20/06/2026
شکرگزاری کا زوال اور ایک خاموش معاشرتی المیہ
کبھی ایسا تھا کہ اگر کوئی آپ کو ایک گلاس پانی بھی پیش کر دیتا تو دل سے دعا نکلتی تھی۔ اگر کسی نے راستے میں مدد کر دی، ایک اچھا لفظ کہہ دیا یا مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہو گیا تو انسان برسوں اسے یاد رکھتا تھا۔ شکرگزاری صرف ایک لفظ نہیں تھی بلکہ ایک رویہ تھی، ایک تہذیب تھی، ایک خوبصورت انسانی صفت تھی جو دلوں کو جوڑتی تھی۔
آج ہم ایک عجیب دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ لوگ احسان کو احسان نہیں سمجھتے، محبت کو حق سمجھتے ہیں اور قربانی کو فرض۔ اگر کوئی کچھ اچھا کر دے تو اس کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے اکثر یہ سوچا جاتا ہے کہ اس نے اس سے بہتر کیا کیوں نہیں۔
یہ رویہ بظاہر معمولی محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔
شکرگزاری صرف دوسرے شخص کو خوش نہیں کرتی بلکہ یہ انسان کے اپنے دل کو بھی نرم بناتی ہے۔ جو شخص شکر گزار ہوتا ہے وہ زندگی کی نعمتوں کو محسوس کرتا ہے۔ اسے چھوٹی خوشیاں بھی بڑی لگتی ہیں۔ وہ لوگوں کی اچھائیوں کو دیکھتا ہے اور اس کا دل حسد، شکایت اور ناراضی سے نسبتاً محفوظ رہتا ہے۔
اس کے برعکس جب انسان ہر چیز کو اپنا حق سمجھنے لگے تو اس کی نگاہ دوسروں کی نیکیوں پر نہیں بلکہ ان کی کمیوں پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ وہ ہمیشہ یہ دیکھتا ہے کہ کیا نہیں ملا، کیا کم ملا اور کیا بہتر ہو سکتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کے پاس جتنی بھی نعمتیں ہوں، وہ کبھی مطمئن نہیں ہو پاتا۔
شکرگزاری کے ختم ہونے کا سب سے بڑا نقصان رشتوں کو پہنچتا ہے۔ جب کسی کی کوششوں کی قدر نہ کی جائے تو آہستہ آہستہ اس کا دل ٹوٹنے لگتا ہے۔ وہ محبت تو دیتا ہے لیکن بدلے میں بے قدری محسوس کرتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب لوگ دوسروں کے لیے کچھ کرنے سے پہلے سوچنے لگتے ہیں کہ آخر فائدہ کیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے لوگ جذباتی طور پر تھکے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ مدد کرنے سے نہیں تھکے، وہ بے قدری سے تھک گئے ہیں۔
معاشرے کی خوبصورتی بڑے کارناموں سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی مہربانیوں سے قائم رہتی ہے۔ کسی کا شکریہ ادا کرنا، کسی کی کوشش کو سراہنا، کسی کی نیت کی قدر کرنا، یہ وہ چیزیں ہیں جو دلوں میں محبت پیدا کرتی ہیں۔ جب یہ عادتیں ختم ہونے لگتی ہیں تو معاشرے میں سرد مہری بڑھنے لگتی ہے۔
شکرگزاری کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز کامل ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خامیوں کے باوجود خوبیوں کو دیکھنا سیکھیں۔ اگر کسی نے آپ کے لیے ایک قدم اٹھایا ہے تو پہلے اس قدم کی قدر کریں، پھر بہتری کی بات کریں۔ کیونکہ تعریف دل کھولتی ہے جبکہ مسلسل تنقید دل بند کر دیتی ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ ہر نعمت، ہر مہربانی اور ہر اچھے عمل کی قدر کی جائے۔ ایک معاشرہ صرف قوانین سے مضبوط نہیں بنتا، بلکہ ایسے دلوں سے بنتا ہے جو دوسروں کی نیکی کو پہچانتے اور اس کا اعتراف کرتے ہیں۔
شاید آج ہمیں پہلے سے زیادہ شکرگزاری کی ضرورت ہے۔ اس لیے نہیں کہ دنیا بدل جائے گی، بلکہ اس لیے کہ شکر گزار دل خود بھی سکون میں رہتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی سکون کا سبب بنتا ہے۔
آخر میں صرف اتنا یاد رکھیے کہ جب لوگ آپ کی نیکی کی قدر نہ کریں تو نیکی کرنا مت چھوڑیں۔ دنیا کو ابھی بھی اچھے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اور بعض اوقات ایک چھوٹا سا شکریہ کسی انسان کے دل میں انسانیت پر دوبارہ یقین پیدا کر سکتا ہے۔
عائشہ مجید میمن