Dr Syed Shoukat Bukhari

Dr Syed Shoukat Bukhari Medical specialist ( FCPS in medicine)
special interest in Diabetes

27/05/2026

پاکستان میں بے لگام یو ٹیوبرز نے قوم کو بہت نقصان پوھنچایا ہے اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ۔۔۔۔۔۔کورونا کی وبا میں ایک پیشہ ور ٹک ٹاکر لڑکی نے نرس کی یونیفارم پہن کر ایک ویڈیو بنائی تھی کہ میں ڈیوٹی سے آ رہی ہوں اور میرے سامنے ڈاکٹروں نے تین مریضوں کو زہر کے ٹیکے لگائے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس ویڈیو کے وائرل ہونے سے اس لڑکی کو تو لاکھوں روپے مل گئے ہوں گے ( کیونک یوٹیوب ایک
View
کا ایک روپیہ دیتی ہے ) لیکن دوسری طرف بے شمار مریض اس ڈر سے ہسپتال نہیں گئے اور گھروں میں ہی مر گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔انگلینڈ میں میرے ایک جاننے والے ڈاکٹر نے مشہوری کے شوق میں ویڈیو بنائی تھی کہ کورونا کوئی بیماری نہیں ایسے ہی ایک ڈرامہ ہے اور پھر انگلینڈ کی میڈیکل کونسل نے اس کا لائسنس معطل کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں پچھلے دنوں ایک یو ٹیوبر عورت نے ویڈیو بنائی ہے کہ ہسپتالوں میں پاکستان کے سب سے زیادہ ریپ ہوتے ہیں ، اور ہسپتال عیاشی کے اڈے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اب نجانے کتنے شریف لوگ اپنی بیٹیوں کو ڈاکٹر بننے سے روک لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔

16/05/2026

آج واپسی پر میں نے اِن ڈرائیو کروائی۔ جیسے ہی ڈرائیور میرے پاس پہنچا تو اُس نے بڑے سادہ انداز میں پوچھا: “سر، آپ ڈاکٹر ہیں؟” میں نے مسکرا کر جواب دیا: “جی، میں ڈاکٹر ہوں اور میں نے ہی رائیڈ بک کی ہے۔” بس پھر پورے راستے وہ اپنی صحت کے مسائل کے بارے میں پوچھتا رہا۔ کبھی اپنی طبیعت کا ذکر کرتا، کبھی گھر والوں کی بیماریوں کا۔ اُس کے سوالوں میں نہ کوئی بناوٹ تھی اور نہ ہی کسی قسم کی بحث، صرف ایک عام انسان کی پریشانی تھی جو شاید مہینوں سے اپنے اندر دبائے ہوئے تھا۔ میں نے اُسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ آرام سے گاڑی چلائیں، میں راستے میں آپ کو سمجھاتا رہوں گا، پریشان نہ ہوں۔

آخر میں اُس نے اپنی اصل پریشانی بتائی اور کہا: “سر، مجھے لگتا ہے مجھے شوگر یا کوئی اور مسئلہ ہے، لیکن سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں۔” میں نے پوچھا کہ کیا کبھی ہسپتال گئے؟ اُس نے بتایا کہ ایک بار سرکاری ہسپتال گیا تھا لیکن وہاں اتنی لمبی لائن تھی کہ آدھا دن گزر گیا۔ جب ڈاکٹر تک پہنچا تو کچھ ٹیسٹ لکھ دیے گئے جن میں شوگر اور کولیسٹرول کے ٹیسٹ بھی شامل تھے۔ پھر جب ٹیسٹ کاؤنٹر پر پہنچا تو وہاں سے جواب ملا کہ وقت ختم ہو چکا ہے، کل آنا۔ میں نے پوچھا پھر اگلے دن کیوں نہیں گئے؟ اُس نے ایک جملہ کہا جس نے مجھے خاموش کر دیا۔ کہنے لگا: “سر، وقت نہیں ملتا۔ میں مسجد کا امام بھی ہوں اور ساتھ اِن ڈرائیو بھی چلاتا ہوں۔ اگر روز ہسپتالوں کے چکر لگاؤں تو گھر کیسے چلے گا؟”

یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، بلکہ پاکستان کے لاکھوں لوگوں کی حقیقت ہے۔ ہم اکثر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ لوگ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے یا علاج میں لاپرواہی کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کے پاس بیماری کے لیے وقت نکالنا بھی ایک عیاشی بن چکا ہے۔ روزانہ کمانے والا مزدور، رکشہ ڈرائیور، امام مسجد، دکاندار یا محنت کش طبقہ اگر پورا دن ہسپتال کی لائنوں میں گزار دے تو اُس دن اُس کے گھر کا چولہا ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں مریض اُس وقت ہسپتال پہنچتے ہیں جب شوگر اُن کے گردوں، آنکھوں، دل یا اعصاب کو نقصان پہنچا چکی ہوتی ہے۔

آج پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں ذیابیطس خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ ہر تین میں سے ایک بالغ فرد ذیابیطس کا شکار ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لاکھوں لوگوں کو ابھی تک اپنی بیماری کا علم ہی نہیں۔ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا سماجی اور معاشی بحران بنتا جا رہا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، ڈاکٹرز اور عملہ محدود ہے جبکہ مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔

میری ذاتی رائے میں حکومت کو ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر Dedicated Diabetic Clinics قائم کرنے چاہئیں جہاں شوگر کی اسکریننگ، بنیادی ٹیسٹ، علاج اور Follow-up ایک ہی جگہ میسر ہو۔ ایسے مراکز میں مریضوں کو خوراک، ورزش، ادویات اور بیماری سے بچاؤ کے بارے میں باقاعدہ رہنمائی بھی دی جائے تاکہ لوگ پیچیدگیوں کا شکار ہونے سے پہلے ہی علاج شروع کر سکیں۔ اس سے نہ صرف بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم ہوگا بلکہ عام آدمی کو بھی بروقت اور آسان علاج میسر آ سکے گا۔

کبھی کبھی ایک مختصر سفر انسان کو پورے نظامِ صحت کی خاموش کمزوریاں دکھا دیتا ہے۔ آج اُس اِن ڈرائیو ڈرائیور کی باتیں سن کر یہی احساس ہوا کہ ہمارے معاشرے میں بیماری سے زیادہ مشکل علاج تک پہنچنا بنتا جا رہا ہے۔

07/05/2026

اجکل ایک نوٹیفکیشن کا شور ہے کہ ڈریپ نے لکھا ہے کہ سب سیکریٹیری ہیلتھ اپنے صوبوں میں ڈاکٹرز کے دوائیوں کے نام لکھنے پر پابندی لگائیں اور صرف جنرک نام لکھے جائیں جس سے دواؤں کی قیمتوں میں کمی آئے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں معلوم کہ یہ سچ ہے یا صرف ایک انٹرنیٹ
hoax
بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ یہ تجربہ 1972 میں حکومت نے کیا تھا اور یہ بری طرح ناکام ہو گیا تھا اس لیے 1976 میں یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو ڈاکٹرز سے بغض رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ڈاکٹرز کے کمیشن لے کر مہنگی دوائیں لکھنے سے دواؤں کی قیمت بڑھ گئی ہے ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ دواؤں کی قیمت حکومت سیٹ کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔حکومت اگر مہنگی دوا مارکیٹ میں آنے ہی نہ دے تو ڈاکٹر کیسے لکھے گا ؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری بات یہ کہ اگر جنرک نام لکھے جائیں تو میڈیکل اسٹور والا اگر سب سے مہنگی برانڈ کی دوا دے گا تو پھر دوا سستی کیسے ہو گی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیسری اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر پاکستانی ڈاکٹر سستی کمپنی کی دوا لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ اجکل کسی بھی فارمیسی والے سے پوچھ لیں کہ مہنگی برانڈ کی سیل بہت کم اور سستی برانڈز کی دواؤں کی سیل بہت زیادہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس وجہ سے مہنگی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے کاروبار چھوڑ کر جا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر حکومت واقعی غریب لوگوں کا بھلا چاہتی ہے تو بہت آسان طریقہ ہے کہ حکومت سستی دواؤں کے اسٹور کھول دے جہاں عوام ڈاکٹر کا نسخہ لے کر جائیں اور ان کو اسی فارمولے کی انتہائی سستی برانڈ کی دوائیں دی جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس پر حکومت کا کوئی خرچ بھی نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔سرکاری ہسپتالوں میں اب بھی انتہائی سستے ریٹ پر دواؤں کی سپلائی ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔اگر یہ سرکاری ہسپتال اسی ریٹ پر سیل کریں تو کمال ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔
Copied

27/04/2026
27/04/2026

There’s a strong link between sugary drinks and cancer

26/04/2026

"یہ یقینی بنانے کے لیے کہ آپ کو*Vitamin D* *وٹامن ڈی* مطلوبہ مقدار مل جائے، صبح 11 بجے سے دوپہر 3 بجے کے درمیان تقریباً 10 منٹ تک اپنے چہرے یا بازوؤں پر دھوپ لگوائیں، لیکن جلنے سے بچنے کا خیال رکھیں۔ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں بادلوں والے دنوں میں بھی وٹامن ڈی بناتی ہیں، لیکن اس میں تھوڑا زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔"
_رائل آسٹیوپوروسس سوسائٹی، یو کے_

26/04/2026

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے سادہ اور عملی غذا:
ناشتہ (Breakfast):
1– چپاتی (آٹا) + اُبلا ہوا انڈا یا سبزی والا آملیٹ، یا دلیہ (کم چکنائی والے دودھ کے ساتھ)، ساتھ میں بغیر چینی چائے
دوپہر کا کھانا (Lunch):
1– چپاتی
+ دال یا چکن/سبزی، ایک پلیٹ سلاد، دہی (کم چکنائی والا)۔
رات کا کھانا (Dinner):
ہلکی غذا: 1–چپاتی + دال یا سبزی، یا سبزی کا سوپ، سلاد۔
اہم بات:
میٹھا، کولڈ ڈرنکس، تلی ہوئی اور میدے والی اشیاء سے پرہیز کریں۔ پانی زیادہ پئیں اور روزانہ چہل قدمی کریں۔

26/04/2026

شوگر خاموشی سے گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
خون میں شوگر کی زیادتی وقت کے ساتھ گردوں کی باریک نالیوں کو کمزور کر دیتی ہے، جس سے ان کی صفائی کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہ نقصان اکثر شروع میں بغیر علامات کے ہوتا ہے۔
اپنے گردوں کی حفاظت کے لیے باقاعدگی سے ٹیسٹ کروائیں:
✔ سیرم کریٹینین
✔ پیشاب میں البومن/کریٹینین ریشو (UACR)
جلد تشخیص سے بروقت علاج ممکن ہوتا ہے اور آپ گردوں کو ناکارہ ہونے سے بچا سکتے اپنی صحت کا خیال رکھیں اور بروقت ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔📌

24/04/2026

کل ایک دوست ڈاکٹر نے مجھے ایک ECG واٹسیپ کی اور پوچھا اس میں کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور مریضہ کو سینہ میں درد تھی اور عمر 36 سال ، نہ شوگر نہ ہی بلڈ پریشر ۔۔۔۔۔۔ای سی جی نارمل لگ رہی تھی ۔۔۔۔( ایسی صورت میں مریض کو آبزرویشن میں رکھا جاتا ہے اور سیریل ای سی جی اور ٹیسٹ کیے جاتے ہیں )۔۔دوست نے بتایا کہ یہ مریضہ وفات پا چکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوست نے بتایا کہ مریضہ جو پہلے بالکل ٹھیک تھی کسی پرائیویٹ ہسپتال گئی جہاں انہوں نے کہا ای سی جی نارمل ہے اور درد کا ٹیکا لگا دیا لیکن درد ٹھیک نہ ہوئی تو ایک بڑے پرائیویٹ ہسپتال بھجوا دیا ۔۔۔۔۔۔ جہاں پوھنچنے سے پہلے ہی وہ وفات پا گئی ۔۔۔۔۔(یاد رہے ہارٹ اٹیک کی آدھی اموات پہلے ایک گھنٹے میں ہوتی ہیں )
اس واقع سے پتا چلتا ہے کہ ڈاکٹر کی ڈیوٹی کتنی نازک ہے ۔۔۔۔۔۔۔اس کام کے لیے آپ کو غیر معمولی زہین لوگوں کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔اس واقع سے پتا چلتا ہے کہ دنیا کے سب ترقی یافتہ ملکوں میں ڈاکٹر کی سیٹیں محدود اور تنخواہ اور عزت سب پیشوں سے زیادہ کیوں رکھی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔تاکہ زہین لوگ اس پیشے کی طرف آئیں ۔۔۔۔۔
اگر آپ ڈاکٹری کو کامرس ، آرٹس کی طرح ٹکے ٹوکری کر دیں گے تو پھر ہمارے مریضوں کی جانیں بھی بہت سستی ہو جائیں گی ۔۔۔

24/04/2026

دل کی دھڑکن کا غیر معمولی طور پر محسوس ہونا، تیز ہونا یا بے ترتیب ہونا **پیلپی ٹیشن (Palpitation)** کہلاتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جنہیں درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
# # # 1. عام یا طرزِ زندگی سے متعلق وجوہات
اکثر اوقات یہ وجوہات خطرناک نہیں ہوتیں اور طرزِ زندگی میں تبدیلی سے ٹھیک ہو جاتی ہیں:
* **ذہنی تناؤ اور پریشانی:** شدید گھبراہٹ، خوف (Panic attack) یا ذہنی دباؤ۔
* **جسمانی مشقت:** اچانک تیز دوڑنا یا سخت ورزش کرنا۔
* **کیفین کا استعمال:** چائے، کافی یا انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال۔
* **نیکوٹین:** سگریٹ نوشی یا تمباکو کا استعمال۔
# # # 2. طبی وجوہات (Medical Causes)
جسم میں موجود دیگر بیماریوں کی وجہ سے بھی دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے:
* **خون کی کمی (Anemia):** جسم میں ہیموگلوبن کی کمی کی وجہ سے دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔
* **تھائیرائیڈ کے مسائل:** خاص طور پر 'ہائپر تھائیرائیڈزم' (Hyperthyroidism) جس میں تھائیرائیڈ گلینڈ ضرورت سے زیادہ ہارمون بناتا ہے۔
* **بخار:** جسمانی درجہ حرارت بڑھنے سے دل کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے۔
* **خون میں شوگر کی کمی:** شوگر کم ہونے (Hypoglycemia) سے پسینہ آتا ہے اور دھڑکن تیز ہوتی ہے۔
# # # 3. دل کے امراض
کچھ صورتوں میں یہ دل کے کسی اندرونی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے:
* **ایریتھمیا (Arrhythmia):** دل کی برقی لہروں (Electrical signals) میں خرابی جس سے دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے۔
* **والو کے مسائل:** دل کے والوز میں خرابی (جیسے Mitral Valve Prolapse)۔
* **کارڈیو مایوپیتھی:** دل کے پٹھوں کی کمزوری یا بیماری۔
# # # کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
اگر دل کی دھڑکن کے ساتھ درج ذیل علامات ظاہر ہوں، تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے:
1. سینے میں درد یا دباؤ محسوس ہونا۔
2. سانس لینے میں شدید دشواری۔
3. چکر آنا یا بیہوشی طاری ہونا۔
4. بہت زیادہ پسینہ آنا۔
**مشورہ:** اگر آپ کو اکثر یہ مسئلہ رہتا ہے، تو ای سی جی (ECG) اور خون کے بنیادی ٹیسٹ (جیسے CBC اور TSH) کروانا بہتر ہوتا ہے تاکہ اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔

Address

Muzaffarabad, AJK
Muzaffarabad
247129

Telephone

+923459544475

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Syed Shoukat Bukhari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category