Dr Faisal Siddique Bhutta

Call Directions Contact the practice

Dr Faisal Siddique Bhutta MBBS (DGKMC) 🧑‍⚕️
FAMILY PHYSICIAN🧑‍⚕️
FMPT🧑‍⚕️
MRCGP INT.(R) 🧑‍⚕️

28/07/2026

بچوں کو حد سے زیادہ دودھ پلانے کے نقصانات اور طبی مسائل
اگرچہ دودھ بچوں کی نشوونما اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے انتہائی ضروری ہے، لیکن "کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے"۔ عام طور پر 1 سال سے بڑے بچوں کو دن میں 400 سے 500 ملی لیٹر (تقریباً 2 کپ) سے زیادہ دودھ نہیں دینا چاہیے۔ حد سے زیادہ دودھ پلانے یا غلط طریقے سے دودھ دینے سے بچوں میں درج ذیل طبی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
1. آئرن کی کمی اور اینیمیا (Iron Deficiency Anemia)
یہ بچوں میں زیادہ دودھ پینے کا سب سے بڑا اور عام نقصان ہے۔
وجہ: گائے یا بھینس کے دودھ میں آئرن کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔
غذائیت کی رکاوٹ: دودھ میں موجود کیلشیم اور کیسین (Casein) جسم میں آئرن کے جذب ہونے کی صلاحیت کو کم کر دیتے ہیں۔
سخت غذا سے پرہیز: جب بچہ پیٹ بھر کر دودھ پی لیتا ہے تو وہ آئرن سے بھرپور دیگر غذاؤں (مثلاً گوشت، دالیں، سبزیاں) سے انکار کر دیتا ہے۔
2. قبض اور ہاضمے کی خرابی (Constipation & Digestive Issues)
دودھ میں فائبر (Fiber) بالکل نہیں ہوتا۔
اگر بچہ صرف دودھ پر انحصار کرے گا اور دیگر فائبر والی غذائیں (پھل اور سبزیاں) نہیں کھائے گا تو اسے شدید اور دائمی قبض کی شکایت ہو سکتی ہے۔
3. بھوک کا مٹ جانا اور ٹھوس غذا نہ کھانا (Loss of Appetite)
دودھ ایک بھاری اور پروٹین سے بھرپور غذا ہے۔
جب بچے کو بار بار فیڈر یا بوتل سے دودھ دیا جاتا ہے، تو اس کا پیٹ بھرا رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ گھر کا پکا ہوا کھانا، پھل اور دیگر ضروری غذائیں نہیں کھاتا۔
4. دانتوں کا خراب ہونا (Nursing Bottle Caries)
سوتے وقت دودھ دینا: رات کو سوتے وقت بچے کو فیڈر دینا دانتوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
دودھ میں قدرتی شکر (Lactose) ہوتی ہے جو رات بھر بچے کے دانتوں سے چپکی رہتی ہے۔ اس سے دانتوں میں کیڑا لگ جاتا ہے، دانت کالے ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں اور مسوڑھوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
5. وزن میں غیر متوازن تبدیلی (Weight Issues)
موٹاپا: اگر بچہ زیادہ چکنائی والا دودھ (Full-cream milk) بہت زیادہ مقدار میں پیتا ہے تو اس کا وزن ضرورت سے زیادہ بڑھ سکتا ہے جس سے سستی اور موٹاپا آتا ہے۔
وزن کی کمی: بعض اوقات بچہ صرف دودھ پیتا ہے جس سے اسے تمام درکار کیلوریز نہیں ملتیں، نتیجے کے طور پر بچہ کمزور ہو جاتا ہے۔
6. الرجی اور عدم برداشت (Lactose Intolerance & Milk Allergy)
بعض بچوں کے معدے میں دودھ کو ہضم کرنے والے انزائمز کم ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں لیکٹوز انٹالرنس ہوتی ہے۔
ایسے بچوں کو دودھ پینے سے پیٹ میں درد، گیس، الٹی، اور اسہال (ڈائریا) کی شکایت ہو سکتی ہے۔
کچھ بچوں کو گائے کے دودھ کے پروٹین سے الرجی (CM PA) ہوتی ہے جس کی وجہ سے جلد پر خارش، دمہ یا پاخانے میں خون آ سکتا ہے۔
7. بوتل/فیڈر کی عادت کی وجہ سے مسائل
اگر دودھ فیڈر کے ذریعے دیا جائے تو بچے کے منہ کی ساخت، دانتوں کی بناوٹ اور بولنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
گندے فیڈر سے دودھ پلانے سے پیٹ اور کان کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
والدین کے لیے ضروری ہدایات:
مقدار پر قابو رکھیں: 1 سے 5 سال کے بچے کے لیے دن میں 2 کپ (400 - 500 ML) دودھ کافی ہے۔
کھانے کے وقت دودھ نہ دیں: بچے کو کھانے سے بالکل پہلے یا کھانے کے دوران دودھ نہ دیں، بلکہ کھانے کے درمیان وقفے میں دیں۔
فیڈر چھڑوائیں: 1 سال کی عمر کے بعد بچے کو گلاس یا سپی کپ (Sippy Cup) سے دودھ پینے کی عادت ڈالیں۔
متوازن غذا: بچے کی خوراک میں پھل، سبزیاں، دالیں، انڈے اور گوشت شامل کریں تاکہ اسے تمام ضروری وٹامنز مل سکیں۔
سوتے وقت دانتوں کی صفائی: رات کو دودھ پلانے کے بعد بچے کے دانت اور مسوڑھے نرم کپڑے یا برش سے صاف کریں۔
نوٹ: اگر آپ کا بچہ دودھ پینے کے بعد پیٹ درد، الٹی یا جلد پر خارش کی شکایت کرتا ہے تو فوراً بچوں کے ماہر ڈاکٹر (Pediatrician) سے رجوع کریں۔

13/06/2024

24/02/2024
26/01/2024

AYK hospital in Rohillan wali best hospital in Rohillan waliALLAH YaR Khan hospitalM. D imtiaz BhuttaDr muneeb Bhutta

Address

Muzaffargarh

Telephone

+923017414848

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Faisal Siddique Bhutta posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Faisal Siddique Bhutta:

Shortcuts

Share

Category