیں، یہاں علاج ایک رشتہ بن جاتا ہے۔
پیسوں کی کمی، وسائل کی کمی، اور کبھی کبھی لوگوں کی غلط فہمیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ کبھی مریض ناراض ہو جاتے ہیں، کبھی حالات ساتھ نہیں دیتے، مگر ایک اچھا دیہاتی یا چھوٹے شہر کا ڈاکٹر ہار نہیں مانتا۔ وہ ہر رات یہ سوچ کر سوتا ہے کہ آج کسی کی جان بچی، کسی کا درد کم ہوا، اور یہی اس کی سب سے بڑی کمائی ہوتی ہے۔
یہی وہ خاموش ہیرو ہیں جو بغیر کسی انعام کے، بغیر کسی تعریف کے، اپنے وطن کی مٹی سے محبت میں چھوٹے قصبوں میں رہ کر انسانیت کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔ ان کی محنت اخبار کی سرخیوں میں نہیں آتی، مگر ان گنت گھروں کی دعاؤں میں ضرور بستی ہے۔
عائشہ مجید میمن

12/07/2026

دو ہزار تئیس کا وہ دن اب بھی شاید اسے یاد ہو، جب ایک بائیس سالہ لڑکی کی آنکھوں میں تھکن تھی اور جسم میں کمزوری کی وہ لہر جو ہر دیکھنے والے کو فکرمند کر دے۔ اس کی بون میرو رپورٹ میں سیلولیریٹی صرف بیس سے پچیس فیصد تھی اور سی بی سی میں پین سائٹوپینیا واضح تھا۔ ہر خون کا خلیہ جیسے تھک کر بیٹھ گیا ہو۔
تشخیص اپلاسٹک انیمیا کی تھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق اسے الٹرومبو پیگ، یعنی تھرومبوپوائٹن ایگونسٹ کی ضرورت تھی، مگر یہ دوا اس کی پہنچ سے باہر تھی۔ قیمت اتنی زیادہ کہ اس کے خاندان کے لیے ایک خواب کی طرح تھی۔ مجبوراً اسے صرف سپورٹو کیئر پر رکھا گیا۔
پھر ایک دن وہ میرے کلینک میں آئی۔ اس کی حالت دیکھ کر دل بھر آیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ جو وسائل میسر ہیں انہی سے اس کی مدد کروں گی۔ اسے کمپونینٹ ٹرانسفیوژن تھراپی اور ہیمیٹینکس پر رکھا۔ وقت گزرتا رہا اور ایک دن میں نے دیکھا کہ اس کا وائٹ بلڈ سیل کاؤنٹ بالکل نارمل ہو چکا ہے، مگر پلیٹلیٹس اور ہیموگلوبن اب بھی کم تھے۔
کچھ عجیب سا لگا۔ میں نے مزید تحقیق کا فیصلہ کیا اور اس کا آئی پی ایف اور ریٹک کاؤنٹ کروایا۔ ریٹک کاؤنٹ نارمل نکلا اور آئی پی ایف اکیس فیصد۔ اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ اپلاسٹک انیمیا کی تشخیص اب پوری طرح درست نہیں رہی۔ یہ ایک ایسا موڑ تھا جہاں محض رپورٹس نہیں بلکہ دل سے سوچنا پڑا۔
پیسوں کی کمی اب بھی وہیں تھی۔ وہ اب بھی مہنگی دوائیں نہیں خرید سکتی تھی۔ میں نے اسے ہیمیٹینکس پر رکھا، وہی سادہ اور دستیاب علاج جو اس کے حالات میں ممکن تھا۔ اور پھر آہستہ آہستہ اس کا جسم جواب یعنی ریسپانس دینے لگا۔ اس کی رنگت لوٹنے لگی، اس کی آنکھوں میں وہ پرانی تھکن کم ہونے لگی۔
دو ہزار چھبیس میں، میں نے اس کی بون میرو دوبارہ کروائی۔ اس بار سیلولیریٹی بڑھ کر پینتیس سے چالیس فیصد ہو چکی تھی۔ جب یہ رپورٹ میرے ہاتھ میں آئی تو آنکھیں نم ہو گئیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں تھا، یہ ایک زندگی کا لوٹنا تھا۔
یہ کہانی مجھے سکھاتی ہے کہ معجزے ہمیشہ بڑے وسائل سے نہیں آتے۔ کبھی کبھی ایک محدود سیٹ اپ میں بھی، محبت اور توجہ سے کیا گیا علاج اتنا ہی طاقتور ثابت ہوتا ہے۔ یہ لڑکی آج بھی زندہ ہے، مسکراتی ہے، اور اس کی یہ مسکراہٹ ہر اس مشکل دن کا جواب ہے جو ہم نے ساتھ گزارے۔

عائشہ مجید میمن

12/07/2026

جب میں نے کراچی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا تو بہت سے لوگوں نے مجھے سمجھایا کہ یہ ایک غلط قدم ہے۔ کسی نے کہا کہ وہاں کا معیارِ زندگی یہاں نہیں مل سکے گا، کسی نے کہا کہ چھوٹے شہر میں نہ وہ سہولتیں ہوں گی نہ وہ آمدنی۔ سب کی باتیں اپنی جگہ درست تھیں مگر دل میں ایک الگ ہی پکار تھی۔ ایک خواہش تھی کہ اپنے ہی لوگوں کے کام آؤں، اپنی مٹی کا قرض چکاؤں۔
جب میں نے کراچی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا تو بہت سے لوگوں نے مجھے سمجھایا کہ یہ ایک غلط قدم ہے۔ کسی نے کہا کہ وہاں کا معیارِ زندگی یہاں نہیں مل سکے گا، کسی نے کہا کہ چھوٹے شہر میں نہ وہ سہولتیں ہوں گی نہ وہ آمدنی۔ سب کی باتیں اپنی جگہ درست تھیں مگر دل میں ایک الگ ہی پکار تھی۔ ایک خواہش تھی کہ اپنے ہی لوگوں کے کام آؤں، اپنی مٹی کا قرض چکاؤں جب میں نے اپنا کلینک شروع کیا تو ابتدائی دن آسان نہیں تھے۔ وسائل محدود تھے، سہولتیں کم تھیں، مگر عزم پورا تھا اور میرے خاندان کا ساتھ بھی موجود تھا۔ ایک دن ایک مریضہ میرے پاس آئی جس کے پلیٹلیٹس کی تعداد صرف سات تھی۔ یہ سن کر ہی دل دہل جاتا ہے کہ کتنی نازک حالت تھی اس کی۔ میں نے پوری محنت اور توجہ سے اس کا علاج کیا اور اللہ کا کرم ہوا کہ اس کے پلیٹلیٹس بڑھنے لگے۔
پھر وہ حاملہ ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا۔ اسے لگتا تھا کہ چھوٹے شہر میں اس کا نازک کیس شاید صحیح طرح سنبھالا نہ جا سکے، کہ بڑے شہر جانا ہی واحد راستہ ہے۔ مگر میں نے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا کہ میں یہاں ہوں، تمہارے ساتھ ہوں۔ اسے اپنے گھر کے قریب رہ کر، اپنے بچوں کے پاس رہ کر ہی ڈیلیوری کروانے میں مدد دی۔ اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ ڈیلیوری کامیاب رہی۔ ماں بھی محفوظ رہی، بچہ بھی صحت مند پیدا ہوا۔
آج بھی وہ مجھے پیغام بھیجتی ہے۔ کہتی ہے کہ میں اس کی اور اس کے بچے کی زندگی میں ایک فرشتے کی طرح آئی۔ کہتی ہے کہ میں نے اس کے لیے سب کچھ آسان بنا دیا۔ جب یہ الفاظ پڑھتی ہوں تو دل بھر آتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہیں جن کے لیے میں نے یہ راستہ چنا تھا۔
سچ یہ ہے کہ ایک کم وسائل والے چھوٹے شہر میں طبی خدمات دینا آسان نہیں۔ ہر دن ایک نیا امتحان ہوتا ہے، ہر مریض کے ساتھ ایک نئی جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ مگر جب کوئی ماں اپنے بچے کو صحت مند دیکھ کر مسکراتی ہے، جب کوئی اپنے گھر کے قریب رہ کر شفا پاتا ہے، تو ساری مشکلات، سارے طعنے، سارا سمجھوتہ چھوٹا سا لگنے لگتا ہے۔
یہی وہ سکون ہے جو کسی بڑے شہر کی چمک دمک نہیں دے سکتی۔
عائشہ مجید میمن

وقت گزر جاتا ہے مگر کچھ یادیں دل کے کسی کونے میں ہمیشہ کے لیے بیٹھ جاتی ہیں۔ دو ہزار دس کا وہ دیہاتی علاقہ، وہ چھوٹا سا ...
12/07/2026

وقت گزر جاتا ہے مگر کچھ یادیں دل کے کسی کونے میں ہمیشہ کے لیے بیٹھ جاتی ہیں۔ دو ہزار دس کا وہ دیہاتی علاقہ، وہ چھوٹا سا اسپتال، وہ لوگ جو دور دراز سے پیدل چل کر آتے تھے اور ان کی آنکھوں میں امید ہوتی تھی کہ شاید یہ سوئی، یہ ڈرپ ان کی زندگی بچا لے گی۔
کتنی عجیب بات ہے کہ جہاں علم کم پہنچا ہو وہاں یقین ایک الگ ہی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھایا نہیں گیا تھا کہ دوا کا اثر گولی میں بھی اتنا ہی ہو سکتا ہے جتنا انجکشن میں۔ ان کے لیے سوئی ہی شفا کی علامت بن چکی تھی۔ اور جب سرنجیں کم پڑ جاتیں، جب فنڈز محدود ہوتے، جب باہر سے سامان منگوانے میں دیر ہوتی تو عملہ بھی مجبور ہو جاتا۔ ان پر بھی تو دباؤ تھا۔ ایک طرف مریض کا غصہ اور مار پیٹ، دوسری طرف وسائل کی کمی، اور تیسری طرف میڈیا جو اکثر پوری کہانی سمجھے بغیر صرف الزام لگا دیتا ہے۔
سچ یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں کوئی ایک قصوروار نہیں۔ ذمہ داری کئی کندھوں پر بٹی ہوئی ہے۔ وہ نظام جو دور دراز علاقوں تک صحیح وسائل نہیں پہنچا پایا۔ وہ آگاہی جو کبھی لوگوں تک پوری طرح پہنچائی ہی نہیں گئی۔ وہ عملہ جو تھکن اور کمی کے باوجود بھی خدمت میں لگا رہا مگر حالات کے آگے بے بس ہو گیا۔ اور وہ معاشرہ جس نے علاج کروانے سے پہلے یہ کبھی نہیں سوچا کہ سوئی کی وہ ایک حرکت کسی کی زندگی کو ایچ آئی وی جیسی بیماری میں مبتلا کر سکتی ہے۔
ذمہ داری اصل میں اس خاموشی کی ہے جو ہر سطح پر موجود رہی۔ حکومت کی خاموشی، وسائل کی کمی پر پردہ ڈالنے کی خاموشی، اور عوام کی وہ خاموشی جس نے کبھی سوال نہیں اٹھایا کہ آخر یہ سوئی صاف بھی ہے یا نہیں۔
جب انسان کی جان داؤ پر لگی ہو تو الزام لگانے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم ان جڑوں تک پہنچیں جہاں سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ ورنہ ہم بس ایک دوسرے پر انگلی اٹھاتے رہیں گے اور معصوم جانیں اسی نظام کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی۔

عائشہ مجید میمن

12/07/2026

"ڈاکٹر تو صرف پیسے کمانے آتے ہیں۔"
یہ جملہ بھی ہم سب نے سنا ہے۔
آج میں اپنی کہانی سناتی ہوں۔
میں ایک ماں ہوں، دو چھوٹی بیٹیوں کی، ایک گھر کی ذمہ دار، اور ساتھ ساتھ ایک ڈاکٹر بھی جو اکثر اپنے مریضوں کو واٹس ایپ پر کو مفت مشورہ دیتی ہے، صرف اللہ کی رضا کے لیے۔
ایک مریض یاد ہے، جسے شدید خون کی کمی تھی۔ سالوں تک اس کی صحیح تشخیص نہیں ہو سکی جبکہ وہ کراچی تک گیا۔ میں نے اس کا بون میرو ٹیسٹ کروایا ، اپنی زکوٰۃ کے پیسوں سے، کیونکہ وہ خود اس کا خرچہ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ پہلے ہی خون کی بوتلوں پر اس کا کافی پیسہ لگ گیا تھا، کوئی سرکاری امداد نہیں، کوئی فنڈ نہیں، بس ایک ڈاکٹر جس نے فیصلہ کیا کہ اگر نظام مدد نہیں کرے گا، تو وہ خود کرے گی۔
مہینوں کی محنت کے بعد، جب دوا کام کرنے لگی، تو وہ خوشی الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔
لیکن ہر کہانی اتنی آسان نہیں ہوتی۔
یہ چھوٹا شہر ہے یہاں لوگوں کی جیب اور شعور دونوں کم ہیں یہاں کے مسائل بڑے ہیں
ایک دن ایک نوجوان آیا، مدد مانگنے۔ میں نے کہا، جاؤ، ایک ڈاکٹر سے ملو، وہ کمپاؤنڈر کی نوکری دے سکتے ہیں۔ اس نے کہا، "اگر نوکری پکی ہو تو جاؤں گا۔" میں نے سمجھایا، نمبر نہیں ہے میرے پاس، خود جا کر ملنا ہوگا۔ وہ نہیں گیا۔
میں سوچتی رہ گئی کہ کیوں لوگ محنت سے کترانے لگے ہیں؟ کیوں مدد کے دروازے پر بھی ہمت نہیں بچی؟
شاید مسئلہ صرف ان کا نہیں۔ شاید مسئلہ اس نظام کا ہے جس میں نہ مریض کو بھروسہ ملا، نہ محنت کا صلہ، نہ سہارا۔
میں تھک جاتی ہوں۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں، شاید میں ماں بننے کے قابل نہیں، شاید میں ڈاکٹر بننے کے قابل نہیں۔ پھر دیکھتی ہوں اپنی بیٹیوں کو، رنگوں سے کھیلتی ہوئیں، اور دل کہتا ہے کہ نہیں، یہ تھکن محبت کی ہے، ناکامی کی نہیں۔
میں ہر مریض کو نہیں بچا سکتی۔ ہر ضرورت مند کی مدد نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر ایک زندگی بچ جائے، تو میرا وجود بامعنی ہے۔
کبھی کبھی میں اللہ سے شکوہ کرتی ہوں۔ کبھی اسی سانس میں شکر بھی۔ دونوں سچے ہیں۔ دونوں میرے ہیں۔
ایک مضبوط نظام صرف بڑی عمارتوں سے نہیں بنتا۔
یہ ان ڈاکٹروں سے بنتا ہے جو تھک کر بھی واپس آتے ہیں۔
یہ ان ماؤں سے بنتا ہے جو خود ٹوٹ کر بھی سنبھالتی ہیں۔
اور یہ اس محبت سے بنتا ہے جو حساب نہیں مانگتی۔

عائشہ مجید میمن

Address

Ali Medicare Hospital Adam Town Mirpurkhas
Mirpur Khas

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Ayesha Majeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Ayesha Majeed:

Shortcuts

Share

Category