15/09/2026
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم نے بچوں کی تعلیم کو صرف نمبروں تک محدود کر دیا ہے۔
بچہ امتحان دے کر گھر آتا ہے تو ہم یہ نہیں پوچھتے کہ
"بیٹا! پیپر کیسا ہوا؟ کیا نیا سیکھا؟"
ہم فوراً پوچھتے ہیں:
"کتنے نمبر آئیں گے؟"
رزلٹ آتا ہے تو بچے کا چہرہ نہیں دیکھتے،
سب سے پہلے نمبر دیکھتے ہیں۔
اور پھر موازنہ شروع...
"دیکھو، فلاں کے بیٹے کے 95 فیصد آئے ہیں۔"
"تمہارے کزن نے تو کلاس میں ٹاپ کیا ہے۔"
"تم سے تو ہمیں بہت امیدیں تھیں۔"
"اتنی فیس لگائی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟"
ہمیں شاید اندازہ ہی نہیں کہ یہ چند جملے بچے کے دل میں کتنی گہری دراڑ ڈال سکتے ہیں۔
وہ بچہ جو پہلے ہی اپنے نتیجے سے پریشان ہوتا ہے،
ہم اس کے لیے گھر کو بھی امتحان گاہ بنا دیتے ہیں۔
اسے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ
"اگر میرے نمبر اچھے نہیں آئے تو شاید میں اچھا بچہ بھی نہیں ہوں۔"
اور یہی سوچ خطرناک ہے۔
یاد رکھیے، بچے کا رزلٹ اس کی قابلیت کا مکمل تعارف نہیں ہوتا۔
کسی بچے کو ریاضی پسند ہے، کسی کو کہانیاں لکھنا۔
کوئی سائنس میں کمال کر سکتا ہے، کوئی آرٹ میں۔
کوئی کتابوں میں بہترین ہے، کوئی لوگوں کو سمجھنے میں۔
کسی کا ذہن نمبروں کے لیے بنا ہے اور کسی کا تخلیق کے لیے۔
ہم ہر بچے کو ایک ہی پیمانے سے ناپ کر اس کی انفرادیت کیوں ختم کر دیتے ہیں؟
والدین ہونے کے ناتے ہماری ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ بچہ اچھے نمبر لے۔
ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اچھا انسان بنے، سوال کرنا سیکھے، ناکامی برداشت کرنا سیکھے، اپنے فیصلے کرنا سیکھے اور اپنی صلاحیت کو پہچانے۔
اگر رزلٹ خراب آئے تو بچے کے پاس بیٹھیں۔
اسے کہیں:
"کوئی بات نہیں، ہم دیکھتے ہیں کہاں مشکل ہوئی۔ اگلی بار بہتر کوشش کریں گے۔"
اسے یہ مت کہیں:
"تم نے ہمارا سر جھکا دیا۔"
کیونکہ آپ کے لیے وہ صرف ایک جملہ ہے،
لیکن بچے کے لیے شاید وہ اس کی پوری شخصیت پر فیصلہ بن جائے۔
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں:
کم نمبر آنے سے زندگی ختم نہیں ہوتی،
لیکن خود کو ناکام سمجھ لینے سے زندگی بہت مشکل ضرور ہو جاتی ہے۔
آپ کا بچہ آپ کی ٹرافی نہیں ہے۔
وہ آپ کی ذمہ داری ہے۔
اسے دنیا کے سامنے ثابت کرنے کے لیے نہیں،
دنیا کا سامنا کرنے کے قابل بنانے کے لیے پالیں۔
رزلٹ والے دن بچے کے ہاتھ میں صرف تحفہ نہ دیں،
اس کے کندھے پر ہاتھ بھی رکھیں۔
اسے بتائیں:
"تمہارے نمبر جیسے بھی ہوں، ہمارے لیے تمہاری قدر کم نہیں ہوئی۔"
شاید یہی وہ جملہ ہو جس کی اسے پوری زندگی سب سے زیادہ ضرورت رہے۔
عائشہ مجید میمن