Dr.M.Aslam

Dr.M.Aslam جانور قیمتی سرمایہ ہیں ۔ اچھی خوراک اور دیکھ بھال انکا حق ہے۔۔ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت

29/04/2023

جانور قیمتی سرمایہ ہیں ۔ اچھی خوراک اور دیکھ بھال انکا حق ہے۔۔ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت

14/02/2023
11/02/2023

03059446816 (WhatsApp)
بھیڑ ، بکری، گائے اور بھینس میں الٹراساؤنڈ کے ذریعے حمل چیک کرنے کی سہولت موجود ہے ۔۔..
🐄 🐃 🐐 🐮 🐃

24/01/2019

سائینس کی باتوں پر یقین کرنا چاہیے
ن فیس بک اور U ٹیوب پر پاکستانی میڑک پاس
لائیو سٹاک کے ارسطو کثرت سے پائے جاتے ہیں
اور طرح طرح کے دیسی نسخے لکھ کر لوگوں کو
اپنی ڈاکٹری دیکھتے ہیں جب کہ
اپنے جانوروں کا علاج ڈاکٹر سے کرواتے ہیں.

اسی طرح جانوروں کی بیماریاں کے علاج کرنے والے ڈاکٹرز
بھی پائے جاتے ہیں
ایک آدمی فیس بک پر سوال لکھتا ھے
اور 100 تجربہ کار ارسطو ڈاکٹر علاج بتاتے ہیں
کبھی آپ نے اس طرح MBBS ڈاکٹر کو فیس بک پر
دیکھا ھے
آج کل on line ٹسٹ رپورٹ اور مریض سب کچھ بتا سکتا ھے اور علاج بھی % 100 درست ھونا ممکن ھے

مگر ایسا نہیں ھے
مگر کیوں ؟
دنیا میں کسی ملک میں پروفیشنل سروسز مفت میں مہیا نہیں کی جاتی
مگر ھمارا ملک میں غربت اور ناسمجھی
کی وجہ سے لوگ مفت میں ھی کوئی فائدہ حاصل کرنے کے لیے خود اپنا قیمتی جانور ضالع کر لیتے ہیں
آج کل ایک جانور 1 لاکھ سے زیادہ ھے
اور ولایتی گائے 2 لاکھ سے 3 لاکھ تک ھے
10 گائیوں کی قیمت 20 لاکھ
20 بھینسوں کی قیمت 30 لاکھ مگر مشورے مفت کے
نتیجہ بہتری کی بجائے ؟ نقصان یا 5 سال بعد حساب برابر
وجہ مشاورت Consultancy کا رواج نہیں
پولڑی فارمرز پر ڈاکٹر کی consultancy لی جاتی ھے
جو کہ فارمرز اس بات کو سمجھتے ہیں مرغی بہت جلدی مرتی ھے جبکہ بڑا جانور میں برداشت زیادہ ھے
وہ مرتا نہیں ضالع ھو کر ملک کے لئے بوجھ بن جاتا ھے
قصاب بہت کم رقم دیتا اور فارمرز اس کو خود ھی دیسی
اور ولایتی دوائیوں سے علاج کرتے کرتے تھک جاتا ھے

اس طرح جو کام 3 سال میں تجربے کر کے سیکھتا ھے یا خود کو ماھر سمجھ کر کسی وقت ایسا کام کرتا ھے
کہ بہت پیچے چلا جاتا ھے اور نقصان کر کے توبہ کرتا ھے

میرا مقصد آپ کی رائنمائی کرنا ھے
تاکہ کچھ بنیادی باتوں کی آپ کو سمجھ آ سکے
اور آپ ان پر عمل کر کے منافع بخش فارمنگ کر سکیں
انٹرنیشنل کتابوں میں رقم خرچ کر کے تجربات کر کے بات لکھی جاتی ھے اور وقت کے ساتھ دنیا بہت تیزی سے بدل چکی ھے مگر ھمارا عام فارمر وسائل کی کمی اور سرکاری محکمہ کی نالائقی اور ڈرامہ بازی سے ھم آج بھی سو سال پرانے نظام پر کھڑے ہیں جوکہ ھمارے
دیہات میں غربت اور معاشی طور پر کمزوری کی بڑی وجہ ماڈرن ٹیکنالوجی کی آگاہی کی کمی
دوسری طرف پرائیویٹ سیکڑ ھے
جو غریب کسانوں کی بجائے پولڑی کے بعد لائیوسٹاک میں آکر اس پر اجاراداری کی کوشش میں کامیاب ھو چکا ھے

میاں منشا اور حمزہ ککڑی کے فارموں پر واہ بادی اور بدہضمی کے چورن نہیں کھلائے جاتے
دودھ کی پیداوار بھی 40 کلو روزانہ
وجہ ؟ # معیاری ولایتی جانور
اور کی دیکھ بھال کے علاوہ
یکساں معیاری خوراک سارا سال

مگر ھمارا کسان روایتی صدیوں پرانے نظام
جو کہ نہ صرف مشکل بلکہ مہنگا ھے
موسم گرما اور سرما کے چارے اصل خرابی ھے
لوگ سبز چارہ کو زیادہ طاقتوار اور سائیلج اور خشک چارے Hay کا ناکارہ سمجھتے ہیں
سبز چارہ اوجھڑی میں جا کر fermentation کے عمل کا کر سائیلج ھی بنتا ھے سبز چارے کی Fermentation جو اوجھڑی میں ھوتی وہ کام سائیلج بنکر میں ھو جاتا ھے اس لئے وہ جلد ھضم ھوتا ھے اور اس میں چھلی کے دانے اس کی غذائیت اضافی ھے اور یہ پورا سال بطور معیاری خوراک آسانی سے استعمال ھو سکتا ھے
جوکہ سستا بھی ھے اور لائیو سٹاک میں منافع کی ضمانت بھی ھے
ھر ماہ بعد خوراک بدلنے سے اوجھڑی کا نظام خراب
( جو کہ جانور کا پاور ہاؤس ھے )
جب پاور ہاؤس خراب سب کچھ خراب

غیر معیاری خوراک
کبھی توڑی /کبھی مکئی کبھی اور سخت چارہ
کبھی 90% پانی والا کچا چارہ توڑی کے ساتھ
دودھ والے جانور کو
ونڈہ کی بجائے 1/2 کلو کھل
سارا سال غیر متوازن غیر معیاری خوراک
نتیجہ
خود ساختہ بیماریاں اور ان کا دیسی نسخوں سے بار بار علاج ........
بدہضمی / واہ / بادی جانور کمزور اور دودھ ختم
غیر معیاری رنگ برنگی خوراک کا
ھر ماہ بعد خوراک میں تبدیلی کبھی چارہ ختم اور چارہ اگنے میں 2-3 ماہ کا وقفہ اورچارہ اُگ کر کچھ عرصہ بعد سخت اور ناکارہ چارے کا استعمال
اگر جب کچھ وقفے کے لئے جب چارہ معیاری خوراک پر ھو تو اس کو سائیلج یا خشک کر کے بطور hay بنا کر سارا سال کھلانا مشکل نہیں
اگر سائیلج بنانے کی سہولت نہیں تو روڈ گراس سدا بہار 1600 من فی ایکٹر سالانہ
اور الفلفا خشک اور سبز
حالت میں استعمال کر کے سارا سال معیاری
اور سستی خوراک مہیا کرنا ممکن نہیں
اس سارا معیاری خوراک سے ھمارے مقامی جانور دوگنی پیداوار اور دوگنا منافع

دوسری طرف سرمایہ داری نظام اربوں پتی مافیا

روزانہ 40 کلو دودھ فی آسٹریلین گائے
جو ان کو 15 روپے کلو بنتا ھے
600 روپے خرچہ فی جانور روزانہ کے حساب سے
ان کو 15 روپے کلو پڑتا ھے
مارکیٹ میں انہار حمزہ گروپ 120 روپے کلو
اور اضافی انکم
1سال بعد ایک بچھڑی s*x semen سے 1 لاکھ سے زیادہ
(پیدا ھوتی ایک ھفتہ کی 50 ھزار کی)

منافع................. خود اندازہ لگائیں
3000 گائیں نقد آمدن نقد ادھار کے بغیر جو اور کسی کاروبار سے ممکن نہیں
جب کہ یہی لوگ عام کسان سے ان کا دودھ خریدتے ہیں دودھ 40/60 روپے لیڑ اور اسمبلی سے کھلا دودھ بند کروانے کی منصوبہ بندی کرنے والے اپنی موت مر چکے ہیں
ورانہ 2019 تک عام کسان کو فارغ کرنے کا منصوبہ تیار تھا اور نسیم صادق سیکرٹری لائیو سٹاک نے بل تیار کروایا کر حمزہ کو پیش کر دیا تھا

اب یہی مافیا کھلا دودھ زھر کے اربوں روپے کے اشتہارات میڈیا پر دے کر عام کسان دشمنی کا ثبوت دے کر لوگوں کو جھوٹا پروپیگنڈہ اور برین واشنگ میں مصروف ھے

مگر عقل کی بات ھے

Lecture about Farm Management at Fazal Dairy Farm M.garhDuring Farm Management training at 02/09/2018
05/09/2018

Lecture about Farm Management at Fazal Dairy Farm M.garh
During Farm Management training at 02/09/2018

20/08/2018

Must attend

Please watch and Subscribe my Chanel with special thanks.
03/06/2018

Please watch and Subscribe my Chanel with special thanks.

Shutter Murge bani

13/12/2017

Having sipirit to serve the people in Dairy field😁😁😁

Address

Cannt Area Near Reilway Station
Multan
9060

Telephone

+92 305 9446816

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.M.Aslam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category