20/09/2026
🌿 آٹزم والے بچوں کے والدین کے لیے چند اہم ہدایات 🌿
آٹزم کوئی ایک جیسی کیفیت نہیں؛ ہر بچے کی ضروریات، صلاحیتیں اور مشکلات مختلف ہو سکتی ہیں۔ والدین کا صبر، مستقل مزاجی اور درست رہنمائی بچے کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
🔹 1۔ بچے سے بات ضرور کریں
چاہے بچہ جواب نہ دے، پھر بھی اس سے مسلسل بات کریں، نام لے کر مخاطب کریں اور آسان الفاظ استعمال کریں۔
🔹 2۔ آنکھوں کے رابطے پر زبردستی نہ کریں
بچے کو زبردستی آنکھوں میں دیکھنے پر مجبور کرنے کے بجائے قدرتی انداز میں توجہ اور باہمی رابطہ بڑھائیں۔
🔹 3۔ موبائل اور اسکرین ٹائم محدود کریں
بچے کے ساتھ براہِ راست کھیل، بات چیت اور عملی سرگرمیوں کو ترجیح دیں۔
🔹 4۔ بچے کے اشاروں کو سمجھیں
بچہ اگر ہاتھ پکڑ کر کسی چیز کی طرف لے جائے، اشارہ کرے یا کوئی آواز نکالے تو اس کے مقصد کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اسے الفاظ میں بیان کریں۔
🔹 5۔ روزانہ کھیل اور سیکھنے کا وقت مقرر کریں
بچے کے ساتھ روزانہ کھیلیں، چیزوں کے نام بتائیں، تصاویر دکھائیں، نقل کرنے کی مشق کروائیں اور چھوٹی چھوٹی ہدایات دیں۔
🔹 6۔ اچھی کوشش کی حوصلہ افزائی کریں
بچہ کوئی نیا لفظ بولے، اشارہ کرے، آپ کی نقل کرے یا کوئی ہدایت پوری کرے تو فوراً مثبت انداز میں حوصلہ افزائی کریں۔
🔹 7۔ بچے کا موازنہ دوسرے بچوں سے نہ کریں
آٹزم میں ترقی کا سفر ہر بچے کا مختلف ہوتا ہے۔ بچے کی آج کی کارکردگی کو اس کی اپنی پچھلی کارکردگی سے موازنہ کریں۔
🔹 8۔ Speech Therapy اور دیگر ضروری Therapies کو سنجیدگی سے لیں
اگر بچے کو زبان، رابطے، حسی مسائل یا روزمرہ مہارتوں میں مشکل ہو تو متعلقہ ماہرین سے باقاعدہ رہنمائی حاصل کریں۔
🔹 9۔ رویے کے پیچھے وجہ تلاش کریں
چیخنا، چیزیں پھینکنا یا غصہ کرنا صرف "ضد" نہیں ہوتا؛ کبھی بھوک، درد، نیند، شور، sensory overload یا communication difficulty بھی وجہ ہو سکتی ہے۔
🔹 10۔ مستقل مزاجی سب سے اہم ہے
تھراپی اور گھر کی تربیت میں تسلسل رکھیں۔ چند دن کی محنت کے بعد فوری نتیجے کی توقع کرنے کے بجائے بچے کی بتدریج پیش رفت کو دیکھیں۔
❤️ یاد رکھیں:
آٹزم والے بچے کو صرف "ٹھیک" کرنے کی کوشش کے بجائے اسے سمجھنا، اس سے رابطہ قائم کرنا اور اس کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔
والدین کا صبر + درست رہنمائی + مسلسل تربیت = بچے کی بہتر نشوونما
Dr Mohsin Saeed
Facebook: Dr Mohsin Saeed
TikTok: Dr Mohsin Saeed
YouTube: Dr Mohsin Saeed